قومی زبان ایک سیاسی فریب

Follow Shabnaama via email
منظور احمد

آج سے قریباً 300 سال قبل ہمیں Nation State کا نام تاریخ میں نہیں ملتا ہے۔ البتہ City stste کی موجودگی زمانہ قبل از مسیح سے ثابت ہوتی ہے۔ قرونِ وسطیٰ میں مہذب دنیا میں بادشاہتیں تھیں، سلطنتیں تھیں، کہیں راجے مہا راجے تھے یا بڑے قبیلے ہوتے تھے جو چھوٹی چھوٹی بستیوں کے حاکمِ کُل ہوتے تھے۔ سامراجیت ہوتی تھی جس کے اندر مختلف زبانیں بولنے والی اور مختلف خطّوں میں رہنے والی قومیں ہوتی تھیں۔ یہ سب قومیں اپنی اپنی زبان ضرور بولتی تھیں ،لیکن وہ رعایا(Subject) کسی خلیفہ ، سلطان یا بادشاہ کی ہوتی تھیں۔ اُن دِنوں نہ اُن کی کوئی قومی شناخت ہوتی تھی اور نہ ہی اُن کے پاس سیاسی قوت ہوتی تھی۔ بیسویں صدی کے درمیان، یعنی دوسری جنگِ عظیم کے بعد سامراجیت کا خاتمہ ہونا شروع ہوا۔ سامراجی ممالک زیادہ تر یورپی اقوام تھیں ،جن کی زبانوں کو محکوم ممالک میں بطور سرکاری زبان رائج کیا گیا۔ ڈیڑھ دو سو سال کی غلامی میں اِن ممالک کی تعلیم کا ذریعہ اور حصہ حاکموں کی زبانیں بن گئیں۔ اِن زبانوں کے ہی تعلیم یافتہ افراد اپنے اپنے ملکوں کی آزادی کے ہرا ول دستے بنے۔

سامراجی زبانیں ترقی یافتہ ہو چکی تھیں۔ صنعتی اِنقلاب اور ٹیکنالوجی کی آمد سے سامراجی زبانیں پروفیشن، انجینئرنگ ، طب، سرجری اور ولائتی مصنوعات کی زبانیں بھی بن گئیں جس کو مقامی لوگوں نے سیکھا، جس کی وجہ سے وہ اپنے اپنے ملکوں کی صنعتی اور تکنیکی تر قی کا باعث بھی بنے ۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ کہیں بھی زبان کی اہمیت اُس زبان کے بولنے والے افراد کی علمی، سائنسی ، معاشی اور موجدّانہ اہلیت اور ترقی سے ہوتی ہے۔ جب مسلمان عالم، سائنس ، حکمت، حساب، انجینئرنگ، تاریخ نویسی جغرافیہ دانی اور علمِ فلکیات میں مہارت رکھتے تھے تو وہ اپنا مافی الضمیرعربی میں بیان کرتے تھے ۔ اِن عربی سکا لرز کی وجہ سے عربی زبان یورپ پہنچی کیونکہ تمام سائنسی علوم جن میں عربوں نے مہارت حاصل کی تھی، اُن کی Terminology (اصلاحات) یورپی عالمو ں نے عربی زبان سے مستعار لیں۔ جب مسلمانوں اور عربوں پر علمی جمود آیا اور علم کا گہوارہ یورپ بن گیا تو علمی زبانیں انگریزی، فرانسیسی ، ولندیزی، ہسپانوی، جرمنی اور اطالوی بن گئیں اور اِ ن زبانوں کو بولنے والوں نے ہی فتوحات کا سلسلہ شروع کیا اور سامراجیت کو جنم دیا۔

زبان دانی کے ماہرین، قومی زبان کی تعریف یہ کرتے ہیں کہ ایک ایسی زبان جو ایک مخصوص علاقے کے لوگ عمومی طور پر بولتے ،لکھتے اور پڑھتے ہوں، جس کی وجہ سے اُن لوگوں کی ایک سیاسی اور قومی شناخت تشکیل ہو۔ مختصراً یہ کہئے کہ ایک مخصوص خطہِ زمین ہو، اُس خطے کے رہنے والے ایک مخصوص زبان کو بولتے ، لکھتے اور سمجھتے ہوں اور وہ سیاسی طور پر آزاد ہوں،تب وہ اپنے لئے ایک قومی زبان کا دعویٰ کرتے ہوئے اپنا قومی تشخص ظاہر کرنے کے لئے کر سکتے ہیں۔ اس نہج کی Definitions دیگر لسانی ماہرین نے بھی کی ہیں، لیکن اصل بات یہ ہے کہ قومی زبان کا تصور زیادہ تر تیسری دنیا کے اُن غلام ملکوں میں آیا جو بیسویں صدی میں آزاد ہوئے۔ اِن ملکوں کے اکابر نے بغیرسیاسی نفع نقصان سوچے اعلان کر دیا کہ اَب ہماری قومی زبان ہندی ہوگی، اُردو ہو گی، مالے ہوگی یا نبتو ، ساحیلی یا زُولّو ہوگی۔ یہ اکابر بھول گئے کہ اُن کے آزاد شدہ ملکوں میں دوسری قومتیں ،جو مختلف زبانیں بولتی ہیں ، بھی بستی ہیں۔

امریکہ اورا نگلینڈ نے تو قومی زبان کا ڈھکوسلہ پالاہی نہیں۔ امریکہ میں 90 فیصد عوام انگریزی بولتے بھی ہیں اور سمجھتے بھی ہیں، امریکہ کا تمام دفتری اور کمرشل نظام انگریزی میں ہی ہوتا ہے ،لیکن امریکہ نے انگریزی زبان کو قومی زبان کا درجہ نہیں د یا۔ ہندوستا ن نے جب آئینی طور پر ہندی کو قومی زبان کا درجہ دیا تواس ملک میں لسانی فساد بر پا ہو گیا جو آہستہ آہستہ علیحدگی پسندی کی طرف جانے لگا۔ دراصل ہندی ، اُردو کی طرح کوئی سکہّ بند زبان نہیں ،جسے کسی قومیت نے اپنی شناخت کے طور پر اپنایا ہو۔ ہندوستان کی علاقائی زبانیں اپنا رسم الخط رکھتی ہیں، اپنا لٹریچر رکھتی ہیں اور اِن زبانوں کو بولنے والے کروڑوں ہیں جو ایک مخصوص خطہِ زمین پر رہتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہندوستان کی مضبوط علاقائی زبانیں بھی قومی زبان کا درجہ حاصل کرنے کی اہل ہیں۔ ہندی تو رابطے کی زبان ہو سکتی ہے، اصل زبان تو سنسکرت ہے جس کو ہندوستان کے اکابر نے دانستہ قومی زبان کا درجہ نہیں دیا، ورنہ جنوبی ہندوستان اور شمالی ہندوستان میں ایسے فسادات پھیلتے کہ بھارت ایک ملک نہ رہ سکتا۔ بالآخر ہندوستان نے 22 علاقائی زبانوں کو ،جس میں اُردو بھی شامل ہے، قومی زبانوں کا درجہ دے دیا ۔ ہندوستان کے کرنسی نوٹوں پر رقم اب 6 زبانوں میں لکھی جاتی ہے۔

پاکستان کی طرف آ جایئے۔۔۔ قائداعظمؒ اِنسان تھے اور عظیم انسان تھے ،لیکن وہ فرشتہ تو نہیں تھے۔ معلوم نہیں کیوں اور کس شخصیت کے زیرِ اثر قائد اعظمؒ نے مشرقی پاکستان میں کھڑے ہو کر 1948ء میں اُردو کو قومی زبان کا درجہ دے کر بنگالیوں جیسی سخت جذباتی قومیت کو بھڑکا دیا ۔ اوّل تو پاکستان 1947ء میں ایک ملک بنا تھا، پاکستانی قوم تو ابھی نہیں بنی تھی، نہ اب تک بن سکی ہے، کیونکہ بلوچوں، پٹھانوں، سرائیکیوں اور سندھیوں میں اَب تک پاکستانی قومیت کا جذبہ پیدا نہیں ہو سکا۔ ہر صوبے کے بڑے، پاکستان کی دولت لوٹ کر باہر بھیج رہے ہیں۔ یہ کوئی پاکستانیت ہے۔ ہمارے عوام بھی جذبات میں آکر اپنے ہی ملک کی املاک کو آگ لگاتے ہیں، ہم ابھی تک ایک قوم نہیں بن سکے تو قومی زبان کہاں سے آ گئی۔ اُردو زبان کو قائد اعظمؒ نے قومی زبان کا درجہ کیوں دیا ؟جبکہ وہ خود اُردو زبان نہیں جانتے تھے۔ نہ ہی اُردو اُن کی مادری زبان تھی۔ قائد اعظمؒ تو 1948ء میں رحلت فرما گئے ،لیکن اسی لسانی واقعے نے بنگالیوں میں علیحدگی کا بیج بو دیا تھا۔ زبان کے فسادات میں بنگالی طالبِ علم شہید ہوئے ، مجیب الرحمن منظرِ عام پر آئے اور جب ہمارا 1956ء کا دستوربنا تب بنگالی کو دوسری قومی زبان کا درجہ دیا گیا اور مشرقی بنگال کے صوبے کا نام مشرقی پاکستان رکھا گیا ۔ پوربو پاکستان بھر بھی نہ کہا گیا۔ مذاق دیکھئے کہ اُردو اور بنگالی کو قومی زبان کا درجہ تو دے دیا گیا، لیکن سرکاری زبان انگریزی ہی رہی اور اَب تک ہے۔ بنگالی کو بھی قومی زبان کا درجہ پاکستان کے وجود میں آنے کے 9 سال بعد دیا اور وہ بھی سیاسی ضرورت کے تحت ،کیونکہ ون یونٹ کی وجہ سے مغربی اور مشرقی پاکستان 2 صوبے بن گئے تھے۔

اُردو زبان رابطے کی زبان کے طور پر مغلوں کے دور میں اُبھری۔ آہستہ آہستہ علاقائی زبانوں ،مثلاً ہندی ، فارسی اور عربی کے الفاظ اپنے اندر سموتی گئی چونکہ مغلوں کا پایہ تخت دہلی یا آگرہ تھا جو وسطی شمالی ہند کاحصہ تھا، اِس لئے اُردو زبان دہلی، لکھنؤ اور آگرہ میں زیادہ پھیلی۔ چونکہ مغل حکمران مسلمان تھے اور اپنی ستائش پسند کرتے تھے ،اس لئے اُردو زبان کے بڑے شاعر اِن ہی علاقوں سے پیدا ہوئے۔ اُردو زبان کی ترقی قصیدہ گوئی اور ہجوسے شروع ہو کر مرثیہ ،سوز اور نوحہ تک کی شاعری میں نظر آتی ہے ۔ بادشاہوں کی اپنی گھریلو اور درباری زبان فارسی ہی رہی۔ اُردو زبان کی نثری شکل بہت بعد میں آئی ۔ وقت کے ساتھ اُردو زبان اپنی Adaptibility کی وجہ سے پھیلتی گئی اور وسطی پنجاب ، حیدرآباد دکن اور ڈھاکہ تک پہنچ گئی، لیکن یہ زبان مغلوں کے آخری بادشاہ کی زندگی تک قومی زبان نہیں تھی۔ وسطی پنجاب ، یوپی اور دہلی کے غیر مسلموں نے بھی اُردو زبان دانی میں کمالات ضرور دکھائے ،لیکن یہ سب انگریزی راج کے بعد ہوا جب انگریز نے اُردو کو رابطے کی زبان ہی رہنے دیا ،لیکن انگریزی زبان سرکاری زبان کی حیثیت سے براجمان ہو گئی۔

انگریز نے فارسی کو دربار سے نکال باہر کیا، اَب فارسی نصابی حد تک رہ گئی۔ چونکہ تاریخی طور پر اُردو زبان دہلی ،آگرہ اور لکھنؤ سے اُبھری تھی اور اِن علاقوں میں عموماً مسلمان ہی یہ زبان بولتے تھے ،اس لئے اُردو کو مسلمانوں کی زبان سمجھا جانے لگا ۔۔۔ ( یوپی، بہار، سی پی ، اور حیدر آباد دکن میں ہندی اور پوربی زبان کا ملغوبہ بولا جاتا تھاجو مسلمانوں کے علاوہ زیادہ تر ہندو بولتے تھے)۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ مسلم لیگ کی اہم قیادت زیادہ تر اُردو بولنے والے علاقوں سے آئی۔ قائدِ اعظمؒ سندھی ہونے کے باوجود نہ سندھی جانتے تھے، نہ میمنی، نہ ہی اُردو جانتے تھے۔ چونکہ مسلم لیگ نے پاکستان کی مانگ کو زور دار بنانے کے لئے اسلام کا نعرہ بھی لگا دیا تھا اور دو قومی نظریے کا Confusing تصوّر بھی ایجاد کر لیا تھا، اس لئے جب پاکستان معرضِ وجود میں آیا تو قائد اعظمؒ کو خوا مخواہ یہ احساس دِلایا گیا کہ پاکستان کی کوئی قومی زبان ہونی چاہیے اور وہ اُردو ہونی چاہیے۔ غضب دیکھئے کہ 1947ء میں جو بھی خطے پاکستان کے حصے میں آئے ،وہاں کی علاقائی زبان اُردو نہیں تھی۔ کیا ضرورت تھی قومی زبان کے اعلان کی۔ رہنے دیتے اسے رابطے کی زبان۔ پاکستان کے تمام صوبے اُردو زبان کی سوجھ بوجھ رکھتے تھے اور ہیں۔، لیکن جب ایک ایسی زبان جو جذباتی طور پر کسی بھی صوبے سے لگّا نہیں کھاتی ،اُس زبان کو آپ بطور قومی زبان مسلط کریں گے تو خرابیاں ضرورپیدا ہوں گی اور ماضی میں ہوئیں۔

اُردو کے ساتھ کتنا ظلم ہوا اور ہورہا ہے کہ یہ زبان اب اشرافیہ کی زبان بن گئی ہے۔ انگریزی Super اشرافیہ کی زبان ہے ،کیونکہ اس طبقہ کے بچے اعلیٰ انگریزی میڈیم سکولوں میں پڑھ کر اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے یورپ ،برطانیہ اور امریکہ چلے جاتے ہیں ،پھر وہیں کے ہو رہتے ہیں ،ورنہ شہریت تو ضرور وہاں کی لے لیتے ہیں۔ ہم پنجابی مڈل کلاسیئے پنجابی صرف ملازموں یا کمی کمین سے بولتے ہیں ،جبکہ ہمارے گھروں میں اُردو راج کرتی ہے۔ ہمارے اُردو کے اخبار زیادہ تعداد میں شائع ہوتے ہیں، ہمارے لیڈر اُردو میں تقریریں کرتے ہیں۔ ہمارے ٹی وی ڈرامے اور فلمیں کڑک اُردو میں ہوتی ہیں، لیکن ہماری قانون سازی، ہماری سرکاری خط و کتابت، ہمارے سرکاری سکولوں میں انگریزی ہی چلتی ہے۔۔۔(حکومتِ پنجاب نے 2011ء سے انگریزی کو ہر مدرسے میں ذریعہ تعلیم بنانے کا حکم دیا ہے، جس کی تعمیل شائد نہیں ہو سکے گی)،کیسی فریب کاری ہے اُردو زبان سے کہ ہم اپنے آئین میں اُردو کو قومی زبان کا درجہ دیتے ہیں، کروڑوں روپے خرچ کر کے اُردو سائنس بورڈ بناتے ہیں، اُردو زبان کی مقتدرہ بناتے ہیں، اِدارہ فروغِ قومی زبان 1979ء میں بذریعہ پارلیمنٹ ایکٹ بناتے ہیں ،پھر بھی ہم اُردو کو سرکاری زبان کا درجہ نہیں دے سکے اور نہ ہی دے سکیں گے ،کیونکہ دراصل اُردو زبان رابطے کی زبان تھی اور اسی حیثیت میں یہ خوب پھولے پھلے گی۔

انگریزی دانی ہم ترقی پذیر ممالک کی ضرورت ہے ،کیونکہ ہم اپنی قومی زبان اُردو کے ذریعے یا علاقائی زبانوں کے ذریعے کسی بھی سائنسی علم میں کوئی جدّت ،کوئی نیا نظریہ یا ایسی تھیوری پیش نہیں کر سکے جو تمام دنیا کے سائنسی دانشور بطور ایک Original تھیسِس کے مانتے۔ ڈاکٹر عبدالسلام نے بھی اپنا فزکس کا مقالہ فرانسیسی اور انگریزی میں ہی پیش کیاتھا۔ اُردو اور ہماری مقامی زبانیں جدید سائنسی علوم میں جب تک کوئی کارنامہ نہیں دکھائیں گی ،اُنہیں سائنس کی زبان کا درجہ نہیں دیا جا سکے گا۔ برطانیہ ،جہاں انگریزی زبان نے جنم لیا، وہاں بھی انگریزی کو قومی زبان کا کوئی درجہ نہیں دیا گیااور نہ ہی یورپ میں۔ البتہ یہ ممالک Standard انگریزی، اسٹینڈرڈ جرمن، فرانسیسی یا ہسپانوی ضرور کہتے ہیں۔ وہ بھی اس لئے کہ یہ زبانیں تھوڑے تھوڑے فاصلوں پر تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔ جیسے پنجابی ہے یا اُردو ہے جو لاہور کی الگ ہے ، کراچی اور دہلی کی الگ ، لیکن standard اُردو وہ ہے جو ہماری جامعات میں پڑھائی جاتی ہے۔ قومی زبان کا تصور نئے نئے آزاد ملکوں نے دیا تھا جو عملی طور پر ایک بیکار سوچ تھی۔ اس سوچ سے فساد ہی پیدا ہوا۔

Citation
Manzoor Ahmad, ” قومی زبان ایک سیاسی فریب ,” in Daily Pakistan, May 10, 2015. Accessed on May 12, 2015, at: http://dailypakistan.com.pk/columns/10-May-2015/222837

Disclaimer
The item above written by Manzoor Ahmad and published in Daily Pakistan on May 10, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on May 12, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Manzoor Ahmad:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s