چینی صدر اور قومی زبان

Follow Shabnaama via email
سعد اللہ شاہ

چینی صدر نے اپنی قومی زبان میں پاکستان کی پارلیمنٹ سے خطاب کرکے پاکستانی قیادت کو یہ پیغام دیا ہے کہ قومیں اپنی زبان اور کلچر سے وابستہ ہو کر ترقی کرتی ہیں۔ غیور پاکستانیوں کا سوال ہے کہ ’’ پاکستانی قیادت نے پاکستان کی پارلیمنٹ میں پاکستان کی سرزمین پر انگریزی میں خطاب کرکے کس قوم کی ترجمانی کی ہے‘‘ یہ ایس ایم ایم مجھے پاکستان قومی زبان تحریک کی فاطمہ قمر نے کیا ہے۔ آپ اس سوال کا جواب سوچئے اِتنی دیر میں میں آپ کو مجید امجد کی یاد میں ہونے والے کنگ ایڈورڈ کالج کے سالانہ مشاعرہ2015ء کے حوالے سے کچھ عرض کرتا ہوں۔ مشاعرے کے آغاز ہی میں وہاں کے لٹریری سرکل کے روحِ رواں پروفیسر ارشاد حسین قریشی نے آنے والے معزز شعراء کو خوش آمدید کہا اور ساتھ ہی وائس چانسلر کنگ ایڈورڈ کالج ڈاکٹر پروفیسر فیصل مسعود کے افکارپر بھی روشنی ڈالی کہ وہ اردو زبان کے حوالے سے بہت اعلیٰ حسن ظن رکھتے ہیں کہ اُردو کے ساتھ رابطہ استوار کرنے کے لئے حکومت کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے بعد ازاں وائس چانسلر خود ڈائس پر تشریف لائے تو انہوں نے بات یہیں سے شروع کی کہ اگر کسی قوم کو مارنا ہو تو اس قوم کی جڑیں کاٹ دی جائیں‘ قوم کی جڑیں اس کی زبان ہوتی ہے۔ اس کے بعد وہ جذباتی ہو کر خوبصورت انگریزی بولنے لگے۔ یکایک انہیں خیال آیا کہ جذبات کے زور پر وہ اُردو پٹڑی سے اُتر کر انگریزی پٹڑی پر فراٹے بھر رہے ہیں۔ انہوں نے فوراً معذرت کی‘ ویسے انہوں نےSorryکہا تھا مگر میں نے ترجمہ کر دیا۔ اُن کا قصور نہیں ہے کہ ہم انگریز ایکس پریشن کے عادی ہو چکے ہیں‘ بلکہ یوزٹو’’Use to‘‘ہمارے بچوں کو چھتیس نہیں معلومthirty Sixسمجھتے ہیں۔

وائس چانسلر صاحب نے باتیں اچھی کیں کہ اُن کے والدِ محترم نے انہیں فارسی اور اُردو پڑھانے کی کوشش کی مگر وہ بضد تھے کہ سائنس پڑھنی ہے ظاہر ہے سائنس انگریزی میں تھی۔ اب پہلا سوال تو یہی اُٹھتا ہے کہ سائنس کو اُردو میں لانا چاہئے‘ جبکہ پنجابی والے کہتے ہیں سائنس پنجابی میں ہونی چاہئے۔

آپ کو یاد ہو گا ایک زمانے میں سائنس کی کتب کو اُردو میں منتقل کیا گیا تھا جسے رائج ہونے یا وقت کے ساتھ ہم آہنگ ہونے میں کچھ وقت چاہئے تھا مگر پھر کوئی سازش ہوگئی‘ یوں وہ منصوبہ کہیں فائلوں میں رہ گیا۔ بات بڑی سیدھی ہے کہ ایک بہت بڑی سازش کے تحت اُردو زبان کو قومی زبان نہیں بننے دیا گیا۔ آئین میں باقاعدہ موجود ہے کہ15سال بعد اُردو قومی زبان کو سرکاری زبان بنا دیا جائے گا۔ بیوروکریسی نے قوم کی طرح قومی زبان کو بھی دفتروں میں گھسنے نہیں دیا۔ اگر اُردو رائج ہو جاتی تو اِس بیوروکریسی کے پاس لوگوں کو گمراہ کرنے کے مواقع ہی نہ رہتے ۔ انگریز نے ان کے اور قوم کے درمیان امتیازی لکیر کھینچی تھی‘ جواب بہت گہری ہو چکی ہے۔ بات آن جارسید کہ کراچی میں رئیس امروہی اور ان کے دوستوں نے اُردو کا باقاعدہ جنازہ نکالا ’’اُردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے‘‘۔وجہ یہ تھی کہ سندھی کو لازمی مضمون جبکہ اردو کو اختیاری قرار دیا گیا تھا۔ شہدائے اردو کا قبرستان اب بھی کراچی میں ہے۔

بات اہلِ زبان یعنی اُردو سپیکنگ کی بھی نہیں ہے‘ بات تو قومی تشخص اور پہچان کی ہے اور اس سے بڑھ کر یکجہتی اور اکائی کی ہے ‘قوم بننے کی ہے ایک دوسرے سے رابطہ استوار کرنے کی ہے‘ زبان سانجھی کرنے کی ہے ۔اسے کسی اور طرح سے دیکھا گیا۔ لسانی مسئلہ پیدا کرنے کی کوشش کی گئی اور پھر یہ کوشش کامیاب ہوئی۔ اصل مسئلہ تو زبان کا تھا ثقافت کا نہیں۔ ایک مرتبہ احمد فراز نے کہا تھا کہ اردو میں تو ہم لکھتے ہیں کہ یہ قومی زبان ہے مگر اردو بولنے والوں کی ثقافت اپنانا ہم پر فرض نہیں۔ اس پر تنازع بھی پیداہوا۔ مگر بات یہ اپنی جگہ درست ہے۔ ہمارے درمیان قدر مشترک اردو زبان ہے جو ہمیں ایک لڑی میں پرو سکتی ہے اور قائداعظم کی خواہش یہی تھی اور یہ اُن کی دور اندیشی تھی جسے بیوروکریسی کی کوتاہ نظری سمجھ نہیں پائی۔ ویسے بھی انگریزوں کے حاکمانہ نظام کا تسلسل انہی کی زبان میں ممکن تھا۔حالانکہ میں خود انگریزی پڑھاتا ہوں اور میں نے پنجاب یونیورسٹی سے ادبیات میں ایم اے کیا لیکن سچی بات ہے میں انگریزی کو ترقی کے لئے سدِ راہ سمجھتا ہوں اس انگریزی کی وجہ سے کتنے ہی باصلاحیت بچے راستے ہی میں کھو جاتے ہیں۔ ہماری سب سے بڑی کمزوری انگریزی ہے وہی جو انور مسعود نے کہا تھا۔

’’فیل ہونے کو ابھی اک مضمون ہونا چاہئے‘‘

انگریزی پڑھ کر اک احساس تفاخر اس لئے پیدا ہوتا ہے کہ یہ اصل حاکموں کی زبان ہے وہی جو سیاستدانوں کو ایک چکر میں ڈالے رکھتے ہیں انہیں اپنی مرضی سے نظام میں فٹ ان کرتے ہیں۔ ان کی بریفنگ سے لے کر ڈرافٹنگ تک انہی کامرہون منت ہوتا ہے۔ انگریزی پڑھنے میں تو کوئی حرج ہے ہی نہیں اسے ترجیحات میں اولیت دینا غلط ہے۔ ایک زمانہ تھا جب ہمارے بزرگ فارسی پڑھتے اورفارسی لکھتے تھے۔ پنجابی کی کلاسک کتب میں بھی عنوانات فارسی میں ملتے ہیں۔ شاعر وں کے تذکرے اسی میں ہیں کہ یہ مغلوں کی زبان تھی اور اس میں ہمارا ثقافتی ورثہ تھا۔ انگریز نے اسے بیک جنشِ قلم فتح کرکے ہمیں بے بنیاد کر دیا۔ اس کے بعد خوش قسمتی سے اردو پاکستان کے حصے میںآئی اسے بھارت میں بھی مسلمانوں کی زبان سمجھا جاتاتھا۔ مسلمانوں کو اسی بات کا خیال رکھنا چاہئے تھا اور اس کو سینے سے لگا کر ترقی کی راہیں استوار کرنی چاہئے تھیں مگر طاقت کا سرچشمہ وہی تھے جن کے سپرد پاکستان کا نظام کیا گیا۔ اب تو سپریم کونسل نے بھی پوچھا ہے کہ آخر اتنے عرصے کے بعد بھی اردو کو سرکاری اداروں کے اندر کیوں رائج نہیں کیا جا رہا۔

میں سمجھتا ہوں کہ یہ ہماری محرومی اور غلامانہ ذہنیت ہے کہ ہم قومی یا عالمی فورم پر انگریزی کا سہارا لے کر اُن کو نرم و نازک یعنی ’’Soft Immage‘‘دینا چاہتے ہیں اور خود کو ان کے ساتھ ہم آہنگ کرتے ہیں وہ احساس برتری میں ہماری بات پر توجہ ہی نہیں دیتے۔ ہم ہیں کہ جذبات میںUS(یونائیٹڈ سٹیس) کو بھیUS(ہمارا) پڑھ جاتے ہیں اور قوم بھی سردھنتی ہے کہ امریکہ ہمارا ہی تو ہے۔ اگر ہمارے وزیراعظم اردو میں خطاب کرتے تو کوئی چینی ترجمان مل سکتا تھا۔ ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا نے کئی چینیوں اور جاپانیوں کو اس قابل بنا دیا ہے کہ وہ ہم سے زیادہ اچھی اردو جانتے ہیں۔ مجھے یاد ہے حسن رضوی ہمیں بھی شاہی قلعہ میں لے گیا تھا جہاں چینی صدر کے لئے انہوں نے چینی زبان میں نعرے لگوائے۔ یہ اچھی بات تھی۔ اسی طرح چین میں ہمارے وزیراعظم کے لئے اردو میں نعرے لگ سکتے ہیں جس دن عالمی سطح پر ہمارے وزیراعظم نے پورے اعتماد کے ساتھ قومی زبان میں تقریر کی اس دن ہماری عزت شروع ہو جائے گی۔ اپنی زبان سے محبت از حد ضروری ہے ہماری زبان اردو ہے آپ دیکھئے کہ اردو میں سب سے زیادہ اور معیاری کام پنجابی شعراء اور ادباء نے کیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کوئی بھی لکھنے والا اردو زبان لکھ کر قومی لکھاری بن جاتا ہے۔ نئی نسل کے لئے ز یادہ فکر مند ہونے کی ضرورت ہے۔ انگریزی سکولوں کا ایک ریلا ہے جو سب کچھ بہا کر لئے جا رہا ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ میرے دوست عزیز ظفر آزاد اور فاطمہ قمر اردو کو سرکاری زبان بنوانے کے لئے تگ و دو کر رہے ہیں۔ وہ یقیناًہمارا کفارہ ادا کر رہے ہیں میری اردو سے محبت دیکھیں کہ کوئی مجھے انگریزی کا پروفیسر سمجھتا ہی نہیں۔ کوئی یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ مجھے انگریزی زبان آتی جو نہیں۔ اس زبان کا یہی فائدہ ہے کہ پھر بھی یہ پڑھائی جا سکتی ہے۔

آخر میں مشاعرہ کے منتظمین جن میں صدر حنان جاوید‘ خاتون صدر شیریں فطین‘ وائس پریزیڈنٹ ارسلان علی اور فاطمہ عبداللہ کا شکریہ کہ انہوں نے مجید امجد کی یاد میں ایک یادگار مشاعرے کاا نعقاد کیا جس میں ملک کے مشہور شعراء نے شرکت کی۔ مجھے ڈاکٹر امجد کی بھی تحسین کرنا ہے کہ وہ اچھے خاصے ادیب ہیں مگر کہولت کا شکار ہیں۔ ڈاکٹر ارشاد حسین قریشی وائس چانسلر ڈاکٹر فیصل مسعود کے زیر سایہ اردو زبان اور ادب کی خدمت کر رہے ہیں۔

Citation
Saadullah Shah, “چینی صدر اور قومی زبان,” in Daily Nai Baat, April 24, 2015. Accessed on April 26, 2015, at: http://www.naibaat.pk/archives/sp_cpt/%DA%86%DB%8C%D9%86%DB%8C-%D8%B5%D8%AF%D8%B1-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D9%82%D9%88%D9%85%DB%8C-%D8%B2%D8%A8%D8%A7%D9%86

Disclaimer
The item above written by Saadullah Shah and published in Daily Nai Baat on April 24, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on April 26, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Saadullah Shah:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s