اُردو اب بھی زندہ ہے!

Follow Shabnaama via email
محمد نعیم

اگر مجھ سے ایک دن پہلے کوئی یہ بات کہتا کہ اردو کا جنازہ تیار ہے اور معاملہ بس تدفین کا رہ گیا ہے تو شاید یہ بات میں مان لیتا مگر اب نہیں ۔۔۔۔۔ وجہ جاننا چاہتے ہیں؟ تو وجہ کچھ یہ ہے۔

ایسا بہت کم ہی ہوتا ہے کہ سوشل میڈیا کے دوست عملی زندگی میں بھی ایک دوسرے کو جانتے ہوں۔ مگر کراچی کے چند باہمت نوجوانوں نے اپنی شب و روز کی محنت سے ایسا کر دکھایا اور یہ سب کچھ دیکھنے کو ملا جامعہ کراچی میں منعقد ہونے والی اردو سوشل میڈیا سمٹ میں۔کئی سالوں سے وہ چہرے جو صرف فیس بک اور انٹرنیٹ پر ایک دوسرے سے شناسائی رکھتے تھے آج ایک ہی چھت کے نیچے جمع تھے۔ ناصرف جمع تھے بلکہ اپنی پیاری زبان اردو کی بہتری، ترقی اور اسے عالمی طور پر روشناس کروانے کے لیے کی جانے والی باتوں کو بڑے انہماک سے سن رہے تھے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر کام کرنے والے یہ بلاگرز پاکستان بھر سے کراچی شعبہ ابلاغ عامہ جامعہ کراچی اور اردو سورس کی جانب سے پاکستان کے پہلے بین الاقوامی اردو سوشل میڈیا سمٹ میں شرکت کے لیے آئے ہوئے تھے۔ صبح دس بجے سے شام چھ بجے کا دورانیہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔ لیکن مجھے حیرت ہوئی کہ آڈیٹوریم میں موجود سینکڑوں نوجوان بڑی دلچسپی کے ساتھ معزز مہمانوں کی باتیں سنتے رہے۔ حیرت اس لیے ہوئی کہ ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے طلباء پروفیسرز کے ایک گھنٹے کے لیکچر بھی سننے کے لیے تیار نہیں ہوتے لیکن اور ایسی مجلس میں بہت جلد بیزاری محسوس کرنے لگتے ہیں۔ لیکن یہاں بات ہو رہی تھی سوشل میڈیا کی جو نئی نسل کے لیے نا صرف انتہائی اہمیت کا حامل ہے بلکہ مقتاطیس کا کام کرتا ہے، بس شاید یہی وجہ تھی کہ دلجمعی سے بیٹھے تھے۔

اردو سوشل میڈیا سمٹ کے حوالے سے شاندار تیاری کی گئی تھی۔ بطور مہمان جن افراد کو مدعو کیا گیا تھا۔ ان کی گفتگو انتہائی شاندار رہی۔ بالخصوص پروفیسر محمود غزنوی اور کاشف حفیظ کی شاعری و گفتگو جبکہ عامر احمد خان کے لیکچر کو شرکا نے بہت پسند کیا۔ سمٹ کا سب سے دلچسپ اور اہم سیشن روایتی میڈیا بمقابلہ سماجی ابلاغ کے عنوان پر ایک مذاکرہ تھا۔ جس کے شرکاء پروفیسر ڈاکٹر محمود غزنوی، وسعت اللہ خان، رعایت اللہ فاروقی، سید فیصل کریم اور فیض اللہ تھے۔

اس مذاکرے میں دوران میڈیا میں اردو کے غلط استعمال، سوشل میڈیا کی طاقت اور اہمیت اور نوجوانوں اور میڈیا سے وابستہ افراد کے طرز تکلم کے حوالے سے اہم گفتگو ہوئی۔ مگر پوری گفتگو میں جو دلچست نکات اُٹھائے گئے وہ کچھ یوں تھے،

وسعت اللہ خان نے روائتی میڈیا کے حوالے سے کہا کہ میڈیا ایک انڈسٹری کی شکل اختیار کرچکا ہے اور اِس حوالے سے جو سب اہم بات کی گئی وہ یہ تھی کہ صابن بیچو یا چینل کھلو بات ایک ہی ہے۔ سینئر صحافی وسعت الله خان کی اردو سوشل میڈیاسمٹ میں گفتگو

رعایت اللہ فاروقی نے کہا کہ وہ 25 برس سے اخبارات میں لکھ رہے ہیں لیکن جو سکون پچھلے ایک سال سے سوشل میڈیا میں لکھنے میں ملا وہ 25 سالوں میں نہیں ملا کیوں کہ اخبارات میں پالیسی کے تحت لکھنا پڑتا تھا مگر سوشل میڈیا میں اپنی مرضی سے لکھتا ہوں اس لیے ضمیر بھی مطمئن ہے۔

فیض اللہ خان نے کہا کہ میڈیا سیکٹر میں صحافت سے زیاده اداروں کی لگی بندھی پالیسی کو فالو کیا جاتا هے۔

ٹی وی اینکر فیصل کریم نے کہا کہ ٹی وی چینلز پر اب علم اور تجربے کے بجائے خوبصورتی کی بنیاد پر اینکرز چنے جاتے هیں، یہ نہیں دیکھا جاتا ہے کہ اینکر کی زبان کیسی ہے مگر یہ ضرور دیکھا جاتا ہے کہ لڑکی لمبی ہونی چاہیے، دبلی ہونی چاہیے اور گوری ہونا تو لازمی ہے ساتھ ہی ساتھ ٹی شرٹ اور پینٹ میں پُرسکون محسوس کریں۔

یہ وہ چیدہ چیدہ نکات تھے ورنہ باتیں تو اور بھی ہیں جن کا یہاں ذکر کرنے کو دل ہے مگر ممکن نہیں۔ لیکن ان باتوں سے ہٹ کر تمام ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ فروغ اردو کے لیے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ اس موقع پر سماجی رابطوں کی ویب سائٹس فیس بک، ٹوئٹر پر سمٹ میں موجود شرکاء اپنے خیالات کا اظہار بھی کرتے رہے۔ بعض نے اس سمٹ کے بعد مزید اس نوعیت کے پروگرام کروانے کی تجویز دی، جبکہ بعض کا کہنا تھا کہ اس جیسے پروگرام کراچی کے علاوہ دیگر شہروں میں بھی منعقد ہونے چاہیں۔ سمٹ میں آئے مہمانوں نے بھی نوجوانوں میں اردو کے حوالے سے دلچسپی پر اظہار اطمینان کیا اور اسے ایک نئے دور کی جانب ایک سنگ میل قرار دیا۔

Citation
Muhammad Naeem, “اُردو اب بھی زندہ ہے!,” in Express Urdu, May 9, 2015. Accessed on May 14, 2015, at: http://www.express.pk/story/355179/

Disclaimer
The item above written by Muhammad Naeem and published in Express Urdu on May 9, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on May 14, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Muhammad Naeem:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s