گلزاریات

Follow Shabnaama via email
امجد اسلام امجد

گزشتہ دنوں دہلی میں قیام کے دوران باتوں باتوں میں گلزار بھائی نے بتایا کہ ان کے شعری مجموعے ’’پلوٹو‘‘ کا نروپما دت نے انگریزی میں ترجمہ کیا ہے، اس پر میرا دھیان فوراً پاکستان میں ان کے دو بے مثال مداحوں ڈاکٹر ظفر حسن اور عزیزی گل شیر بٹ کی طرف گیا جنہوں نے صحیح معنوں میں ان سے محبت کا حق ادا کیا ہے۔ یہ بات درست ہے کہ فلم شاعری اور ادب کے حوالے سے اب گلزار کسی تعارف کے محتاج نہیں۔

مگر یہ بات بھی اپنی جگہ پر بالکل صحیح ہے کہ ان کی شخصیت اور کام کے بارے میں ابھی بے شمار کام کرنے والا پڑا ہے کہ ان سے محبت کرنے والے ان کے بارے میں زیادہ سے زیادہ اور مسلسل جانتے رہنے کے خواہش مند ہیں۔ اس وقت میرے سامنے ان کی شخصیت اور شاعری سے متعلق چار کتابیں ہیں جن میں دو (پلوٹو اور اس کا انگریزی ترجمہ) مجھے برادرم ظفر حسن نے مہیا کی ہیں اور دو (گلزار۔ آواز میں لپٹی خاموشی (نیا ایڈیشن) اور گلزار (منتخب کلام) عزیزی گل شیر بٹ نے بھجوائی ہیں کہ وہ ان دونوں کتابوں کے مصنف بھی ہیں اور مرتب بھی لیکن ان پر کوئی بات کرنے سے پہلے میں گلزار کے اس شاعرانہ دیباچے کا تذکرہ ضروری سمجھتا ہوں (جو ان کے تازہ شعری مجموعے کا عنوان بھی ہے) کہ یہ تحریر ان تمام اوصاف سے تقریباً پر ہے جن سے گلزار کی شخصیت اور شاعری عبارت ہے، لکھتے ہیں۔

پلوٹو سے پلینٹ کا رتبہ تو حال ہی میں چھنا ہے… سائنسدانوں نے کہہ دیا ’’جاؤ… ہم تمہیں اپنے نوگیرہوں میں نہیں گنتے… تم پلینٹ نہیں ہو‘‘
میرا رتبہ تو بہت پہلے چھن گیا تھا جب گھر والوں نے کہہ دیا
’’بزنس فیملی میں یہ میراثی کہاں سے آگیا‘‘
خاموشی کہتی تھی تم ہم میں سے نہیں ہو… اب پلوٹو کی اداسی دیکھ کر میرا جی بیٹھ جاتا ہے… بہت دور ہے… بہت چھوٹا ہے… میرے پاس جتنی چھوٹی چھوٹی نظمیں تھیں سب اس کے نام کردیں۔ بہت سے لمحے چھوٹے، بہت چھوٹے ہوتے ہیں، اکثر کھو جاتے ہیں، مجھے شوق ہے انھیں جمع کرنے کا۔
موضوع کے اعتبار سے اس مجموعے میں بہت سی نظمیں غیر روایتی ہیں… لیکن… وہ کیا بری بات ہے؟

گلزار کا اسلوب بیک وقت خوب صورت بھی ہے اور چونکا دینے والا بھی، ان کے بیشتر موضوعات نایاب نہ سہی کمیاب ضرور ہیں حیرت کی بات یہ ہے کہ وہ اپنے لباس، عادات، میل جول، احباب، تعلقات اور آداب دنیا داری میں خاصے روایتی بلکہ ایک حد تک رجعت پسند ہیں لیکن ان کی فلمیں ہوں، شاعری ہو یا کہانیاں وہ ہمیشہ انوکھے پن کی تلاش میں رہتے ہیں۔ وہ نثری نظمیں نہیں لکھتے لیکن آہنگ کے اعتبار سے ان کے کئی مصرعے روایتی اوزان کی حد سے نکل کر ایک نئی دنیا آباد کرتے نظر آتے ہیں۔ ایک ایسی دنیا جہاں شاعری اپنے اظہار کے ایسے پیمانے وضع کرتی ہے کہ گلاس کی خوبصورتی اور مشروب کا ذائقہ اپنا جواز آپ بن جاتے ہیں۔

میری ذاتی رائے میں اس صورت حال کے ڈانڈے ان کی فلمی شاعری سے جاملتے ہیں (واضح رہے کہ فلم اور شاعری دونوں منطقوں میں ان کی آمد بطور ایک فلمی شاعر ہی کے ہوتی تھی) جہاں بعض اوقات پُستک اور سرگم روایتی عروض کو نظر انداز کرنے کے باوجود الفاظ میں ایک ایسی موسیقیت دریافت کرتے ہیں جو کانوں کو بھلی لگنے کے ساتھ ساتھ کچھ نئے مفاہیم کے در بھی وا کرتی چلی جاتی ہیں۔

’’گلزار…، ’’آواز میں لپٹی خاموشی‘‘ گل شیر بٹ نے اس وقت لکھی جب ابھی وہ گورنمنٹ کالج لاہور سے فارغ التحصیل ہوکر پنجاب یونیورسٹی لاء کالج میں پڑھ رہا تھا۔ سو اسے ایک نوجوان سخن سنج اور ادب دوست کی طالب علمانہ کاوش کہا جاسکتا ہے مگر میرے نزدیک یہ اس کتاب سے زیادہ ہوگی کہ اگرچہ اس کے حالیہ باتصویر اور نظرثانی شدہ ایڈیشن میں کئی نئی باتیں شامل کردی گئی ہیں لیکن اس کا انداز اب بھی وہی اٹھارہ برس پہلے والا ہے جو نہ صرف قاری کی توجہ کو ادھر ادھر بھٹکنے کا موقع نہیں دیتا بلکہ اس خوشبو اور چمک کو بھی ہر پل ساتھ رکھتا ہے جو صرف مداحین یعنی FANS کی باتوں اور آنکھوں میں ہوا کرتی ہے۔

لطف کی بات یہ ہے کہ بہت حد تک یہی کیفیت ہمیں ڈاکٹر سید ظفر حسن کی کتاب ART AND ACHIEVEMENT OF GULZAR میں بھی ملتی ہے۔ حالانکہ وہ کتاب ظفر حسن صاحب نے اس عمر میں لکھی تھی جس پر بے آسرا قسم کے سرکاری ملازمین ریٹائر کردیے جاتے ہیں۔

اس کے ساتھ ہی گل شیر بٹ نے ’’گلزار‘‘ کے نام سے ہی ان کا ایک انتخاب کلام بھی مرتب کیا ہے جس میں ان کی نظمیں، غزلیں، گیت اور تروینی چاروں کو شامل کیا گیا ہے۔ میں نے اس کتاب کو ابھی جستہ جستہ دیکھا ہے لیکن اتنا ضرور کہہ سکتا ہوں کہ شعروں کا یہ انتخاب گل شیر بٹ کو رسوا نہیں کرے گا۔

جس قدر میں گلزار کو جانتا ہوں ان کا تعلق خوش نصیبوں کے اس قبیلے سے ہے جو اپنے نصیبوں پر خوش رہتے ہیں لیکن اس ذاتی رویے سے قطع نظر یہ بات بہت خوش آیند ہے کہ ان کی زندگی ہی میں ان کے کمال فن کی تحسین ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے کی ہے۔ ان کے حاصل کردہ سرکاری قومی اور بین الاقوامی ایوارڈز کا شمار بہت مشکل سہی لیکن ناممکن نہیں جب کہ جو عزت اور محبت انھیں اپنے دور اور ہر شعبے کے نقادان فن اور بالخصوص عوام سے ملی ہے اس کا شمار ناممکن ہے اور میرے نزدیک یہی ان کی اور کسی بھی فن کار کی اصل کمائی ہوتی ہے۔ ہمارے دور میں ایسی نظمیں شاید صرف گلزار ہی لکھ سکتا ہے۔

چلو دروازہ کھولو پلین کا
چلو باہر چلیں کچھ دیر ٹہلیں بادلوں پر
جرابیں کھول کر کچھ دور ننگے پاؤں چلتے رہیں
چلو دیکھیں تو جب پاؤں نہیں پڑتے زمین پر، کیسا لگتا ہے؟

Citation
Amjad Islam Amjad, “گلزاریات,” in Express Urdu, May 7, 2015. Accessed on May 7, 2015, at: http://www.express.pk/story/354306/

Disclaimer
The item above written by Amjad Islam Amjad and published in Express Urdu on May 7, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on May 7, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Amjad Islam Amjad:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s