تہذیب فائونڈیشن اور کلاسیکی موسیقی

Follow Shabnaama via email
مسعود اشعر

رشید ملک، عنایت الٰہی ملک اور سعید ملک تینوں ملک صاحبان اور تینوں ہی علم موسیقی کے ماہر۔ تینوں نے موسیقی پر کتابیں لکھیں۔ ہم حیران ہوتے تھے کہ یہ ملک صاحبان کو موسیقی سے اتنا لگائو کیونکر ہوا کہ نہ صرف موسیقی سیکھی بلکہ اس فن پر اردو اور انگریزی میں کتابیں بھی لکھیں۔ دو سال پہلے ہم نے ایک ایسے ادارے کا نام سنا جو موسیقی اور موسیقاروں دونوں کے فروغ اور فلاح کے لئے کام کر رہا ہے۔ اس ادارے کا نام ہے تہذیب فائونڈیشن۔ پہلی بار کراچی آرٹس کونسل کی بین الاقوامی ادبی کانفرنس کے موقع پر اس ادارے کی طرف سے ہمیں بڑے بڑے نامور کلاسیکی موسیقاروں کی چند سی ڈیز ملیں۔ ان سی ڈیز کے ساتھ گانے والوں کا تعارف اور راگوں کے بارے میں مختصر سا تحریری تعارف بھی موجود تھا۔ معلوم ہوا کہ یہ اتنا بڑا اور ایسا وقیع کام صرف ایک صاحب کی ذاتی دلچسپی کا نتیجہ ہے۔ ہم نے سوچا چلو، ملک صاحبان کے علاوہ بھی کسی نے اس سنگلاخ میدان میں قدم رکھا ہے۔ لیکن جب اس ادارے کا کتابچہ دیکھا تو معلوم ہوا کہ جن صاحب نے اپنی ساری زندگی اور سارے مالی وسائل اس فن شریف کے تحفظ اور ترویج و اشاعت کے لئے وقف کر دیئے ہیں ان کا نام ہے شریف اعوان۔ ’’اوہو‘‘۔ ہمارے منہ سے نکلا’’۔ تو یہ بھی ملک ہیں۔ اگر اعوان ہیں تو ملک ہی ہوئے نا۔‘‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ ڈاکٹر محمد اطہر مسعود کو، جنہوں نے اپنی کتاب ’’مقالات مسعود‘‘ میں ہند فارسی ادب میں کلاسیکی موسیقی پر لکھی جانے والی کتابوں کا تعارف کرایا ہے، اب ’’علم موسیقی کی تحقیق و ترویج میں ملک صاحبان کا گراں قدر حصہ‘‘ کے موضوع پر بھی کتاب لکھنا پڑے گی۔ رشید ملک پر تو اطہر مسعود نے پہلے ہی بہت کام کر رکھا ہے۔ انہوں نے ایک ایسی کتاب بھی لکھ دی ہے جو موسیقی کے فن پر تحقیق کرنے والوں کے لئے حوالے کا درجہ رکھتی ہے۔ انہوں نے صرف کتاب ہی نہیں لکھی ہے بلکہ استاد بدرالزماں اور قمرالزماں سے شاستریہ سنگیت کی تعلیم بھی حاصل کی ہے۔ اور شاہد احمد دہلوی کی طرح ریڈیو سے اپنے فن کا مظاہرہ بھی کرتے رہے ہیں۔ اور ہاں، ابھی ابھی مجھے خیال آیا کہ کہیں اپنے اطہر مسعود بھی تو ملک نہیں ہیں؟ اگر ایسا ہوا تو پھر اس فن شریف پر ملک صاحبان کی اجارہ داری پکی۔

اب کچھ تہذیب فائونڈیشن کی بات ہو جائے ۔ شریف اعوان صاحب ایک سینئر سرکاری افسر ہیں۔ ادب و ثقافت سے انہیں شغف ہے اور موسیقی ان کا جنون ہے۔ ان کا یہ جنون ہی ہے کہ انہوں نے پاک وہند کی کلاسیکی موسیقی کے تحفظ اور ترویج کے لئے اپنے دن رات ایک کر دیئے ہیں۔ وہ کلاسیکی موسیقی کو وادیٔ سندھ کا تہذیبی ورثہ مانتے ہیں۔ اور وہ اسی ورثے کو سی ڈیز کی شکل میں محفوظ کر رہے ہیں۔ اس مقصد کے لئے انہوں نے جس منصوبے پر کام شروع کیا ہے اس کا نام رکھا ہے ’’انڈس راگ :موسیقی، سرحدوں سے ماورا‘‘۔ یہ سرحدوں سے ماورا اس لئے ہے کہ اس میں پاکستان کے ساتھ ہندوستان کے نامور موسیقار اور سازنواز بھی شامل ہیں۔ شریف اعوان صاحب کا یہ دعویٰ بالکل بجا ہے کہ انہوں نے پینسٹھ سال میں پہلی بار دونوں ملکوں کے بڑے بڑے موسیقاروں کو یکجا کر دیا ہے۔ اس کی مثال استاد فتح علی خاں کی آواز اور پنڈت وشو موہن بھٹ کی موہن وینا پر جگل بندی ہے۔ اسے وہ تاریخی جگل بندی کہتے ہیں۔ آپ آنکھیں بند کر لیجیے اور یہ جگل بندی سنتے رہیے۔ آپ پھر اس دنیا میں نہیں رہیں گے۔ اپنی دنیا سے ماورا کسی اور ہی دنیا میں پہنچ جائیں گے۔ شریف صاحب نے تین سال پہلے اس منصوبے پر کام شروع کیا تھا۔ اب تک وہ بارہ سی ڈی تیار کر چکے ہیں۔ یہ سی ڈی نہایت دلکش البم کی صورت میں دستیاب ہیں۔ ان سی ڈیز میں آپ اپنے زمانے کے قریب قریب تمام کلاسیکی موسیقاروں اور سازنوازوں کے فن سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔

اب یہ شریف اعوان صاحب کا جنون ہی تو ہے کہ اس زمانے میں جب استادی موسیقی کا ذوق رکھنے والوں کی تعداد کم سے کم ہوتی جا رہی ہے اور جب شور شرابے والی موسیقی یا میوزک ہمارے سروں پر اودھم مچا رہی ہے اس وقت وہ شاستریہ سنگیت پر اپنا قیمتی وقت اور سرمایہ صرف کر رہے ہیں۔ آج کلاسیکی موسیقی یا شاستریہ سنگیت کی کیا وقعت رہ گئی ہے؟اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگا لیجیے کہ ہمارے کسی ریڈیو یاٹیلی وژن چینل پر اس موسیقی کے لئے ذراسا بھی وقت نہیں ہے۔ کسی زمانے میں ریڈیو پاکستان پر بڑے بڑے کلاسیکی استاد اپنے فن کا مظاہرہ کیا کرتے تھے بلکہ ہر سال ریڈیو پاکستان کے لاہور مرکز پر استادی موسیقی کی کانفرنس ہوتی تھی۔ اس میں پاکستان کے ہی نہیں ہندوستان کے کلاسیکی موسیقار بھی شرکت کرتے تھے۔ اب تو شاید یہ محفلیں کسی کو یاد بھی نہیں ہوں گی۔ اب لاہور میں مرحوم حیات احمد خاں کی کل پاکستان محفل موسیقی ہی رہ گئی ہے جو پابندی کے ساتھ ہر مہینے کی پہلی تاریخ کو کلاسیکی گانے والوں کو اپنے فن کا مظاہرہ کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ حیات احمد خاں کے بعد ان کی صاحب زادی ڈاکٹر غزالہ عرفان نے اس روایت کو زندہ رکھا ہوا ہے۔ یادش بخیر، دس بیس سال پہلے تک ہندوستانی فلموں کے گانوں میں بھی تھوڑا بہت شاستریہ سنگیت سننے کو مل جاتا تھا۔ ان دنوں فلموں کے گانے اپنی راگ راگنیوں پر ہی مبنی ہوتے تھے۔ اب تو ایک ہنگامہ ہے۔ ایک شور شرابہ ہے جس گانے واے یا گانے والی کی آواز کانوں کو پھاڑ رہی ہو وہی سب سے زیادہ کامیاب مانا جاتا ہے۔ بھلا بتائیے، کون ایسا گائودی ہو گا جو پیار محبت کی باتیں ایسے گلا پھاڑ پھاڑ کر کرتا ہو کہ پورے محلے والے ہی نہیں بلکہ سارا شہر بھی سن لے؟۔ پہلے پیار محبت میں سرگوشیاں ہوتی تھیں اب چیخم دھاڑ ہوتی ہے ایسی چیخم دھاڑ کہ اسے سن کر محبوب یا محبوبہ قریب آ نے کے بجائے دور بھاگ جائے۔ اور یہ فلموں تک ہی محدود نہیں ہے۔ یہ جو میوزیکل بینڈ بن گئے ہیں ان میں بھی گانے والوں کے نڑخڑے(vocal cords) کا امتحان ہی لیا جاتا ہے۔ جتنی بھی کان پھاڑنے والی آواز ہو گی اتنی ہی وہ کامیاب ہو گی۔ اس صورت میں شریف اعوان صاحب نے جو کام شروع کیا ہے وہ واقعی ایک چیلنج ہے۔ ایک جہاد ہے۔ کوئی تو ایسا ہے جس نے سچی کلاسیکی موسیقی کے پیاسوں کی پیاس بجھانے کا سوچا ہے۔ خدا کا شکر ہے کہ اس مشن میں ان کی حوصلہ افزائی کرنے والے بھی کچھ لوگ موجود ہیں۔ اطہر مسعود بتاتے ہیں کہ موجودہ پروجیکٹ کے علاوہ تہذیب فائونڈیشن راگ راگنیوں کی مستند بندشیں محفوظ کرنے کا پروگرام بھی بنا رہی ہے۔ بلاشبہ یہ ایک تاریخی کام ہو گا۔

Citation
Masood Ashar, “تہذیب فائونڈیشن اور کلاسیکی موسیقی,” in Jang, April 21, 2015. Accessed on April 21, 2015, at: http://beta.jang.com.pk/akhbar/%D8%AA%DB%81%D8%B0%DB%8C%D8%A8-%D9%81%D8%A7%D8%A6%D9%88%D9%86%DA%88%DB%8C%D8%B4%D9%86-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%DA%A9%D9%84%D8%A7%D8%B3%DB%8C%DA%A9%DB%8C-%D9%85%D9%88%D8%B3%DB%8C%D9%82%DB%8C/

Disclaimer
The item above written by Masood Ashar and published in Jang on April 21, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on April 21, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Masood Ashar:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s