حیرت اردو

Follow Shabnaama via email
امر جلیل

سیکھنے کے عمل میں یعنی Learning Process میں ایک مقام ایسا آتا ہے جب ہم حیران ہوتے ہیں، حیرت میں پڑجاتے ہیں، تب ادراک اور آگاہی کے دروازے کھلتے چلے جاتے ہیں۔حقائق نئے معنٰی اور نئے مفہوم کے ساتھ سمجھ میں آنے لگتے ہیں۔ بہت سنا ہے، بہت پڑھا ہے، اردو کے ارتقا کے بارے میں۔ اردو کا حسب نسب کسی نے فارسی سے، تو کسی نے ترکی زبان سے ملادیا ہے۔ کچھ مورخ کہتے ہیں کہ اردو کی پرورش مغل سلطنت کے زیرسایہ ہوئی ہے۔ کسی عالم نے اردو کی قلابیں عربی سے ملادی ہیں۔ ایک تحریر میں بڑا ہی عجیب جملہ پڑھنے کو ملا۔ لکھا تھا: ہندی کی غیرہندی صورت اردو ہے، اس طرح کے تجزیوں اور تحقیق کو عالمانہ سند مانا جاتا ہے لیکن میری تسلی نہیں ہوئی۔ میرے تجسس کی تشنگی کم نہیں ہوئی۔میں کچھ اور جاننا چاہتا تھا۔ سمجھنا چاہتا تھا۔ اردو کے بارے میں علمی اور عالمانہ تحریریں مجھے مطمئن نہ کرسکیں۔ اردو کے حوالے سے میرے مشاہدے میں آئے ہوئے حیرت انگیز حقائق کا تجزیہ پڑھنے کو کہیں نہیں ملا۔حقائق کے بارے میں عالمانہ تحریروں میں تشریح کی عدم موجودگی نے مجھے حیرت میں ڈال دیا اب ہم فقیر کم عالمانہ اور غیرعلمی نقطہ نگاہ سے اردو کا تجزیہ کرتے ہیں۔گزارش ہے کہ آپ غور سے پڑھیں۔

فقیروں کو اس بات سے کوئی سروکار نہیں ہے کہ اردو کے تانے بانے فارسی سے ملتے ہیں۔ یا کہ ترکی سے ملتے ہیں یا کہ ہندی سے ملتے ہیں۔ ہندوستان جیسے بڑے وسیع و عریض ملک میں جہاں صدیوں پرانی تہذیبیں پنپتی ہیں، جہاں بیشمار بولیاں اور زبانیں بولی جاتی ہیں، ان زبانوں میں برجستہ ادب تخلیق ہوتا ہے، ایسے مہان ملک میں یورپ سے پچھم اور اتر سے دکھن تک اردو کا پھیلنا معمولی بات نہیں ہے۔ اگر آپ مظاہر قدرت پر یقین رکھتے ہیں تو پھر اردو زبان کا ہندوستان کی عظیم الشان وسعتوں میں پھیل جانا کسی کو بھی حیران کرنے کے لئے کافی ہے۔ عام طور پر سمجھا جاتا ہے، مانا جاتا ہے کہ حکمرانوں کی زبان پھلتی پھولتی ابھرتی رہتی ہے۔ حکمرانوں کی اپنی زبان دیگر زبانوں پر اور ان کی تہذیبوں پر حاوی ہوتی جاتی ہے۔ یہ بات کہاں تک درست ہے، ہم اس بحث میں پڑنا نہیں چاہتے۔ ہم اردو کے کرشماتی پھیلائو کے حوالے سے ہندوستان کی تاریخ پر طائرانہ نگاہ ڈالیں گے۔ ہندوستان کی خوشحالی نے دنیا کی کئی طاقتور قوتوں اور ممالک کو ہندوستان پر حملہ کرنے، لوٹ مار کرنے یا پھر مستقل طور پر قبضہ جماکر ہندوستان پر راج کرنے کیلئے اکسایا۔ آریائی اور مرکزی ایشیائی قوموں سے لیکر عربوں، ایرانیوں، یونانیوں، ارغونوں، ترخانوں، خلیجیوں، تاتاریوں، مغلوں، غوریوں، پرتگالی اور انگریزوں نےہندوستان پرحکومت کی۔ مگر حکمرانوں کی زبان اور ان کی تہذیب و تمدن ہندوستان کی اپنی زبانوں مثلاً مرہٹی، گجراتی، بنگالی، مدراسی، آسامی، ہندی، تامل، سندھی، پنجابی، بلوچی، پشتو وغیرہ پر اثرانداز نہیں ہوسکیں۔ مغلوں نے تقریباً تین سو برس ہندوستان پر حکومت کی۔ان کی سرکاری زبان فارسی تھی۔ مگر ان تین سو برسوں میں فارسی عام آدمیوں کی زبان نہ بن سکی۔ فارسی سرکاری زبان تھی۔ تعلیم و تدریس کی زبان تھی لیکن نہ پھیل سکی، پھول سکی اور نہ ہی ہندوستانیوں کے دل میں گھرکرسکی۔ انگریزوں نے تقریباً دو سو برس ہندوستان پر حکومت کی۔ انکی سرکاری زبان انگریزی تھی۔ ہندوستانی زبانوں کے ساتھ ساتھ انگریزی زبان بھی درس و تدریس کی زبان تھی۔ لیکن انگریزی عام ہندوستانی کی زبان نہ بن سکی۔ سخت انتظامی امور کی وجہ سے انگریزی حاکموں کی زبان بن کر رہ گئی اور دیگر ہندوستانی زبانیں محکوموں کی زبانیں بن گئیں۔ انگریزوں کے خلاف جتنا بھی مزاحمتی ادب لکھا گیا، وہ ہندوستانی زبانوں میں لکھا گیا، خاص طور پر بنگالی میں۔

اس پس منظر کے بعد فقیر حیرت کے دوسرے مقام پر پہنچتے ہیں۔ ہندوستان پر حکومت کرنے والے کسی بھی حاکم کی زبان اردو نہیں تھی۔ پھر کیسے اور کیوںکر اردو ہندوستان کے طول و عرض میں پھیل گئی؟ پھر کیسے اردو عام ہندوستانی کی زبان بن گئی؟ ایک بات ہمیں یاد رکھنی چاہئے، کہ ہندی زبان کبھی بھی ہندوستان کے عام آدمی کی زبان نہیں تھی۔ لہٰذا یہ مفروضہ کہ فارسی کے الفاظ اور محاورے ہندی میں ملانے سے اردو زبان بنی تھی، یہ بات وزن نہیں رکھتی۔ اس دعویٰ کے برعکس انگریزوں کی دیرینہ پالیسی، تقسیم کرو اور حکومت کرو Divide and Rule کے تحت ہندی میں سنسکرت اور پراکرت کے الفاظ ٹھونسے گئے اور اسی طرح اردو میں فارسی اور عربی الفاظ ٹھونسے گئے۔ اس سے اور کچھ تو نہیں ہوا سوائے انگریز کے عزائم کی تکمیل کے۔ ہندو اور مسلمانوں میں فاصلے بڑھ گئے۔ ورنہ اردو اور ہندی ایک زبان کے دو نام سمجھے جاتے تھے۔

انہی دنوں میں کلکتہ سے کراچی تک ریلوے اسٹیشنز پرانگریز نے پانی تقسیم کردیا، پلیٹ فارمز پرایک طرف ہندو پانی اور دوسری طرف مسلمان پانی کا انتظام ہوتا تھا، اس کے بعد سفرکے دوران ریل گاڑی کے اندر ملنے والا کھانا تقسیم کیا گیا، ہندو کھانا، مسلمان کھانا، آج کل کھانے کی اس طرح کی تقسیم کو عام طورپر نان ویج اور ویج کھانا کہتے ہیں، نان ویج کھانے میں مچھلی کا گوشت ہوتا ہے اور ویج، جو کہ مخفف ہے، ویجیٹیبلز کا، اس کھانے میں سبزیاں ہوتی ہیں۔

بغیر کسی فرد، افراد اداروں کی مدد، سہارے اور حمایت کے اردو کا پورے ہندوستان پر چھا جانا کرشمے سے کم حقیقت نہیں ہے، آپ بنگال سے چلیں، مدراس تشریف لے آئیں، آپ تب مدراسیوں سے مدراسی یا تامل زبان میں بات نہیں کرتے، کیوں کہ یہ زبان آپ نہیں جانتے، آپ ان سے اپنی زبان بنگالی میں بھی بات نہیں کرسکتے کیونکہ مدراس چنائی کے لوگ بنگالی نہیں جانتے، آپ ان سے اردو میں بات کرتے ہیں، ہندوستان میں شاہد ہی کوئی ایسی جگہ ہوجہاں اردو بولی اور سمجھی نہ جاتی ہو، تقسیم ہند سے پہلے اردو کو ہندستانی بھی کہا جاتا تھا، صدر کراچی کے آٹھ دس سینما میں انگریزی فلمیں لگتی تھیں، شہر کے باقی سینمائوں میں ہندوستانی فلمیں چلتی تھیں، وہ تمام فلمیں مع گانوں اور مکالموں کے اردو میں ہوتی تھیں، آزاد قبائل کے پہاڑی علاقوں سے روانہ ہوکر کراچی پہنچنے والے پٹھان گنتی کے چند ماہ میں اردو بولنے اور سمجھنے لگتے ہیں، اس کے برعکس آزاد قبائل سے آتے ہوئے پٹھان چند ماہ تو کیا برسوں میں بھی سندھی، پنجابی اور بلوچی نہ سمجھ سکتے ہیں اور نہ بول سکتے ہیں، ایسا کیوں ہے؟ اس سلسلے میں عمرانیات اور لسانیات کے ماہروں سے میں نے بات چیت کی ہے، کہیں سے بھی مجھے خاطر خواہ جواب نہیں ملا ہے۔

اردو کے بارے میں حیران کردینے والی کچھ اور باتیں میں اگلے قصے میں آپ سے شیئر کروں گا۔

Citation
Amar Jalil, ” حیرت اردو,” in Jang, May 12, 2015. Accessed on May 12, 2015, at: http://beta.jang.com.pk/akhbar/%D8%AD%DB%8C%D8%B1%D8%AA-%D8%A7%D8%B1%D8%AF%D9%88-%D8%B3%D8%A8-%D8%AC%DA%BE%D9%88%D9%B9/

Disclaimer
The item above written by Amar Jalil and published in Jang on May 12, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on May 12, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Amar Jalil:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s