سہ ماہی قلم قرطاس فیصل آباد

Follow Shabnaama via email
عبدالستار اعوان

صاحبو ! ہر شئے باقاعدہ ایک پس منظر اورتاریخ رکھتی ہے ‘ اردو رسائل و جرائد کا بھی ایک طویل سفر ہے‘لمبی داستان ہے جسے سپرد قلم کرنے کے لئے کئی صفحات درکار ہیں ‘ اختصار کے ساتھ عرض کرتے چلیں کہ: خطہ برصغیر میں انیسویں صدی کے وسط میں رسائل و جرائد کا وجود اخبارات سے الگ ہونا شروع ہوا ۔ اس سے قبل اردو صحافت میں اخبار اور رسالے کا فرق نہ تھا اور اخبارات میں ہی شعر و شاعری اور علمی و ادبی تحریریں شائع ہوتیں یا اردوادب کے لئے ہفتہ میں کوئی ایک دن مخصوص کر لیا جاتا‘جیسا کہ اب بھی اکثر قومی اخبارات کی پالیسی ہے کہ ہفتہ میں کسی ایک دن ادبی صفحہ شائع کیا جاتا ہے ‘ اس زمانہ میں چونکہ یہ رجحان کم تھا‘چنانچہ ادبی حلقوں کا شکوہ تھا کہ اخبارات میں عام خبریں اور رپورٹس شائع ہوتی ہیں جبکہ رسائل میں علمی ذوق کی تسکین کا سامان ہوتا ہے لہٰذا صرف اخبارات پر انحصار کرنے کے بجائے الگ سے ادبی جرائد کا اجرا ضروری ہے ۔ چنانچہ انہی دنوں لاہور سے ایک ادبی پرچہ ’’خورشیدِ پنجاب ‘‘شائع ہونا شروع ہوا،پھر ’’ قران السعدین (دو خوش بختوں کا ملاپ) ‘‘ اور ’’فوائد الناظرین ‘‘ جاری ہوئے ،بعد ازاں’’محب ہند ‘‘ اور ’’ خیر خواہ ہند ‘‘ منصہ شہود پر آئے ۔ 1845ء میں مولوی کریم الدین کا ’’گل رعنا‘‘ دلی اور’’ معیار الشعرا ‘‘آگرہ سے جاری ہوے ۔ پھر یہ سلسلہ محض اردو ادب تک ہی محدود نہ رہا اور سیاسی، دینی ، قانونی اور طبی رسائل بھی جاری ہونے لگے۔ سرسید احمد خاں نے 1870ء میں شہرہ آفاق پرچہ ’’تہذیب الاخلاق‘‘جاری کیا جس نے خطہ برصغیر کے عوام کے سیاسی شعور کو بیدار کیا اور معاشرتی اصلاح میں کلیدی کرادار ادا کیا‘ بلاشبہ تہذیب الاخلاق نے برصغیر میں انمٹ نقوش چھوڑے۔ادارہ ادبیات کا رسالہ ’’سب رس ‘‘ 1938ء میں جاری ہوا ۔عبدالحلیم شرر کا ’’دلگداز‘‘محمد الدین فوق کا ’’کشمیری میگزین‘‘ مولانا ظفر علی خان کا “دکن ریویو” اور “پنجاب ریویو” اپنے دور کے اہم جرائد تھے ۔ بعد میں جو رسائل منصہ شہود پر آئے ان میں کہکشاں، ہزار داستان، خیالستان، اور رومان قابل ذکر ہیں۔ ساقی، نیرنگ خیال، عالم گیر، ہمایوں، ادبی دنیا، اور ادب لطیف بھی اپنے اپنے ادوار میں مقبول ہوئے ۔ 1949ء میں لاہور سے احمد ندیم قاسمی اور ہاجرہ مسرور نے ’’نقوش‘‘ جاری کیا جس کی خوشبو ابھی تک محسوس کی جاتی ہے ، اسی طرح احمد ندیم قاسمی کا فنون‘وزیر آغا کا اوراق‘نسیم درانی کا سیپ وغیرہ قابل ذکر رسائل میں شمار کئے جاتے ہیں۔مجموعی طور پرسرزمین پاک و ہند پر بہت سے ادبی رسائل نکلتے رہے اور یہ سفر اب بھی جاری ہے اور ادبی رسائل و جرائد کا سلسلہ کسی نہ کسی صورت چل رہا ہے‘ صاحبان علم وادب اپنا اپنا کردار ادا کر رہے ہیں ‘ یہ الگ بات کہ وسائل کی کمیابی کے باعث یہ جرائد جلد ہی دم توڑ جاتے ہیں ۔گو ادبی رسائل کی اکثریت پائیداری سے محروم ہے تاہم ان کے بانی احباب کے اخلاص اور لگن میں کوئی کلام نہیں‘فیصل آباد کے نوجوان حافظ محمد حیات بھی اسی قبیل سے تعلق رکھتے ہیں۔

صاحبو ! ہر شخص کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنے ذوق اور شوق کو ساتھ لے کر چلے‘ اور یہ حقیقت ہے کہ جو انسان اپنی زندگی کسی مقصد کے تحت گزارتا ہے وہی کارآمد ہے اورجو محض روزی روٹی کے چکر میں ہی وقت کاٹتا ہے معاشرے کے لئے اس کا ہونا نہ ہونے کے برابر ہے۔ ہر صاحبِ ذوق اپنے ذوق کی تکمیل میں ہی راحت محسوس کرتا ہے ۔ جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کے طالب علم حافظ محمد حیات کا شمار بھی ایسے لوگوں میں ہوتا ہے جو زیست کسی مقصد اور مشن کے تحت گزار تے ہیں۔حافظ صاحب نوجوان قلم کار ہیں اور ان کا ذوق لکھنا ہے‘انہوں نے اردوادب کے لئے اپنی خدمات پیش کر رکھی ہیں ‘گو یہ نوجوان ابھی اس میدان میں نووارد ہے مگر مجھے امید ہے کہ وہ جس جنون کے ساتھ میدانِ ادب میں اترا ہے ضرور کچھ نہ کچھ کر گزرے گا ۔ جی سی یونیورسٹی فیصل آباد شعبہ اردو کے طلباء و طالبات کی جانب سے شائع ہونے والا سہ ماہی قلم و قرطاس کا تازہ شمارہ اس وقت ہمارے سامنے ہے جس کے مدیر حافظ صاحب ہیں۔ یہ شمارہ ان کے عمدہ ذوق کی عکاسی کر رہا ہے، اس میں اردو ادب کی کئی اصناف میں طبع آزمائی کی گئی ہے۔ آصف شہزادنے پیارے نبی رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ اقدس میں نعتیہ کلام زیبِ قرطاس کیا ہے‘انہوں نے جنابِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کو زبان قلم اور فکر و نظر کا محور و مرکز بناتے ہوئے اپنے جذباتِ عشق و محبت کا خوب اظہار کیاہے ۔ ان کا اظہار خیال ملاحظہ ہو ؂

سفینے کو میرے کنارہ ملے گا
مجھے حاضری کا اشارہ ملے گا
سکندر نصیبوں کا سمجھوں گا خود کو
مجھے سنگِ در جب تمہارا ملے گا

اداریہ بہت عمد ہ ہے اور لاجواب ہے‘لکھا ہے: ’’ادیب کا کام صرف اور صرف لکھنا ہے، وہ اپنے قلم سے اپنے افکار ونظریات دوسروں تک پہنچاتا ہے،اس کی تحریر میں جتنی شائستگی ، حسن آفرینی، تخیل اور مہذب پن ہوگا وہ اس قدر اچھا ادیب گردانا جائے گا۔ ادیب راہنما ہے، اس کی نظر حکیمانہ ہے اور اس کا طریق قلندرانہ ہے‘‘۔تہلیل الرحمن نے انسانِ کامل در نظر اقبال‘‘کے زیر عنوان خوبصورت مضمون لکھا ہے‘انہوں نے بڑے مدلل انداز سے لکھا کہ کلام اقبال کا موضوع ہی انسان ہے،اقبال نے ہمیں نئے انسان کا تصور دیا ہے جو نہ صرف مغربی معاشرے کی ابتری کا علاج کرسکتا ہے بلکہ اپنی آرزوؤں کی بھی ایک دنیائے نو تعمیر کر سکتا ہے۔شہباز احمد کی تحریر فیض احمد فیض ؔ کی شخصیت وکمالات اور ان کی انقلابی سوچ کے متعلق ہے ‘فیض نے اردو شاعری کو جو نیا آہنگ ، نیاعزم اور نیا حوصلہ دیا ‘اس پر بہترین تحریر ہے۔

اردوزبان اور لفظوں کا صحیح استعمال ‘حافظ لیاقت علی کی پرمغز کاوش ہے ‘انہوں نے اردو کے غلط استعمال کی جانب توجہ دلائی ہے اور بالخصوص میڈیا سے وابستگان کی اصلاح کی کوشش کی ہے ۔ محمد ناصر نے اپنے رشحات فکر’’اردو کی کہانی اردو کی زبانی‘‘ کے عنوان سے ترتیب دیے ہیں جس میں اردو زبان اپنے ساتھ بے مروتی کا رونا رورہی ہے ‘یہ بلاشبہ دلوں کو جھنجھوڑ ڈالنے والی تحریر ہے ، درا صل انہوں نے قومی زبان کی زبوں حالی اور شکست خوردگی کونہ صرف محسوس کیا ہے بلکہ اس کے اسباب و علل پر بھی اپنے اسلوب سے روشنی ڈالتے ہوئے اس کے مدواکا اظہاربھی کیا ہے ۔ اور بھی بہت سی تحریریں ہیں جو 146146قلم قرطاس145145کے صفحات پر بکھری ہوئی ہیں جو یقیناًاہل ذوق کے قلوب و اذہان کو ضرور متاثر کریں گی‘ القصہ تمام تحریریں عمدہ ہیں‘مضامین موثر پیرائے میں لکھے گئے ہیں۔ بینش شہزادی، عائشہ مشعل،طارق ندیم،حافظ نورین فاطمہ اور دیگر قلم کاروں کی تحریریں دلچسپی اور افادیت سے خالی نہیں۔ ان مضامین کی زبان عام فہم‘ سادہ اور آسان بھی ہے ‘ جملوں میں الجھاؤنہیں ۔ہمیں امید ہے کہ یہ جریدہ باقاعدہ چھپتا رہاتو بہت جلد مقبولیت کی حدوں کو چھو لے گا ۔ دعا ہے سہ ماہی قلم قرطاس کا نوجوان مدیر اور اس کی پوری ٹیم تاعمر علم و فن اور اردو ادب کی خدمت میں مگن رہے ۔ آمین

Citation
Ubdulsattar Awan, “سہ ماہی قلم قرطاس فیصل آباد,” in Daily Nai Baat, May 16, 2015. Accessed on June 11, 2015, at: http://www.naibaat.pk/archives/sp_cpt/%D8%B3%DB%81-%D9%85%D8%A7%DB%81%DB%8C-%D9%82%D9%84%D9%85-%D9%82%D8%B1%D8%B7%D8%A7%D8%B3-%D9%81%DB%8C%D8%B5%D9%84-%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF

Disclaimer
The item above written by Ubdulsattar Awan and published in Daily Nai Baat on May 16, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on June 11, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Ubdulsattar Awan:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s