خیال کا سفر، توارد، سرقہ، چوری چکاری

Follow Shabnaama via email
ناصر زیدی

دو بڑے ذہن ایک طرح سوچ سکتے ہیں، اس لئے اکثر بڑے شعراء کے ہاں خیال کا، مصرعوں کا، اشعار کا ٹکرا جانا اچنبھے کی بات نہیں۔ عموماً مصرع طرح پر منعقدہ مشاعروں میں مصرعوں کے مصرعے کیا پورے پورے شعر ٹکرا جاتے ہیں، بہتر یہ ہے کہ ایسی صورت میں وہ شعر نکال دیا جائے یا تبدیل کر لیا جائے مگر جوں کا توں برقرار رکھنے سے آگے چل کر خیال کا سفر، محض خیال کا سفر نہیں رہتا، سرقہ، چوری، چکاری میں بدل جاتا ہے۔ یہ ایک دلچسپ مطالعہ ہوتا ہے جب نئے پرانے دیوان یا مختلف مجموعہ کلام پڑھتے ہوئے یا رسائل، جرائد میں شائع شدہ غزلوں میں ایسے اشعار مل جاتے ہیں جو پہلے بھی نظر سے گزر چکے ہوتے ہیں ۔۔۔ کہیں خیال ٹکرا رہا ہوتا ہے، مصرعے یکساں ہو جاتے ہیں مگر پورا کا پورا شعر ہی بلاکم وکاست زیر زبر، پیش کے فرق کے بغیر مل جائے تو اُسے چوری چکاری یا سرقہ بالجبر کے ذیل میں نہ رکھیں تو کیا کریں۔ آج کے کالم میں ایسے اشعار درج کئے جا رہے ہیں جن میں خیال کی یکسانیت یا معمولی کمی بیشی سے مصرعوں کی بُنت شعر کی جڑت موضوعِ زیر بحث کی کفالت کر رہی ہے۔ ملاحظہ فرمایئے۔

رخِ احمدؐ وہ آئینہ ہے شانِ بے نیازی کا
کہ جس کے بعد فن ہی ختم ہے آئینہ سازی کا
منور بدایونی

رُخِ مصطفیؐ ہے وہ آئینہ کہ اب اور ایسا آئینہ
نہ کسی کی بزمِ خیال میں، نہ ذکانِ آئینہ ساز میں
(نابینا شاعر اکرام احمد) لطف بدایونی

پیچھے مڑ مڑ کر نہ دیکھو اے منور بڑھ چلو
شہر میں احباب تو کم ہیں سگے بھائی بہت
منور بدایونی

آرہی ہے چاہِ یوسف سے صدا
دوست یاں تھوڑے ہیں اور بھائی بہت
مولانا حالی

فکر معاش، ماتمِ دل اور خیال یار
تم سب سے معذرت کہ طبیعت اُداس ہے
ڈاکٹر جاوید اقبال

فکر معاش، ذکرِ بُتاں، یاد رفتگاں
اس زندگی میں اب کوئی کیا کیا کِیا کرے
داغ دہلوی

ایسے ملا ہے، ہم سے شناسا کبھی نہ تھا
وہ یوں بدل ہی جائے گا سوچا کبھی نہ تھا
خمار فاروقی

وہ یوں ملا ہے کہ جیسے کبھی ملا ہی نہ تھا
ہماری ذات پہ جس کی عنایتیں تھیں بہت
ناصر زیدی

مصروف ہیں کچھ اتنے کہ ہم کارِ محبت
آغاز تو کر لیتے ہیں جاری نہیں رکھتے
عباس تابش

عشق وہ کارِ مسلسل ہے کہ ہم اپنے لئے
ایک لمحہ بھی پس انداز نہیں کر سکتے
رئیس فروغ

چلو عاصی ابھی واپس چلیں گھر
ابھی تو شام ہوتی جا رہی ہے
اقبال عاصی[گلگت]

میں اب تک دن کے ہنگاموں میں گم تھا
مگر اب شام ہوتی جا رہی ہے
ساقی امر وہوی(مرحوم)

بڑا ضبط اُس نے کیا وقتِ رخصت
مگر ہو گئی آنکھ نَم دھیرے دھیرے
خوشی محمد طارق

دَمِ رخصت وہ چپ رہے عابد
آنکھ میں پھیلتا گیا کاجل
سید عابد علی عابد

مسکرانے کی سزا کتنی کڑی ہوتی ہے
پوچھ آؤ یہ کسی کِھلتی کلی سے پہلے
پروین سجل

تبسم کی سزا کتنی کڑی ہے
گُلوں کو کِھل کے مُرجھانا پڑا ہے
جوش ملیح آبادی

اس شرط پہ باندھا تھا اک عہدِ وفا مَیں نے
جو سکھ ہیں وہ تیرے ہیں جو دکھ ہیں وہ میرے ہیں
منور سلطانہ بٹ

اس شرط پہ کھیلوں گی پیا پیار کی بازی
جیتوں تو تجھے پاؤں ہاروں تو پیا تیری
پروین شاکر

غنچہ چٹکا تھا کہیں خاطرِ بُلبل کے لئے
میں نے یہ جانا کہ کچھ مجھ سے کہا ہو جیسے
شعیب بن عزیز

اتنا مانوس ہوں فطرت سے کلی جب چٹکی!
جُھک کے میں نے یہ کہا مجھ سے کچھ ارشاد کیا؟
جوش ملیح آبادی

کس کس کا ذکر کیجئے کس کس کو رویئے
دن رات لُوٹ مار ہے مذہب کے نام پر
فاتح واسطی

آہ کیا کیا آرزوئیں نذرِ حرماں ہو گئیں
رویئے کس کس کو اور کس کس کا ماتم کیجئے
اثر صہبائی

ہوش و حواس صبر و تواں سب ہی جا چکے
کچھ جان لے کہ اب تری باری ہے زندگی
اقبال اعظم فریدی

ہوش و حواس تاب و تواں داغ جا چکے
اب ہم بھی جانے والے ہیں سامان تو گیا
داغ دہلوی

سایا نہ ان کے ساتھ جو دیکھا گیا کبھی
ہم جیسے عاصیوں کے سروں پر رہا سدا
شریف فیاض وزیر آبادی

لوگ کہتے ہیں کہ سایا ترے پیکر کا نہ تھا
مَیں تو کہتا ہوں جہاں بھر پہ ہے سایا تیرا
احمد ندیم قاسمی

نہ خوش گمان ہو اس پر کہ اے دلِ سادہ
سبھی کو دیکھ کے وہ شوخ مسکراتا ہے
شہر یار

میں جسے پیار کا انداز سمجھ بیٹھا ہوں
وہ تبسم، وہ تکلم، تری عادت ہی نہ ہو
ساحر لدھیانوی

ہوش میں آؤ کہ دیوار تک آ پہنچا ہے
دشمن اب کوچہ و بازار تک آ پہنچا ہے
سعدیہ حریم

ہر لحظہ اُس کے پاؤں کی آہٹ پہ کان رکھ
دروازے تک جو آیا ہے اندر بھی آئے گا
سلیم شاہد(مرحوم)

میں ابر و باد سے، طوفاں سے سب سے ڈرتا ہوں
غریبِ شہر ہوں کاغذ کے گھر میں رہتا ہوں
سلطان رشک

آندھیوں سے ڈرتا ہوں، بارشوں سے ڈرتا ہوں
جب سے مَیں نے ڈالا ہے اک مکان شیشے کا
اعتزاز احسن

سخنوری سے ہے مقصود معرفت فن کی
مَیں بے ہنر ہوں تلاشِ ہُنر میں رہتا ہوں
سلطان رشک

مَیں بے ہُنر تھا مگر صحبت ہُنر میں رہا
شعور بخشا ہمہ رنگ محفلوں نے مجھے
ناصر زیدی

ہے ہوا میں غضب کی خاموشی
کاش طوفان اٹھا دے کوئی!
محترمہ سبین (کراچی)

کوئی سناّٹا سا سناّٹا ہے
کاش طوفان اٹھا دے کوئی
ناصر زیدی

اب آخر میں دیکھئے سراسر چوری، سرقہ کی مثال:
لفظ جب تک وضو نہیں کرتے
ہم تری گفتگو نہیں کرتے
ڈاکٹر خالد اسدی

لفظ جب تک وضو نہیں کرتے
ہم تری گفتگو نہیں کرتے
مشتاق شاد

Citation
Nasir Zaidi, ” خیال کا سفر، توارد، سرقہ، چوری چکاری ,” in Daily Pakistan, May 5, 2015. Accessed on May 5, 2015, at: http://dailypakistan.com.pk/columns/04-May-2015/220614

Disclaimer
The item above written by Nasir Zaidi and published in Daily Pakistan on May 5, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on May 5, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Nasir Zaidi:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s