علامہ اقبال اور حقوق و مقام نسواں

Follow Shabnaama via email
پروفیسر ڈاکٹر پروین خان

علامہ اقبال نہ صرف ہمارے قومی شاعر ہیں بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کا مقام و مرتبہ امت مسلمہ میں ہی نہیں بلکہ تمام دنیا میں بلند ہو رہا ہے آپ نے برصغیر میں بیداری ملت کے لیے اپنی شاعری کو وسیلہ بنایا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ نے اپنے کلام سے مسلمانوں میں وحدت ملت، قومی خود داری اور اس سے زیادہ غلامی کے طوق کو اتار پھینکنے کے لیے جذبہ بیدار کیا۔ آپ نے جہاں ایک جانب داخلی حالات اور خارجی اثرات کا جائزہ لیا اور معاشرتی زبوں حالی کا ذکر کیا تو ساتھ ہی معاشرہ میں موجود آبادی کے ایک اہم حصہ یعنی عورت کے مقام و مرتبہ کی پہچان کو بھی اہمیت و حیثیت دی۔ آپ نے عورت کے وجود کو مختلف جہتوں سے آشکار کرتے ہوئے اپنے کلام میں بے شمار دفعہ ذکر کیا۔ خصوصاً ماں کی نسبت سے علامہ اقبال جب اپنی والدہ مرحومہ کا ذکر کرتے ہیں تو ماں کی ممتا اور اس کے تحت اولاد سے قلبی و روحانی تعلق کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ آپ نے ماں کے مقام کو کچھ اس انداز سے واضح کیا:

دفتر ہستی میں تھی زریں ورق تیری حیات
تھی سراپا دین و دنیا کا سبق تیری حیات
عمر بھر تیری محبت میری خدمت گر رہی
میں تری خدمت کے قابل جب ہوا، تو چل بسی

اس سے ہٹ کر علامہ اقبال نے عورت کے مقام و مرتبہ کا مشرق و مغرب کے ماحول کے حوالہ سے جو موازانہ کیا ہے وہ نہایت جامع اور خوبصورت ہے جسے میں چند عنوانات سے واضح کرنا چاہوں گی۔ حقیقت نسواں، مقام نسواں، تعلیم نسواں، حقوق نسواں، اہمیت نسواں کے حوالہ سے آپ کا یہ شعر سب سے زیادہ خوبصورت ہے۔

وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں

اس میں کوئی شک نہیں کہ تعلیم نسواں کے بغیر ترقی نسواں ممکن نہیں لیکن آج کی موجودہ مغرب زدہ تعلیم اس کے لیے ناکافی ہے کیونکہ اس میں کہیں بھی نسوانیت کی طرف مائل کرنے کی ترغیب نہیں ہے آپ نے اس سلسلہ میں نہایت اچھے انداز میں اس پہلو کو نمایاں کیا ہے۔

جس علم کی تاثیر سے زن ہوتی ہے نازن
کہتے ہیں اسی علم کو ارباب نظر موت
بیگانہ رہا دین سے اگر مدرسہ زن
ہے عشق و محبت کیلئے علم و ہنر موت

علامہ درحقیقت عظمت نسواں کے بہت بڑے حامی تھے۔ ان کے نزدیک عورت حقیقی معنوں میں اگر اپنی عظمت و رفعت کو قائم رکھے گی تو وہ بلند مقام و مرتبہ کی حامل ہو گی۔

شرف میں بڑھ کے ثریا سے مشت خاک اس کی
کہ ہر شرف ہے اسی درج کا در مکنوں

ہمارے ہاں ایک عرصہ سے مختلف سماجی تنظیمیں حقوق و آزادی نسواں کے لیے مصروف عمل ہیں جن میں سے چند سول سوسائٹی کے نام سے عورتوں کے حقوق کی بات تو کرتی ہیں لیکن عورت کی حقیقی عظمت و رفعت اور اس کے حقیقی فرائض سے پہلو تہی کی ترغیب دیتی ہیں جس کی وجہ سے ایسی مغربی سوچ کی حامل خواتین درحقیقت عورت کی عظمت کو گہنار ہی ہیں آزادی نسواں کو علامہ کس نظر سے دیکھتے تھے۔ ملاحظہ ہو:

اس بحث کا کچھ فیصلہ میں کر نہیں سکتا
گر خوب سمجھتا ہوں کہ یہ زہر ہے وہ قند
کیا فائدہ کچھ کہہ کے بنوں اور بھی معتوب
پہلے ہی خفا مجھ سے ہیں تہذیب کے فرزند
اس راز کو عورت کی بصیرت ہی کرے فاش
مجبور ہیں، معذور ہیں مردان خردمند
کیا چیز ہے آرائش و قیمت میں زیادہ
آزادی نسواں کہ زمرد کا گلو بند

اگر صحیح معنوں میں جائزہ لیں تو عورت علم و ہنر تو سیکھے، ویسے بھی سرکار دو عالمؐ نے حصول علم کو مردوزن پر فرض فرمایا ہے لیکن معیشت میں ضروری نہیں کہ عورت اس میں شریک کار ہو۔ آپ نے اس حقیقت کو آشکار اپنے افکار میں کیا ہے۔

نے پردہ، نہ تعلیم، نئی ہو کہ پرانی
نسوانیت زن کا نگہبان ہے فقط مرد
جس قوم نے اس زندہ حقیقت کو نہ پایا
اس قوم کا خورشید بہت جلد ہوا زرد

Citation
Parvin Khan, ” علامہ اقبال اور حقوق و مقام نسواں ,” in Nawaiwaqt, April 30, 2015. Accessed on April 30, 2015, at: http://www.nawaiwaqt.com.pk/adarate-mazameen/30-Apr-2015/380780

Disclaimer
The item above written by Parvin Khan and published in Nawaiwaqt on April 30, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on April 30, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Parvin Khan:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s