ادب و ثقافت اور شکیل سروش

Follow Shabnaama via email
جمیل احمد عدیل

امجد اسلام امجد صاحب گفتگو کر رہے تھے، موضوع تھا Communication اور یہ نکتہ نمایاں ہو کر سامنے آیا، مسئلہ محض خبر رسانی تک نہیں رہا ہے بلکہ تعلق واسطے اور میل جول کے Normsمیں تبدیلی کا ہو گیا ہے۔پائپ کا پانی پینے پڑنے پر اور ٹائپ کا لفظ پڑھنے پر بھی ہمارے ایک اکبر نے ردعمل ظاہر کیا تھا مگر اس کا تناظر اور تھا، جب کہ موجودہ Gadgets نے جس المیے کو جنم دیا ہے اس کی نوعیت مختلف ہے۔ اگر رابطے کا ذریعہ ہی، ربط کی راہ میں حائل ہونے لگے تو اس ایجاد پہ کوئی روئے یا ہنسے؟ جناب امجد اسلام امجد نے مرزا ادیب (مرحوم) کی ‘‘صحرا نورد کے خطوط‘‘ کا بڑا برمحل ذکر کیا کہ وقت نے کروٹ لے کر اس طرز کو اگر عہدِ رفتہ کی یادگار بنا دیا ہے تو کسی محرومی کو بھی ہمارا نصیب کردیا ہے۔۔۔ امجد صاحب فکر افروز باتیں کرتے رہے اور ذہن سوچتا رہا، ہم کس تیزی سے ’’سوادِ خط‘‘ سے تہی ہوتے جا رہے ہیں۔ یہاں ’’سواد‘‘ پنجابی میں بھی ذائقہ دے گا۔۔۔ دل پر ہاتھ رکھ کر کہیے کیا ’’صدر سکرین‘‘ پہ لفظوں کے ابھار میں معمولی سی رعنائی کا سامان بھی موجود ہے؟ کیا اسے ریشم عبارت سے تعبیر کریں گے ؟ لکھنے کی بات چھوڑیے، مٹانا بھی ایک مکمل عمل ہوا کرتا تھا، اب تو
ٹچ سسٹم نے Delete کر دینے کا ہنر سکھا دیا ہے۔ خرابی اس میں بڑی بد یہی ہے کہ رشتہ بھی اسی طرح آناً فاناً ڈیلیٹ ہو جاتا ہے۔ ہم ایجادات کے مخالف نہیں ہیں لیکن ان کے وقوع پذیر ہونے سے نیا Mind Set بھی تشکیل پانے لگتا ہے جو ہمیشہ خوبیوں کا مجموعہ ہی نہیں ہوا کرتا۔ صنعتی انقلاب کی اس ’برکت‘ سے کیسے انکار کیا جاسکتا ہے کہ ترسیل کی سریع الرفتاری نے فرد کو فرد سے دور کیا ہے، قریب نہیں کیا۔۔۔ ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا صاحب کی ایک مختصر سی مگر بڑی بلیغ نظم ہے، ’’شہرِ شہیر‘‘:

اتنی مصروف زندگی ہے یہاں۔۔۔کہ کوئی دوست مدتوں کے بعد۔۔۔اتفاقاً کہیں جو مل جائے۔۔۔ ایک لمحے مصافحہ کر کے ۔۔۔ حال احوال پوچھنے کے بغیر۔۔۔دوسرے لمحے کہنا پڑتا ہے۔۔۔ سخت مصروف ہوں اجازت دو۔۔۔کتنی مجبور زندگی ہے یہاں!
صاحبو! آج ہمیں Conservatism کا دورہ یوں ہی نہیں پڑا۔ ہوا یہ کہ ایک صاحب نے حکم دیا، اپنا E Mail ایڈریس دو، تمہیں نیٹ پہ میگزین مل جایا کرے گا اور اس لٹریری میگزین کا امتیاز یہ ہے کہ کاغذ پر چھپائی کی دقیانوسیت سے یکسر پاک ہے۔ وہ محترم تو یہ فرما کر چلتے بنے اور ہم خود سے سوال جواب کرتے رہے: کیا جدید رسل و رسائل اب رسالوں/ کتابوں کی صورت کے بھی درپے ہو گئے ہیں؟ لفظ صفحے پر اترتا ہے تو صحیفہ کہلاتا ہے۔ کیا نقشِ ورق معدوم ہونے جا رہا ہے؟ معلوم یہی ہو رہا ہے کہ ’’ہاں!‘‘ ہم تاسف کے محاصرے میں محصور ہوتے چلے گئے : کیا ستم ہے کہ ظرف کس قدر ماڈرن ہوتا چلا جا رہا ہے اور مظروف وہی کہنہ ہے۔ تازہ کاری اور جدت مواد میں ہونی چاہیے تھی نہ کہ پیش کش میں۔ صد حیف! کہ نظریات میں نئے پن کا، نام و نشان تک نہیں اور انہیں پہنچانے کے ذرائع برق رفتار ہو گئے ہیں۔ واقعتا سائنس اور چیز ہے اور سائنٹیفک ذہن اور شے ہے۔ ہمیں قِشر کی پرستش کا شوق بری طرح لاحق ہے، مغز کی معنویت پہ کون سرکھپائے! ابھی اسی حدیثِ نفس میں محو تھے کہ بہت ہی عزیز دوست ناصر بشیر آگئے۔ دنیا انہیں شاعر، صحافی، استاد اور سفیرِ کتاب کہتی ہے مگر اب وہ مدیرِ اعزازی کی پہچان بھی اپنے ساتھ لائے۔ ان کے ہاتھ میں کچھ زیادہ ہی خوبصورت ادبی مجلہ تھا۔ ’’ادب و ثقافت‘‘ سے معنون یہ جریدہ یقیناًاپنی ویب سائیٹ پہ بھی ظہور کرتا ہوگا لیکن ہم ایسے خوگرِ پیکر محسوس، کو ہرگز مایوس کرنے والا نہیں تھا۔ جی جناب! لباس مجاز میں، اپنا ہونا منورا رہا تھا۔ آرٹ پیپر پر رنگین تصاویر سے مزّین 176 صفحات پر مشتمل اس رسالے کے مدیرِ اعلیٰ مکرم شکیل سروش ہیں۔ موصوف مسلم الثبوت شاعر ہیں چنانچہ صریرِ خامہ سے نوائے سروش کو مربوط کرنے کا تجربہ بھی رکھتے ہوں گے۔ پر ہم ان کے جمالیاتی ذوق کے قائل ہو گئے ہیں کہ رسالہ جس قدر دیدہ زیب گیٹ اپ میں ہے اتنا ہی عمدہ اور پراثر اشاعتی سرمایا اپنے وجود میں رکھتا ہے۔ محمد حمید شاہد کے مضمون کا تذکرہ کریں، افضال نوید کی غزل کا، یا اختر شمار کے خاکے کا، ستیہ پال آنند اور قمر رضا شہزاد کی نظموں کا۔۔۔ یا نیلم احمد بشیر اور منزہ احتشام گوندل کے افسانوں کا۔۔۔ غرض جملہ تحریریں نہایت اعلیٰ ہیں۔ شنید ہے شکیل سروش چیچہ وطنی کے باشندے ہیں، غالباً انہیں کوئی مقامِ راہ میں جچا ہی نہیں جو نیاگرافال کے دیس میں عرصے سے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں لیکن اپنی دھرتی سے جُڑت کی یہ گواہی کافی ہے کہ پرچہ وہ پاکستان ہی سے شائع کر رہے ہیں۔ اگرچہ اُن کے معاونین میں عامر شریف، مبشر سعید، محمد غالب نشتر، عالم خورشید، ڈاکٹر اختر شمار ، ارشد شاہین، مامون ایمن، شیخ اعجاز، عمران شناور اور عظیم حیدر سید ایسے فعال لوگ مختلف ممالک میں بیٹھ کر حقِ معاونت ادا کر رہے ہیں۔ لیکن ناصر بشیر کی شمولیت کے بعد یقیناً’ادب و ثقافت انٹرنیشنل‘ زیادہ پُرکشش ہو جائے گا کہ ہمارا یہ حبیب مزاجاً ایک محنتی شخص ہے۔ ادارت اور مدارت کے جوہر اس کی ذات کا حصہ ہیں۔ علم و ادب کے فروغ میں مذکورہ ادبی میگزین کی وساطت سے علیم و ادیب احباب کو اس تحریک کا حصہ بننا چاہیے! ناصر بشیر گورنمنٹ دیال سنگھ کالج لاہور میں اردو کے پروفیسر ہیں۔ اپنی نگارشات انہیں ارسال کیجئے! اور عالمی سطح پر شناخت رکھنے والے اس جریدے کے ذریعے اردو زبان و ادب کی وسعتوں کے عمل میں شراکت دار بنیے کہ عہدِ موجود میں اُن قدروں کو اجاگر کرنا زیادہ ناگزیر ہو گیا ہے جنہیں ٹیکنالوجی کے نہنگ نے اپنی غذا بنا لیا ہے ۔ بصد معذرت نام نہاد اونچے طبقوں اور مقتدر حلقوں میں Theomania کا مرض عام ہوتا جا رہا ہے۔ اسی غرور میں وہ اکثر تمسخرسا اڑاتے ہوئے کہہ ڈالتے ہیں: ’یہ آپ کی اردو وُردو اولڈ فیشنڈ زبان ہے اور کیا شاعری واعری، افسانے شفسانے لکھ کر لوگوں کا وقت ضائع کرتے رہے ہو!، سو، لفظ کی روحانیت ہی فرد کے شعور میں یہ نور پیدا کرے گی کہ انسان کی عظمت کی ترجمانی اس کے افکار سے ہوتی ہے اور اُن افکار کو دلکش اُسلوب میں پیش کرنا ہی لٹریچر ہے!!!

Citation
Jamil Ahmad Adil, “ادب و ثقافت اور شکیل سروش,” in Daily Nai Baat, May 7, 2015. Accessed on May 7, 2015, at: http://www.naibaat.pk/archives/sp_cpt/%D8%A7%D8%AF%D8%A8-%D9%88-%D8%AB%D9%82%D8%A7%D9%81%D8%AA-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B4%DA%A9%DB%8C%D9%84-%D8%B3%D8%B1%D9%88%D8%B4

Disclaimer
The item above written by Jamil Ahmad Adil and published in Daily Nai Baat on May 7, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on May 7, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Jamil Ahmad Adil:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s