علامہ اقبالؒ اور فیض احمد فیض

Follow Shabnaama via email
ڈاکٹر محمد سلیم

فیض احمد فیض ایک کثیرالجہات شخصیت تھے۔وہ غزل اور نظم کے بہت اچھے شاعر تھے۔ دھیمے مزاج کے صحافی بھی تھے۔ انہیں انگریزی اور اردو دونوں زبانوں پریکساں عبور تھا۔ان کا اندازِ بیان ان کی شخصیت اور سوچ کا ترجمان تھا۔فیض احمد13فروری 1911ء کوقصبہ کالا قادر ضلع سیالکوٹ میں چوہدری سلطان محمدخاں کے گھر پیدا ہوئے۔ پانچ چھہ سال کی عمر میں قرآن مجید حفظ کرنا شروع کیا۔ تین سیپارے حفظ کرچکے تھے کہ آنکھیں دکھنے آگئیں۔ پھر حفظ نہ کرسکے۔ اس کا انہیں دکھ رہا۔وہ بچپن ہی سے بہت خاموش مزاج اور حلیم الطبع تھے۔ صاف ستھرے رہنے کا بہت شوق تھا۔1933ء میں گورنمنٹ کالج لاہور سے انگریزی میں ایم۔اے اور اگلے برس اورینٹل کالج لاہور سے ایم۔ اے عربی کیا۔ انہوں نے پہلے مولوی میر حسن کے مکتب اور اس کے بعد مرّے کالج سیالکوٹ میں عربی پڑھی تھی۔1935ء میں فیض احمد فیض ایم۔اے۔ او کالج امرتسر میں لیکچرار ہوگئے۔

قرۃالعین حیدر لکھتی ہیں:یہاں ان کی ملاقات صا حبزادہ محمودالظفراور ان کی بیوی یعنی رشیدہ آپا سے ہوئی۔رشیدہ نے فیض صاحب کو کمیونسٹ مینی فیسٹو پڑھنے کو دیا جس کو پڑھ کر موصوف پر چودہ طبق روشن ہوگئے۔ گیان حاصل ہونے کے بعدفیض صاحب نے اپنی مشہور نظم لکھی: مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ۔1940ء میں وہ پنجاب یونیورسٹی کے ہیلی کالج آف کامرس میں انگریزی کے استاد مقرر ہوئے۔1941ء میں انہوں نے ایک انگریز خاتون ایلس جارج سے شادی کی۔ شادی سری نگر میں ہوئی اور شیخ عبداللہ نے نکاح پڑھایا۔(یہ شیخ عبداللہ فیصل صاحب کے دوست تھے، لوگ ان کو شیر کشمیر شیخ عبداللہ سمجھ لیتے ہیں)

فیض گورے چٹے اور کشادہ جبین تھے۔قد گوارا۔ صاف ستھرا لباس، نرم دلنشیں گفتگو، کم سخن، کم آمیز۔فیض کی بہن بی بی گُل کہتی ہیں: فیض کوافغانی کھانے بہت پسند تھے۔شب دیگ، قورمہ پلاؤ، وغیرہ، مگر خود کبھی فرمائش نہیں کی۔ جو مِل گیا وہ کھالیا۔فیض دمہ کے مرض میں مبتلا تھے۔18نومبرکی رات انہیں میو ہسپتال میں داخل کیا گیا۔20نومبر 1984ء کو وہ انتقال کر گئے۔خلیق انجم کہتے ہیں:17نومبرکی صبح کو وہ بہت مدت کے بعد کالا قادر اور اپنی والدہ کے گاؤں گئے۔کسی نے لکھا ہے کہ اس دن انہوں نے اپنے گاؤں کی مسجد میں نماز بھی پڑھائی۔دوسری جنگ عظیم میں جب جرمنی نے روس پر حملہ کردیاتو کمیونسٹ اور ترقی پسند حضرات کو بھی موقع مل گیا کہ وہ ’’جمہوریت کی بقا اور فاشزم کے خلاف جنگ کے لئے ‘‘ فوج میں بھرتی ہوجائیں۔چنانچہ تاثیر، فیض ،وغیرہ سب فوج میں چلے گئے۔فیض نے1942ء میں درس و تدریس کو خیرباد کہا اور فوجی خدمات سرانجام دینے لگے۔ فوج میں فیض لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے پر فائز رہے۔

فیض کراچی جاتے تو ہمیشہ مجید ملک کے ہاں ٹھہرتے۔ایک بار مجید ملک پوچھنے لگے: فیض، اب تمہاری عمر کیا ہے؟فیض نے بتایا کہ وہ پچپن سال کے ہوچکے ہیں۔مجید ملک بولے:آپ کو معلوم ہے کہ اقبال نے اس عمر تک کیا کچھ کرلیا تھا۔ اس کے بعد مجید ملک نے اقبال کی جملہ تصنیفاتِ نظم و نثرکے نام گِنوادیے اور تان اس پر توڑی کہ فیض کی اب تک فقط دو ہی کتابیں شائع ہوئی ہیں: ’’نقشِ فریادی‘‘ اور ’’دستِ صبا‘‘۔فیض نے بڑے ادب سے اور بڑے انکسار کے لہجے میں جواب دیا: مجید بھائی، اب آپ میرا موازنہ اقبال سے تو نہ کیجئے۔ ان کا تخلیقی جوہر تو ایک شعلۂ جوّالہ تھا اور میرا ایک ننھی سی شمع کی لَو۔

1964ء میں لندن میں عبادت بریلوی سے ایک انٹرویو میں فیض احمد فیض نے بتایا:علامہ اقبال سے کئی مرتبہ شرفِ نیاز حاصل ہوا۔ ایک تو وہ میرے ہم وطن تھے۔ دوسرے میرے والد کے دوست بھی تھے۔دونوں ہم عصر تھے۔ اور انگلستان میں بھی وہ ایک ساتھ رہے تھے۔ ان سے پہلی ملاقات تو مجھے یاد ہے بہت بچپن میں ہوئی تھی جب کہ میری عمر کوئی چھہ سات برس کی ہوگی۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ سیالکوٹ میں ایک انجمن اسلامیہ تھی۔ اس کا ہر سال جلسہ ہوا کرتا تھا۔انجمن اسلامیہ سکول بھی تھا۔ دوتین اور سکول بھی تھے۔وہاں پر کبھی کبھی علامہ اقبال ان کے سالانہ جلسوں میں شرکت کے لئے آیا کرتے تھے۔پہلی دفعہ تو میں نے انہیں انجمن اسلامیہ کے جلسے میں دیکھا۔ مجھ کو اس جلسے میں شرکت کا موقع اس لئے دیا گیا تھا کہ میں سکول میں پڑھتا تھا۔ اسلامیہ سکول میں قرأت سنائی تھی۔ مجھے یاد ہے کہ کسی نے اٹھا کر مجھے میز پر کھڑا کردیا تھا۔

پنڈی سازش کیس میں ان کے جیل کے ساتھی ظفراللہ پوشنی لکھتے ہیں: انتقال سے ایک سال پہلے انہوں نے سگرٹ اور شراب دونوں سے کنارہ کشی اختیار کرلی تھی۔ ۔۔۔ ان میں غرور نام کو نہ تھا۔ کہتے تھے: غالب، اقبال، میر ، وہ لوگ شاعر تھے۔ ہم کیا ہیں۔ ۔۔۔ یہ فقرے روایتی کسر نفسی کے طور پر نہیں ،بلکہ نہایت سنجیدگی اور خلوص سے کہتے تھے۔فیض کہتے تھے کہ میں نے فارسی میں ایک شاعر حافظ کو ٹھیک سے پڑھا ہے۔ اردو میں میراور غالب کو۔ رہا اقبال تو وہ ایسا شاعر ہے کہ اسے پڑھتے وقت کوئی اور شاعر نظر میں نہیں جچتا ۔ فکر اور شعر دونوں میں ہمہ گیر اور آفاقی۔نصرت چوہدری سے انٹرویو میں فیض نے کہا: اس دور کے سب سے بڑے شاعر یقیناًاقبال ہیں جو اس دور کے آخر میں آتے ہیں۔ہر دور میں شاعر نہ صرف حالات کی ترجمانی کرتا ہے، بلکہ کسی حد تک ایک طبقے کی ترجمانی کرتا ہے۔ وہ طبقہ جو سب سے زیادہ با اثر ہوتا ہے۔اس طبقے کے خیالات، اس کے مضامین، اس کی ذہنیت، شاعری میں داخل ہوتی ہے۔انگریزوں کے آنے سے پہلے یہ طبقہ امرا، رؤسا اور نوابوں کا طبقہ تھا۔اس کے ختم ہوتے ہی مڈل کلاس آگئی۔اگلی شاعری جو ہے، اقبال تک اسی متوسط طبقے کی شاعری ہے۔ان میں ایک نیا سیاسی شعور پیدا ہوا۔ قومیت کا جذبہ، آزادی کا جذبہ۔

نصرت چوہدری کے ایک اور سوال کے جواب میں فیض نے کہا:یوں تو اس عہد میں پورے علاقے پراقبال کا اثر تھا،مگر جہاں تک براہِ راست میرا تعلق ہے، وہ میری نوجوانی کا زمانہ تھا اور اس زمانے میں عام طور سے ہر شاعر رومانی شاعری کرتا ہے۔اس لئے اس زمانے میں اس زمانے کے جو رومانی شاعر تھے، (مجھ پر) ان کا اثر مقابلتاً زیادہ تھا۔فیض نے اقبال کی عظمت کا ہمیشہ اعتراف کیا اورانہیں اس دور کا سب سے بڑا شاعر کہا۔ ایک بار فیض سے پوچھا گیا کہ آپ کے خیال میں علامہ اقبال کا شاعری میں کیا مرتبہ ہے؟ بولے: جہاں تک شاعری میںsensibility، زبان پر عبور اور غنائیت کا تعلق ہے ہم تو ان کی خاک پا بھی نہیں۔علامہ بہت بڑے شاعر ہیں۔ اگر وہ سوشلزم کے معاملے میں ذرا سنجیدہ ہوجاتے تو ہمارا کہیں ٹھکانا نہ ہوتا۔فیض نے ترقی پسندوں کی اس وقت شدید مخالفت کی جب وہ اقبال کے خلا ف مضامین لکھنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔وہ بتاتے ہیں کہ 1949ء میں انجمن ترقی پسند مصنفین کی طرف سے حکم ہوا کہ علامہ اقبال کو demolishکریں۔ ۔۔۔ ہمیں یہ بک بک لگی کہ علامہ اقبال کے ہاں بے پناہ ذخیرہ سامراج، جاگیرداروں اور نوابوں کے خلاف ملتا ہے۔ ۔۔۔ چنانچہ ہماری ان سے جنگ ہوگئی۔

احمد ندیم قاسمی کہتے ہیں کہ فیض احمد بہت شیریں ،میٹھا اور رومانٹک شاعر تھا۔ حسن اور محبت کا شاعر تھا۔ محبت اور حسن کے جذبات وہ جس خوبصورتی سے اپنی نظم یا غزل میں لے آتا ہے اس کاجواب نہیں۔ لیکن میں اسے غالب یا اقبال کی صف میں کھڑا نہیں کر سکتا۔ وہ اتنا عظیم شاعر نہیں جس طرح انہیں عظیم بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ کیونکہ شاعروں میں جو فکر اور گہرائی ہوتی ہے وہ اسے جان بوجھ کر اپنے کلام میں نہیں لائے۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ وہ اقبال کے دور میں تھے اور سمجھتے تھے کہ جس سطح پر اقبال پہنچا ہے میں وہاں کس طرح پہنچوں گا۔قرۃالعین لکھتی ہیں: فیض صاحب کی ذہنی پختگی اس چیز سے ظاہر ہوتی ہے کہ جن دنوں سارے کٹر ترقی پسند حضرات اقبال کو فسطائی کہہ کر پکارتے تھے، فیض صاحب اس انتہا پسندی کے مخالف تھے اور اس زمانے میں انہوں نے اقبال ہی کے لئے اپنی مندرجہ ذیل خوبصورت نظم لکھی تھی:

آیا ہمارے دیس میں اک خوش نوا فقیر
آیا اور اپنی دھن میں غزل خواں گزر گیا
سنسان راہیں خلق سے آباد ہو گئیں
ویران مے کدوں کا نصیبہ سنور گیا
تھیں چندہی نگاہیں جو اس تک پہنچ سکیں
پر اس کا گیت سب کے دلوں میں اتر گیا
اب دور جاچکا ہے وہ شاہِ گدا نما
اور پھر سے اپنے دیس کی راہیں اداس ہیں
چند اک کو یاد ہے کوئی اس کی ادائے خاص
دو اک نگاہیں چند عزیزوں کے پاس ہیں
پر اس کا گیت سب کے دلوں میں مقیم ہے
اور اس کی لَے سے سینکڑوں لذت شناس ہیں

ترقی پسند شاعر، صحافی اور ادیب فیض احمد فیض ، علامہ اقبال کی عظمت کے قائل تھے۔ انہیں اس دور کا سب سے بڑا شاعر سمجھتے تھے اور اس کا کھل کر اظہار کرتے تھے۔ان کی مندرجہ بالا نظم بھی ان کے سوچ اور جذبات کی ترجمانی کرتی ہے۔

Citation
Muhammad Saleem, ” علامہ اقبالؒ اور فیض احمد فیض ,” in Daily Pakistan, April 21, 2015. Accessed on April 21, 2015, at: http://dailypakistan.com.pk/columns/21-Apr-2015/215857

Disclaimer
The item above written by Muhammad Saleem and published in Daily Pakistan on April 21, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on April 21, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Muhammad Saleem:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s