میلوں میں گھرا ، اسلام آباد

Follow Shabnaama via email
کشور ناہید

اسلام آباد آجکل میلوں کی بارشوں میں گھرا ہوا ہے ۔ پہلے فوزیہ سعید نے لوک میلہ کیا ۔ سارے صوبوں نے اپنے ہنر کو آزمایا اور موسیقی کی تانوں پر ہمارے نوجوانوں کو طرح طرح کے رقص پیش کرنے کا موقع دیا۔ بہت سی ایسی خواتین بھی دیکھیں جو دس ہزار روپے دیکر اسٹال نہیں لے سکتی تھیں تو انہوں نے چبوتروں اور سیڑھیوں پر اپنی کشیدہ کاری اور کرتے پھیلائے ہوئے تھے ۔ اس دفعہ ٹرانسپورٹ کا انتظام بھی بہت اچھا تھا مگر ایک شکایت جو میں ہمیشہ سے کرتی آئی ہوں وہ یہ ہے کہ آب پارہ سے لوک ورثے تک کے لئے خصوصی بسیں چلائی جائیں جس پر ہم جیسے غریب غربا بہ آسانی میلے میں شرکت کرسکیں۔

لوک میلہ ختم ہوا تو امریکیوں نے پاکستان کی فوک میوزک کا سہ روزہ میلہ سجایا۔ یہ موقع تھا کہ نوجوانوں نے خوب جھوم جھوم کرڈانس کیا اور گایا۔ شاید ڈرون حملوں کے داغ دھونے کےلئے یہ اہتمام کیاگیا تھا۔ ابھی سانس بھی لینے نہ پائے تھے کہ ڈاکٹر سیما نے موسیقار کے زیراہتمام استاد رئیس خاں کے ساتھ شام منانے کا اہتمام کیا ۔ استاد جی کو سنے ہوئے بھی مدت گزر گئی تھی ۔ اس موقع کو غنیمت جانا ۔ ہرچند استاد جی نے صرف آدھا گھنٹہ ستاربجایا مگر کیا بجایا ۔ پیاس نہیں بجھی۔ ابھی سانس بھی نہ لینے پائے تھے کہ چودہ دعوت ناموں سے لدا پھندا، نیشنل بک فاونڈیشن کی جانب سے لمبا چوڑا بیگ آگیا ۔ ہر تقریب کے لئے الگ الگ دعوت نامے موجود تھے ۔ پاک چائنہ سینٹر میں غالب، علامہ اقبال سے لیکر مستنصر تارڑ تک کے مجسمے رکھے ہوئے تھے، جنہیں بچے بڑی محبت اور حیرانی سے دیکھ رہے تھے ۔ آدھے اوپر کے ہال میں کتابوں کے اسٹال تھے اور آدھے میں مذاکرے رکھے گئے جیسے ’’ فیمنزم اور پاکستانی ادب کی صورت حال ‘‘ نظم کا نیا اسٹرکچر ’’ افسانہ کل اور آج ‘‘ علاوہ ازیں انتظار حسین اور انور مسعود کے ساتھ شام جو کہ رات کے وقت تھی۔ خوبصورتی کے ساتھ منائی گئی ۔ ہرچند کہ ادب دوست لوگ زیادہ اور ادیب کم تھے ۔ جبکہ انور مسعود کی شام تو تھی بھی عام لوگوں کے لئے ۔ اصل میں پاک چائنہ آڈیٹوریم ہے تو800 لوگوں کے بیٹھنے کی گنجائش کے ساتھ ، بس یہیں یہ مشکل ہوتی ہے کہ اس ہال کو بھرا کیسے جائے ۔ اتنے بڑے ہال میں سو بندے بھی ہوں تو اونٹ کی داڑھ میں زیرے کے برابر لگتا ہے ۔ ویسے بھی اسکولوں اور کالجوں میں امتحانات کازمانہ ہے پاک چین سینٹر میں آنے کےلئے بھی ٹرانسپورٹ کی ضرورت ہوتی ہے ۔ بہرحال لطف کی بات یہ ہے کہ یونیسکو سے لیکر غیر ملکی سفارت خانے بھی ، کتاب میلے کوکامیاب بنانے کے لئے بہت معاونت کررہے ہیں ۔ اسلام آباد لٹریچر فیسٹیول بھی ساتھ ساتھ شروع ہوا ۔ بک فیسٹیول کی طرح لٹریچر فیسٹیول میں آنے کےلئے کوئی کارڈ جاری نہیں کیا گیا ۔ مسئلہ یہ ہے کہ ادھر ادھر جاتا ہے دیکھیں اسطرف پروانہ آتا ہے والی بات بنی ہوئی تھی ۔ آکسفورڈ والوں نے تو تمام پروگرام تفصیلاً اخباروں میں شائع کردیا جبکہ بک فاونڈیشن کے کارڈ تو بہت خوبصورت تھے ۔ مگر پروگرام کی تفصیل بعد میں ہاتھ آئی۔ بچوں سے لیکر بڑوں تک دونوں کانفرنسوں میں لوگ تھے کہ آتے چلے جاتے تھے ۔ 22سے 26تک یہ معلوم ہی نہیں ہوا کہ دن اور رات کیسے گزرے چونکہ بک فاونڈیشن نے دروازے ایسے کھلے رکھے تھے کہ وہاں مشاعرے میں60شاعر تھے۔ ایسا لگتا تھا جیسے زمین سے نکلتے آرہے ہیں ۔ جبکہ لٹریچر فیسٹیول میں شعروں اور وقت کی دونوں پابندیاں تھیں۔ تو 15شاعروں نے خوب پڑھا، مشاعرہ ساڑھے سات بجے شروع ہوا اور نو بجے ختم بھی ہوگیا ۔

جو لوگ شکایت کرتے ہیں کہ کتاب پڑھنے والے نہیں رہے انہیں چاہئے تھا کہ وہ ان دونوں کانفرنسوں میں کتابوں کی خریداری اور ہر سیشن میں ہرعمر کے لوگوں کی شرکت کے ہجوم کو آکر دیکھتے ۔ بارش نے تو اسلام آباد کا گھر دیکھ ہی لیا ہے۔ میرا خیال ہے کہ نیپال کے زلزلے کی ستم کوشی کے جتنے آسمان کے آنسو تھے وہ ان علاقوں میں بہہ نکلے تھے مگر دونوں کانفرنسیں بڑے سکون اور بڑی جذباتیت کے ساتھ گزریں ایک تو ہمارے ہربچے کےہاتھ موبائل فون آگیا ہے اس معصوم کو یہ بھی نہیں معلوم کہ انتظار حسین کون ہے اور مسعود اشعر کون بس ایک فقرہ زبان پہ ہے۔ میرے ساتھ ایک تصویر، ایک منٹ رک جایئے میرے ساتھ ایک تصویر ان کی معصومیت پہ ترس بھی آتا تھا اور پیار بھی کیا اچھا ہو کہ ہمارے تعلیمی ادارے ادیبوں کے ساتھ شام منانے کا اہتمام کیا کریں۔ ان سے گفتگو کے سیشن منعقد کریں۔ ان کی کتابوں کے بارے میں گفتگو کریں۔ پھر بھی ہر دفعہ اور ہرسیشن میں جہاں بھی زہرہ آپا یا انتظار صاحب آئے۔ لوگوں نے بڑی تعظیم اور محبت کے ساتھ ان کا استقبال کیا۔ یہ دونوں بزرگ ہمیں بہت عزیز ہیں۔ البتہ ایسی تقاریب میں مشتاق احمد یوسفی بہت یاد آتے ہیں۔ خدا کرے جلد صحت یاب ہوجائیں۔ کمال محبت اور محنت تو آصف فرخی، امینہ سید اور انعام الحق جاوید کی تھی کہ صبح سے لے کر رات گئے تک انتھک اور مسکراتے ہوئے تقریبات کا اہتمام کرتے رہے۔ داد تو ان بچوں کو دینی چاہئے جو اپنے ننھے ننھے ہاتھوں میں ’’پروگرام ختم‘‘ کا بورڈ اٹھائے کھڑے ہوئے تھے اور سب لوگ ان کی پیروی کرتے تھے۔ محبتوں کے اس چھ روزہ سفر میں سوات سے لے کر چھوٹے چھوٹے قصبوں سے آنے والے نو آموز ادیبوں سے بھی ملاقات ہوتی رہی۔ البتہ ہر ایک کی کتاب سنبھالنے کا وقت اور حوصلہ نہیں تھا۔ میں بھی بزرگ ہونے کے ناطے راشدہ ماہین سے لے کر مرتضی مرزا کو یہی مشورہ دونگی کہ اپنے کلام کوذرا چند دن کی آنچ دینے کے بعد، دوبارہ پڑھا کریں اور پھر ہم سے دعائیں لیں کہ یہی تو فصل ہے جس نے ہمارے بعد، ادب کی باگ دوڑ سنبھالنی ہے۔ راشدہ، اسلام آباد میں اور مرتضیٰ، حیدر آباد میں ہیں۔ میرے دل سے ان کے لئے دعائیں نکلتی ہیں۔

Citation
Kishwar Naheed, ” میلوں میں گھرا ، اسلام آباد,” in Jang, May 1, 2015. Accessed on May 1, 2015, at: http://beta.jang.com.pk/akhbar/%D9%85%DB%8C%D9%84%D9%88%DA%BA-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%DA%AF%DA%BE%D8%B1%D8%A7-%D8%8C-%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85-%D8%A7%D9%93%D8%A8%D8%A7%D8%AF/

Disclaimer
The item above written by Kishwar Naheed and published in Jang on May 1, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on May 1, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Kishwar Naheed:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s