دامان خیال

Follow Shabnaama via email
نشی خان

کبھی کبھی میں سوچتی ہوں کہ مرزا غالب کا تصور کس قدر بلند اور گہرا تھا اور اتنے عظیم تصور پر اس کی گرفت کتنی پختہ تھی۔ اور اس مشق تصور کو وہ کس قدر انجوائے کرتے تھے۔ میرے خیال میں مرزا غالب کا رومانوی مشغلہ یہی تھا کہ وہ اپنے دل میں خوبصورت خیالات کو کسی مصور کے مانند آہستہ آہستہ پینٹ کرتے رہتے تھے۔اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ کیوں لکھتے:

’’دل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن
بیٹھے رہیں تصور جاناں کیے ہوئے‘‘

اب تو سائنس نے اتنی آسانیاں پیدا کردی ہیں کہ جدائی برائے نام ہوکر رہ گئی ہے۔ مگر جب محبت پر مشکل وقت ہوا کرتا تھا۔ جب ٹیلیفون کا تصور نہ تھا اور خط لکھنے میں بڑے مسائل درپیش آیا کرتے تھے۔ اس دور میں مرزا غالب نے تصور کو محبت کا میڈیم بنایا تھا اور آج اگر ہم سوچیں تو شاید ہمیں یہ احساس ہو کہ ہم نے قربت کی وجہ سے تصورات کو کھو دیا ہے۔

آپ بھی تصور کر سکتے ہیں کہ جس سے آپ کا دل کا رشتہ ہو۔ وہ شخص آپ سے بہت دور ہو اور ملاقات کی کوئی صورت نہ نکلے تب آپ کے پاس تصور کے سوا اور کیا رہ جاتا ہے؟ مگر یہ مجبوری انسان کو جس رومانوی لطف سے آشنا کرتی ہے اس کا اندازہ صرف وہ لوگ کرسکتے ہیں جنہوں نے جھیلوں کے کنارے کسی کے بارے میں بہت دیر تک سوچا ہو۔اور اس محبت کو دل کی گہرائی سے محسوس کیا ہو جو محبت انسان کو ستاروں کی بلندی اور سمندر کی گہرائی میں لے جاتی ہے۔

جن لوگوں نے ٹوٹ کر محبت کی ہے صرف وہ لوگ جانتے ہیں کہ خیال سے زیادہ خوبصورت چیز اور کوئی نہیں ہوتی۔ یہ خیال ہی ہے جو انسان کے رگوں میں گردش کرنے والے خون کی رفتار کو بڑھا دیتا ہے۔ یہ خیال ہی ہے جو انسان کو یہ احساس دلاتا ہے کہ محبت صرف جسم کا تعلق نہیں۔ جسم سے آگے جو ایک جذبہ ہے۔ اس کوصرف خیال ہی چھو سکتا ہے۔اور جس انداز سے محبت کو خیال چھوتا ہے۔ وہ احساس ہی الگ طرح کا ہوا کرتا ہے۔

اس بات کو فیض صاحب نے کس عمدہ انداز سے پیش کیا ہے۔ جب وہ اپنی ایک نظم میں لکھتے ہیں کہ:

’’دشت تنہائی میں
اے جان جہاں لرزاں ہے
تیرے آواز کے سائے
تیرے ہونٹوں کے سراب
دشت تنہائی میں دوری کے خش و خاک تلے
کھل رہے ہیں تیرے پہلو کے سمن اور گلاب‘‘
یہ نظم سن کر انسان کس قدر اداس سا ہوجاتا ہے۔

اور میری آنکھیں تواس وقت بھر آتی ہیں جب میں اس نظم کے یہ الفاظ سنتی ہوں کہ
’’کس قدر پیار سے
اے جان جہاں رکھا ہے
دل کے رخسار پہ
اس وقت تیری یاد نے ہاتھ
یوں گماں ہوتا ہے
گرچہ ہے ابھی صبح فراق
ڈھل گیا ہجر کا دن
آ ہی گئی وصل کی رات‘‘

یہ رات کہیں اور سے نہیں آتی۔ یہ رات ان تصورات سے آتی ہے جو انسان کو نہ جانے کہاں سے کہاں لے جاتے ہیں۔

یہ سب تصور ہے۔
کسی کو دیکھنے کا تصور
کسی کو چھونے کا تصور
کسی سے ملنے کا تصور
کسی سے دور ہونے کاتصور!
’’ان کے ہاتھوں سے مس ہونگے
یہ ترسے ہوئے ہاتھ‘‘
یہ تصور کہ کوئی آپ کے قریب ہے۔
اتنا قریب کہ آپ اس کے دل کی دھڑکن بھی سن سکتے ہیں
وہ سانسوں کا بہکنا
وہ بانہوں کا سہارا
وہ بھیگا ہوا دامن
وہ سسکتی نظریں!
یہ سب تصور ہے جو ہمیں
محبوب سے زیادہ محبوب لگتا ہے۔
یہ تصور ہے جو ہمیں
دل کے قریب
کسی خواب کا سایہ سا
لگتاہے لہراتا ہوا!
یہ تصور ہے جو ہمیں
بیچین بھی کرتا ہے
جو ہمیں بھٹکاتا بھی ہے
جو ہمیں رلاتا ہے
اور ہنساتا ہے!!
ایسے تصور سے فن پیدا ہے
ایسے تصور سے آرٹ جنم لیتا ہے
ایسے تصور سے خواب بیدار ہوتے ہیں۔
ایسے تصور میں انسان
اپنے آپ کوکائنات میں
کھوتا ہوا محسوس کرتا ہے۔
وہ خیال کا حسن
وہ تصور کی خوبی
وہ محبت کا عالم
دو دھڑکتے ہوئے دل!!

یہی کچھ غالب نے محسوس کیا تھا۔ اس لیے اس نے خیال کے دامن کو بڑی محبت سے پکڑا تھا اور اپنے مایوس دل سے کہا تھا کہ:

’’سنبھلنے دے مجھے اے ناامیدی کیا قیامت ہے
کہ دامان خیال یار چھوٹا جائے مجھ سے‘‘

جب کوئی پیار سے اس پہلو سے دیکھتا ہے تو پھر اسے محسوس ہوتا ہے کہ محبت صرف وقت گذارنے کا مشغلہ نہیں۔ محبت روح سے روح کا رشتہ ہے۔ وہ رشتہ صرف خیال ہی جوڑ سکتا ہے۔

اور جس شخص نے بھی خیال کے دامن کو پکڑا ہے پھر اس کو کوئی اور چیز اس تصور سے الگ نہیں کرسکتی جس تصور میں صرف بادل نہیں بلکہ پورا آسمان ہے۔
خیال کا یہ دامن ہر محبت کو اپنے آپ میں سماتا ہے۔

اسی دامان خیال سے جڑ کر سنگتراش مجسمے بناتے ہیں۔
مصور تصویریں پینٹ کرتے ہیں۔
موسیقار دھن بناتے ہیں

اور شاعر ایسے اشعار لکھتے ہیں جن کو پڑھ کر پیار پر پیار آجا تا ہے۔
اس خیال کے ساتھ جڑے رہنے میں جو حسن ہے اور اس حسن کی جو پاکیزگی ہے۔ اس کا بیان بھی خیال میں ہی ہوسکتا ہے۔ کیوں کہ خیال اتنا نازک ہے جتنا نازک میر کا یہ شعر کہ:

’’لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام‘‘
یہ بہت نازک کام ہے۔

یہ وہ نازکی ہے جس کو بیان کرتے ہوئے میر نے ہی لکھا تھا کہ:
’’نازکی اس کے لب کی کیا کہیے
پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے‘‘

ایسی نازکی جس میں جو حسن ہے۔ جو محبت ہے۔ جو کشش ہے۔ وہ کشش اور کسی چیز میں نہیں۔ وہ کشش صرف خیال کی ہے۔ اس خیال میں صرف آرٹ ہی داخل ہوسکتا ہے اور اب کیا یہ بات بھی لکھنے کی ضرورت ہے کہ:

’’محبت بذات خود ایک آرٹ ہے‘‘

Citation
Nishi Khan, “دامان خیال,” in Daily Nai Baat, May 6, 2015. Accessed on May 6, 2015, at: http://www.naibaat.pk/archives/sp_cpt/%D8%AF%D8%A7%D9%85%D8%A7%D9%86-%D8%AE%DB%8C%D8%A7%D9%84

Disclaimer
The item above written by Nishi Khan and published in Daily Nai Baat on May 6, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on May 6, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Nishi Khan:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s