اہل قلم کا پرامن معاشرے کے قیام میں کردار

Follow Shabnaama via email
صغرا صدف

ایک ایسے معاشرے میں جہاں تعظیم کو کمزوری اور بے ادبی کو غیرت و حمیت قرار دیا جائے جہاں ہمسایہ ملک سے دوستی کو غداری اور دینی رواداری کو کفر کے مصداق قرار دیا جائے، جہاں سیاسی مفادات کے لئے مذہب کو آلۂ کار بنائے جانے کا رجحان ہو اور فرقہ پرستی کو ہوا دینے والوں کے بارے میں بات کرنا مذہب کے خلاف بغاوت سمجھا جائے، جہاں قلم کے بجائے ڈنڈے سے مرعوب ہونے کا رواج ہو، جہاں تخلیقی شاہکاروں کو سراہنے، ان سے لطف اندوز ہونے اور ان کے ذریعے اپنے وجود میں جمالیاتی حسن کو جذب کرنے کی صلاحیت پیدا کرنے کے بجائے انہیں کمتر گردانا جاتا ہو، جہاں شاعری، نثر، موسیقی اور مصوری کو نہ صرف وقت کا ضیاع بلکہ دائرۂ عقائد سے خارج سمجھا جاتا ہو، وہاں ادب کے ذریعے معاشرے میں مثبت روایات کا فروغ کس قدر مشکل کام ہے یہ ہم سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔ ادب خود سے ہم کلامی کا وسیلہ بنتا ہے اور اس طرح آدمی کو انسان ہونے کے مرحلے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ ذات سے جُڑت کائنات اور خالقِ کائنات سے رابطے کا باعث بنتی ہے جس کا حاصل خدمتِ خلق کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے اور انسان بتدریج اپنی ذات کی نفی کرتے ہوئے معاشرے کے وسیع تر مفاد کے حصول کے لئے کوشاں ہوتا ہے۔ ہر معاشرے میں کچھ خاص اذہان اور دِل بینا اس منصب پر فائز ہوتے ہیں جو تخیلات کی دنیا سے جڑے ہوئے خواب لوگوں کی آنکھوں میں بو کر اسے ممکنات میں شامل کرنے کی سعی کرتے ہیں۔ ادیب کا منصب صرف حالات کی رپورٹنگ اور مستقبل کے خوابوں تک محدود نہیں ہوتا بلکہ وہ ایک فلسفی، ماہرِ نفسیات اور اخلاقی مصلح کے طور پر عہدِ حاضر کا گہرا شعور رکھتے ہوئے زندگی کو کیا ہے اور کیا ہونا چاہئے کی کسوٹی پر پرکھتا ہے۔ پاکستان کے حالات کا جائزہ لیا جائے تو اس کی بڑی وجہ تخلیق کار اور عام فرد کے درمیان وہ فاصلہ ہے جو کچھ غیر مانوس الفاظ کی وجہ سے ابلاغ میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے اور کچھ حالات و واقعات اور دیگر ترجیحات ادب سے دوری کا باعث بنتی ہیں۔ اس سے پہلے کہ موجودہ دور میں اہل قلم کے کردار پر بات کی جائے یہ ضروری ہے کہ معلوم کیا جائے کہ بدامنی کے اسباب کیا ہیں؟ بدامنی ہمیشہ اشتعال سے آغاز کرتی ہے اور اشتعال کسی کو تسلیم نہ کرنے یا اسے جھٹلانے اور زیر کرنے سے پیدا ہوتا ہے۔ ہمارا وطیرہ خود کو عقلِ کُل سمجھتے ہوئے دوسروں کو اپنی پیروی پر مجبور کرنا اور اس کے برعکس جانے والوں کے لئے حیات تنگ کردینا ہے۔ رفتہ رفتہ یہ رویہ ہمارے مزاج میں سرایت کر کے ہماری عادت بن چکا ہے۔ اگرچہ افلاطون تضادات سے بھری کائنات میں امن کو ایک ایسا خواب قرار دیتا ہے جو کبھی سچ ثابت نہ ہو اور انگریز فلسفی ہابز کے مطابق انسان فطرتاً بھیڑیا ہے جس نے تہذیب کو لباس کی طرح زیب تن کیا ہے یعنی اس تہذیب کا اس کے درونِ ذات سے کوئی تعلق نہیں مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ادب انسان میں اخلاقی، انسانی اور جمالیاتی اقدار کی تحسین پیدا کر کے اس کی فطرت کی نرمی اور مثبت پہلو کو نمایاں کرتا ہے اور شائستگی عطا کرتا ہے۔

مسئلہ یہ ہے کہ آج جب پوری دنیا سُکڑ کر ایک گلوبل ولیج کا روپ دھارچکی ہے، تراجم کی صورت پوری دنیا کے ادب سے ہماری روشناسی ہو چکی ہے، ہمارے ادیبوں کو کچھ اور متحرک ہونا ہو گا۔ معاشرے کی تربیت کے لئے اسے تعصبات کے خول سے نجات دلانی ہو گی۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ اور باشعور افراد رنگ، نسل، قوم اور عقائد کے تعصب کی بناء پر عقلی طرزِ عمل ترک کر کے غیر منطقی رویہ اختیار کر لیتے ہیں۔ صرف ادیب، جو صوفی بھی ہے اور ولی بھی کیوں کہ قدرت اس کے دل پر اسرار کی دنیا وا کرتی ہے، وہی انسان کو انسانیت سے قریب کر سکتا ہے۔ آج کے ادیب کو معاشرے میں بے انصافی، لاقانونیت، آمریت، فرقہ واریت، رجعت پسندی اور ہر طرح کے استحصال کے خاتمے کے لئے آواز بلند کرنے کے ساتھ ساتھ اختلافات کو عقلی سطح پر سمجھتے ہوئے برداشت کا رویہ اپنانے پر مائل کرنا ہو گا۔ اگر وہ محسوس کرسکتا ہے، لکھ سکتا ہے، اخلاقی اصولوں سے بہرہ ور ہے تو اسے معاشرے میں ان کی ترویج کے لئے بھی کام کرنا ہو گا۔ پوری دنیا ایک وار تھیٹر کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ انسان جتنا مہذب اور تعلیم یافتہ ہو رہا ہے اتنا ہی اس کے ملک کے اسلحے کے ذخائر بڑھ رہے ہیں۔ طاقت کا جنون انسانی نسل کشی کی طرف رو بہ گامزن ہے۔ بقول لینن، ’’جنگ اور امن کے معنی بقاء اور فنا کے ہیں اور ان دو الفاظ پر انسانی تاریخ کے خاتمے یا تسلسل کا دارومدار ہے۔‘‘ ہم نے بہت سی قیامتوں کو جھیلا ہے لیکن زندگی کا تسلسل اس بات کا غماز ہے کہ جس طرح فطرت زمین کو زلزلوں، سیلابوں اور آفتوں کے بعد نئے پھول اُگانے کے جوہر عطا کرتی ہے۔ انسان بھی دُکھ، جبر اور مشکلات کے کٹھن راستوں کو آنسوئوں سے صاف کرکے آنکھوں میں دوبارہ خوابوں کے دیے روشن کر کے بہتر زندگی کا سامان کرے۔ فیض نے کہا تھا ’چلو پھر سے مسکرائیں چلو پھر سے دل جلائیں، یعنی لبوں کی مسکراہٹ اور آنکھوں کی روشنی کے لئے دِل جلانا مقصود ہے۔ بغیر کاوش کے کچھ نصیب نہیں ہوتا۔ معاشرے میں شدت پسندی کا قلع قمع کرنے کے لئے اس دھرتی کے عظیم صوفی شاعروں کے کلام سے استفادے کی اشد ضرورت ہے۔ وہ تمام عناصر جو سماج کو بدامنی کی طرف لے جاتے ہیں صوفیاء نے عملی طور پر اور اپنے کلام کے ذریعے ان کی نفی کی ہے۔ صوفیاء مناظرے اور ایمان و کفر کی سندیں تقسیم کرنے کی بجائے احترامِ آدمیت کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہیں مگر آج تک ہماری ریاست نے اس زمین کے عظیم لکھاریوں کی سوچ کو اپنایا نہ نصاب کا حصہ بنا کر رائج کیا بلکہ وہ اپنے مفادات کے لئے رجعت پسندوں کی فکر کو رائج کرتی رہی ہے۔ آیئے عہد کریں کہ آج کے بعد ہم ظلم و استحصال اور رجعت پسندی کے خلاف نہ صرف قلم کی جنگ لڑیں گے بلکہ بھرپور طریقے سے احتجاج بھی کریں گے۔ یقین کیجئے اس معاشرے کی اکثریت اس ٹھیکیداری نظام سے نجات کی خواہاں ہے جس نے فکر کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ ہمیں ان کو آواز دینی ہے اور پلیٹ فارم مہیا کرنا ہے تب ہی حقیقی امن کی سحر طلوع ہو گی۔ تخلیق کار کے دِل میں تمام خلق کا دُکھ سما جاتا ہے اور اس کا مداوا اس کا فریضہ بن جاتا ہے کیوں کہ اسے زمانے کی رہنمائی کا منصب سونپا گیا ہے۔ بقول فیض

دُکھ بھری خلق کا دُکھ بھرا دِل ہیں ہم
منصفِ خیر و شر، حق و باطل ہیں ہم

اگر معاشرے کو پرامن بنانا ہے تو اسے ادب پرور بنانا ہو گا۔ ڈاکٹر قاسم بھگیو چیئرمین اکادمی ادبیات نے پاکستان کے تمام صوبائی دارالحکومتوں میں ’’ادب اور اہل قلم کا پرامن معاشرے کے قیام میں کردار‘‘ کے موضوع پر ادبی کانفرنسوں کا انعقاد کر کے امن، محبت، رواداری اور قومی ہم آہنگی کی طرف ایک اہم پیشرفت کی ہے۔ امید ہے اس کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے اور ادیب نہ صرف معاشرے میں امن کے لئے کوشاں ہوں گے بلکہ خود بھی اختلافِ رائے کو برداشت کرنے کی طرف راغب ہوں گے اور جمہوری اقدار کی پاسداری کریں گے۔ اگر ہمارے تخلیق کار متحرک ہوں گے تو نہ صرف معاشرے میں مثبت اقدار کا فروغ ہو گا بلکہ آمریت کا ہمیشہ کے لئے قلع قمع ہوجائے گا۔ (’’اکادمی ادبیات‘‘ کی طرف سے منعقدہ دو روزہ ادبی کانفرنس میں پڑھا گیا۔)

Citation
Sughra Sadaf, “اہل قلم کا پرامن معاشرے کے قیام میں کردار,” in Jang, May 14, 2015. Accessed on May 14, 2015, at: http://beta.jang.com.pk/akhbar/%D8%A7%DB%81%D9%84-%D9%82%D9%84%D9%85-%DA%A9%D8%A7-%D9%BE%D8%B1%D8%A7%D9%85%D9%86-%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D8%B1%DB%92-%DA%A9%DB%92-%D9%82%DB%8C%D8%A7%D9%85-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%DA%A9%D8%B1%D8%AF%D8%A7/

Disclaimer
The item above written by Sughra Sadaf and published in Jang on May 14, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on May 14, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Sughra Sadaf:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s