جب قلم ہی ساتھ چھوڑ جا ئے

Follow Shabnaama via email
مسعود اشعر

آج مجھے کراچی میں اسماعیلی برادری پر ٹوٹنے والی قیامت پر لکھنا چاہیے تھا۔ مگر میں کیا لکھوں؟ مجھے تو آرمی پبلک اسکول پشاور کا وہ چودہ پندرہ سال کا لڑکا یاد آ رہا ہے جس کی باتیں سن کر میرے جسم میں سنسنی دوڑ گئی تھی، رونگٹے کھڑے ہو گئے تھے میرے۔ اس نے یہ کہہ کر اپنا سارا غم اور سارا خوف میرے دل و دماغ میں بھی منتقل کر دیا تھا کہ ’’آج بھی کبھی کبھی مجھے ایسا لگتا ہے جیسے ابھی کسی طرف سے کوئی آئے گا اور گولیاں چلانا شروع کر دے گا۔‘‘ اس وقت بھی جب میں یہ سطریں لکھ رہا ہوں تو مجھے جھرجھری آ گئی ہے اور میرے اوپر خوف طاری ہو گیا ہے۔ اس بچے نے یہ بات اسلام آباد کے جشن ادب میں کہی تھی۔ایک اشاعتی ادارے نے اپنے فیسٹیول میں اسکول کے ان بچوں کو بلایا تھا جو وحشی درندوں کی گولیوں سے محفوظ رہ گئے تھے۔ کیا آپ ان بچوں کی باتیں سننے کا حوصلہ رکھتے ہیں؟ نہیں سن سکیں گے آپ۔ اب یہ جو کراچی میں قیامت ٹوٹی ہے کیا اس میں بچ رہنے والوں کی باتیں سننے کی تاب ہے آپ میں؟ سچ بتائیے۔ لوگ کہتے ہیں اس واقعے نے پشاور اسکول والے زخم ہرے کر دیئے ہیں۔ مگر صاحب، یہ زخم بھرے ہی کب تھے؟ یہ زخم تو روز ہی لگتے رہتے ہیں۔ اور ہم ہیں کہ ایک’’بزدلانہ طیش‘‘ کے ساتھ اپنے آپ سے ہی لڑتے رہتے ہیں۔ انگریزی میں اسے impotent rage کہا جاتا ہے۔ معلوم نہیں میں نے اس کا صحیح ترجمہ کیا ہے یا نہیں۔ مگر ہمارا جو بھی غصہ یا جو بھی طیش ہے اسےimpotent rage ہی کہا جا سکتا ہے یعنی قہر درویش بجان درویش۔ وحشی درندے اپنا کام کر رہے ہیں اور ہم اس بات پر جھگڑ رہے ہیں کہ یہ کون کر رہا ہے؟ یہ کس نے کیا ہے؟ بھلا بتائیے،کیا اس پر کچھ لکھا جا سکتا ہے؟

اور اکادمی ادبیات والے ہیں کہ لکھنے والوں سے ’’ادب اور اہل قلم کا پرامن معاشرے کے قیام میں کردار‘‘ پر بحث کرا رہے ہیں۔ بے چارے اہل قلم۔ وہ تو صدیوں نہیں بلکہ ہزاروں سال سے پُرامن معاشرے کے خواب ہی دیکھتے چلے آ رہے۔ ان خوابوں کی تعبیر پانے کے لئے ہی تو وہ اپنے قلم گھساتے رہتے ہیں۔ مگر لوگ ہیں کہ انہیں ان کا کردار یاد دلاتے رہتے ہیں۔ وہ پوچھتے رہتے ہیں کہ معاشرے میں امن قائم کرنے میں تمہارا کیا کردار ہے۔ قیام پاکستان سے اب تک ہم یہی سنتے چلے آ رہے ہیں۔ جو بھی اٹھتا ہے وہ لکھنے والوں کو رنگ برنگے مشورے ہی دیتا ہے۔ یہ مشورے کبھی تلقین بن جا تے ہیں اور کبھی ہدایت۔ بلکہ کبھی کبھی تو یہ حکم کی شکل بھی اختیار کر لیتے ہیں۔ ضیاء الحق کا زمانہ یاد کر لیجئے۔ لکھنے والے کا کام ہے سچ لکھنا۔ چاہے کوئی اچھا مانے یا برا۔ اسے ہر حالت میں سچ ہی لکھنا ہے۔ اگر سچ سے ’’بھانبڑ مچتا ہے ‘‘تو مچا کرے۔ ایک طبقے کی رائے ہے کہ پرویز رشید نے سچ ہی تو بول دیا تھا کہ اس کے خلاف ایک طوفان کھڑا کر دیا گیا ہے۔ لیکن سچ تو بہرحال بولنا ہے۔ سچ اور پورا سچ لکھنے سے ہی معاشرے میں امن قائم ہو سکتا ہے۔ خیر، اکادمی ادبیات بالآخر انگڑائی لے کر کھڑی ہو گئی ہے۔ اسے مبارکباد دینا چاہیے۔ جیسا میں نے پہلے لکھا تھا اکادمی کے نئے چیئرمین ڈاکٹر قاسم بگھیو نے مردہ گھوڑے میں جان ڈال دی ہے۔ پاکستان کے چاروں صوبوں میں قومی ادبی کانفرنسیں اکادمی کی نئی زندگی کا آغاز ہے۔ پہلی کانفرنس کراچی میں ہوئی تھی۔ دوسری لاہور میں ہوئی ہے۔ اور اب کوئٹہ اور پشاور کی باری ہے۔ اور کچھ نہیں تو اس طرح چاروں صوبوں کے ادیب ایک دوسرے سے مل کر ادب اور ادیبوں کے مسائل سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش تو کرسکتے ہیں۔

اور ہاں، کام کر نے والے اپنا کام کر ہی رہے ہیں۔ ڈاکٹر انوار احمد کا تعلق ملتان سے ہے۔ جب تک وہ ملتان یونیورسٹی میں رہا اس وقت تک ملتان یونیورسٹی ادبی اور ثقافتی سرگرمیوں کا مرکز بنی رہی۔ کیسے کیسے ادبی اور ثقافتی اجتماع اس یونیورسٹی میں نہیں ہوئے ۔ پاکستان کا کون سا ایسا قابل ذکر ادیب ہے جو ان کانفرنسوں میں شریک نہ ہوا ہو۔ انوار احمد کا سب سے بڑا کارنامہ ملتان یونیورسٹی میں سرائیکی ریسرچ انسٹیٹیوٹ کا قیام ہے۔ یہاں جنوبی پنجاب کی ثقافت اور سرائیکی زبان و ادب پر تحقیق کی جا رہی ہے۔ اس مرکز نے کئی کتابیں بھی شائع کی ہیں۔ انوار احمد نے ہی ایک ایسا رسالہ نکالا ہے جو اپنی قسم کا آپ ہی ہے۔ اس رسالے میں اردو کے ساتھ پنجابی اور سرائیکی زبان کی تخلیقات بھی شائع کی جاتی ہیں۔ اس رسالے کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ اس میں جنوبی پنجاب کے ادیبوں اور شاعروں کو اپنی تحریریں چھپوانے کا موقع مل جاتا ہے مگر انوار احمد خالی بیٹھنے والا تو نہیں ہے۔ آج کل وہ سیالکوٹ میں گجرات یونیورسٹی کا ڈائریکٹر جنرل ہے۔ اس قسم کے ڈائریکٹر جنرل تو اور بھی بہت سے ہوتے ہیں۔ لیکن انوار احمد کسی اور ہی قسم کا انسان ہے۔ اس نے اپنی نو سو صفحے کی کتاب’’اردو افسانہ۔ ایک صدی کا قصہ‘‘ اپنے خرچ سے چھپوائی تو اس کی آمدنی سے ملتان یونیورسٹی میں پروفیسر خلیل صدیقی کے نام پر اور جی سی یونیورسٹی فیصل آباد میں ابن حنیف کے نام پر ایک مددگار علمی فنڈ قائم کر دیا۔ اور اب اس نے اپنی خاکوں کی کتاب ’’یادگار زمانہ ہیں جو لوگ‘‘ کا تیسرا ایڈیشن شائع کیا ہے تو اس ایڈیشن کی فروخت سے حاصل ہونے والے دس لاکھ روپے علامہ اقبال کی والدہ امام بی بی کے نام پر قائم کئے جانے والے فنڈ کے لئے مختص کر دیئے ہیں۔ یہ فنڈ گجرات یونیورسٹی کے سیالکوٹ کیمپس کے لائق مگر وسائل کے منتظر طالب علموں کی مدد کے لئے قائم کیا گیا ہے۔ یہ ہے ادیبوں کا کردار۔ انوار احمد کے بارے میں بلامبالغہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ صاحب طرز لکھنے والا ہے۔ اس کا ثبوت اس کے خاکے ہیں۔ اس کی تحریر میں جو ہلکا ہلکا مزاح اور کبھی چھپا ہوا اور کبھی کھلا طنز ہوتا ہے وہ اسی کا خاصہ ہے۔ میں یہ تو نہیں کہتا کہ وہ باتیں بنانا خوب جانتا ہے البتہ یہ ضرور کہہ سکتا ہوں کہ اسے بات سے بات نکالنے کا ڈھنگ آتا ہے۔ معاف کیجئے۔ بات کہاں سے شروع ہوئی تھی اور کہاں پہنچ گئی۔ لیکن یہ دیکھ لیجئے کہ کب لکھا جا سکتا ہے اور کب اپنا قلم ہی ساتھ چھوڑ جا تا ہے۔

Citation
Masood Ashar, “جب قلم ہی ساتھ چھوڑ جا ئے,” in Jang, May 19, 2015. Accessed on June 10, 2015, at: http://beta.jang.com.pk/akhbar/%D8%AC%D8%A8-%D9%82%D9%84%D9%85-%DB%81%DB%8C-%D8%B3%D8%A7%D8%AA%DA%BE-%DA%86%DA%BE%D9%88%DA%91-%D8%AC%D8%A7-%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D9%93%D8%A6%DB%8C%D9%86%DB%81/

Disclaimer
The item above written by Masood Ashar and published in Jang on May 19, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on June 10, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Masood Ashar:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s