اقبال ؒ

Follow Shabnaama via email
محمد طاہر

تُف ہے اُس قوم پر جس میں اقبال ایسے لوگ پیدا ہوں اور وہ بلند اقبال نہ ہو سکے۔ جادۂ منزل تراش نہ سکے۔ چینی صدر کی تقریر پارلیمنٹ میں ختم ہوئی ،مگر کہاں ہوئی؟ ایک گونج ہے اور مسلسل ہے۔یہ علامہ اقبال ؒ تھے جنہوں نے مشرق کو کروٹ بدلتے دیکھا۔ حیرت ہے ہم ابھی تک نہیں دیکھتے۔صدر شی چن پنگ نے کہا کہ اقبال نے 1930ء میں کہہ دیا تھا کہ چین ایک عظیم ملک بن کر اُبھرے گا۔جی ہاں اقبال نے تب کہا تھا کہ :
گراں خواب چینی سنبھلنے لگے
ہمالہ کے چشمے اُبلنے لگے

اقبال کے شعری تہّور نے ’’ساقی نامہ‘‘ میں سیلانِ شعور اور جمالیاتی وفور کو مجتمع کر دکھایا۔ امکانات کی پوری دنیا مشرقی افق پر مجسم ہو رہی تھی ،چینی بدل رہے تھے، بیداری کی لہربرصغیر کے باطن میں گھر کر چکی تھی۔تبدیلی مشرق کی دہلیز پر دستک دے رہی تھی۔ علامہ اقبالؒ نے ،مگر اِسے مغرب کے بالمقابل دیکھا تھااُس کے متوازی نہیں۔تاریخ جب بھی اس معرکے کو سر کرے گی، بیداری کے اس دائرے کو مکمل کرے گی، ایسا ہی ہوگا۔ مشرق ،مشرق ہے اور مغرب مغرب۔دونوں ایک دوسرے کے ساتھ نہیں ایک دوسرے کے بالمقابل کھڑے ہیں۔ ایسا کبھی نہیں ہو سکتا کہ مشرق کا کوئی ملک اپنے ایک ہاتھ میں ایشیا اور دوسرے میں مغرب کو رکھ کر اپنی چال کو متوزان بنالے۔

کاش کوئی اقبال کو سمجھنے کی کوشش کرے۔ قومیں 45 ارب ڈالر سے نہیں بنتیں۔ چین بھی ایسے نہیں بنا۔ ہر قوم فرد کی طرح اپنی باطنی تربیت سے گزرتی ہے جو اس میں ایک قومی کردار پیدا کرتا ہے۔ یہی قومی کردار اُس کی اجتماعی عادتوں میں جھلکتا ہے۔ اقبال نے پیامِ مشرق کے دیباچے میں اس نکتے کو واضح کیا :’’زندگی اپنے حوالی میں کسی قسم کا انقلاب پیدا نہیں کر سکتی جب تک کہ پہلے اُس کی اندرونی گہرائیوں میں انقلاب نہ ہو، اور کوئی نئی دنیا خارجی وجود اختیار نہیں کر سکتی جب تک کہ اس کا وجود، پہلے انسانوں کے ضمیر میں متشکل نہ ہو۔‘‘

علامہ اقبال نے بھانپ لیا تھا کہ اب ایک نئی دنیا تخلیق ہو رہی ہے جو ہر آن بدلتی ہی رہے گی۔ جنگِ عظیم اول 28؍ جولائی 1914ء کو شروع ہوئی اور 11؍ نومبر 1918ء کو اختتام پذیر ہوئی۔ اس جنگ نے دنیا کے ذہنی ،علمی ، اخلاقی اور تمدنی سانچے انقلاب آشنا کر دیئے تھے۔ اقبال کی ’’پیام مشرق‘‘ 1923ء میں شائع ہوئی ، جس میں 1918ء سے 1923ء تک کی اُن کی نظمیں شامل تھیں۔ اس دوران جنگِ عظیم اول شروع ہوئی اور بالآخر بھی ہو گئی۔ اقبال نے اس جنگ کوقیامت قرار دیا اور لکھا کہ’’یورپ کی جنگِ عظیم ایک قیامت تھی ،جس نے پوری دنیا کے نظام کو قریباً ہر پہلو سے فنا کر دیا ہے۔اور اب تہذیب و تمدن کے خاکستر سے، فطرت، زندگی کی گہرائیوں میں ایک نیا آدم اور اس کے رہنے کے لئے ایک نئی دنیا تعمیر کر رہی ہے، جس کا ایک دھندلا سا خاکہ حکیم آئن اسٹائن اور برگساں کی تصانیف میں ملتا ہے۔‘‘ یورپ نے اپنا وہ’’ نیا آدم‘‘تعمیر کر لیا ،جس کا ’’باوا آدم‘‘ ہی نرالا تھا، مگر مشرق اپنی آرزؤں کے محلات میں کسی ’’تائید غیبی‘‘ یا بیرونی انحصار پر زندگی کاسامان کرتا رہا۔ تب مشرق کے لئے اپنی زندگی کرنے کا لائحہ عمل اقبال نے دے دیاتھا۔ کاش ہم توجہ دیتے۔ نئی دنیا کا گردوپیش کیا ہوگا، پیام مشرق میں واضح تھا: ’’اس وقت دنیا میں اور بالخصوص ممالکِ مشرق میں ہر ایسی کوشش، جس کا مقصدافراد و اقوام کی نگاہ کو جغرافیائی حدود سے بالاتر کر کے اُن میں ایک صحیح اور قوی انسانی سیرت کی تجدید یا تولید ہو، قابلِ احترام ہے۔‘‘

پرامن بقائے باہمی کے اس تابندہ پائندہ اصول کی پیروی کوئی قوم تب ہی کرسکتی ہے جب وہ خود اپنی باطنی تربیت سے گزر کر قومی قوت یافت کر چکی ہو۔ چین یہ کر گزرا۔ افسوس ہم نہ کر سکے۔ چنانچہ ہم وہ قوم(؟) ہیں جو اپنی مرضی کی جنگ ہی نہیں اپنی مرضی کا امن بھی نہیں پا سکتی۔ یہ کیسی حرماں نصیبی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہم اپنی مرضی سے ’’جنگ‘‘ نہیں پا سکے۔ اور اب یمن مسئلے پر ہم اپنی مرضی کا ’’امن‘‘ نہیں پاسکتے۔ حالات کا یہ جبر دراصل تاریخ کے اُس مطالبے پر کان نہ دھرنے کے باعث ہے جو فکرِ اقبال کی روشنی میں ایک’’ نئے آدم‘‘کی تعمیر سے متعلق ہے۔چین نے اپنا ’’نیاآدم‘‘ پالیا ہے اور ہم اپنے ’’نئے آدم‘‘کی تعمیر کے بجائے دوسروں سے اس کی بھیک مانگتے ہیں۔ چنانچہ ہمارے شب وروز ہماری اپنی تحویل میں نہیں رہے۔امکانات کی دنیا اب بھی روبرو ہے۔ یہ قوم اپنی باطنی تعمیر کے ساتھ ایک قومی کردار کی تلاش مکمل کر سکتی ہے۔جو اُسے مشرق کے بنیادی تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ کردے۔اقبال اس کے لئے آج بھی سازگار ہیں۔ وہ مشرق کو پیغامِ بیداری دیتے ہیں۔صرف احساسِ زیاں کو بیدار نہیں کرتے ،بلکہ اُس کے خود شناسی کے جذے کو بھی اُبھارتے ہیں۔خود انحصاری اور خود اعتمادی کے ساتھ اُنہیں جانبِ منزل کرتے ہیں۔ یہ اقبالؒ ہی تھے جنہوں نے ایشیا کی اجتماعیت کو اُبھارنے کی کوشش کی اور اس کے اندر ملتِ اسلامیہ کی آزادی اور فروغ کے امکانات کو بھانپا۔
ربط وضبطِ ملتِ بیضا ہے مشرق کی نجات
ایشیا والے ہیں اس نکتے سے اب تک بے خبر

چین کے اوج و عروج کے تیور بھانپنے والے عظیم فلسفی شاعر نے ’’ ساقی نامہ‘‘ میں اُس رازِ عظمت کو بھی بیان کر دیا تھا جو کسی قوم کی سربلندی کا سامان کرتا ہے۔ وہ اس میں افراد کے اندر جس خودی کی تعمیر کرتے ہیں وہ ایک مکمل قوم کی تعمیر و ترقی کی تحریک دیتا ہے۔ چینی صدر کی اہلیہ کو ہی دیکھ لیجئے! ایک میجر جنرل کی حیثیت سے وہ بروئے کار ہے۔ فنِ موسیقی میں اُنہوں نے خاص ملکہ پیدا کیا۔ جو جہاں ہے اپنی وجہ سے ہے۔ ہمارے ہاں دیکھ لیجئے! کیا کسی نے بھی اپنی دنیا آپ پیدا کی ہے۔ یہاں جو جہاں بھی ہے، ایک دوسرے کی وجہ سے ہے۔ اقبال ؒ نے یہ چینیوں کے لئے نہیں، ہمارے لئے کہا تھا کہ :

مرا دل، مری رزم گاہِ حیات!
گمانوں کے لشکر، یقیں کا ثبات
یہی کچھ ہے، ساقی متاعِ فقیر!
اسی سے فقیری میں ہوں میں امیر
میرے قافلے میں لُٹا دے اسے!
لُٹا دے! ٹھکانے لگا دے اسے!

کاش ہم اقبالؒ کے پیغام کو سمجھ سکتے۔ پھر ہمیں اپنی ترقی کے لئے 45؍ ارب ڈالر کی بھی ضرورت نہیں پڑتی۔ چین اور پاکستان دو دوست ملک ہیں، مگر کتنا فرق ہے۔ ایک اپنی اوقات میں رہ کر خود کو آمادۂ تربیت رکھتا ہے اور دوسرا اپنی باطنی تربیت سے گریزاں بس ظاہر میں اپنی اوقات ظا ہر کرتا ہے۔اقبالؒ اس قوم کے لئے آج بھی باعثِ اقبال ہیں ۔اقبال تاریخِ انسانی کے اُن گنے چنے لوگوں میں شامل ہیں، جن کی تاریخِ وفات (21؍اپریل)تو ہوتی ہے، مگر جووفات نہیں پاتے۔اُن کے خیالات اگر اپنی قوم کو نہیں بدلتے تو وہ خیالات اپنی ایک قوم پیدا کر لیتے ہیں۔ تُف ہے اُس قوم پر جس میں اقبال ایسے لوگ پیدا ں ہو اور وہ بلند اقبال نہ ہو سکے۔

Citation
Muhammad Tahir, ” اقبال ؒ ,” in Daily Pakistan, April 23, 2015. Accessed on April 23, 2015, at: http://dailypakistan.com.pk/columns/23-Apr-2015/216646

Disclaimer
The item above written by Muhammad Tahir and published in Daily Pakistan on April 23, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on April 23, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Muhammad Tahir:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s