نیشنل بُک فاؤنڈیشن۔۔۔قبلہ کس طرف؟

Follow Shabnaama via email
حفیظ خان

پاکستانی زبانوں اور اِن کے ادب کے فروغ کے سلسلے میں قائم کئے گئے دو ادارے یعنی اکادمی ادبیاتِ پاکستان اور نیشنل بُک فاؤنڈیشن اپنی تشکیلی ساکھ کے اعتبار سے مختلف ادوار میں اپنے سربراہان کی قامت اور رویوں کے سبب متضاد اور معکوس شہرتوں کے حامل رہے ہیں۔اِن میں سے اکادمی ادبیات کا قیام وزارتِ تعلیم کے ذیلی مگر خود مختیار ادارے کی حیثیت سے 1976ء میں عمل میں آیا جب کہ نیشنل بُک فاؤنڈیشن اِس سے کہیں پہلے 1972ء میں اِسی وزارت کے تحت قائم کی جا چکی تھی۔ اگرچہ یہ دونوں ادارے پاکستان پیپلز پارٹی کے پہلے دورِ حکومت کی یادگار ہیں مگر اِن کی ابتدائی ساخت اور بعد ازاں کی پرداخت میں قابلِ ذکر حصہ مارشل لائی دور کے سربراہان کا مرہون رہا ۔ اِس کے پہلے سربراہ یونس سید اور اب سترہویں ڈاکٹر انعام الحق جاوید ہیں۔ نیشنل بُک فاؤنڈیشن کا سنہری دور اگرچہ لیجنڈری شاعر احمدفراز کی سربراہی کے گیارہ برسوں پر محیط ہے مگر کہانی کار مظہر الا سلام کی سربراہی کے چار برسوں میں علمی فروغ کے اِس ادارے کی جہتیں فزوں تر ہوئیں۔ اِس دوران کئی بیوروکریٹ منیجنگ ڈائریکٹرز کی ’’علمی حاکمیت‘‘ کی دھاک سہے جانے کے بعد اِس بُک فاؤنڈیشن کو پھر سے ایک ’’ شاعر‘‘ کا سامنا ہے۔ اب کے یہ شاعر احمد فراز کے برعکس آپ کے احساسات کو نہیں بلکہ ’’پیٹ‘‘ کو گدگداتا ہے۔ڈاکٹر انعام الحق جاوید ملکی سطح پر کتاب کی ترویج کے سب سے بڑے ادارے کا سربراہ ہے، حاکم ہے ۔کتاب چونکہ شاعروں، ادیبوں اور محققین کی دانش سے وجود میں آتی ہیں لہذا اِس ناتے سے نیشنل بُک فاؤنڈیشن کے سربراہ کا اپنے تئیں خودکو اِس طبقے کا حاکم سمجھ لینا فطری ہے، چنداں باعثِ ملال نہیں۔

ایسے میں نیشنل بُک فاؤنڈیشن کی جانب سے اسلام آباد میں سجایا جانے والا پانچ روزہ قومی کتاب میلہ ’’اِک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا‘‘ فیم شاعر اور کالم نگار خالد شریف اور اورینٹل کالج لاہور کے شعبہ اُردو کے چیئر مین ڈاکٹرمحمد کامران کو ’’احباب میلہ‘‘ دکھائی دیتا ہے تو کچھ ایسا بھی مبنی بر مبالغہ نہیں۔ اُنہیں گلہ ہے کہ’’ا قلیمِ کتاب‘‘ کے سلطان ڈاکٹر انعام الحق جاوید نے اِس قومی کتاب میلے میں میرٹ اور حقِ نمائندگی کو نظر انداز کرتے ہوئے صرف اپنے من پسند شاعروں، ادیبوں اور نقاد حضرات کو مدعو کیا ہے ۔اِس ’’قومی میلے‘‘ میں شریک چہرے کم وبیش وہی چہرے ہیں جو بار بار رونق افروزی کے لئے ’’دربارِ کتاب‘‘ کی زینت بنائے جاتے ہیں۔چند روز پہلے میں بھی اسلام آباد میں تھا ۔زیرو پوائنٹ کے اطراف کی سبھی شاہراہوں پر قدم بہ قدم آویزاں پینافلیکس کے ذریعے گنتی کے چند چہروں کو نیشنل بُک فاؤنڈیشن کی جانب سے خوش آمدید کہے جانے کے کلماتِ تحسین درج تھے۔میں حیران تو ہوا کہ’’ کتاب ‘‘ کی ترویج کا یہ کون سا طریقہ ہے اور یہ خوش بخت کون ہیں جنہیں عوام کے ٹیکس سے حاصل شدہ آمدنی سے ’’کتاب کی قیمت‘‘ پر خوش آمدید کہا جارہا ہے مگرخالد شریف اور ڈاکٹر محمد کامران کی طرح پریشان نہیں ہوا کیونکہ اپنے قومی چلن کو جانتا ہوں ، محفل یاراں سجی رہنی چاہئے۔بابر بہ عیش کوش کہ’’ فاؤنڈیشن‘‘ دوبارہ نیست۔

خالد شریف نے اپنے کالم میں کتاب کی ترویج کے سلسلے میں اپنی خدمات گنوا گنوا کر دہائی دی ہے کہ انہوں نے چالیس برس کے عرصے میں ایک ہزار ٹائٹل شائع کئے۔ ڈاکٹر محمد کامران فغاں بہ لب ہیں کہ وہ پاکستان تو کیا جنوبی ایشا کے سب سے بڑے اور قدیمی شعبۂ اُردو کے چیئر مین ہیں مگر اُنہیں تو کیا پاکستان کی جامعات میں موجود اُردو کے شعبہ جات کے کسی بھی نمائندہ صاحبِ کتاب اُستاد کو اِس قومی میلے میں شرکت کا اہل ہی نہیں سمجھا گیا۔ یہ صاحبان ’’قوم اور قومی ‘‘ کی اُس تعریف کو بھی جاننا چاہتے ہیں کہ جسے سامنے رکھتے ہوئے نیشنل بُک فاؤنڈیشن اپنے مندوبین کی اہلیت کا تعین کرتی ہے۔ لگتا ہے کہ عزیزی خالد شریف اور محترم ڈاکٹر کامران اب تک بس کتابیں چھاپتے اور معلمی بگھارتے رہے، اپنے معاشرے میں رچی بسی حاکمیت کی تاریخ اور جغرافیے کی طرف اُسی طرح توجہ نہیں کی جس طرح کی توجہ کے لئے وہ ڈاکٹر انعام الحق جاوید سے شاکی ہیں۔حاکمیت چاہے امریکہ کی ہو یا کسی تندور اور ڈھابے کی، اِس کے اپنے ساختہ اصول اور اپنے ضوابط جو محض ’’اپنوں‘‘ کی پذیرائی کے لئے تشکیل دیے جاتے ہیں ۔کون نہیں جانتا کہ ہر درجہ کے حاکم کے اپنے اپنے محکوم اور ہر نوع کے ظالم کے اپنے اپنے مظلوم۔محکوم اورمظلوم دونوں اپنی محکومیت اور مظلومیت سے حاکمیت اور ظلم کا جواز فراہم کرتے رہتے ہیں۔محکوم اگر حاکمیت تسلیم کرنے سے انکار کردے اور مظلوم ظلم سہنے سے توحاکم کی حاکمیت باقی رہتی ہے اور نہ ظالم کا ظلم۔حکمرانی کے سنگھاسن پر متمکن یہ شہرِ نارسا اسلام آباد ہمارے کہانی کار مظہر الا سلام کے لئے کبھی’’ گھوڑوں کا شہر ‘‘ ہوا کرتا تھا جس میں وہ اکیلے آدمی کی حیثیت سے رہائش پذیر تھا مگر رشید امجد کے افسانوی مجموعے کی اشاعت کے بعد تو اب یہ ’’گملے میں اُگا شہر‘‘ قرار پا چکا۔لیکن شہر چاہے گملے میں اُگے یا گھوڑوں کا شہر کہلائے ، دارالخلافہ میں رہنے والے ہمارے یہ چھوٹے چھوٹے حاکم باقی ماندہ مُلک کے مکینوں کو اُن کی سطح سے نہیں بلکہ نخوت کی بلندیوں سے ’’جھروکہ درشن‘‘ عطا کرتے ہیں۔ نیشنل بُک فاؤنڈیشن کی جانب سے ’’مستحقین‘‘ کو شرکت کا دعوت نامہ جھروکہ درشن کے ثمرات اور اِس کی برکات کی عطا کا تسلسل ہی توہے جس پے ہم آپ کا کیا حق ۔حق تو اداکارہ ریما کا بنتا تھا کہ وہ سابقہ منیجنگ ڈائریکٹر مظہر الا سلام کی جانب سے ’’کتاب سفارت کاری ‘‘ کی سفیر ٹھہریں ۔ نیشنل بُک فاؤنڈیشن کے ’’کتاب سفیروں‘‘ کی فہرست دیکھ کر بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے کہ اِن کاتقرر کرتے ہوئے کس نوعیت کی ’’میرٹ ‘‘کو سامنے رکھا گیا ہوگا۔

’’متاثرینِ قومی کتاب میلہ‘‘ کی جانب سے یہ بھی بھلا کوئی دلیل ہے کہ قومی کتاب میلے میں کم از کم مُلک بھر کے اُن نمائندہ صاحبانِ کتاب کو شرکت کا اہل قرار دیا جاتا جو انفرادی سطح پراپنا مستحکم علمی تشخص رکھتے ہیں یا کم از کم وہ کہ جنہیں حکومتِ پاکستان نے اب تک کسی نہ کسی سول ایوارڈ سے نواز رکھا ہے ۔ نیشنل بُک فاؤنڈیشن غالباً سمجھتی ہے کہ جنہیں ایک بار نوازا جا چکا ، اُن کو بار بار کس لئے زحمت دی جائے، بار بار کا نوازنا تو اُن’’ صاحبان اثر وحکمت‘‘ کا بنتا ہے کہ جن سے تعلقات کے سبب اِس ادارے کی حاکمیت قائم اور بادشاہیاں لگیاں رہن۔اندرون سندھ، سرائیکی خطے، بلوچستان اور پختونخواہ کے شاعر، ادیب اور دانشور اپنی’’ علاقائی بدصورتی ‘‘کے سبب نہیں بلکہ اِس لئے نہیں بلائے گئے کہ گرم موسم میں کہاں گھر سے بے گھر ہوکر سفری صعوبتیں جھیلتے رہیں گے۔ ویسے بھی اسلام آباد اُن سے بہت دور اور خاصی بلندی پر واقع ہے ۔اتنی بلندی پر کہ جہاں سے یہ محکوم مخلوق نہ صرف دکھائی نہیں دیتی بلکہ اپنا وجود بھی کھو بیٹھتی ہے۔ اب یہ بات بھلا کون سمجھائے کہ وجود تو کسی کا باقی نہیں رہنا، حاکم کا نہ رعیت کا۔ لیکن زمین سے زمین پر گرنے پے وہ چوٹ نہیں لگتی جو آسمان سے زمین پر گرنے میں لگتی ہے۔اور جو آسمان سے گرے اُس کے لئے بقول جون ایلیا؛

شام ہے کتنی بے تپاک،شہر ہے کتنا سہم ناک
ہم نفسو! کہاں ہو تم، جانے یہ سب کدھر گئے

Citation
Hafeez Khan, “نیشنل بُک فاؤنڈیشن۔۔۔قبلہ کس طرف؟,” in Daily Nai Baat, April 27, 2015. Accessed on April 28, 2015, at: http://www.naibaat.pk/archives/sp_cpt/%D9%86%DB%8C%D8%B4%D9%86%D9%84-%D8%A8%D9%8F%DA%A9-%D9%81%D8%A7%D8%A4%D9%86%DA%88%DB%8C%D8%B4%D9%86%DB%94%DB%94%DB%94%D9%82%D8%A8%D9%84%DB%81-%DA%A9%D8%B3-%D8%B7%D8%B1%D9%81%D8%9F

Disclaimer
The item above written by Hafeez Khan and published in Daily Nai Baat on April 27, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on April 28, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Hafeez Khan:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s