کتاب میلے اور جشن ادب

Follow Shabnaama via email
مسعود اشعر

پچھلا پورا ہفتہ کتابوں اور کتاب والوں کے ساتھ گزرا۔ ایک طرف کتاب میلہ اور دوسری طرف جشن ادب۔ ادھر رہ رہ کر یہ خیال بھی آتا رہا کہ کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ نیشنل بک فائونڈیشن کے ڈاکٹر انعام الحق جاوید اور آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کی محترمہ امینہ سید اور ڈاکٹر آصف فرخی مل کر کوئی ایسا انتظام کریں کہ اسلام آباد میں ہونے والے ان کے جشن ایک ہی تاریخوں میں نہ ہوں؟ یہاں رخ روشن کے آگے شمع رکھنے اور پروانے یا پروانوں کو اس آزمائش میں ڈالنے کا سوال نہیں ہے کہ وہ ادھر جائیں یا ادھر بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ ادب اور ادیبوں کے وہ پروانے جو دونوں طرف ہی جانا چاہتے ہیں وہ کیا کریں؟ کیونکہ دونوں جانب ایک ہی تاریخوں میں بڑے بڑے بھاری بھرکم قومی اور بین الاقوامی دماغ ایسے ایسے ادبی معاشرتی، معاشی اور تاریخی مباحث پر گفتگو کر رہے ہوتے ہیں جن سے سوچنے سمجھنے اور پڑھنے لکھنے سے واسطہ رکھنے والا ہر شخص فائدہ اٹھانا چا ہتا ہے۔ کراچی آرٹس کونسل کے احمد شاہ اور لاہور آرٹس کونسل کے عطاء الحق قاسمی اس سلسلے میں دانش مندی سے کام لیتے ہیں۔ وہ مل جل کر یہ اہتمام کرتے ہیں کہ ان دونوں کے جشنوں میں ٹکرائو نہ ہو۔ مان لیا کہ بک فائونڈیشن کی مجبوری یہ ہے کہ چونکہ یوم کتاب عالمی سطح پر ایک ہی تاریخ کو منایا جاتا ہے اس لئے اسے بھی اس کی پابندی کرنا پڑتی ہے۔ لیکن یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ کتاب میلہ اس طرح شروع کیا جائے کہ او یو پی کے جشن ادب سے ایک دن پہلے ختم ہو جائے؟ اسی طرح آکسفرڈ یونیورسٹی پریس بھی اپنے جشن کا افتتاح بک فائونڈیشن کے جشن کے فورا بعد کر سکتا ہے ۔

خیر، یہ ہماری خواہش ہے۔ اسے آپ تجویز یا سفارش بھی کہہ سکتے ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ علم کے پیاسوں کو دونوں کنوئوں کے ٹھنڈے میٹھے پانی سے اپنی پیاس بجھانے کا موقع ملنا چاہیے۔ بہر حال، کتاب کی عزت اور کتاب کی حرمت وعظمت کو کیسے خراج پیش کیا جاتا ہے؟ وہ کوئی بک فائونڈیشن سے پوچھے۔ وہاں کتاب کو خراج پیش کرنے کے لئے باقاعدہ مارچ پاسٹ کیا جاتا ہے۔ اسکولوں کے بچے کتاب لکھنے والوں کو سلامی پیش کرتے ہیں۔ اس موقع پر کتاب کا وہ ترانہ گایا جاتا ہے جو ہمارے مرحوم دوست احمد عقیل روبی نے لکھا ہے۔ اس طرح ہم عقیل روبی کو بھی یاد کر لیتے ہیں۔ بک فائونڈیشن کے اس میلے میں کتابوں کی رونمائی ہوتی ہے، کتابیں لکھنے والے اپنی کتابوں سے اقتباس پڑھ کر سناتے ہیں۔ ادب پر بحث و مباحثے ہوتے ہیں۔ اس بار ترکی اور فارسی ادب کے ترجموں اور کتابوں کے لئے بھی اجلاس رکھے گئے تھے۔ اس کتاب میلے میں پہلی بار ان پاکستانی لکھنے والوں کی بھی پذیرائی کی گئی جو پاکستان سے باہر رہتے ہیں۔ سمندر پار بسنے والے پاکستانیوں نے اپنی تخلیقات سنائیں۔ ہم تو یہ سمجھتے تھے کہ اپنے وطن سے دور رہنے والے وہ پاکستانی ہی اردو ادب سے دلچسپی رکھتے ہیں جو بڑی عمر میں سمندر پار چلے گئے تھے۔ مگر اس اجلاس سے معلوم ہوا کہ ڈاکٹرسائرہ علوی جیسے نئی نسل سے تعلق رکھنے والوں نے بھی اردو ادب کے ذریعے اپنے وطن سے رشتہ استوار کئے رکھا ہے۔ یہی نوجوان اردو ادب میں ایک نئی صنف متعارف کرا سکتے ہیں یعنی تارکین وطن کا ادب۔ انگریزی میں تو یہ صنف آچکی ہے مگر اردو میں ابھی پوری طرح نہیں آئی ہے۔ کتاب میلے کی اصل رونق تو وہ بک اسٹال ہوتے ہیں جہاں صبح سے شام تک کتابیں خریدنے والوں کا ہجوم نظر آتا ہے۔ ہر اسٹال پر ہر عمر کے خریدار کتابوں سے بھرے تھیلے اٹھائے نظر آتے ہیں۔ اور ہاں،ایک رونق اس قرعہ اندازی پر بھی ہوتی ہے جہاں ہر دو گھنٹے بعد کسی خوش قسمت کو دو ہزار روپے کی کتابیں مفت دی جاتی ہیں۔ کتابوں کے فروغ کا یہ بھی ایک اچھا طریقہ ہے۔ وہاں کتابوں کے متوالے اس قرعہ اندازی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے تھے ۔

ڈاکٹر انعام الحق جاوید کہتے ہیں، ایک سال میں فائونڈیشن کی ایک کروڑ روپے سے زیادہ کی کتابیں فروخت ہوئیں۔ وہ ٹھیک ہی کہتے ہوں گے۔ انہوں نے موبائل کتب خانے کے ذریعے شہر شہر اور گائوں گائوں کتابیں پہنچانے کا جو اہتمام کیا ہے اس سے یقیناً کتابیں زیادہ سے زیادہ فروخت ہوتی ہوں گی۔ ہر ایئر پورٹ اور ہر ریلوے اسٹیشن پر بھی ان کا کتاب گھر موجود ہے جہاں سے سستی کتابیں مل جاتی ہیں۔ ظاہر ہے ایسے کام ذاتی دلچسپی سے ہی ہو سکتے ہیں۔ بک فائونڈیشن مظہر الاسلام سے پہلے بھی موجود تھی۔ لیکن دوسرے سرکاری اداروں کی طرح وہ بھی ایک اور سرکاری ادارہ تھی کہ کاغذی کارروائی کرتے رہو اور تنخواہ وصول کرتے رہو۔ مظہرالاسلام نے اس میں جان ڈالی اور اسے ایک فعال ادارہ بنایا۔ اب ڈاکٹر انعام الحق جاوید نئے نئے پروگرام متعارف کرا کے اسے اور بھی متحرک کر رہے ہیں۔ ایسی کلاسیکی کتابیں جو عام ناشر ہزاروں روپے میں فروخت کرتے ہیں بک فائونڈیشن انہیں چند سو روپے میں عام قاری تک پہنچا رہی ہے۔ بلاشبہ یہ بہت بڑی خدمت ہے۔ لیکن ہمارے خیال میں اصل کام یہ ہے کہ ہر شہر، ہر محلے، ہر بلاک اور ہر سیکٹر میں لائبریری کھولی جائے۔ لائبریریاں ہوں گی تو کتابوں ،رسالوں اور اخباروں کی اشاعت بھی بڑھے گی۔ اشاعت بڑھے گی تو جہاں ناشروں کو فائدہ ہو گا وہاں کتابیں لکھنے والوں اور رسالے شائع کرنے والوں کو بھی معقول رقم ملنے لگے گی۔ ساری مہذب دنیا میں محلے محلے لائبریریاں ہوتی ہیں۔ ظاہر ہے بک فائونڈیشن اتنا بڑا کام نہیں کر سکتی۔ یہ کام مقامی حکومتوں کا ہے۔ لیکن ایک بھرپور مہم کے ذریعے حکومت کو ایسا قانون بنانے پر مجبور تو کیا جا سکتا ہے کہ ہر مقامی حکومت لازمی طور پر اپنے علاقے میں لائبریری بنائے۔ یہ مہم بک فائونڈیشن اور اکادمی ادبیات مل کر چلا سکتے ہیں۔ یقیناً اس میں دوسرے علمی ادارے بھی خوشی خوشی حصہ لیں گے۔ خدا کا شکر ہے کہ ڈاکٹر قاسم بگھیو کی صورت میں اکادمی کو بھی ایسا چئیرمین مل گیا ہے جس نے چند مہینے کے اندر ہی اکادمی کو گہری نیند سے بیدار کر دیا ہے۔ اور اب اس نے بھی ادبی جشن منانا شروع کر دیئے ہیں۔ خدا کرے مقتدرہ قومی زبان کو بھی کوئی معقول سربراہ مل جائے۔ جب سے اس کا نام بدلا ہے اس وقت سے وہ صرف نام کا ہی علمی ادارہ رہ گیا ہے۔اس کے ملازم مفت کی تنخواہیں لے رہے ہیں ۔

Citation
Masood Ashar, “کتاب میلے اور جشن ادب,” in Jang, May 5, 2015. Accessed on May 5, 2015, at: http://beta.jang.com.pk/akhbar/%DA%A9%D8%AA%D8%A7%D8%A8-%D9%85%DB%8C%D9%84%DB%92-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%AC%D8%B4%D9%86-%D8%A7%D8%AF%D8%A8-%D8%A7%D9%93%D8%A6%DB%8C%D9%86%DB%81/

Disclaimer
The item above written by Masood Ashar and published in Jang on May 5, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on May 5, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Masood Ashar:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s