قاسم بُگھیو کے سو دن اور سماج سے مکالمہ

Follow Shabnaama via email
حفیظ خان

اگر سنگ و خشت سے جہاں پیدا کئے جا سکتے تو مردانِ دانش و صفات کی کیا ضرورت تھی۔ رہبری کارِ عبث اور بے سمت ہجوم مثبت نتائج کا حامل ہو سکتا تو رہنمائی اور رہنماؤں کا کس نے اچار ڈالنا تھا ۔ انسانوں کے انبوہِ کثیر میں کتنے رجال اتنے معاملہ فہم اور زیرک ہو سکے کہ اُنہیں عطا شدہ منصب اپنی اثر انگیزی کی نئی روایات قائم کرتا ہوا دکھائی دیاہو۔کیسے انکار ممکن ہے اِس حقیقت سے کہ مسند اور سنگھاسن اپنے وجود میں قطعی بے حیثیت اور بے معنی ۔انہیں اگر حیثیت اور اعتبارعطا ہوتا ہے تو مسند نشیں کی ذات، دانش اور فراست سے۔مگر ملک عزیز میں اِس قسم کی روایات کی ضرورت کم کم ہی محسوس کی گئی ہے۔یہاں ضابطے اور قانون تو بنتے ہیں مگر اداروں کی بقاکے لئے نہیں بلکہ مقتدرکی رضا کے طواف اور مفادات کی نگہبانی کے لئے۔ اِن ضابطوں اور قوانین کانفاذ شاذہی عوامی فلاح کے لئے ہوتا ہواکسی نے دیکھاہو کیونکہ عرصہ ہوا’’ عوامی فلاح ‘‘ کے معنی جو بدل دیے گئے۔ ایسے میں اگر کہیں میرٹ اور’’ حق داراں بہ حق رسید‘‘ کی خبر ملے تویاس پھر سے آس میں بدلنے لگتی ہے۔پاکستان میں ادب، ادیب اور دانش کی خبر گیری کے لئے 17جولائی 1976ء کو جس سرکاری مگر خود مختار ادارے کا قیام عمل میں لایا گیا اُسے’’ اکادمی ادبیاتِ پاکستان‘‘ کا نام دیا گیا۔ اُنتالیس برس کے عرصے میں کیا کچھ نہیں ہوا اِس ادارے کے ساتھ۔ہر آنے والے حاکم نے اسے ’’رائٹرز گلڈ‘‘کی طرز پر پاکستان کے اہل قلم کو مختلف ترغیبات کے ذریعے ہانکنے اور اپنی کرسی کے پائیوں کے نیچے دبائے رکھنے والا ’’گڈریا‘‘ بنانے کی کوشش کی اور اپنی مرضی کے صدر نشینوں کے تقرر کے ذریعے اِس’’کارِ مسلسل‘‘ میں کامیاب بھی رہے۔مگر جب جب کبھی کسی جنیوئن اہلِ قلم کو اِس ادارے کی سربراہی کا موقع ملا تو سوکھے جھاڑ جھنکار میں سے ہریالی کو نمو پانے میں ہرگز تاخیر نہیں ہوئی۔

ماضئ قریب کے چند برس نہ صرف اِس ادارے بلکہ مُلکِ عزیز کے دانشوروں پر خاصے کڑے گزرے کہ جب اکادمی ادبیاتِ پاکستان کی سربراہی حلوائی کی دوکان سمجھ کربابو لوگوں یعنی عزیزی روف کلاسرہ کی اصطلاح میں زکوٹا جنوں کے حوالے کر دی گئی تاکہ نانا جی کی فاتحہ کا بھرپور اہتمام ہو سکے۔اہلِ قلم کے لئے یقیناًیہ دورِ ابتلا اور بے توقیری تھا ۔سابق وزیر اعظم پرویز اشرف کے دورِ آخر میں ہونے والی اہلِ قلم کانفرنس کو کون بھلا سکتا ہے کہ جب ایک سابقہ ڈاک بابو نے اپنی ناہلی ،بد انتظامی، بد عنوانی اور بے حسی سے پاکستان کے دور دراز کے علاقوں سے آئے ہوئے صاحبانِ دانش کی تذلیل اور بے توقیری کی انتہا کردی اور وہ بھی کسی قسم کی ندامت اور خجالت کو پاس پھٹکائے بغیر۔کیا منظر تھا کہ وزیر اعظم ہاؤس کے پچھواڑے میں واقع نیشنل لائبریری آف پاکستان کے آڈیٹوریم میں ہونے والی افتتاحی تقریب میں اُس وقت کے وزیر اعظم نے تشریف لا نا پسند نہ کیا اور عین وقتِ مقررہ پر حکم دیا کہ شرکاء وزیر اعظم ہاؤس کے ایک ہال میں جمع کئے جائیں ۔یہ ہال اتنا ’’بڑا‘‘ تھا کہ ہماری معتبر ترین ادبی شخصیات سمیت تین چوتھائی مدعوین کئی گھنٹے قطار میں لگے رہنے کے باوجود ایک دوسرے سے منہ چھپاتے ہوئے’’ باہر‘‘ خوار ہوتے رہے۔مگر خیر گزری کہ اُس وقت کے چیئرمین سمیت ’’کھاؤ پکاؤ‘‘ احباب تو اندر پہنچنے میں کامیاب رہے۔اتنی تعداد میں ، ایک جگہ اہلِ قلم کی سبکی، ہزیمت اور رسوائی کا نظارہ چرخِ برگشتہ نے شاید ہی کبھی کیا ہو۔

اِس قسم کے حوصلہ شکن حالات میں قطعی امکان نہیں تھا کہ پھر سے کسی صاحبِ علم ودانش کو اِس ادارے کی سربرہی کا موقع ملے۔شاید یہ افلاک سے نالوں کا جواب تھا کہ اپنے سندھ سے ماہر لسانیات ڈاکٹر محمد قاسم بُگھیو کو اِس سال فروری کے آغاز میں اکادمی کا سربراہ مقرر کر دیا گیا۔اُن کے اب تک کے سو دنوں میں اُٹھائے گئے اقدامات کے مجموعی تاثر کے لئے اگر لفظ ’’فعالیت ‘‘ استعمال کیا جائے تو میرے نزدیک یقیناًیہ نانصافی ہو گی۔ اُن کا کام اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔مادری زبانوں کے عالمی دن سے شروع ہونے والی تقریبات ، خواتین کے عالمی دن پر ہونے والی کانفرنس کے بعد اب اِس نہج پر پہنچی ہیں کہ کراچی میں آرٹس کونسل کے تعاون سے ہونے والی ’’ادب اور اہلِ قلم کا پُرامن معاشرے کے قیام میں کردار‘‘ کے موضوع پر تین روزہ اور لاہور میں اِسی موضوع پر ایک نجی یونیورسٹی کے تعاون سے ہونے والی ادبی کانفرنسیں بھرپور کامیابی سے منعقد کی جا چکی ہیں۔اب اِن موضوعاتی کانفرنسوں کا اگلا پڑاؤ پشاور اور کوئٹہ میں ہے۔مجھے لاہور میں 11اور 12مئی کو ہونے والی کانفرنس میں شرکت اور مقالہ پڑھنے کا موقع ملا۔ ’’ادب اور اہلِ قلم کا پُرامن معاشرے کے قیام میں کردار‘‘ اگرچہ ایک وقیع موضوع ہے مگر چاروں صوبوں اور آزاد کشمیر سے آئے ہوئے مندوبین نے جس بالغ نظری اور غیرجذباتی استدلال سے اپنے افکار کا اظہار اور اپنی اپنی محرومیوں کااحاطہ کیا اُس کی نظیر پہلے کہیں دکھائی نہیں دیتی۔ڈاکٹر قاسم بُگھیو کے سو دنوں کے باقی انتظامی اقدامات جن میں موجودہ بُک شاپ کی توسیع، رائٹرز ہاؤس کی تزئین،مستحق ادیبوں اور اُن کی فیملیوں کو وظائف کی ادائیگی ،آڈیٹوریم کی تکمیل کے لئے فنڈز کا اجراء اور بورڈ آف گورنرز کی منظوری اپنی جگہ مگر مُلکِ عزیز میں دہشت گردی کے مہیب اندھیروں میں امن کی جوت جگانے اور مایوس ہو چکے اہلِ قلم میں پھر سے ارفعی تخلیقی سرگرمیوں کے احیا ء کے لئے مکالمے کا آغاز کرنا قابلِ تحسین ہی نہیں قابلِ تقلید ہے۔لاہور کی اِس کانفرنس میں نعمت اُللہ گچکی، ڈاکٹر منزہ یعقوب، ڈاکٹر محمد امین، زاہد مسعود، ڈاکٹر سجاد حیدر پرویز، ڈاکٹر صغری صدف، ڈاکٹر ہمایوں ہما، سحر گل بھٹی، خالد دھاریوال، ڈاکٹر عطیہ سید، مبین مرزا، محمود احمد قاضی، ڈاکٹر مجاہد منصوری، ڈاکٹر مرزاحامد بیگ، احسان اکبر، نوشین صفدر، نعیم بیگ، احمد عطا اُللہ،حمیرہ نور،صابر ظفر، ڈاکٹر سعادت سعید، فیاض لطیف،مسعود اشعر،پروفیسر ایاز گُل، اصغر ندیم سید، انتظار حسین اورعطاالحق قاسمی نے بھی اپنے مقالہ جات پیش کئے اور سوال جواب کے سیشنز میں موثر اور مدلل مباحث دیکھنے میں آئے۔پہلی شب کے مشاعرے میں پاکستانی زبانوں کے لگ بھگ ستر شاعروں کی شرکت نے اِس نشست کو یادگار بنا دیا۔

لاہور کی کانفرنس کی خاص بات اکادمی ادبیات کے منتظمین ڈاکٹر قاسم بُگھیو، ملک مہر علی، محمد عاصم بٹ، طارق شاہد ، محمد جمیل اور دیگران کا رویہ تھا کہ جسے ہر سطح پر تحسین کے ساتھ نوٹس کیا گیا۔پہلی بار یہ رویہ کسی حاکم ادارے کے اہلکاروں کے برعکس ادب اور ادیب دوست جذبات سے لبریز رہا۔پاکستانی ثقافتوں کے مابین محرومیوں کے مداوے کے لئے مکالمے کا آغاز کرتے ہوئے سندھ سے آئے ہوئے ہمارے دوست پروفیسر ایاز گُل نے خوبصورت بات کہی۔اُنہوں نے کہا کہ جب ہم ایک دوسرے سے نہیں ملتے تو ایک دوسرے سے خائف رہتے ہیں اور جب خائف رہتے ہیں تو اپنے اپنے خوف کی انتہا کے ہاتھوں دوسروں کو ڈرانے کی کوشش کرتے ہیں۔کیوں نہ ہم مل بیٹھیں، مکالمہ کریں، ایک دوسرے کو سمجھنے، جاننے اور پیار کرنے کے لئے،خوفزدہ کرنے کے لئے نہیں۔پروفیسر ایاز گُل کی بات یقیناًسچ اور درمندی کی دلیل۔مگر کیا کریں خوف کے بیوپاریوں کے لئے اُن کے مفادات مقدم۔اُن کے مفادات اگر یونہی پھلتے پھولتے رہے تو ہم ایک دوسرے سے بدستور ڈرتے اور ڈر کے مارے ایک دوسرے پر جھپٹتے رہیں گے۔

Citation
Hafeez Khan, “قاسم بُگھیو کے سو دن اور سماج سے مکالمہ,” in Daily Nai Baat, May 18, 2015. Accessed on June 11, 2015, at: http://www.naibaat.pk/archives/sp_cpt/%D9%82%D8%A7%D8%B3%D9%85-%D8%A8%D9%8F%DA%AF%DA%BE%DB%8C%D9%88-%DA%A9%DB%92-%D8%B3%D9%88-%D8%AF%D9%86-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B3%D9%85%D8%A7%D8%AC-%D8%B3%DB%92-%D9%85%DA%A9%D8%A7%D9%84%D9%85%DB%81

Disclaimer
The item above written by Hafeez Khan and published in Daily Nai Baat on May 18, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on June 11, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Hafeez Khan:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s