مزدوروں کے دن جینی کارل مارکس اور احمد علی خاں

Follow Shabnaama via email
کشور ناہید

یکم مئی کو میں نے پورے اسلام آباد میں گھوم کر یہ جائزہ لیا کہ آخر مزدوروں کا دن، خود مزدور اور لوگ کیسے منا رہے ہیں۔ جگہ جگہ بہت لوگ پوری حلوہ کھاتے ہوئے ملے، مگر پشاور موڑ پر گاہک کے انتظار میں بیلچہ اور کدال لئے بیٹھے مزدور نظر آئے۔ ٹی وی کھولا تو آنکھیں حیران رہ گئیں۔ سراج الحق آج کے دن کی مناسبت سے سرخ ٹوپی پہنے ہوئے تھے اور تقریر کررہے تھے۔ اخبار کے ایک کونے میں چھوٹا سا بلاول کا بیان تھا۔ کہیں شہر سے کسی کونے میں سوائے نیشنل پریس کلب کے نہ کوئی تقریب تھی نہ کوئی جلوس تھا۔ ٹی وی لگایا تو ہالینڈ سے لے کر ترکی تک تمام ممالک میں سرخ جھنڈوں کی بہار تھی اور لوگ رقص کررہے تھے۔ مجھے 1970ء کا زمانہ یاد آگیا جب لاہور کا ہر گلی کوچہ مزدور یونینوں کے ہجوم سے پر تھا۔ جبکہ 1972ء سے 1982ء تک ہم لوگ پاک ٹی ہائوس میں مارشل لا کے باوجود جلسے کرتے، اقبال بانو نے پہلی دفعہ ’’ہم دیکھیں گے‘‘ ٹی ہائوس ہی میں گایا تھا۔ 1970ء میں جو جلوس نکلا تھا۔ اس کی قیادت بھٹو صاحب نے کی تھی۔ یہ جلوس ناصر باغ سے شروع ہوکر، پنجاب اسمبلی پہ آکر ختم ہوا تھا۔ پھر 1972ء میں سرکاری چھٹی یکم مئی کی قرار دی گئی جس کو منسوخ کرنے کی جرات ضیاء الحق کو بھی نہیں ہوئی تھی۔ اور اب مصطفٰی قریشی نے مجھے یاد دلایا کہ وہ لاہور بیٹھا اور میں اسلام آباد بیٹھی مزدوروں کے جلسوں کو یاد کررہے تھے۔ روبینہ قریشی ان جلسوں کو یاد کرتے ہوئے مجھے فیض صاحب کی نظم گا کر سنا رہی تھی۔ ہم نے مل کر یوں یوم مئی منایا۔ باقی قوم مقامات مقدسہ کے تحفظ کے لئےجلوس نکال رہی تھی ۔ ڈی۔اے کے سارے مزدور سیوریج نکالنے کا کام کررہے تھے اور ٹی وی پر نصرت فتح علی گا رہے تھے ’’وہی خدا ہے‘‘۔

سائبر کرائمز کو روکنے کےلئے، انوشہ رحمان، صرف اسمبلی کے ممبران کی رائے لے کر نافذ کرنے کے لئے بے قرار ہیں، جبکہ عوام الناس تو سر اٹھا اٹھا کر کہہ رہے ہیں، ہم سے بھی تو پوچھو۔ یہیں مجھے کسی نے بتایا کہ ہالینڈ میں تو ججوں کے خلاف بھی کارٹون چھپے تو کوئی اس پر ہتک عزت کا دعویٰ نہیں کرتا ہے کہ آزادی اظہار ہے۔ اب اگر سائبر کرائمز لاگو کردیا گیا تو کوئی کسی سے مذاق بھی نہیں کرسکے گا۔ آزادی رائے تو دور کی بات ہے، شاید کارٹون بھی شائع نہ ہوسکیں۔ شاید ڈاکٹر یونس بٹ کا پروگرام بھی سنسر ہوجائے، کیا خبر ہے کہ سنسر کرنے والے ’’یا میرا گریباں چاک، یادامن یزداں چاک‘‘ لکھنے والے پہ بھی کوئی قانون لاگو کردیں۔ بچ جائیں گے تو صرف عطاء الحق قاسمی کہ وہ لٹریچر فیسٹیول میں کہہ چکے ہیں کہ ہمارے ملک کی نجات سیکولرزم اختیار کرنے میں ہے۔

کہہ دیا گیا ہے کہ سب اذانیں ایک وقت میں ہوں گی۔ اس پر مبارکباد کے اشتہار بھی جگہ جگہ لگادیئے گئے ہیں۔ جبکہ شیعہ اور سنی اذانوں میں 10منٹ کا فرق ہوتا ہے۔ یہاں یہ بھی نکتہ مدنظر رہے کہ حج فارم میں پوچھا جارہا ہے کہ آپ کا تعلق کس مسلک سے ہے۔ اس سوال کی مصلحت میری سمجھ سے تو بالا ہے جبکہ سب لوگ چاہے کسی مسلک سے ہوں۔ ایک ہی طریق سے حج کے ارکان ادا کرتے ہیں۔ تفرقہ ڈالنے کی باتیں تو خود حکمراں کرتے ہیں۔ عوام تو معصوم ہیں۔ ان کو جذباتی بناکر بھیڑ بکریوں کی طرح جس سمت چاہیں لڑھکا دیتے ہیں۔میں اس ملغوبے سے نکلنا چاہتی تھی۔ میں نے ہاجرہ مسرور کے شوہر احمد علی خاں کی زندگی اور صحافت کے بارے میں اٹھا کر کتاب پڑھنی شروع کردی۔ جو کچھ خان صاحب نے ذاتی اور صحافیانہ زندگی کے بارے میں لکھا ہے، وہ تو تاریخی اہمیت کی دستاویز ہے۔ دلچسپ باتیں تو خان صاحب اور ہاجرہ آپا کے آپس میں عشقیہ خطوط ہیں، ہم چونکہ جیسے اپنے ماں باپ کے بارے میں عشق کا تصور نہیں کرتے، اسی طرح ہاجرہ مسرور اور احمد علی خاں کی ثقہ طبیعت کو دیکھ کر، ان خطوط کو پڑھ کر ہنسی بھی آئی اور لطف بھی آیا۔ ہاجرہ آپا کی بڑی بیٹی نوید نے بڑی محنت سے یہ کتاب مرتب کی ہے۔ زبیدہ مصطفیٰ نے اردو کے خطوط کا انگریزی میں ترجمہ کیا ہے جو کہ بے پناہ دلچسپ ہے۔ نوید طاہر تو خود کراچی یونیورسٹی میں ایک شعبے کی سربراہ بھی ہیں۔ کتاب کا اشاریہ تک مرتب کیا ہے، کتاب کا انتساب نوجوان صحافیوں کےنام کیا گیا ہے۔ اس ضخیم اور بامعنی کتاب کا دیباچہ مشہور صحافی آئی۔ اے رحمان نے لکھا ہے۔

اب کتاب کی جانب منتقل ہو ہی گئے ہیں تو آیئے ایک اور کتاب کی تعریف کی جائے جس میں سو سال پہلے کا یورپ کا سیاسی ماحول سامنے آتا ہے۔ یہ خطوط ہیں 1839ء سے لے کر 1866ء تک کے جو کہ جینی مارکس نے اپنے ہونے والے شوہر کارل مارکس کے علاوہ اینگلز لوئیس ویدیمیر، ایڈولف کلس، جان فلپ بیکر اور لڈوگ کو گلین کے نام لکھے۔ مارکس کے نام خطوط تو عاشقانہ ہیں مگر دیگر اصحاب کے نام خطوط میں سیاسی ماحول کا تجزیہ کیا گیا ہے مارکس اور اپنے تعلقات غربت میں زندگی گزارنے کی تفصیل لکھی گئی ہے۔ یہ کتاب تلاش کرنا اور پھر اس کا ترجمہ کرنا کوئی آسان کام نہ تھا۔ ایسا کام صرف ڈاکٹر شاہ محمد مری ہی کرسکتے تھے۔ میں نے مزدوروں کا دن اس کتاب کے ساتھ گزارا تھا۔

Citation
Kishwar Naheed, ” مزدوروں کے دن جینی کارل مارکس اور احمد علی خاں,” in Jang, May 9, 2015. Accessed on May 12, 2015, at: http://beta.jang.com.pk/akhbar/%D9%85%D8%B2%D8%AF%D9%88%D8%B1%D9%88%DA%BA-%DA%A9%DB%92-%D8%AF%D9%86-%D8%AC%DB%8C%D9%86%DB%8C-%DA%A9%D8%A7%D8%B1%D9%84-%D9%85%D8%A7%D8%B1%DA%A9%D8%B3-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%A7%D8%AD%D9%85%D8%AF-%D8%B9/

Disclaimer
The item above written by Kishwar Naheed and published in Jang on May 9, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on May 12, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Kishwar Naheed:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s