ایک اداس کتاب

Follow Shabnaama via email
نشی خان

کتابیں بھی انسانوں کی مانند ہوا کرتی ہیں۔ ان کے ساتھ کمپنی لازمی طور پر موڈ کو متاثر کرتی ہے۔ پھر جیسا کتاب کا موڈ ہوا کرتا ہے ویسا موڈ قاری کا بن جاتا ہے۔ اس لیے جس طرح انسان موسم اور ماحول کے مطابق لباس کا نتخاب کرتا ہے ویسے میں کتابوں کی سلیکشن کیا کرتی ہو۔ جب سردیوں کی راتوں میں مجھے درد کا احساس اچھا محسوس ہوتا ہے تو میں غمگین کتابوں کا انتخاب کرتی ہوں۔ مگر سفر کے دوراں میری کوشش رہتی ہے کہ کوئی ایسی ہلکی پھلکی کتاب کا ساتھ ہو جو دل و دماغ پر بوجھ نہ بنے۔ اس لیے اس بار جب کنیڈا میں سفر پیش آیا تو میں نے جان بوجھ کر پروین شاکر کی زندگی پر اس کی دوست رفاقت جاوید کی کتاب کو یہ سوچ کر اٹھایا کہ ایک دوست نے اپنی دوست کے بارے میں ان باتوں کا تذکرہ کیا ہوگا جو بیحد ذاتی نوعیت کی ہوا کرتی ہیں۔ہم سب جانتے ہیں کہ اردو زبان کی خوبصورت شاعرہ صرف شعر میں بولا کرتی تھی۔ اس نے کبھی اپنی زندگی کے بارے میں کوئی بات نہیں کی۔ مگر یہ بات سب کو معلوم ہے کہ اس کی شادی ناکام رہی اور اسے پہاڑ جیسی زندگی کا بوجھ تنہا اٹھانا پڑا۔ مگر وہ شادی کیوں ناکام ہوئی؟ عورتوں کو اس سلسلے میں بہت دلچسبی ہوا کرتی ہے۔ اس کے علاوہ میں نے یہ بھی سوچا تھا کہ اپنی شاعری کے علاوہ وہ کس طرح جیتی تھی؟ کیا شوق سے کھاتی تھی؟ کیا شوق سے پہنتی تھی؟ اس نے ایک شادی کے بعد دوسری شادی کیوں نہیں کی؟ حالانکہ وہ بہت خوبصورت اور اعلی عہدے پر فائز تھی! ان سارے سوالوں نے مجھے مجبورِ کیا میں وہ کتاب اٹھاؤں جو پروین شاکر کی دوست رفاقت جاوید نے ’’پروین شاکر : جیسے میں نے دیکھا‘‘ کے نام سے لکھی ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ سہل زباں میں مصنفہ نے دوستی کی رفاقت کا حق ادا کیا ہے۔ اس کتاب کے ہر لفظ سے پروین کے لیے محبت کی شہد ٹپکتی محسوس ہوتی ہے۔ اس نے یہ کتاب اس لیے لکھی ہے کہ وہ باتیں جو دوست کے مرجانے کے بعد دل پر بوجھ کرتی ہیں ان باتوں کو قلمبند کیا جائے تاکہ غم کا بار کچھ کم ہوجائے! اور رفاقت جاوید نے ایسا ہی کیا ہے۔ اس نے محبت میں درد کی آمیزش سے جو کتاب تحریر کی ہے اس نے میرا حال ایسا کردیا جیسے پروین کا یہ شعر :

’’چلنے کا حوصلہ نہیں رکنا محال کردیا
عشق کے اس سفر نے تو مجھ کو نڈھال کردیا‘‘

وہ کتاب جو میری ہمسفر بنی اس کا اثر بھی کچھ ایسا تھا۔ اس کتاب کو جب میں پڑھنا شروع کیا تب مجھے محسوس ہوا کہ یہ تو بہت غمگین کتاب ہے۔ اس کتاب کو سفر میں پڑھنا ٹھیک نہیں۔ مگر مذکورہ کتاب میں ایسی کشش تھی کہ میں اس کو چھوڑ نہ سکی اور جب تک سفر چلتا رہا وہ کتاب بھی چلتی رہی۔ جس نے مجھے احساس کی دولت بھی دی مگر مجھے اس ماحول سے لاتعلق کردیا جس ماحول میں سفر جاری تھا۔ ایک کتاب کی سب سے بڑی کامیابی یہی ہوتی ہے کہ وہ ماحول پر غالب آجائے۔ وہ کتاب ماحول پر غالب آنے کی طاقت رکھتی ہے۔ کیوں کہ یہ کتاب رفاقت جاوید پیار سے لکھی ہے ۔ اس کے علاوہ اس کتاب کی اہم خوبی یہ بھی ہے کہ کتاب اس پروین شاکر پر لکھی ہوئی ہے جس نے محبت سے زیادہ کسی چیز کو اہمیت نہیں دی۔
اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ کیوں لکھتی کہ:

’’رات گہری ہے مگر چاند چمکتا ہے ابھی
میرے ماتھے پہ تیرا پیار دمکتا ہے ابھی
میرے سانسوں میں ترا لمس مہکتا ہے ابھی
میرے سینے میں تیرا نام دھڑکتا ہے ابھی
زیست کرنے کو مرے پاس بہت کچھ ہے ابھی

تیرے آواز کا جادو ہے ابھی میرے لیے
تیرے ملبوس کی خوشبو ہے ابھی میرے لیے
تیری بانہیں تیرا پہلو ہے ابھی میرے لیے
سب سے بڑھ کر مری جاں تو ہے ابھی میرے لیے
زیست کرنے کو میرے پاس بہت کچھ ہے ابھی‘‘

ایک انسان کی زندگی بہت بڑی ہوتی ہے۔ وہ ایک کتاب میں کس طرح سما سکتی ہے؟ بس چند جھلکیاں سی رہ جاتی ہیں تحریر میں! اور رفاقت جاوید جن جھلکیوں کو قلمبند کیا ہے ان جھلکیوں میں سے سب سے اہم جھلکیاں پروین شاکر کا بھارتی سفر تھا۔ا س سفر میں کی ملاقاتیں جن لوگوں سے ہوئیں وہ سب افراد کسی نہ کسی طرح سے اہمیت رکھتے ہیں۔ شبانہ اعظمی ایک اچھی اداکارہ ہی نہیں بلکہ ایک بہت بڑے شاعر کی بیٹی بھی ہے ۔ اس کا میاں بھی شاعر ہے مگر جس ماحول میں شبانہ کی پرورش ہوئی اس ماحول کے اثرات اس کی شخصیت پر کس طرح موجود ہونگے؟ اس سوال کا جواب ہمیں رفاقت کی کتاب کے ان صفحات میں نہیں ملتا جو صفحات انہوں نے پروین شاکر اور شبانہ اعظمی کی ملاقات کے حوالے سے لکھے ہیں۔
جہاں تک خوشونت سنگھ کا تعلق ہے وہ تو اپنی مخصوص انداز تحریر اور عورتوں کے ساتھ بے تکلف رویے کے حوالے سے مشہور ہیں مگر افسوس اس بات کا ہے کہ رفاقت جاوید نے اس ملاقات کا بھی بیحد سنجیدگی سے تذکرہ کیا ہے۔ حالانکہ ایسے شخص سے ملاقات کی اگر باریکیاں بیان کی جاتیں تو اس کتاب کو چار چاند لگ جاتے۔ مگر مجھے افسوس اس بات کا ہوا کہ قرت العین حیدر جیسی عظیم مصنفہ کے بارے میں جو کچھ لکھا گیا ہے اس سے بہتر تھا کہ وہ کچھ نہ لکھا جاتا۔ کیوں کہ کبھی کبھی کوئی فرد بیحد اداس اور اکھڑا ہوا بھی ہوتا ہے۔ اگر ہم اس کے ساتھ خوشگوار ماحول میں نہ مل سکے تو اس کا تذکرہ کیوں کریں؟ آخر ہر موڈ کی تصویر اچھی تو نہیں ہوتی اور ہر تصویر البم میں سجانے کے لیے بھی نہیں ہوا کرتی۔ مگر اس کتاب کا سب سے تلخ باب پروین شاکر کی اس جوتشی سے ملاقات ہے جس کا نام جوتشی چوہان تھا۔ وہ مشہور جوتشی جس نے پروین شاکر کا ہاتھ دیکھتے ہی کہا تھا کہ ’’بہت مختصر عمر لکھوا کے لائی ہو بیٹی‘‘ اس جوتشی نے پروین شاکر کو کس قدر پریشان کردیا تھا۔ وہ اپنی مختصر عمری کی وجہ سے پریشان نہ تھی مگر وہ صرف اس لیے پریشان تھی کہ اس کے بعد اس کے بیٹے مراد کا کیا ہوگا؟ کیوں کہ مراد اس وقت چھوٹا تھا۔ اس جوتشی نے پروین کو بتایا تھا کہ تمہاری چار کتابیں شایع ہوچکی ہیں مگر پانچویں کتاب تم نہ دیکھ پاؤ گی۔ وہ جوتشی جس نے پروین کو بتایا تھا کہ تمہارا یکسیڈنٹ ہوگا اور ڈرائیور موقعے پر ہی مر جائے گا۔ پھر وہی ہوا۔ جس کی پیشن گوئی جوتشی نے کی تھی۔

رفاقت جاوید نے پروین شاکر کے آخری ایام کا تذکرہ جس انداز سے کیا ہے اس میں واقعی ایک بچھڑنے والی دوست کی مغموم تصویر ابھر آتی ہے۔ وہ کس طرح اس کو زیورات واپس کرتی ہے۔ وہ جس طرح اداس دکھتی ہے۔ وہ جس طرح عجیب عجیب باتیں کرتی ہے۔ ان ساری باتوں سے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے پروین کو اپنے ساتھ پیش آنے والے حادثے کا پتہ تھا۔ ممکن ہے کہ اس کو یہ احساس ہونے لگا ہو کہ اب اس کے دنیا میں رہنے کے دن ختم ہوگئے ہیں۔وہ شاعرہ تھی اور بقول غالب حقیقی شاعر پر مضامین نازل ہوتے ہیں۔ اس حوالے سے ممکن ہے کہ اس کی حساسایت کی وجہ سے اسے مستقبل کا کچھ اندازہ ہوگیا ہو۔ اگر وہ جانتی تھی کہ اس کے ساتھ کیا ہونے والا ہے مگر وہ پھر بھی مسکراتی رہی اور لکھتی رہی تو کیا یہ عمل بہت بڑی بہادری نہیں؟

پروین شاکر کے بارے میں مذکورہ کتاب پڑھنے کے بعد محسوس ہوتا ہے کہ وہ نہ صرف حسین عورت اور خوبصورت شاعرہ تھی بلکہ وہ خوب سیرت انسان بھی تھی!
یہ کتاب جو اس کی شخصیت کی ایک جھلک دکھاتی ہے۔ کس قدر آسان اور اداس کرنے والی کتاب ہے۔ اس کتاب کی مصنف کی دل پر کتاب لکھتے ہوئے کیا بیتا ہوگا۔۔۔۔۔؟؟

Citation
Nishi Khan, “ایک اداس کتاب,” in Daily Nai Baat, June 20, 2015. Accessed on June 11, 2015, at: http://www.naibaat.pk/archives/sp_cpt/%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D8%A7%D8%AF%D8%A7%D8%B3-%DA%A9%D8%AA%D8%A7%D8%A8

Disclaimer
The item above written by Nishi Khan and published in Daily Nai Baat on June 20, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on June 11, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Nishi Khan:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s