کتاب کا عالمی دن اور کتاب سے دوری

Follow Shabnaama via email
عبدالستار اعوان

آج 23اپریل ہے اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کتب بینی کا عالمی دن منایا جا رہاہے ، یہ دن منانے کا فیصلہ1995ء میں پیرس کی یونیسکو جنرل کانفرنس میں کیا گیا اور اس کا آغاز سپین سے ہو ا،اس کا مقصد کتاب اور مصنف کو خراج تحسین پیش کرنا اور اقوام عالم میں کتب بینی اور مطالعہ کے رجحان میں اضافہ کرناہے۔

کتب بینی کے عالمی دن کے موقع پرہمیں وہی دیرینہ سوال کا سامنا ہے کہ ہمارے ہاں کتاب پڑھنے کا رجحان کیوں ختم ہو رہا ہے ‘لو گ کتاب سے کیوں دور ہیں اور کتاب کے فروغ کے لئے کام کرنے والے ادارے کیوں اپنی موت آپ مر رہے ہیں ۔ ہمارے ہاں اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ کتاب سے دوری کی اصل وجہ انٹرنیٹ ، کمپیوٹر یا سیل فون وغیرہ ہیں۔ اگر ایک لمحے کو اسے سچ مان بھی لیا جائے تو پھر اس بات کا ہمارے پاس کیا جواب ہوگا کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک تو آج بھی کتاب کی اشاعت اور کتب بینی کے حوالے سے ترقی کر رہے ہیں ‘دنیا میں سب سے زیادہ کتابیں امریکہ و برطانیہ میں چھپتی ہیں، اسی طرح چین اور جاپان بھی سرفہرست ہیں جبکہ کتابوں کی اشاعت کے حوالے سے پاکستان کہیں پچاسویں نمبر پرکھڑا ہے۔ برطانیہ کی نصف سے زیادہ آبادی سال میں تقریباً پانچ یا چھ کتابیں پڑھتی ہے ، ستر فی صد نوجوان اخبارات یا رسائل و جرائد کے عادی بن چکے ہیں ، امریکہ بھر میں صرف پبلک لائبریریوں کی تعداد چالیس ہزار سے زیادہ ہے ،ایسی ہی صورت حا ل اسرائیل و دیگر ممالک کی ہے ۔ جب ہم اقوام عالم پر نظر ڈالتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ کتابوں کی ناقدری صرف ہمارے حصے میں ہی آئی ہے، یورپین ممالک یا جاپان اور چین کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہاں ہر دوسرا شخص کتاب کا رسیا ہے اورکتاب تھامے نظر آتا ہے ، تنزانیہ جیسے غریب ملک میں بھی ہزاروں پبلک لائبریریاں ہیں اور اپنے پڑوسی ملک بھارت کو دیکھیں کہ جہاں تاریخ کا سب سے بڑ ا کتاب میلہ ہر سال دلی کے پرگتی میدان میں لگتا ہے جس میں بھارتی عوام دیوانہ وار کھنچے چلے آتے ہیں اور اس میلے میں لاکھوں کتابیں فروخت ہوتی ہیں۔

قارئین ! تاریخ کا سبق ہے کہ کتاب کے بغیر انسانی بقاء اور ارتقاء نہایت محال ہے ‘ جس قوم نے بھی کتاب کا دامن چھوڑا وہ زوال کے اندھے کنویں میں جاگری اور جس نے اس کا دامن مضبوطی سے پکڑا اس نے اوج کمال کو جا لیا۔کتاب معلومات کا خزانہ ہونے کے ساتھ ساتھ انسان کی بہترین دوست بھی ہے ،کتاب اور انسان کا تعلق صدیوں سے چلا آرہا ہے ۔ کتاب کے ساتھ تعلق شعور کی نت نئی منزلوں سے روشنا س کرواتا ہے ۔ہمارے آباؤ اجداد کی تاریخ بتلاتی ہے کہ جب تک وہ کتاب کے ذریعے علم و تحقیق کے میدان میں سرگرم رہے انہوں نے زمانے پر راج کیا مگر جونہی ان کا تعلق کتاب سے کمزور ہوا وہ زوال کا شکار ہو گئے، غرناطہ کے مسلمان کتابیں پڑھتے تھے اور جمع کرتے تھے مگر جب وہ کتاب سے دور ہوئے اور غرناطہ پر ملکہ ازابیلا نے قبضہ کر لیا تو اس نے سب سے پہلے غرناطہ کی سب سے بڑی لائبریری کو جلا کر خاکستر کر دیا، اندلس کے باب الرملہ میں مسلمانوں کا دس لاکھ کتب پر مشتمل ذخیرہ گلی کوچوں میں بچھا کر اسے آگ لگا کر چراغاں کیا گیا اوراپنی فتح کا جشن منایاگیااور بغداد میں تاتاری حملہ آوروں نے جس انداز سے کروڑوں کتابیں دریا برد کیں وہ تاریخ کا افسوسناک باب ہے۔یہ سب اس لئے تھا تاکہ مسلمان پھرسے کتاب اور علم و فن کی طرف نہ لوٹ سکیں اور اپنی عظمت رفتہ کو آواز نہ دے سکیں ، جہاں بھی مسلم سلاطین کو شکست دی گئی سب سے پہلے کتاب سے انتقام لیاگیا‘ کبھی اسے دریا برد کیا گیا تو کبھی دفنا کر یا جلا کر اپنے انتقام کی آگ ٹھنڈی کی گئی اور آج حالت یہ ہے کہ اس وقت دنیا کے تیس سے زائد ممالک ایسے ہیں جہاں سب سے زیادہ کتابیں چھپتی ہیں اور پڑھی جاتی ہیں مگر ان میں ایک بھی مسلم ملک نہیں کیونکہ مغرب نے کمال ہوشیار ی سے ہمیں جدید ذرائع ابلاغ کی سرخ بتی کے پیچھے لگا کر کتاب سے ہمارا رشتہ کمزور کر دیا جبکہ وہ خود جدید ذرائع اور کتاب و مطالعہ دونوں کو ساتھ لے کر چل رہے ہیں۔
تاریخ کے جس باب کو بھی پرکھیں واضح ہو گا کہ کتاب کی افادیت اپنی جگہ ایک مسلّم حقیقت رہی ‘جنگی سپہ سالار ہو ں یا طالع آزما ‘سیاسی سماجی اور انقلابی لیڈر ہوں یا دانش ور یہ سب مطالعہ کے شوق کی بناپر ہی تاریخ کے صفحات پر زندہ و جاوید ہیں ۔

کہتے ہیں کہ ہمایوں اس قدر مطالعہ کا شوقین تھا کہ اس کی تمام عمر یا تو میدان جنگ میں گزری یا پھر مطالعہ میں ‘ حتیٰ کہ مطالعہ کرتے کرتے اس کی عمر تمام ہوئی اور اس کی موت بھی اپنے محل کی لائبریری میں واقع ہوئی ‘عظیم مفکر ابنِ رشد نے کہا تھا کہ ’’میں اپنی زندگی کی کوئی رات مطالعہ کے بغیر نہیں سویا ہاں ایک رات ایسی آئے گی جب میں مطالعہ نہیں کر پاؤں گا اور وہ موت کی رات ہوگی ‘‘۔یہ بھی کہیں پڑھا تھا کہ اموی خلیفہ ولید بن یزید کے قتل کے بعد جب اس کی ذاتی لائبریری سے کتابیں منتقل کی گئیں تو صرف ایک مصنف ابن شہاب کی تالیفات کئی درجن گدھوں اور گھوڑوں پرلادی گئیں۔ایک عیسائی مورخ نے لکھا کہ اندلس کی تاریخ میں مسلمانوں نے علم وفضل اور تحقیق کے میدان میں انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔
آج ہماراالمیہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں ہر شخص قائل ہے کہ کتاب علم میں اضافہ کرتی ہے اور اس سے معاشرے میں سدھار آتا ہے مگر پھر بھی ہر شخص کتاب اور مطالعہ کا باغی ہے اور کتاب کی اہمیت کو جانتے ہوئے بھی اس سے آنکھیں چراتا ہے۔ وطن عزیز میں کتب بینی کے دم توڑتے رجحان کا اندازہ اس سے لگائیں کہ خالد شریف کہتے ہیں : جب ستر کی دہائی میں چین سے ناشرین کا ایک وفد پاکستان کے دورے پر آیا اور احمد ندیم قاسمی سے ملا جو ان دنوں مکتبہ فنون سے کتابیں شائع کر رہے تھے ۔ بقول قاسمی صاحب کتابوں کی تعدادِ اشاعت کے بارے میں اراکین وفد کے استفسار پر میں نے اصل تعداد ظاہر نہ کرتے ہوئے انہیں بتایا کہ ہم ہر کتاب کا ایڈیشن پانچ ہزار کی تعداد میں شائع کرتے ہیں تو اس پر وہ لوگ پریشان ہو گئے کہ اتنی کم تعداد کے لئے آ پ اتنی محنت کرتے ہیں ہم تو ایک لاکھ سے کم کسی کتاب کی اشاعت کا سوچتے بھی نہیں ۔ تصورکیجئے کہ یہ قصہ ستر کی دہائی کا ہے کہ جس وقت ہماری قوم انٹرنیٹ ، کمپیوٹر اور جدید ذرائع سے کوسوں دور تھی جبکہ آج تو بات بہت آگے جا چکی ہے اور کتاب کے چاہنے والے ڈھوندنے سے بھی نہیں ملتے ۔ ایک تازہ سروے کے مطابق پاکستان میں صرف ستائیس فی صد عوام مطالعہ کے شوقین ہیں جبکہ 73فی صد نے کتاب سے دوری کا اعتراف کیا ہے ،دانشور طبقے کے مطابق ٹیکنالوجی کی یلغار کے باوجود کتاب کی اہمیت کم نہیں ہو ئی ، ماہرین مطالعے میں کمی کی ایک بڑی وجہ کتاب کی قیمتوں میں بیش بہا اضافے کو بھی قرار دیتے ہیں ۔ایک سروے کے مطابق کئی لوگوں نے یہ شکایت کی کہ انہیں مطالعے کا اور اچھی کتابیں پڑھنے کا شوق تو ہے مگر کتاب اب عام آدمی کی قوت خرید سے باہر ہو گئی ہے ۔ہمارا من حیث القوم ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ جب بھی کوئی رجحان دم توڑنے لگتا ہے تو اسے سہارا دینے کے لئے کوئی تگ و دو نہیں کی جاتی ‘یہی مسئلہ کتاب اور مطالعے کے حوالے سے بھی ہمیں درپیش ہے کہ کتابیں مہنگی ہیں، مہنگائی کے باعث لوگوں میں قوت خرید باقی نہیں رہی،والدین نے بچوں کو اور تعلیمی اداروں نے طالب علموں کو کتاب کی افادیت سے آگاہ کرنا چھوڑ دیا ہے ، تعلیمی اداروں میں لائبریری کا تصور اور حکومتی سطح پر کتاب کی سرپرستی تقریباً ختم ہے ، پبلک لائبریریوں کا رواج دم توڑ رہا ہے جبکہ دوسری طرف کتاب اور مطالعہ کی بقا کے لئے کوئی تحریک اٹھتی نظر نہیں آرہی ۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اور دیگر نجی شعبے ، عوامی ،سماجی ، علمی اور ادبی حلقے کتاب کے دم توڑتے رجحان کو سہارا دینے کے لئے آگے آئیں، کتاب میلوں کے ساتھ ساتھ مطالعے کے حوالے سے مختلف سیمینارز اور پروگراموں کا اہتمام کر کے لوگوں میں شعور بیدار کیا جائے۔ گلی محلے کی سطح تک لائبریریوں کا انعقاد کیا جائے تاکہ نسل نو اپنا قیمتی وقت ضائع کرنے کے بجائے اسے کتاب و مطالعہ کی نذر کرے، والدین اور اساتذہ بلاشبہ نسل نو کو مطالعہ کی جانب راغب کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں،ماہرین اور دانشوروں سے مشاورت کر کے مطالعہ کی عادت کو فروغ دینے کے لئے کئی دیگر اقدامات بھی کئے جا سکتے ہیں۔

Citation
Ubdulsattar Awan, “کتاب کا عالمی دن اور کتاب سے دوری,” in Daily Nai Baat, April 23, 2015. Accessed on April 23, 2015, at: http://www.naibaat.pk/archives/sp_cpt/%DA%A9%D8%AA%D8%A7%D8%A8-%DA%A9%D8%A7-%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85%DB%8C-%D8%AF%D9%86-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%DA%A9%D8%AA%D8%A7%D8%A8-%D8%B3%DB%92-%D8%AF%D9%88%D8%B1%DB%8C

Disclaimer
The item above written by Ubdulsattar Awan and published in Daily Nai Baat on April 23, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on April 23, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Ubdulsattar Awan:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s