علمی بدہضمی کا خدشہ

Follow Shabnaama via email
عطاء الحق قاسمی

مجھے ان دنوں علمی و ادبی بدہضمی کا شدید خطرہ لاحق ہو گیا ہے کہ آج کل پاکستان کے بڑے چھوٹےشہروں اور بیرون ملک اس نوع کی محفلیں بہت کثرت سے برپا ہونے لگی ہیں اور میں کبھی چاہتے اور کبھی نہ چاہتے ہوئے بھی ان میں مسلسل شرکت کر رہا ہوں۔ سب سے زیادہ علمی سرگرمی نیشنل بک فائونڈیشن اسلام آباد کے پانچ روزہ کتاب میلے میں نظر آئی۔ ڈاکٹر انعام الحق جاوید نے گزشتہ برس بطور ایم ڈی اس ادارے کا چارج سنبھالا تھا۔ اس وقت سے انہوں نےاپنی اور اپنے اسٹاف کی زندگیاں حرام کی ہوئی ہیں۔ چھٹی کے دنوں میں بھی دفتر کھلا ہوتا ہے اور ایم ڈی صاحب کبھی دفتر میں انتظامی امور، کسی اجلاس میں روسٹرم پر کھڑے محو خطاب اور حتیٰ کہ کبھی نیشنل بک فائونڈیشن کے کسی اسٹال پر خود کھڑے کتابیں بیچتے نظر آتے ہیں۔ پانچ روزہ کتاب میلہ میں ایک وقت تو ایسا بھی آیا کہ موصوف کی ہمت جواب دیتی نظر آئی۔ مگر ان لمحات کے لئے ان کے دوست قاضی محمد اصغر نے ایک فزیوتھراپسٹ رکھا ہوا ہے جسے عرف ِ عام میں مالشیا کہتے ہیں۔ چنانچہ وہ دس منٹ کے لئے ان کے دفتر آیا ۔ اس نے دو ماہرانہ ہاتھ مارے اور ایم ڈی صاحب دوبارہ فعال ہو گئے۔

خیر ان تقریبات کو کتاب میلہ کانام دیا گیا تھا اور واقعی اس میں کتاب بھی تھی اور میلے کا سا سماں بھی تھا۔ تین چار وفاقی وزارتوں کے حامل سینیٹر پرویز رشید اس میلے میں فرحاں و شاداں گھومتے پھرتے نظر آئے کہ ان کی اصل دنیا کتابوںکی دنیاہے۔پاکستان ثقافت کی دنیا ہے۔ اس میلے میں کوئی ایک خاص بات بتانے والی ہوتی تو میں آپ سے ضرور Share کرتا مگر یہاں تو مسلسل پانچ روز تک لاکھوں کی تعداد میں عام لوگ آئے اور رنگ برنگی تقریبات میںشریک ہوتے رہے۔ کہیں بچوں کو کتاب سے رغبت دلانے والے پروگرام تھے کہیں انگریزی اور کہیں اردو کتابوں کے اقتباسات مصنفین خود سنا رہے تھے، کہیں انور مسعود کے ساتھ پروگرام تھا اور خلق خدا تھی کہ امڈی چلی آرہی تھی حتیٰ کہ آڈیٹوریم کے دروازے بند کرنا پڑگئے اور دوسری طرف انتظار حسین کےگردان کے پروانے جمع تھے۔انتظار پاکستان کی پہچان کا نام ہے اور اسٹیج پر حمید علوی اور پروفیسر قیصرہ علوی کی بیٹی ڈاکٹر سائرہ علوی جو مجھے بھی بیٹی ہی کی طرح عزیز ہے، میرے اور مسعود اشعر کے ہمراہ انتظار صاحب کے گردسوالوں کا گھیرا ڈال رہی تھی۔ اس روز انتظار حسین صاحب نے جو گفتگو کی وہ ان کی بہترین گفتگوئوں میں بھی سرفہرست تھی۔اس میلے میں ٹیبلوز بھی پیش کئے گئےاور مختلف پبلشرز نے کتابوں کے اسٹالز بھی لگائے ہوئے تھے۔ آپ نے کئی مرتبہ یہ بات سنی ہوگی کہ پاکستان میں کتاب نہیں بکتی اور یہ ’’قو ل زریں‘‘ کسی پبلشر سے سنا ہوگا اور یا پھر کسی ایسے ادیب سے جس کی اپنی کتاب نہیں بکتی کیونکہ اس میلے میں صرف پانچ دنوں میں پونے تین کروڑ روپے کی کتب فروخت ہو ئیں۔ ایک خوشخبری میرے لئے ذاتی نوعیت کی بھی ہے اور اس کا کتاب میلے سے کوئی تعلق نہیں۔ میری دو کتابیں ’’مجموعہ‘‘ (جس میں پانچ کتابیں شامل ہیں) اور ’’سفرنامے‘‘(جس میں چار کتابیں موجود ہیں) نیشنل بک فائونڈیشن نے ایک ایک ہزار کی تعداد میں شائع کی تھیں اور یہ نو نو سوصفحات پر مشتمل ان د ونوں کتابوں کے ایڈیشن چارماہ کی ریکارڈ مدت میں فروخت ہوگئےاور اب ان کے نئے ایڈیشنز کی تیاری کی جارہی ہے۔

چلیں میں نے یہ ’’شو‘‘ مارنا تھی،مارلی۔ اب چلتے چلتے صرف یہ جان لیں کہ کسی ادارے کا منتظم خواہ کتنا ہی اہل اور مستحق کیوں نہ ہو، جب تک اس کے ’’اوپر والے‘‘ اس کا ساتھ نہیں دیں گے ،وہ اپنی کارکردگی کابھرپور مظاہرہ نہیں کرسکے گا۔ انعام صاحب خوش قسمت ہیں کہ انہیں وزیر سینیٹر پرویز رشید اور کیبنٹ سیکرٹری راجہ حسن عباس دونوں علم دوست ملے ہیں اورشاید یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد اب صرف ’’نوٹنگ ڈرافٹنگ‘‘ کا شہر نہیں رہابلکہ اب اس کی پہچان علم، ادب اور ثقافت بھی بنتی جارہی ہے۔

نیشنل بک فائونڈیشن کے کتاب میلے کے ساتھ ساتھ آکسفورڈ پریس کا دو روزہ ادبی میلہ بھی چند کلومیٹر کے فاصلے پر عوام و خواص کی دلچسپی کا مرکز بنا ہوا تھا۔ اس ادارے کو آصف فرخی جیسا عالم اور امینہ سید جیسی منتظم دستیاب ہیں۔ اس کے علاوہ یورپین سفارتخانے بھی علم و ادب کے فروغ میں اپنا احسن کردارادا کرتے ہیں۔
میرا معاملہ یہ تھا کہ میں متذکرہ دونوں میلوں میں ’’شامل باجے‘‘ کےطور پر شامل تھا چنانچہ میری ایک ٹانگ چائنہ سینٹر جہاں بک فائونڈیشن نے رونق لگائی ہوئی تھی اور دوسری ٹانگ مارگلہ ہوٹل میں ہوتی تھی، جہاں آکسفورڈ پریس والوں کاادبی میلہ اپنی پوری دلکشی کے ساتھ جاری و ساری تھا مگر وہ جوکہتے ہیں نا کہ دو گھروں کامہمان بھوکا ہی رہتاہے تو میں کسی ایک گھرسےبھی پوری طرح سیر نہ ہوسکا تاہم مجھے بےپناہ خوشی ہے کہ پاکستان پر ایک عرصے سے کچھ پیوست زدہ لوگوں نےاپنی پیوست کا سایہ کیاہوا تھا، وہ سایہ اب نہیں رہا، اس کی جگہ ثقافتی سرگرمیوں کی ٹھنڈی چھائوں نے لے لی ہے!

پاکستان کی وفاقی حکومت نے ایک اور ہیراجن کا نام نامی ٔ ڈاکٹر قاسم بھیگو ہے، دریافت کیاہے۔ دریافت ان معنوں میں نہیں کہ دنیا اس نابغہ کے اعلیٰ و ادبی کاموں سے ناواقف تھی، دریافت ان معنوں میں یا چلیں بازیافت کہہ لیں کہ اس نابغہ کو پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز کے چیئرمین کے طور پر منتخب کیاگیا اور ڈاکٹر قاسم بھیگو جو اسکالر تو ہیں ہی، اعلیٰ درجے کے منتظم بھی ہیں۔ انہوں نےآتے ہی اکیڈمی کے مردہ گھوڑے میں جان ڈال دی۔ پاکستان کے چاروںصوبوںمیں ایک ایک ادبی کانفرنس کا ڈول ڈالا۔ کراچی اور لاہور میں یہ دو روزہ کانفرنسیں منعقد ہوچکی ہیں اور کوئٹہ اور پشاور میں ہونےجارہی ہیں اور یہ سب کام انہوںنےنہایت مالی کسمپرسی کی حالت میں کیا۔ میری اطلاع کے مطابق حکومت نے انہیں فنڈزجاری کردیئے ہیں سو آئندہ ہمارا یہ ادبی ٹارزن پہلے سے کہیں زیادہ قوت اور طاقت کے ساتھ علمی میدان میں اترے گا اور کشتوں کے پشتے لگائے گا!

میں نے اگر کالم کے آغاز میں کہا تھا کہ مجھے علمی بدہضمی کا خدشہ لاحق ہو گیا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ میں صرف ان تقریبات ہی میں شامل نہیں ہوا بلکہ اس دوران منڈی بہاو الدین ، شیخوپورہ، فیصل آباد اور اس کے علاوہ کئی دوسرے شہروں کی ادبی تقریبات میں بھی مارا مارا پھرتا رہا ہوں۔ فیصل آباد کی جی سی یونیورسٹی میں سیمینار تھا، جس میں مجھے اور ایاز امیر کو مدعو کیاگیا تھا۔ اس یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد علی سے میری پہلی ملاقات ہوئی تو میں سمجھا کہ شاید یہ خوبرو نوجوان یونیورسٹی میں داخلہ لینے آیا ہے مگر پتہ چلا کہ موصوف تو باہر ہی سے نہیں ’’اندر‘‘سے بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں، سو یہاں ایاز امیر سے بہت خوبصورت باتیں سننے کو ملیں اور خود ڈاکٹر محمد علی کی گفتگو ئوں کی خوشبو نے بھی جسم و جاں کو مہکائے رکھا۔ آپ کیلئے خوشخبری کہ باقی شہروں کا ذکر گول کر رہا ہوں کہ میں نہیں چاہتا میرے ساتھ میرے قارئین بھی کسی بھی قسم کی بدہضمی کا شکار ہوں!

Citation
Ataulhaq Qasmi, “علمی بدہضمی کا خدشہ,” in Jang, May 14, 2015. Accessed on May 14, 2015, at: http://beta.jang.com.pk/akhbar/%D8%B9%D9%84%D9%85%DB%8C-%D8%A8%D8%AF%DB%81%D8%B6%D9%85%DB%8C-%DA%A9%D8%A7-%D8%AE%D8%AF%D8%B4%DB%81-%D8%B1%D9%88%D8%B2%D9%86-%D8%AF%DB%8C%D9%88%D8%A7%D8%B1-%D8%B3%DB%92/

Disclaimer
The item above written by Ataulhaq Qasmi and published in Jang on May 14, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on May 14, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Ataulhaq Qasmi:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s