اردو کا نفاذ اور نفوذ

Follow Shabnaama via email
محمد نعیم

اپریل کے آغاز میں ایک اردو ویب پورٹل کی تقریب میں پاکستان کے مقبول شاعر اور ادیب سحر انصاری مہمان خصوصی تھے۔ اپنی گفتگو میں انہوں نے اردو کی ترویج و ترقی کے حوالے سے ایک بہت ہی اہم بات کہی ۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرانیسویں صدی کے ہتھیار لے کر ہم اکیسویں صدی میں اقوام عالم سے مقابلہ کرنا چاہیں گے تو یہ ممکن نہیں ہو گا۔ اکیسویں صدی میں دیگرا قوام سے علمی میدان میں مقابلے کے لئے پرانے ہتھیار نہیں چلیں گے ۔اردو کے ادیبوں، شاعروں اور دیگر اہل زبان کو چاہیے کہ وہ قلم کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی میں بھی مہارت حاصل کریں۔

تقریبا ایک ماہ بعد اردو زبان کے حوالے سےان کی یہ بات ذہن میں آنے کی کچھ وجوہات ہیں۔ اخبارات دیکھتا ہوں تو ان میں یہ پڑھنے کو ملتا ہےکہ پاکستان کی قومی زبان ، یہاں کی سرکاری زبان بننے کے لیے عدالتوں میں التجا کرنے پر مجبور ہے۔ دوسری وجہ ذہن میں اٹھنے والے چند سولات ہیں، کل پاکستان کے ایک کثیر الاشاعت اخبار میں اشتہارات دیکھے۔ ہرمیدان میں چھوٹی سی چھوٹی ملازمت کےامیدوار کے لیے جو شرائط رکھی گئی ہیں۔ان میں سے بنیادی شرط یہ ہے کہ امیدوار انگریزی بولنے کا تجربہ رکھتا ہو۔

ایک ایسا ملک جس میں کوئی صوبہ، کوئی شہر ،کسی شہر کا ایک مختصر سا حصہ ایسا نہیں جہاں سو فیصد انگریزی زبان ہی بولی اور سمجھی جاتی ہو اور وہاںکے مکینوں کے لیے اردو یا دیگر زبانیں سمجھنا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہو،جب ایسا نہیں ہے تو پھر ہر ادارے میں انگریزی زبان بولنے کی شرط کیوں رکھی جا رہی ہے۔ ہم سرکاری و نجی دفاتر میں ساری کاغذی کاروائی انگریزی میں کرتے ہیں۔ بول وہاں سب اردو رہے ہوتے ہیں۔ یہ کاغذی کاروائی پاکستان ہی کے دیگر اداروں کے ساتھ معاملات یا لین دین کے لیے ہوتی ہے۔ اگر یہاں کوئی انگریز آتے ہوں یا ہمارا معاملہ کسی مغربی ملک کے ساتھ ہو تو پھر تو بات سمجھنے کی ہے کہ انگریزی ضروری ہے۔

اوپر کی گئی باتوں سے اگر کسی نے یہ اندازہ لگانے کی کوشش کی ہے کہ میں بدیسی زبانوں کی مخالفت کر رہا ہوں تو یہ غلط ہے۔ ہمیں ہر اہم اور عالمی زبان سیکھنی چاہیے۔یہ ضروری ہے۔ مگر ایسے ہی ایک موضوع پر لکھے گئے بلاگ ’’ ہماری تعلیمی ترجیحات‘‘ میں، میں نے ذکر کیا تھا کہ اردو جو پاکستان میں کثرت سے بولی اور سمجھی جانے والی ہماری قومی زبان ہے۔ ہم اس کو بھولتے جا رہے ہیں۔چند سال قبل پاکستان میں اردو سکھانے کے لیے کوچنگ سینٹرز کی ضرورت محسوس ہونے لگے گی۔

اردو کی مقبولیت اور عام استعمال کے ضمن میں ایک معروف کالم نگارتاثیر مصطفیٰ اپنے خیالات کا اظہار کچھ یوں کرتے ہیں ’’ آج بھی ملک کے تمام معاملات اردو زبان ہی میں چل رہے ہیں۔ ملکی میڈیا کی غالب زبان اردو ہے، ملک بھر میں انگریزی اخبارات و جرائد کی تعداد کو انگلیوں پر گنا جا سکتا ہے اور ان کی مجموعی اشاعت قابل شرم حد تک کم ہے۔ پورے ملک میں انگریزی زبان کا کوئی ایک ٹی وی چینل یا ریڈیو اسٹیشن موجود نہیں۔جو چند انگریزی اخبارات و جرائد نکلتے ہیں ان میں بھی بیشتر کام اردو ہی سے چلایا جاتا ہے۔ وہاں سو فیصد لوگ اردو بولتے ہیں۔ تقریباً سو فیصد پریس ریلیز، خبریں اور ہینڈ آؤٹ اردو زبان میں آتے ہیں۔ رپورٹرز جن تقریبات، جلسوں، جلوسوں اور پریس کانفرنسوں کو کور کر کے لاتے ہیں وہ اردو زبان میں ہوتی ہیں۔ بہت سے لکھاری اپنی تحریریں اردو میں بھیجتے ہیں ۔بعد میں دوسرا عملہ انھیں انگریزی کے قالب میں ڈھالتا ہے۔اس ملک کے تمام سرکاری دفاتر میں روز مرہ کی زبان اردو ہے۔ سائل اپنی مشکلات دفتر میں آ کر اردو یا مقامی زبان میں بیان کرتا ہے اور عملہ اسے اسی زبان میں جواب دیتا ہے۔ ہر میٹنگ کی 90 فیصد گفتگو اردو میں ہوتی ہے صرف اس کے نوٹس اور اعلامیے انگریزی میں جاری ہوتے ہیں۔ ‘‘ پھر یہاں کی دفتری زبان اردو کیوں نہیں؟

لکھنے لکھانے کے میدان میں ہم نے کاہلی اور سستی سے کام لیا اوراردو رسم الخط کو ڈیجیٹل دنیا میں متعارف کروانے کی ذمہ دار ی ادا نہیں کی۔ اس کے بجائے رومن اردو کو رواج دیا۔ جس کے نتیجے میں آدھا تیتر آدھابیٹر والی مثل کی مانند جو ہم اب لکھ رہے ہیں نہ وہ اردو ہے نہ ہی اس کو کوئی انگریزی ماننے کو تیار ہے۔ چلیں جب تک موبائلزاور کمپیوٹر پر اردو لکھنے کی سہولت موجود نہیں تھی اس وقت تک تو یہ عذر تھا مگر اب ایسا کیوں ہے کہ ہم اردو رسم الخط کو اہمیت نہیں دے رہے۔
Urdu
اہل پاکستان اپنی قومی زبان کے ساتھ یہ سلوک کریں گے تو پھر اردو سرکاری و دفتری زبان بننے کے لیے سپریم کورٹ کے احکامات کی ہی محتاج رہے گی۔ اگر ہم یہ سوچ کر بیٹھے رہیں کہ اردو کو سرکاری و دفتری زبان بنانے سمیت اس کواس کا جائز مقام دلانے کے لیے حکومتی ایوانوں میں کوئی کوشش ہو گی تو یہ ہماری خام خیالی ہے۔ حکومتی سطح پر اگر کوئی سنجیدہ ہوتا تو اردو کو دفتری زبان بنانا 1973 کے آئین میں درج ہے۔ مگر 1973 کے بعد ایک نہیں کئی بار 15 سال گزر گئے ہیں۔ مگر تاحال اس آئین پرعملدرآمد ہونے کے آثار کم ہی دکھائی دیتے ہیں۔

لیکن پاکستان کی زمین بڑی زرخیز ہے ۔ ہمیں اس بات پر ہمیشہ فخر رہا ہے کہ ہم نے مسائل اور مایوسیوں میں کبھی امید کے دامن کو نہیں چھوڑا بلکہ اپنے چھوٹے چھوٹے چراغوں سے ہمیشہ امید کی روشنی پھیلانے کی کوشش کی ہے۔ یہاں بھی ایسے بہت سے ادارے اور افراد موجود ہیں جو اپنی مدد آپ کے جذبے سے لبریز ، اردو کی ترقی اوراسے ردو دورِ جدید کے تقاضوں اور ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنے کی کوششوں میں مگن ہیں۔ بلاگ کے آغاز میں مشہور پاکستانی ویب پورٹل ’ہماری ویب ڈاٹ کام‘ کی جس تقریب کا ذکر کیا تھا اس کا مقصد بھی انٹرنیٹ پر اردو زبان میں لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرنا تھا۔ اسی طرح 8 مئی کو جامعہ کراچی کے ایچ ای جے آڈیٹوریم میں سوشل میڈیا کے بہترین ومثبت استعمال او ر انٹرنیٹ پر اردو کے فروغ کے لیے ایک’’ اردو سوشل میڈیا سمٹ ‘‘ کا انعقاد ہونے والا ہے۔ شہر قائد کے ادبی و ثقافتی پروگرامات کے مرکز ’’ آرٹس کونسل ‘‘ میں بھی 23 تا 30مئی سات روزہ ’’ آئی ایم کراچی یوتھ فیسٹیول ‘‘ نوجوانوں میں دیگرمثبت سرگرمیاں اجاگر کرنے کے ساتھ تحریر و تقریر کے ذریعےفروغِ اردو کا بھی اہتمام کر رہا ہے۔ اردو دوستی کے عملی ثبوت پر مبنی ان سرگرمیوں کو دیکھ کر اردو سے محبت کرنے والوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے ۔ محسوس ہوتا ہے کہ اب بھی اس زبان کے لیے عوام بالخصوص نوجوانوں کے اندر تڑپ موجود ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ سرکار اردو کی ترویج اور فروغ کے لیے کیا اقدامات کرتی ہے اور سرکاری سطح پر اس کو کس حد تک جگہ دی جاتی ہے۔

پاکستان کی معززعدالت عظمیٰ کے جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں اردو کو سرکاری زبان کا درجہ نہ دیئے جانے کی تحقیقات پر بنایا جانے والا بینچ اردو کو سرکاری و دفتری زبان بنانےمیں پوری توجہ سے کام کر رہا ہے۔سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے اردو زبان کا بھلا کتنا ہو سکے گا یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا البتہ یہ فیصلہ یہ ضرور ظاہر کر دے گا کہ پاکستان کے حکمران آئین و عدلیہ کے فیصلوں کی کس قدر پاسداری کرتے ہیں۔

Citation
Muhammad Naeem, “اردو کا نفاذ اور نفوذ ,” in Karachi Updates, May 7, 2015. Accessed on May 7, 2015, at: http://karachiupdates.com/wp/urdu-language/

Disclaimer
The item above written by Muhammad Naeem and published in Karachi Updates on May 7, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on May 7, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Muhammad Naeem:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s