مُدیر ’’الحمراء‘‘ کے نام ایک خط جو پوسٹ نہ ہو سکا

Follow Shabnaama via email
ناصر زیدی

محب عزیز و قدیم شاہد علی خاں صاحب
آج صبح بدھ 18 مارچ 2015ء کو ریڈیو پاکستان لاہور FM-93 پر ہر بدھ کو 10-30 بجے (Live) نشر ہونے والے اپنے مستقل پروگرام، بک شیلف میں تازہ شمارہ ’’ الحمراء‘‘(مارچ 2015ء) پر یوں تعریفی گفتگو کی: کہا گیا کہ مولانا حامد علی خان کے ہونہار صاحبزادے شاہد علی خان ماہنامہ ’’ الحمراء‘‘کی صورت میں اپنے والد محترم اور پورے خانوادۂ مولانا ظفر علی خاں کی لاج رکھے ہوئے ہیں۔ ماہانہ جریدہ ’’ الحمراء‘‘ دراصل ایلیٹ کلاس کے اکثر و بیشتر ریٹائرڈ لکھاریوں کی معیاری اور زندہ تحریروں سے مزین ہوتا ہے۔ یہ ریٹائرڈ لوگ ’’ ریٹارڈڑ‘‘ ہرگز نہیں سیزنڈاہل قلم ہیں اور کہنا پڑتا ہے، عبارت کیا، اشارت کیا ادا کیا؟ سب ہی کچھ معیاری ہے مقالے/ خصوصی گوشہ/ رپورتاژ/ ایک نظم، ایک غزل/ اور خصوصاً محفل احباب میں شامل خطوط، کہ خط کیا ہیں اپنی اپنی جگہ دلچسپ فکر انگیز، تحقیقی مضامین ہیں۔۔۔!

یہ میری مُنہ زبانی گفتگو کا ماحصل تھا۔ اب وہ سنو، بلکہ پڑھو، جو خوفِ فساد خلق سے نہیں کہہ سکا۔ ’’الحمراء‘‘ میں اس بار ، حروفِ تہجی کے اعتبار سے غزلوں کا جو خصوصی جنگل اُگایا گیا ہے، وہ دل کو کیا نظر کو بھی نہیں بھایا۔ اکثر نامور شعراء کے ساتھ صریحاً زیادتی ہوئی ہے۔ آٹو گراف بک کے حوالے سے حضرتِ جوش ملیح آبادی نے کبھی ارشاد فرمایا تھا کہ:’’ آٹو گراف بک ایک ایسا اصطبل ہے، جس میں گدھے، گھوڑے اکٹھے باندھے جاتے ہیں۔۔۔‘‘ حروف تہجی سے باترتیب کلام کے بارے میں کچھ ایسی ہی رائے، میری بھی ہے، ایسی زیادتی مولانا حامد علی خاں نے اپنی اِدارت میں شائع ہونے والے موقر ادبی جرائد ’’ مخزن‘‘ ’’ ہمایوں‘‘ اور ’’ الحمراء‘‘ میں غالباً روا نہیں رکھی ہو گی! ایک ایک صفحے میں مزید گنجائش کی خاطر غزلیں ایک دوسری میں ٹھونس دی گئی ہیں، یہ عمل نوواردانِ سخن یا بچونگڑوں کی کج مج بیانی کے لئے گوارا ہو تو ہو، چند شعراء یقیناپورے پورے صفحے کے حق دار ہیں۔ معروف و غیر معروف مستند و غیر مستند، مقبول و نا مقبول نثر نگار محققین و ناقدین کو تو آٹھ آٹھ دس دس صفحے بیک وقت مل جاتے ہیں مگر ان سب پر بھاری ایک شاعر، ایک پورے صفحے کو حاصل کرنے میں بھی جزرسی کا شکار ہو! کیا خوب!

اغلاط کا معاملہ پورے رسالے میں خاصا گھمبیر ہے۔ اِملا کے ضمن میں ’’ میرے اور مرے‘‘۔ ’’ میرا اور مرا‘‘ تیرے یا ترے اور تیرا اور ترا کے فرق کو ملحوظ نہیں رکھا جاتا۔ جبکہ اشعار کے سلسلے میں یہ احتیاط نہایت ضروری بلکہ لازمی ہے ورنہ وزن، بے وزن ہو جاتا ہے زیر، زبر، پیش بلکہ تشدید تک کی احتیاط برتی جانی چاہئے۔ یہاں ایک دلچسپ مشاہدے کا ذکر بے محل نہ ہوگا۔ حضرت آغا شورش کاشمیری کے موقر ہفت روزہ ’’چٹان‘‘ کے دفتر میں ایک دن میں آغا صاحب کے کمرے میں موجود تھا کہ بزرگ رائٹر مقبول انور داؤدی کمرے میں وارد ہوئے، آغا صاحب نے پوچھا ’’ اوہ منڈا کیسا ہے؟ پروف ریڈنگ کے لئے مل جائے گا‘‘۔۔۔ مقبول انور داؤدی نے کہا ’’ نہیں آغا جی! اُونوں تے پٹھا کوما بھی پانا نئی آندا‘‘ (نہیں آغا صاحب اسے تو اُلٹا کوما بھی لگانا نہیں آتا)۔

یہ آگے چل کر مشہور ہونے والے صحافی اظہر سہیل کے بطور پروف ریڈر ’’چٹان‘‘ میں بھرتی ہونے کی چشم دید کہانی ہے۔۔۔ اللہ اللہ ادبی لیجنڈ بزرگوں کا کیا معیار تھا۔ ’’ اُلٹا کوما‘‘ نہ ڈالنے والے کو پروف ریڈر بھرتی نہ کرنے کی سفارش کی جا رہی تھی اب کسی کو کچھ نہ آتا ہو تو وہ خود رسالہ نکال کر ایڈیٹر بن جاتا ہے۔ روزانہ کھمبیوں کی طرح اُگنے والے رسائل و جرائد کا یہ احوال ہے اور پھر دوسرا غضب یہ کہ بڑے سے بڑے شاعر ادیب، نقاد، محقق، مصنف سے اُس کی تحریر براہ راست خط لکھ کر یا فون کر کے طلب کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی جاتی بلکہ SMS کیا جاتا ہے۔ اس کا حل میں نے تو یہ نکالا ہے کہ ایسے تمام SMS بغیر پڑھے سارا دن Delete کرتا رہتا ہوں۔ موبائل فون لے کر ’’موبی لنک‘‘ والوں کے ہیڈ آفس گیا تھا کہ ’’کیا کوئی ایسی ترکیب ہے کہ مجھے SMS موصول نہ ہوں اور Delete کرنے میں بھی میرا وقت ضائع نہ ہو۔ اُنہوں نے معذرت کی کہ ’’ ایسا کوئی سسٹم ہنوز ایجاد نہیں ہوا سوائے اس کے کہ جب موبائل SMS سے بھر جائے تو سب کو بیک وقت ایک ہی جھٹکے میں Delete کر دیں‘‘ سو میں یہی کر رہا ہوں۔۔۔!

آپ اگلے وقتوں کے وضعداروں میں سے ہیں، وضعدار شریف النفس باپ کے بیٹے ہیں، اس لئے آپ براہ راست فون بھی کر لیتے ہیں، حسب توفیق مختصر چٹ نما خط بھی لکھ دیتے ہیں۔ میں حاضر ہو جاتا ہوں، آپ کے خلوص سے رو گردانی نہیں کر سکتا میری سچی باتوں کو کڑوی گولی سمجھ کر برداشت کر لیجئے گا برا نہ منایئے گا۔ اسی شمارہ مارچ 2015ء میں مولانا حامد علی خاں کی دس اشعار پر مشتمل نظم ’’ پر تو خیال‘‘ میں میرے، مری، میرا، مرا، پانچ جگہوں پر توصحیح املا ہوا مگر ایک شعر اس طرح چھاپ کر مصرع خارج ازوزن کر دیا گیا ہے:

دُعاؤں سے نہ کیوں حل عقدۂ مشکل ہوا مرا
خدا سے ایک بت کرنے لگا ہے بد گماں مجھ کو
پہلے مصرعے میں آخری لفظ دو نقطوں کے ساتھ ’’میرا‘‘ ہونا چاہئے تھا۔
اس شعر سے پہلے ایک شعر یوں چھایا گیا ہے:
الٰہی تو نے دی ہوت مجھے جادوبیانی بھی
اگر جادو نگاہوں کا کیا تھا نغمہ خواں مجھ کو
یہاں پہلے مصرعے میں ’’ ہوت‘‘ کی جگہ ’’ ہوتی‘‘ ہونا چاہئے تھا۔ جب آپ کے اپنے والدِ گرامی قدر کے کلام سے کمپوزر صاحب کی یہ ریشہ دوانیاں ہیں تو ہما شما کس شمار قطار میں ہیں؟ میری بڑی خواہش ہے، حسرت ہے، تمنا ہے، آرزو ہے کہ پاکستان میں کاش کوئی ایک آدھ ادبی رسالہ ایسا بھی پڑھنے کو ملے جس میں نقطے کی بھی غلطی نہ ہو مگر:
اے بسا آرزو کہ خاک شدہ

پروفیسر حمید احمد خاں کے رپورتاژ ’’ میری بھارت یاترا‘‘ نے قندِ مکرر کا مزا دیا۔ میں پہلے بھی اسے اسلامیہ کالج سول لائنز لاہور کے مجلہ ’’ فاران‘‘ میں پڑھ چکا تھا۔ جب میں 1967-1966ء میں ’’ فاران‘‘ کا ایڈیٹر بنا تو پچھلے شمارے بھی دیکھتا پڑھتا رہتا تھا یوں 1966ء میں میری ادارت کے دور میں کسی پرانے شمارے میں پڑھا ہوا یہ خوبصورت سفر نامہ آج بھی ذہن کے فراخ گوشوں میں تروتازہ تھا۔یہ جو میں نے ابھی گزشتہ شماروں کے پڑھنے کی بات کی تو اس عادت نے میرے اگلے ادارتی ادوار میں بھی بڑی رہنمائی کی جب میں ستمبر 1966ء تا دسمبر 1980ء لگ بھگ پندرہ برس مسلسل ادبی لیجنڈ ماہنامے ’’ادب لطیف‘‘ لاہور کا ایڈیٹر رہا تو اپنے سے پچھلے ادوار کی فائلیں بھی اکثر وقت نکال کے پڑھتا رہتا تھا کیونکہ یہ ادبی ماہنامہ مارچ 1935ء میں طالب انصاری (بدایونی) کی ادارت میں جاری ہوا تھا۔ 1968ء میں جب میں نے ’’ادب لطیف‘‘ کا عظیم و ضخیم سالنامہ نکالنے کا ڈول ڈالا تو ’’ادب لطیف‘‘ کے سابق مقتدر لکھنے والوں سے بھی خط لکھ کر نئی تحریروں کی طلبی کے لئے فرمائش کی۔ راولپنڈی سے نہایت سینئر بزرگ شاعر اختر ہوشیارپوری نے بقلم خود ’’تازہ، غیر مطبوعہ‘‘غزل سے نوازا۔ غزل پڑھ کر میں نے خط لکھا کہ ’’ غزل بہت عمدہ ہے، قند مکرر کا مزا ملا کہ یہی ’’تازہ غیر مطبوعہ غزل‘‘ آپ ہی کے نام سے پورے صفحے پر مطبوعہ شکل میں دس سال پہلے کے ’’ ادب لطیف‘‘ میں گزشتہ دنوں پڑھ کر شاد کام ہو چکا ہوں۔ بس پھر کچھ نہ پوچھیئے اُن کا جو معذرت بھرا خط واقعی نئی غزل کے ساتھ ملا تو میں اُن کے معذرتی اسلوب اور لب و لہجے سے مدتوں شرمسار رہا!انڈیا کے منفرد لب و لہجے کے شاعر عرفان صدیقی پر ڈاکٹر خورشید رضوی کا تاثراتی مضمون مختصر مگر اہم ہے۔ عرفان صدیقی اپنی انفرادیت سمیت زندہ ہیں، ایسے شاعر مر کے بھی مرا نہیں کرتے۔ اُن کے یہ دو تین شعر تو ہر عہد کے شعر ہیں:

ہوائے کوفۂ نا مہرباں کو کیا معلوم؟
کہ لوگ خیمۂ صبر و رضا میں زندہ ہیں
ہم سب آئینہ در آئینہ در آئینہ ہیں
کیا خبر کون کہاں کس کی طرف دیکھتا ہے
کوزہ گر پھر اُسی مٹی سے ملاتا ہے مجھے
دیکھئے اب کے وہ کیا چیز بناتا ہے مجھے
ڈاکٹر خورشید رضوی صاحب نے عرفان صدیقی (مرحوم) کا ایک شعر اس طرح رقم فرمایا ہے:
تیر چلتے رہیں گے، ہاتھ بدلتے رہیں گے!
ہم گریں گے تو اُٹھا لیں گے نشاں دوسرے لوگ
اس شعر کا پہلا مصرعہ کس وزن اور بحر میں ہے اور دوسرا کس میں؟ یہ وضاحت بھی ڈاکٹر خورشید رضوی صاحب اگر کر دیں تو ہم ایسے بہتوں کا بھلا ہوگا۔۔۔:آپ سے مخاطب ہونے کے لئے جو چھ سات خوشگوار قسم کے کاغذ میسر تھے، وہ ختم ہوئے، یہ ادھورا، نامکمل مکتوب خاصی تاخیر سے وصول کیجئے اور سدا خوش رہئے۔
والسلام: آپ کا مخلص
ناصر زیدی

Citation
Nasir Zaidi, ” مُدیر ’’الحمراء‘‘ کے نام ایک خط جو پوسٹ نہ ہو سکا ,” in Daily Pakistan, May 15, 2015. Accessed on June 10, 2015, at: http://dailypakistan.com.pk/columns/15-May-2015/224967

Disclaimer
The item above written by Nasir Zaidi and published in Daily Pakistan on May 15, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on June 10, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Nasir Zaidi:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s