ٹی ٹو ایف اداس ہے

Follow Shabnaama via email
نشی خان

مجھے افسوس ہے کہ میں اس ماتم میں شریک نہیں جو اس شہر کے اس کونے میں ہو رہا ہے جہاں مسکراہٹیں بکھرتی تھیں۔ جہاں موسیقی بجتی تھی۔ جہاں کتابیں پڑھی جاتی تھیں۔ جہاں زندگی اور آرٹ کے موضوع پر گفتگو رہتی تھی۔
میں تصاویر سے اندازہ کرسکتی ہوں کہ اب وہاں پر ماتمی پھولوں کی خوشبو بکھری ہوئی ہوگی۔ اس مقام پر جہاں ’’فن برائے زندگی‘‘ کے حوالے سے خوبصورت پینٹنگز آویزاں تھیں۔ جہاں دیواروں پر وکھرے قسم کے آرٹ کے نمونوں پر وکھرے قسم کے الفاظ لکھے جاتے تھے۔ وہاں پر میں نے یہ بھی پڑھا تھا کہ ’’نزدیک مت بیٹھو ورنہ پیار ہوجائے گا‘‘ اور اس کے ساتھ ساتھ یہ کمینٹ بھی لکھاہوا ہوتا تھا کہ ’’نزدیک آکر بیٹھو بھلے پیار ہوجائے‘‘
اب وہاں پر جھل مل کرتی ہوئی اداس روشنیاں جل رہی ہیں۔ اور بڑے سے بورڈ پر آنے والے اپنے تاثرات لکھ کر لگاتے ہیں جن میں صرف یہی کچھ ہے کہ:

’’سبین آئی مس یو‘‘
’’سبین تم یاد رہو گی‘‘
’’سبین تم میری ہیروہو‘‘
سبین آئی لو یو‘‘
’’سبین تم تیز ہوا میں جلتی ہوئی موم کی مانند تھیں‘‘

یہ سب جذبات اور احساسات مصنوعی نہیں ہیں۔ کیوں کہ اس مقام پر میں بھی ٹھہری ہوں جہاں اپر مڈل کلاس کے نوجوان بچے اور بچیاں آکر بیٹھا کرتی تھیں۔ کوئی برگر کھاتا تھا۔ کوئی جوس پیتی تھی۔ کوئی کتاب پڑھتا تھا۔ کوئی لیپ ٹاپ پر سرفنگ کرتی تھی۔ مگر وہاں کوئی کسی کو ڈسٹرب نہ کرتا تھا۔ وہاں ہر کوئی مہذب انداز کے ساتھ آزاد تھا۔ وہ آرٹسٹک آزادی دینے والی خاتون تھی سبین محمود!

وہ سبین محمود جو جمعہ کی شام کو ٹارگٹ کلنگ کی نیوز بن گئی۔ کیا سبین محمود کا جرم یہ تھا کہ اس نے آرٹ کے پروموشن کے لیے اپنا کردار ادا کیا تھا۔ کیا اس کا جرم یہ تھا کہ وہ انسانی آزادی کے لیے آواز بلند کرتی تھی۔ کیا اس کا جرم یہ تھا کہ اس نے دہشتگردی کے خلاف ایک بھرپور کردار ادا کیا۔ کیا اس کا جرم یہ تھا کہ اس نے عوام کے ساتھ آرٹ کے حوالے سے یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ سارے اعمال اس معاشرے کی نظر میں جرم تھے مگر اس کا سب سے بڑا جرم یہ تھا کہ اس نے اپر مڈل کلاس کے بچوں کو اپنے گرد جمع کیا تھا اور ان بچوں کو وہ اس معاشرے کے دکھ اور درد کے ساتھ جوڑ رہی تھی۔ اس نے ان بچوں سے کبھی جلوس نہیں نکلوائے۔ اس نے ان بچوں کو سیاسی مقاصد کے استعمال نہیں کیا۔ اس نے ان بچوں کا اپنا کارکن نہیں بنایا۔ مگر ان بچوں کی ایسی دوست تھی جیسی دوست ایک شفیق اور باشعور ماں ہوا کرتی ہے۔ اس کے اپنے بچے نہیں تھے اس لیے اس نے اپنی ذات کی ساری مامتا ان بچوں پر نچھاور کردی جو بچے اب رو رہے ہیں۔ سسکیاں بھر رہے ہیں۔ ان کی خوبصورت آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہیں۔اور کیوں نہ بہیں؟ آخر انہوں نے ایک ایسی شفیق دوست کو کھو دیاہے جو انہیں صرف فیض احمد فیض کے نظموں سے آشنا نہیں کیا کرتی تھیں بلکہ فیض صاحب کی طرح ان کے جذباتی مسائل سنا کرتی تھی اور انہیں اچھے مشورے بھی دیا کرتی تھی۔ اب مشورے دینے والی اور دلوں کو جوڑنے والی سبین اس دنیا میں ہے۔ اس لیے وہ پرندوں جیسے بچے اداس ہیں۔

اور بچے اداس ہیں تو وہ آشیانہ بھی اداس ہے جس کا نام ’’ٹی ٹو ایف‘‘ ہے۔ جس آشیانے کو سبین نے محنت اور محبت سے سنوارا اور سجایا تھا۔ جس کی ایک ایک چیز کا وہ خود خیال رکھا کرتی تھی۔ کس کونے کو کس طرح سجانا ہے؟ اور کس دیوار کو کس طرح دلکش بنانا ہے؟ یہ کام اس سبین کا تھا جو ہم سے بچھڑ کر ہم سے دور نہیں گئی بلکہ اسے ہم سے دور کردیا گیا۔میں نے اس کے قتل کی خبر سن کر اداس دل کے ساتھ بہت سوچاہے۔ مگر میں ابھی تک سمجھ نہیں سکی ہوں کہ اس معصوم خاتون کو کس نے قتل کیا اور کیوں؟ اس نے تو اس دنیا میں صرف محبت کی باتیں کی تھیں۔ اس نے جنم ہی اس لیے لیا تھا کہ وہ دلوں کو جوڑ سکے۔ جو دلوں تو ڑتے ہیں وہ تو زندہ ہیں مگر جس کو دل جوڑنے کاآرٹ آتا تھا وہ قتل ہوگئی۔ اتنی معصومیت کو کون قتل کرسکتا ہے؟ یہ کام جس نے بھی کیا وہ انتہائی سفاک ہوگا۔ کیوں کہ سبین کی عمر چالیس برس تھی مگر جب وہ مسکراتی تو ایک بچی کی طرح نظر آتی تھی۔

اس لیے بچے اس سے بہت محبت کیا کرتے تھے۔ اس کوبچوں کے ساتھ بات کرنے کا آرٹ آتا تھا۔ وہ ان کے جذباتی مسائل سنتی اور انہیں بہت اچھے مشورے دیا کرتی۔ اس دور میں کس کے پاس اتنا وقت ہے کہ وہ آرٹ کو زندگی کے ساتھ جوڑنے کا کام بھی کرے اس کے ساتھ ساتھ اس کلاس کے بچوں کو محبت اور انسانیت کا درس دے جس کلاس میں بہت بے حسی ہوا کرتی ہے۔یہ کام سبین اس لیے کرپائی کیوں کہ اس کی ذات میں ایک بچی بھی تھی اور ایک ماں بھی۔ اور اس کے قاتلوں نے ان دونوں کو قتل کردیا۔

سبین کا قتل ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک سانحہ ہے۔ یہ شہر اس کو اپنے چند دیوانوں کے حوالے سے کبھی فراموش نہیں کرسکتا جس شہر کے لیے اس کی ذہین آنکھوں میں ایک روشن صبح کا خواب تھا۔ ایک ایسی صبح کے لیے وہ راتوں کو جاگتی رہتی جس صبح کے لیے جذباتی گیت لکھے جاتے ہیں۔ جس صبح کی امید میں لوگ اندھیرے سے الجھتے ہیں؛ جس صبح کے لیے ساحر نے لکھا تھا کہ:
’’وہ صبح کبھی تو آئے گی‘‘

وہ صبح اب آئے گی تو اس سبین کو نہ دیکھ پائے گی جس سبین نے آرٹ کو صرف شوق تک محدود نہیں رکھا بلکہ اس نے اس ملک کے جلتے ہوئے مسائل کو بھی آرٹ میں پرویا تھا۔ اس لیے اس کے ادارے میں آخری پروگرام بلوچستان کے بارے میں تھا۔

سبین نے ہمیں امید دی۔
سبین نے ہمیں حوصلہ دیا۔
مگر ہم سبین کو کیا دے سکتے ہیں؟

جب مجھے سبین یاد آتی ہے تومجھے احمد شمیم کی وہ نظم بھی یاد آتی ہے جو نیرہ نور نے دل سے گائی ہے۔ میں سبین کے لیے وہ نظم لکھنا چاہتی ہوں جس کے ہر لفظ میں اس کی خوشبو ہے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ نظم سبین کو بھی بہت اچھی لگتی ہوگی۔ جس نظم میں سبین جیسی لڑکی بتاتی ہے کہ:

’’کبھی ہم خوبصورت تھے۔۔۔ کتابوں میں بسی خوشبو کے مانند۔۔۔ سانس ساکن تھی۔۔۔ بہت سے ان کہے لفظوں سے ۔۔۔ تصویریں بناتے تھے۔۔۔ پرندوں کے پروں پر نظم لکھ کر۔۔۔ دور کی جھیلوں میں بسنے والے لوگوں کو سناتے تھے۔۔۔ جوہم سے دور تھے لیکن۔۔۔ ہمارے پاس رہتے تھے۔۔۔ نئے دن کی مسافت جب کرن کے ساتھ۔۔۔ آنگن میں اترتی تھی۔۔۔ تو ہم کہتے تھے۔۔۔ امی! تتلیوں کے پر بہت ہی خوبصورت ہیں۔۔۔ ہمیں ماتھے پہ بوسہ دو۔۔۔ کہ ہم کو تتلیوں کے۔۔۔ جگنوؤں کے دیس جانا ہے ۔۔۔ ہمیں رنگوں کے جگنو۔۔۔ روشنی کی تتلیاں آواز دیتی ہیں۔۔۔ ہمیں ماتھے پہ بوسہ دو۔۔۔ ہمیں ماتھے پہ بوسہ دو۔۔۔ ہمیں ماتھے پہ بوسہ دو!!‘‘۔

Citation
Nishi Khan, “ٹی ٹو ایف اداس ہے,” in Daily Nai Baat, April 29, 2015. Accessed on April 29, 2015, at: http://www.naibaat.pk/archives/sp_cpt/%D9%B9%DB%8C-%D9%B9%D9%88-%D8%A7%DB%8C%D9%81-%D8%A7%D8%AF%D8%A7%D8%B3-%DB%81%DB%92

Disclaimer
The item above written by Nishi Khan and published in Daily Nai Baat on April 29, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on April 29, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Nishi Khan:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s