اعزاز احمد آذر

Follow Shabnaama via email
سعد اللہ شاہ

کچھ اشعار ایسے ہوتے ہیں جو لوحِ ذہن پر نقش ہو جاتے ہیں۔ ایسا ہی ایک شعر میری یادوں میں جگمگاتا ہے:

تاریخ مثال ایسی کوئی ڈھونڈ کے لائے
سر تن سے جدا بھی ہو مگر موت نہ آئے

اِس شعر کی نسبت بھی تو غیر معمولی ہے کہ ”قتلِ حسینؓ اصل میں مرگِ یزید ہے“ یہ شعر میں نے اعزاز احمد آذر سے بارہا سنا۔ آذر کا یہ خوبصورت اور بابرکت حوالہ اُس کے لئے توشہ¿ آخرت ہوگا۔ خبر پہنچی کہ آذر چل بسے تو جیسے ہوا چلتے چلتے رک گئی اور پھر اگلے ہی لمحے تند ہوا نے یادوں کے سارے دریچے کھول دیئے ۔وہ کیسا فعال شخص تھا‘ ہر وقت ہوا کے گھوڑے پر سوار۔ وہ دن بھی کیا دن تھے‘ ابھی تخلیق کاروبار میں نہیں ڈھلی تھی۔ ابھی وہ ریڈیو میں ہیں تو ابھی ٹیلی ویژن کے سیٹ پر‘ ابھی مشاعرہ پڑھ رہے ہیں تو ابھی کسی تقریب میں کمپیئرنگ کر رہے ہیں۔ پہلو بہ پہلو زندگی سے بھرپور۔ احمد مشتاق یاد آئے:

فٹ پاتھ کی دیوار سے چپکے ہوئے پتے
کل رات درختوں پہ ہواﺅں سے ملے تھے

اور پھر اظہار شاہیں نے بھی تو کہا تھا ”ایک پتہ گرا پیڑ سے‘ ٹوٹنا کتنا آسان ہے۔ مجھے اب بھی ایسا لگتا ہے ابھی وہ افضال شاہد کے ساتھ اُدھر سے نمودار ہونگے۔ افضال شاہد کے ساتھ خوش گپیاں کرتے ہوئے کیسے ہمیں شامل گفتگو کرتے تھے۔ یہ جوڑی ہم سے جدا ہوگئی ۔ افضال شاہد کی بیگم یعنی ہماری بھابھی منزہ شاہد کمال کی پنجابی شاعرہ ہیں۔ سب کچھ عجیب لگتا ہے۔ وہی جو جمال احسانی نے کہا تھا:

چراغ بجھتے چلے جا رہے ہیں سلسلہ وار
میں خود کو دیکھ رہا ہوں فسانہ ہوتے ہوئے

ابھی کل کی بات ہے اعزاز احمد آذر نے سید تنویر نقوی کے گیت اور کلام اکٹھا کرکے چھپوایا ۔ ان کے پاس ادب کا جیتا جاگتا ذخیرہ تھا کہ انہوں نے ادب کی ترویج کے لئے بہت پاپڑ بیلے تھے ۔ ادبی تنظیمیں بنائیں۔ مشاعرے کروائے‘ بڑے بڑے ادیبوں اور شاعروں کے ساتھ یادگار شامیں منائیں۔اُن کے کام کو کسی صورت فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ ٹی وی چینل آئے تو انہوں نے مالکان کو قائل کیا اور ماہانہ وار مشاعرے ہونے لگے۔ اور وہ جس تر دو سے ہمیں اکٹھا کرتے اور مشاعرہ سجاتے یہ انہی کا حصہ تھا۔ ان کے ہوتے ہوئے کمپیئرنگ تو اور کوئی کر ہی نہیں سکتا تھا۔ ایک مرتبہ غالباً ان کا بیٹا اعتکاف بیٹھا ‘چاند رات کو وہ اسے لینے مسجد میں گئے تو چاند دیکھا جا رہا تھا۔ امام مسجد کی آذر صاحب پر نظر پڑی تو کہنے لگے۔ جناب آپ کے ہوتے ہوئے چاند دیکھنے کا اعلان کون کر سکتا ہے! اعزاز احمد آذر نے بھی ایسے اعلان کیا جیسے چاند کے ساتھ شام منائی جا رہی ہو۔

میں نے بہت کم لوگ دیکھے جنہوں نے اتنی مصیبتیں پال رکھی ہوں۔ وہ نیشنل بک فاﺅنڈیشن کے ڈائریکٹر بھی تھے۔ اخبار میں بھی کام کر رہے تھے شہر بھر کی تقاریب ان کے مشورے کی مرہون منت تھیں۔ مجھے یاد ہے جب ہم ان کے ساتھ گوجرہ اور بہاولپور وغیرہ مشاعرہ پڑھنے گئے‘ مشاعرہ تو بعد کی بات تھی سفر اصل چیز ہوتی تھی۔ ایسی ایسی فقرے بازی کہ بس‘ محمود وایاز ایک ہی صف میں کھڑے ہو جاتے تھے۔ یہ تو آپ کو معلوم ہی ہوگا کہ وہ سینئر پروڈیوسر اور ادیب افتخار مجاز کے بڑے بھائی تھے۔ دونوں بھائیوں کوپوری ادبی برادری میں بہت ہی محبت اور احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ ان کا بیٹا حسن اعزاز بھی ایک خوبصورت شاعر ہے۔ یہ خوشی کی بات ہے کہ انہوں نے بھرپور زندگی گزاری۔ میرے لئے ایک طمانیت کہ میں ایسے شخص کے بارے میں لکھ رہا ہوں جو زندگی کے کاروبار میں بہت ایماندار تھا۔ انہوں نے وکالت آغاز کی تو گھر آکر ماں سے کہنے لگے ”ماں! رمضان شریف میں میں نے وکالت شروع کی ہے۔ کل سے یا تو میں وکالت نہیں کروں گا یا پھر روزہ نہیں رکھوں گا“۔ میں اس کی وضاحت کرنے سے قاصر ہوں کہ میرے بے شمار دوست وکیل ہیں اور میں توان کی تحریک کا حصہ بھی رہا ہوں۔ بہرحال جب دو وکلاءکے درمیان مقدمہ لڑا جاتا ایک وکیل تو بہرحال سچا ہی ہوتا ہے۔

اعزاز احمد آذرکا ساری عمر حرف سے تعلق رہا۔ ان کی مصروفیت دیکھیں کہ وہ خالد پرویز کی تیار کردہ کتب میں بچوں کے لئے بھی نظمیں لکھ رہے تھے۔ سیاسی جلسے بھی ان کے ہاتھ میں تھے۔ اگر ضرورت پڑے تو سیاسی تقریر بھی کر دیتے تھے۔ ان کے جانے کو بہت محسوس کیا گیا۔ مجھے بروقت اطلاع نہ مل سکی۔ کہتے ہیں بہت بڑا جنازہ تھا۔ بس یہی تو کسی کی محبت اور تعلق کا ”نیو ندرا“ ہے۔ کسی کے اچھے اور مقبول ہونے کی گواہی۔ معروف شاعرہ نسیم اختر بھی میرے ساتھ تعزیت کرنے کے لئے گئیں۔ وہ عورت ذات ہیں اور ان کا تعزیت کا بھی اپنا ہی انداز ہے۔ وہی جو منیر نیازی نے کہا تھا ” بین کرتی عورتیں۔ رونقیں ہیں موت کی“۔ اعزاز صاحب کے دوسرے بھائیوں سے بھی ملاقات ہوئی۔ انہوں نے مجھے کوئی نئی بات نہیں بتائی یہی کہ وہ سب سے ایسے محبت کرتے تھے کہ ہر کوئی خود کو خاص سمجھنے لگتا تھا۔ مجھے ٹی وی کا ایک مشاعرہ یاد ہے جس میں پروڈیوسر نے کسی پر خاش کے باعث انہیں مجھ سے جونیئر پڑھانا چاہا تو میں نے اٹھ کر کہا ” میں اعزاز احمد آذر کے بعد نہیں پڑھوں گا“ آذر صاحب کی آنکھوں میں عجیب ممنونیت تھی مگر مجھے ان کے مقام کا علم تھا اور ادب کا تقاضا مجھے معلوم تھا۔ انہوں نے میرے اس عمل کا تذکرہ ہزاروں مرتبہ کیا۔ میں شرمندہ ہو کر کہتا سر! جانے دیں۔ آج سب کچھ یاد آرہا ہے کہ اُن کے باعث ادب کی شامیں رنگین تھیں اور صبحیں حسین تھیں۔ وہ بلند آہنگ تھے‘ پڑھنے کا انداز خوب تھا۔ ایک شعر یاد آیا:

بارہا بچھڑے تھے لیکن یوں تجھے کھویا نہ تھا
اب تو وہ کاٹا ہے ہم نے جو کبھی بویا نہ تھا

مجھے یاد ہے خالد شریف نے اُن کا شعری مجموعہ ”دھیان کی سیڑھیاں“ شائع کیا۔ انہوں نے فلیپ کسی کم عمر کی شاعرہ سے لکھنے کو کہا تو خوب فقرے بازی ہوئی۔ مشفق خواجہ نے ایک جملہ جمال احسانی کے بارے میں کہا تھا ”جمال احسانی نے16 16 سال کے بچوں سے فلیپ لکھوائے ہیں حالانکہ اس سے کم عمر کے بچے بھی دستیاب تھے“۔ وہ سب خوش مزاجیاں یاد آتی ہیں۔ مجھے وہ واقعہ بھی یاد آیا کہ مشرف کے آنے پر ”سب سے پہلے پاکستان“ پر پی ٹی وی میں پروگرام کیا گیا۔ مجھے بھی تیسرے مبصر کے طور پر مدعو کیا گیا۔ آذر صاحب پوچھنے لگے۔ آپ کیا بات کریں گے۔ میں نے برجستہ کہا ”پرویز مشرف اور امریکہ کے خلاف “ کہنے لگے ”کوئی گنجائش؟“ میں نے کہا ”سب سے پہلے مسلمان“ ہنس کر افتخار مجاز کو بلایا کہنے لگے ”یہ پیر زادہ ہے ادھر مصلحت کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ میں نے تجھے پہلے ہی کہا تھا “۔ افتخار مجاز پروگرام پروڈیوسر تھے میرا بازو پکڑ کر کہنے لگے ”شاہ جی ! آﺅ میرے ساتھ پینل پر“۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ آذر صاحب کی یادداشتیں اگر کہیں ہیں تو انہیں یکجا کیا جائے۔ چند مضامین تو میری نظر سے گزرے ہیں۔ آخر میں ان کے چند اشعار:

میں تیری مدح لکھوں بھی تو کس طرح لکھوں
کہ میں حقیر سا شاعر تو انتہائے خیال
آذر ہوں مرے پاس ہے افکار کا تیشہ
پتھر کا بدن لے کے مری سمت نہ آﺅ
تونے چھیڑا تو یہ کچھ اور بکھر جائے گی
زندگی زلف نہیں ہے کہ سنور جائے گی
جب سے تصویر چھپی شہر کے اخباروں میں
بٹ گیا جسم مرا میرے پرستاروں میں

دعا ہے کہ اللہ ان کے درجات بلند کرے اور ان کی ہر کوتاہی سے درگزر کرے کہ وہ قادر بھی ہے اور رحیم بھی۔ آمین

Citation
Saadullah Shah, “اعزاز احمد آذر,” in Daily Nai Baat, May 20, 2015. Accessed on June 11, 2015, at: http://www.naibaat.pk/archives/sp_cpt/%D8%A7%D8%B9%D8%B2%D8%A7%D8%B2-%D8%A7%D8%AD%D9%85%D8%AF-%D8%A2%D8%B0%D8%B1

Disclaimer
The item above written by Saadullah Shah and published in Daily Nai Baat on May 20, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on June 11, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Saadullah Shah:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s