مطالعہ بیزار قوم

Follow Shabnaama via email
رانا عامر جاوید

سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کوایک علم دوست نے کتابوں کا تحفہ پیش کیا۔ گیلانی صاحب نے شکریہ کے ساتھ تحفہ قبول کیا اورکتابوں کے اس تحفے کو اپنے سیکرٹری کے حوالے کیا ،کتابوں کا یہ تحفہ ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ تک سفرکرتا رہا اس سے آگے کچھ لکھنا مناسب نہیں ہے۔ مطالعہ کش وزیراعظم کواگرکتابوں کے بجائے کتوں کاتحفہ دیا جاتا تویقیناًوہ ان کتوں سے بچوں کی طرح لاڈپیارکرتے اور تحفہ دینے والے دوست کا بارہا شکریہ اداکرتے اور ۔کہا جاتا ہے موصوف گیلانی صاحب صاحبِ کتاب بھی ہیں۔ جیل کے دنوں میں انہوں نے ایک کتاب بھی لکھی یا لکھوائی تھی لیکن کتابوں کے تحفے سے یہ بات عیاں ہوجاتی ہے موصوف نہ تومطالعہ کے شوقین ہیں اورنہ ہی صاحبِ کتاب ہوسکتے ہیں ترقی یافتہ ممالک کے حکمران کتابوں سے خصوصی لگاؤرکھتے ہیں اوراخبارات کا باقاعدہ مطالعہ بھی کرتے ہیں خبروں پربروقت ایکشن لیا جاتا ہے ا ورایڈیٹرکی ڈاک میں سائلین کے مسائل کے حل کے لیے فوری اقدامات کرکے سائل کی دادرسی کی جاتی ہے۔ عوام کی فلاح اور ترقیاتی منصوبوں بارے ان کی دی گئی تجاویز پر غور بھی کیا جاتا ہے جس سے چالیس فیصد معاشرتی مسائل ختم ہوجاتے ہیں اور عوامی حالات سے مکمل اور حقیقی آگاہی بھی حاصل ہوجاتی ہے جبکہ ہمارے موجودہ حکمران،اپوزیشن رہنما کتاب دوستی اور مطالعہ سے بہت دورہیں۔ ان رہنماؤں کے لیے مطالعہ ان کے سیکرٹری اوردرباری کرتے ہیں اور ’’سب اچھا‘‘کی رپورٹ کرکے سوجاتے ہیں۔ بانئ پاکستان قائداعظم محمدعلی جناحؒ کتابیں پڑھنے کا ذوق رکھتے تھے اوران کے سیاسی حریف مہاتما گاندھی بھی مطالعے کا ذوق رکھتے تھے۔ آج انہی ہستیوں کا نام تاریخ میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے امرہے اوران لیڈروں کی لائبریریاں تاریخ کے ماتھے کا جھومر ہیں۔ عظیم مسلم جنرل سلطان صلاح الدین ایوبی علم وادب کے بے حد دل دادہ تھے سلطان کے حکم کے مطابق اس کی فوج کے تمام جنرل تلوار کے دھنی ہونے کے ساتھ ساتھ علم کے زیور سے بھی آراستہ تھے سلطان کے علم کی پیاس کا یہ عالم تھا کہ میدان جنگ میں بھی گھوڑوں کی پیٹھ پر سلطان کی سفری لائبریری موجود رہتی تھی۔عالم تاریخ میں ایک ایسے سکالر بھی گزرے ہیں جو کتابوں کے جمگھٹے تلے دب کر خالق حقیقی سے جا ملے۔ علا مہ جا حظ رحمتہ اللہ کامطالعہ میں محنت و شوق کا یہ عالم تھا کہ کتابوں کی دُکانیں کرائے پر لے کر ساری ساری رات کتابوں کا مطالعہ کرتے۔ کوئی کتاب اُٹھاتے جب تک اول تا آخرختم نہ کر ڈالتے کتاب ہاتھ سے نہ رکھتے۔ کتابیں پڑھنے میں اتنے مصروف رہتے کہ اطراف و اکناف میں کتابوں کا ہی انبار ہوتا۔ ایک دن کتابوں کے جمگھٹے میں بیٹھے کتاب پڑھنے میں اس قدر مشغول تھے کہ آس پاس ر کھی ہوئی کتابیں ان پر آگریں۔ مفلوج و لاغر اور بیمار جسم میں اُٹھنے کی تاب نہ رہی بس اسی طرح اپنی محبوب کتابوں ہی میں دب کر اپنی جان جانِ آفرین کے سپرد کر دی۔شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمتہ اللہ ہندوستان میں علمِ حدیث کی نشرواشاعت کے داعی ومبلغ، دہلی میں مسند درسِ حدیث کے عظیم محدث تھے انہماکِ مطالعہ کا یہ حال تھا کہ رات کی تاریکیوں میں بھی مطالعہ میں رہتے۔ کئی بار ایسا بھی ہوا کہ دورانِ مطالعہ اپنے سامنے جلتے ہوئے چراغ سے آپ کا عمامہ جل گیا لیکن آپ کواس وقت اندازہ ہوا جب آگ عمامہ کوجلاتے جلاتے سر کے بالوں تک پہنچی۔ اور ایسا ایک بار نہیں کئی بار ہوا۔بس احساس کی چوکھٹ پہ کھڑا فٹ پاتھوں پر بکھری ہوئی کتابوں کو دیکھتا ہوں تو میرا ذہن کتابوں کے مصنفوں کی طرف گشت کرنا شروع ہوجاتا ہے جو غور وفکر کی کھال اتارنے کی عادت کے مالک تھے، وہ علم وہنر کے موتی، کرتے ہو اب تلاش ستاروں کو خاک پر! صدی کے رجل عظیم نے کتاب کے تقدس بارے کہا تھاکہ جس قوم میں کتابوں کی بے ادبی اور مطالعہ شوق چھن جائے وہ قوم زوال کا شکار ہوجاتی ہے اور آج کتابیں فٹ پاتھوں پر اور جوتے ائیرکنڈیشنڈ کمروں میں شفٹ ہوگئے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ آج ہم دن بدن زوال کا شکار ہو رہے ہیں۔میں ایک قلم اور کتاب کا طالب اور طالب علم ہوں بس اتنا جانتا ہوں کہ دُنیا میں صرف ایک چیز ایسی ہے جو ہر حال میں انسان کے لیے مناسب ہے اور وہ ہے ’’اچھی کتاب‘‘جو بچپن،جوانی،بڑھاپے،خوشی اور غم ہر وقت فیض رساں ہے اور جس شہر سے علم اُٹھ جاتا ہے،جس دیار میں کتاب کھو جاتی ہے جہاں کتب خانے کباڑخانوں تبدیل ہوجاتے ہیں اور کتابیں فٹ پاتھوں کی زینت بن جاتی ہیں اور جوتے ائیرکنڈیشنڈکمروں میں شفٹ ہوجاتے ہوں تو یقین جانیں وہ دیار اُجڑ جاتا ہے۔ اُجڑے دیار کا کوئی پرسان نہیں ہوتا بس وہ بے حال ہوجاتا ہے بس پھر پیچھے کہانیاں رہ جاتی ہیں !آخرمیں ایک فیس بک فرینڈ نے خوبصورت پوسٹ شیئر کی ہے۔ دل میں خیال ابھرا کہ یہ پوسٹ نئی سوچ،نئے پن ،نئی بات کہنے اور نئی بات میں لکھنے والے کتاب دوستوں کو بھی شیئر کردوں کہ ’’ یہ قوم دوسوروپے کی کتاب نہیں خریدتی مگر دوہزارروپے کاجوتاخرید لیتی ہے۔ اس سے ظاہرہوتاہے کہ اس قوم کو کتابوں کی نہیں جوتوں کی ضرورت ہے۔

Citation
Rana Amir Javed, “مطالعہ بیزار قوم,” in Daily Nai Baat, May 14, 2015. Accessed on May 14, 2015, at: http://www.naibaat.pk/archives/sp_cpt/%D9%85%D8%B7%D8%A7%D9%84%D8%B9%DB%81-%D8%A8%DB%8C%D8%B2%D8%A7%D8%B1-%D9%82%D9%88%D9%85

Disclaimer
The item above written by Rana Amir Javed and published in Daily Nai Baat on May 14, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on May 14, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Rana Amir Javed:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s