جمیل احمد عدیل کی ’تنقید سے فرصت نہیں‘

Follow Shabnaama via email
نعمان منظور

گزرتے وقتوں میں سنتے تھے کہ ’تنقید نگار کا کام صرف تنقید کرنا ہوتا ہے ‘،اس کے علاوہ تنقید نگار نہ تو شاعری کرتے تھے اور نہ ہی کسی اورصنفِ سخن میں طبع آزمائی کرتے تھے۔ان کا بیشتر وقت تنقید میں ہی گزرتا تھالیکن گزشتہ تین دہائیوں سے پاکستانی تنقید میں ایک خوشگوار اضافہ ہوا ہے کہ ہمارے عہد کے نوجوان، شعراء اور ادیب تنقید کی جانب بھی راغب ہوتے دکھائی دئیے ہیں۔ان میں ایک نام جمیل احمد عدیل کا بھی ہے۔موصوف نہ صرف تنقید لکھتے ہیں بلکہ انہیں تنقید سے فرصت ہی نہیں ملتی ،لیکن ان کی تنقید پڑھ کے ہمیں یہ احساس ضرور ہوتا ہے کہ ’ابھی پاکستانی ادب کو بچانے اور اسے پھیلانے والے زندہ ہیں ‘۔

ہمارے ملک کے ادبی منظرنامے میں تعلقاتی ادب کی اہمیت سے انحراف نہیں کیا جا سکتا۔اکثر وبیشتر علمی و ادبی اور تحقیقی کتابوں پر مقدمہ،پیش لفظ اورتقریظ وغیرہ لکھوانے کے لیے ہاتھ میں کاسۂ گدائی اٹھائے شاعر،ادیب،مولف و مصنف بلکہ تمام علوم و فنون سے تعلق رکھنے والے افراد ادب کے حیرت کدہ میں منزل کے سراغ کی تلاش میں گم ہوکے بیٹھ جاتے ہیں۔جمیل احمد عدیل کی تحقیق کی بنیاد معروضی حقائق پر ہے جنہیں یہ اپنے دوررس منطقی شعور کی کسوٹی پہ پرکھ کر ایک خاص سلیقے سے مرتب کرتے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ زندگی کے بنیادی مسائل و معاملات کے وجدانی ادراک کے ساتھ وقت اور ماحول کی کوکھ سے جنم لینے والی سنگین حقیقتوں کی تہہ در تہہ جہتوں کی نشاندہی بھی کرتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ان کی قلم کارانہ کاوشیں صاحبانِ شعر اور اربابِ علم و فضل کے کسی نہ کسی نفسیاتی مطالعے کی تسکین اور اہلِ ذق کی آسودگی کا سبب ہیں۔

’تنقید سے فرصت نہیں‘تنقید نگاری کے باب میں نہ صرف ایک بہترین اضافہ ہے جو جمیل احمد عدیل کے گہرے مشاہدے اور وسیع دانشورانہ مطالعہ کی دلیل ہے۔اس کتاب میں شامل تمام مضامین میں اظہارو افکار کی چاندنی چھٹکی ہوئی ہے جو ایک قیمتی ادبی سرمایہ ہے۔ان کی کتاب پڑھ کے احسا س ہوتا ہے کہ ان کے ہاں تخلیقی صلاحیت بدرجہ اتم موجود ہے۔یہ بڑے جذبے سے تخلیق کا جائزہ لیتے ہیں اور نری تنقید ہی نہیں کرتے بلکہ علمی و ادبی مسائل کا تجزیہ بھی کرتے ہیں۔فنی خوبیوں اور خامیوں پر ان کی گہری نظر ہوتی ہے۔اس کے علاوہ جمیل احمد عدیل ادبی مسائل کی نوعیت سے واقفیت کی بناپرجو بھی مشورے دیتے ہیں وہ صائب ہوتے ہیں۔ہمارے علم میں ہے کہ جمیل احمد عدیل چونکہ زندگی کی پیچیدگیوں سے واقف ہیں اس لیے وہ شاعر یا نثر نگارکے ساتھ ساتھ سفر کرتے ہیں اور جہاں کوئی نشیب آتا ہے یہ انتہائی ہمدردی اور جذبے کے ساتھ تجزیہ کرتے ہیں اور اپنی بات کی وضاحت کے لیے دلائل کا سہارا لیتے ہیں۔

جمیل احمد عدیل کی تنقید میں جو بات سب سے نمایا ں ہے اور ہمیں پسند ہے ،وہ یہ ہے کہ یہ بڑی بڑی تفصیلی باتیں بڑے اختصار اور موثر انداز سے بیان کردیتے ہیں۔ان کے ہاں بات کرنے کا ڈھنگ ایسا ہے جو بیان کردہ موضوع کی نمائندگی کرتا ہے۔چھوٹے چھوٹے فقرے انتہائی بامعنی اور پراثر ہوتے ہیں۔ان کے اسلوب میں ایک انفرادیت ہے جوسماں باندھ دیتی ہے۔ان کے تنقیدی رویے مثبت ہیں جوانہیں ،ہمارے روایتی تنقید نگاروں سے جدا کرتے ہیں۔جہاں کہیں موازنے اورمقابلے کی بات آتی ہے تو یہ روایت کا خاص خیال رکھتے ہیں۔ان کی تجربے اور مشاہدے کی داد دینی پڑتی ہے کہ ان کے مضامین میں کہیں بھی بوریت کا عنصر داخل نہیں ہوتا۔
جمیل احمد عدیل کی نظر میں ابلاغ کا مسئلہ بھی انتہائی اہم ہے۔ابلاغ کی کمی ادب کو مبہم بنا دیتی ہے۔ زندگی کو آسان، سادہ اور دلچسپ بنانے کے لیے ابلاغ کا واضح اور روشن ہونا ضروری ہے۔ تنقید کو ہم ذاتی پسند اور ناپسند تک محدود نہیں رکھ سکتے کہ ہر چیز کو پرکھنے کے کچھ اصول ہوتے ہیں۔ موضوع کی نوعیت کو اس میں بڑا عمل دخل ہے۔ پھر صداقت اور حقائق اس بات کا تعین کرتے ہیں کہ کیا اچھا ہے اور کیا برا؟۔ ڈاکٹر جمیل عظیم آبادی فرماتے ہیں کہ ’تنقید کا بنیادی مقصد تخلیقی قوتوں کو زندہ اور متحرک رکھنا ہوتا ہے۔پوری کارکردگی کا چھان پھٹک کر جائزہ لینا،تنقیدی ذہن کی تنظیم کر کے سنجیدہ تخلیقات کی معاون ہوتی ہے‘۔’تنقید سے فرصت نہیں‘میں جمیل احمد عدیل نے شعراء اور ادیبوں کی کاوشوں کو تفصیل میں بیان کیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اپنی بے لاگ رائے کا بھی اظہار کیا ہے لیکن یہ اظہارصرف تنقیدی پہلو ہی نہیں رکھتا بلکہ آفاقی اقدا ر کا بھی حامل ہے۔ہمارا ذاتی خیا ل ہے کہ جمیل احمد عدیل نا امیدی،منافقت اور لگی لپٹی باتوں سے بے حد گریز کرتے ہیں۔مشکل سے مشکل بات اور اختلافات کی لہروں میں بھی رک رک کر اچھی باتوں کو تلاش کرلیتے ہیں۔

ادبی دنیا میں سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ قلم قبیلہ میں شامل ہونے والے افراد کا کوئی پرسانِ حال نہیں ہوتا۔نام آور(کچھ بڑے ناموں کے علاوہ)حضرات کی شانِ بے نیازی میں نیاز مندی پوشیدہ ہوتی ہے،ان حضرات کے تجاہلِ عارفانہ پر حساس دل شاعر و ادیب خونِ جگر خندہ پیشانی سے پی جاتے ہیں۔ہم اکثر یہ بات سوچتے ہیں کہ ’کیا صاحبِ بصیرت افراد کی ذمہ داری نہیں کہ علمی اور ادبی میدانِ عمل میں آنے والوں کا پرتپاک انداز سے استقبال کریں؟‘۔اللہ تعالیٰ جب کسی کو تحقیق و تنقید کی مسند پہ بٹھا دیتا ہے تو اپنی رحمتِ بے پایاں کا دروازہ اس پر کشادہ کر دیتا ہے۔شعوری طورپر اس کے دل میں شفقت کا جذبہ ڈال دیتا ہے۔جمیل احمد عدیل آج کی معاصرانہ چپقلش،گروہی و ادبی کینہ پروری اور مادی مفادات کے حصول جیسے امراض میں مبتلا نہیں ہوئے بلکہ علم و ادب کی شاہراہ پر صوفیانہ اور عالمانہ انداز سے اپنا سفرِ حیات جاری رکھے ہوئے ہیں۔ہمارا ذاتی خیال ہے کہ جمیل احمد عدیل نے علمی دنیا میں جو مقام حاصل کیا ہے ،وہ تعلقاتی ادب کے آدمی نہیں ہیں۔ادب نواز حلقہ جب ان کی کتاب ’تنقید سے فرصت نہیں‘کے مطالعے سے گزرے گا تو اسے ہمارے خیال کی توثیق ہوتی نظر آئے گی۔

جمیل احمد عدیل صرف تنقید ہی نہیں لکھتے بلکہ باقاعدگی سے افسانے لکھتے اور شاعری بھی کرتے ہیں۔یہ اصناف ،ایک اور کالم کے لیے ہیں جو ہم ضرور لکھیں گے لیکن ہم یہ بات وثوق سے کہہ رہے ہیں کہ ’پاکستانی اردو ادب میں تنقید کے حوالے سے جمیل احمد عدیل ایک منفرد نام ہے‘۔

Citation
Nauman Manzoor, “جمیل احمد عدیل کی ’تنقید سے فرصت نہیں‘,” in Daily Nai Baat, May 10, 2015. Accessed on May 12, 2015, at: http://www.naibaat.pk/archives/sp_cpt/%D8%AC%D9%85%DB%8C%D9%84-%D8%A7%D8%AD%D9%85%D8%AF-%D8%B9%D8%AF%DB%8C%D9%84-%DA%A9%DB%8C-%D8%AA%D9%86%D9%82%DB%8C%D8%AF-%D8%B3%DB%92-%D9%81%D8%B1%D8%B5%D8%AA-%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA

Disclaimer
The item above written by Nauman Manzoor and published in Daily Nai Baat on May 10, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on May 12, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Nauman Manzoor:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s