اقبالؒ کو سمجھنے کا دن

Follow Shabnaama via email
وکیل انجم

آج اقبالؒ کا یوم وصال ہے۔ اُن کو یاد کرنے، اُن کی باتوں کو سمجھنے، فکر کو جاننے اور پلے باندھنے کا دن ہے۔ اقبال بیسویں صدی کے ہی نہیں ہر صدی کے شاعر ہیں۔ آج مسلمانوں کی جو حالت زار ہے یمن اور سعودی عرب کے ایشو کو لے لیا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے آج سے ستر، اسّی سال پہلے مسلم امہ کو جو سمجھایا، بتایا اور راستہ دکھایا تھا، اس کو چھوڑ دیا۔ آج بھی ہم وہیں کھڑے ہوئے ہیں نہ وہ مقام بدلا ہے نہ مسلمان ۔ آپ کے عہد میں مشرق اور مغرب کی بحث عروج پر تھی۔ علامہ اقبالؒ نے جہاں مشرق کو بیداری اور خوداری کا پیغام دیا وہاں مغرب کو بھی حقوق آدم کی پاسداری کی تلقین کی۔ اقبال چاہتے تھے کہ کرۂ ارض کے یہ دونوں حصے انسانی زندگی کی فلاح و بہبود کیلئے ایک ہی وحدت کے طور پر کام کریں اور ان میں جہاں کہیں فساد ہو اسے روکا جائے۔نئی نسل کو مفکر پاکستان کے بارے میں کچھ پرانی باتیں ذہن نشین کرانے کی ضرورت بھی ہے۔علامہ اقبالؒ 9 نومبر 1877ء کو شیخ نور محمد کے گھر پیدا ہوئے۔ آپ کے آباؤ اجداد نقل مکانی کرکے کشمیر سے سیالکوٹ آ ئے تھے۔ 1897ء میں گورنمنٹ کالج لاہور سے بی اے پاس کیا۔ عربی اور انگریزی میں اول آنے پر آپ کو دو گولڈ میڈل ملے۔ عربی، فارسی، ادب اور اسلامیات کی تعلیم مولوی میر حسن سے حاصل کی۔ اورینٹل کالج سے فلسفہ میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ یہاں سر ایڈون آرنلڈ کی شاگردی میں آپ نے جدید فکر کا مطالعہ کیا۔ 1905ء میں یونیورسٹی آف کیمبرج میں لاء میں داخلہ لیاپھر ہائیڈل برگ یونیورسٹی میونخ (جرمن) سے ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی۔

مفکرین اس بات سے متفق ہیں کہ اقبال کی شاعری کا آغاز اس وقت ہوگیا تھا جب وہ ابھی اسکول کے طالب علم تھے ۔ اقبال کی شاعری کا چرچا بازار حکیماں تک محدود تھا پھر لاہور کے کالجوں کی ادبی مجالس سے ہوتا ہوا قومی سے عالمی سطح پر پھیل گیا۔
اپنی نظم’’شکوہ‘‘ میں مسلمانوں کی ترجمانی کرتے نظر آئے۔اکیس بند پر مشتمل یہ نظم اقبال کی ان معرکتہ آرا نظموں میں سے ایک ہے جو بیسویں صدی ہی نہیں آج بھی مقبول ہے ۔

کیوں زیاں کار بنوں، سود فراموش رہوں
فکر فردا نہ کروں محو غم دوش رہوں

’’شکوہ‘‘ لکھنے پر ناقدین نے جی بھر کر تنقید کی ۔اقبالؒ نے ’’جواب شکوہ‘‘ لکھ کر ناقدین کو لاجواب کر دیا۔ جواب شکوہ 1913 کے ایک جلسے میں علامہ اقبال نے پڑھ کر سنائی تھی تب جا کر مخالفوں کا کلیجہ ٹھنڈا ہوا۔

دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
پر نہیں، طاقت پرواز مگر رکھتی ہے

علامہ اقبالؒ کی پارلیمانی سیاست کا دور بہت مختصر رہاہے۔ 1926 ء میں پنجاب لیجسلیٹو کونسل کے انتخاب میں لاہور سے کامیابی ملی۔آپ اشرافیہ کی جمہوریت نہیں بلکہ سماجی جمہوریت کے قائل تھے جس میں مخصوص طبقہ نہیں بلکہ تمام سب عوام بلاتفریق مستفید ہو سکیں۔

دین اور سیاست کو ایک ہی ترازو کے دو پلڑے سمجھتے ہیں۔ آپ کے نزدیک مذہب اور اخلاق سے محروم سیاست کی کوئی حیثیت نہیں۔

بحیثیت مفکر اور رہنما سیاستدان آپ کا سب سے بڑا کارنامہ ’’نظریہ پاکستان‘‘ کی تشکیل ہے جو آپ نے 29 دسمبر 1930ء کو آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے پیش کیا تھا۔ آپ کا یہ خطاب پاکستان کے قیام کی پہلی اینٹ تھی۔ لندن کی دوسری گول میز کانفرنس میں علامہ اقبال خود شریک ہوئے۔ ہندوستان کے مسلمانوں کو جو زخم لگے ، اس سے دلبرداشتہ ہو کر اندلس چلے گئے۔آپ نے یہاں اپنی شہرۂ آفاق نظم ’’قرطبہ ‘‘لکھی جس کو امریکی سکالر باربرا مٹکاف نے دنیائے شاعری کی بہترین نظم کہا۔یہ اقبال کی وہ معرکتہ آلارا نظم ہے جسے اردو زبان کا تاج محل کہا جاتا ہے۔ سپین کے شہر قرطبہ میں واقع یہ مسجد مسلمانوں کے 800 سالہ عظمت رفتہ کے ایک نشان کے طور پر باقی ہے۔ یہ مسجد علامتی طور پر اس سانحے کو بیان کرتی ہے کہ کس طرح مسلمانوں نے ہزار برس تک سپین پر حکومت کی اور پھر ان کا اقتدار مسیحی طاقتوں کے قدموں تلے روندا گیا لیکن اقبال اس مسجد میں بیٹھ کر اس شہر میں ٹھہر کر اور اس کے دریا الکبیر کے کنارے کھڑے ہو کر مسلمانوں کے اندر عشق کی روح پھونکتے ہیں اور پھر ایک نئے زمانے کا خواب دیکھتے ہیں۔ سچ یہی ہے اقبال نے سیاسی غلامی ہی نہیں فکری جمود کو بھی توڑا جب ان کے نظریات اور فکر کا چرچا عام ہوا تو انہوں نے شاعری کے ساتھ ساتھ خطابت اور وعظ کا راستہ بھی اپنایا۔ بلند پرواز اقبال کے ذمے ملت کی رہنمائی کا عظیم کام تھا۔ وہ اس کام کو کرنے کیلئے پوری طرح اہل بھی تھے۔ وہ درد دل کے ساتھ ساتھ فکر و نظر کا بھی ادراک رکھتے تھے۔ اپنے سوز ترنم اور شعلہ بیانی سے مسلمانوں کے قافلہ کو جھنجوڑا اور مسلمانوں کو مایوسی کے گرداب سے نکالا۔ وہاں اہل مغرب کی ذہنی غلامی پر بھی افسوس کیا جانے سے روکا۔

علامہ اقبال صرف پاکستان کی تخلیق کے محرک نہیں تھے بلکہ اُن شخصیت فکر نے انہیں امت مسلمہ میں نمایاں کر دیا۔ مشرق اور مغرب ایک زمانے میں ان کا زبردست موضوع رہا جس کی بنیادی وجہ تویہی ہے کہ مغربی تہذیب نے بیسویں صدی میں اپنا اصل چہرہ دکھایا۔ وہ آج کے مغرب سے کہیں مختلف ہے۔ گزری صدی کی دو عالمی جنگوں نے مغرب کے مہذب ہونے پر بھی سوالیہ نشان چھوڑے ہیں۔ یہ المیہ مغرب کا نہیں مشرق بھی اپنی رسوائی کے آخری سرے پر کھڑا تھا۔ اقبال نے کف افسوس ہی نہیں ملا بلکہ بیسویں صدی کے بے فکر و تعقل کے آشوب و ابتلا سے نبرد آزما ہونے کی صلاحیت عطاکی بلکہ انہوں نے مسلمانوں کی پوری نسل کو مغرب کی مادی و ذہنی غلامی سے نجات حاصل کرنے پر کمربستہ کھڑا کر دیا اور ایسا ولولہ عطا کیا اقبال کا پیغام یا فلسفہ حیات کیا ہے اس کا جواب صرف ایک لفظ خودی کہہ سکتے ہیں۔

عہد اقبالؒ میں بھی مسلمانوں کی حالت آج جیسی ہی خراب تھی۔امت مسلمہ کے مسائل پر آپ کی شاعری کو پڑھیں عہد اور زمانے کا کوئی فرق محسوس نہیں ہوتا۔آج بھی مسلمانوں کی حالت عہد اقبالؒ سے مختلف نہیں ہے۔ آپس کی لڑائیاں اور گروہی جھگڑے، مسلم امہ کے امیج کو خراب کر رہے تھے۔ اپنے عہد میں اقبالؒ ؒ عالم اسلام کا اتحاد چاہتے تھے ۔

آج بھی ہو جو ابراہیم کا ایماں پیدا
آگ کرسکتی ہے انداز گلستان پیدا

اقبال کی جہد مسلسل اور تفکر نے امت مسلمہ بالخصوص مسلمانان برصغیر پاک و ہند کو ایک نئی نظریاتی حیات سے سرفراز کیا۔ وہ اپنے کلام سے دنیا بھر میں پھیلی ہوئی امت مسلمہ کو اپنے دینی، سیاسی، انفرادی اور اجتماعی معاملات میں اپنے اصل منبع کی طرف رجوع کرنے کی طرف لاتے ہیں۔ خدا تو مدد کرتا ہے مگر مسلمان خود غفلت کی طرف لوٹتا ہے اس کیلئے اقبال اصل سرچشمہ قرآن کو ہی سمجھتے ہیں۔

قرآن میں ہو غوطہ زن اے مرد مسلمان
اللہ کرے تجھ کو عطا جدت کردار

علامہ اقبال ترقی پسندوں کو ہر عہد اور دور میں اس لئے کھٹکتے رہے کہ وہ اپنی شاعری کو مقصد کا ذریعہ سمجھتے تھے کیونکہ انہیں حضورؐ سے بہت عشق تھا۔ حضورؐ کا تذکرہ سنتے ہی آپ کی آنکھیں پرنم ہو جاتی تھیں۔

بچوں کیلئے بھی بہت سی نظمیں لکھیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مکالمات بیان ،مکڑا اور مکھی، پہاڑ اور گلہری، گائے اور بکری کو بھی خوبصورت پیرا میں تخیل کا جز بنایا۔ ’’بچے کی دعا‘‘تو ہر سکول کے بچے کی زبان پر ہوتی تھی۔

لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری
زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری

اسرار خودی، رموزبیخودی، پیام مشرق، بانگ درا، زبور عجم، جاوید نامہ، بال جبرئیل، ضرب کلیم اور ارمغان حجاز جو آج بھی مقبول ہیں۔21اپریل 1938ء کو آپ کا انتقال ہوا۔

Citation
Wakil Anjum, “اقبالؒ کو سمجھنے کا دن,” in Daily Nai Baat, April 21, 2015. Accessed on April 21, 2015, at: http://www.naibaat.pk/archives/sp_cpt/%D8%A7%D9%82%D8%A8%D8%A7%D9%84%D8%92-%DA%A9%D9%88-%D8%B3%D9%85%D8%AC%DA%BE%D9%86%DB%92-%DA%A9%D8%A7-%D8%AF%D9%86

Disclaimer
The item above written by Wakil Anjum and published in Daily Nai Baat on April 21, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on April 21, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Wakil Anjum:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s