اردو سے انصاف

Follow Shabnaama via email
مجید اصغر

ملک کی پہلی مجلس دستورساز نے 25فروری 1948 کو اپنے اجلاس میں اردو کو پاکستان کی قومی زبان قرار دیا ، بنگالیوں کی جانب سے مزاحمت کے آثار دیکھ کر21 مارچ 1948 کو پلٹن میدان ڈھاکہ میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے قائداعظم محمد علی جناح نے لگی لپٹی کے بغیر اعلان کیا کہ اردو ہی پاکستان کی قومی زبان ہوگی۔ پھر 24مارچ کو ڈھاکہ یونیورسٹی کے کانووکیشن میں اسی اعلان کو دہرایا۔ اس طرح عام آدمی سے لے کر اہل اقتدار تک سب نے اردو کو قومی زبان تسلیم کر لیا۔ 1971 میں ملک دولخت ہوا تو بنگالی زبان بھی اردو سے ’’الگ‘‘ ہوگئی اور اسے قومی زبان میں شریک کرنے کا مطالبہ بھی دم توڑ گیا۔ چنانچہ 1973 کے آئین کی شق 251 کی رو سے حکومت کو پابند کیا گیا کہ 1988 تک اردو کو سرکاری و دفتری زبان بنالیا جائے گا۔ یہ میعاد گزرےبھی 27 سال ہوگئے ہیں۔ انگریزی سے مرعوب و مغلوب حکمرانوں اور بیوروکریسی نے اردو کو اقتدار کے ایوانوں اور سرکاری دفاتر میں داخل نہیں ہونے دیا۔ اس طرح ملک کو قائم ہوئے 68 سال گزرنے کے باوجود عملاً انگریزی ہی ہماری ’’قومی ،سرکاری اور دفتری‘‘ زبان ہے۔ سرکار کی پیروی میں کلام الملوک، ملک الکلام کے مصداق غیرسرکاری شعبوں اور اداروں میں بھی انگریزی ہی خط و کتابت اور احکامات و اعلانات کے اجرا کا ذریعہ ہے۔چھوٹی بڑی دکانوں اور تجارتی مراکز میں بھی خریدوفروخت کی رسیدیں زیادہ تر انگریزی ہی میں جاری کی جاتی ہیں۔ جبکہ قومی شناخت، یکجہتی اور رابطے کی زبان اردو پس منظر میں گم ہوتی جارہی ہے اور انگریزی میڈیم اسکولوں اور کالجوں کے ترقی پذیر کلچر کے باعث اس کے ابھرنے کے امکانات بتدریج کم ہورہے ہیں۔ اردو سے اس بے اعتنائی اور ناانصافی کے خلاف ایک دردمند پاکستانی کوکب اقبال ایڈووکیٹ نے عدلیہ سے رجوع کیا۔ ان کا استدلال ہے کہ اردو کو سرکاری و دفتری زبان نہ بنانے سے آئین کی خلاف ورزی ہی نہیں ہورہی بلکہ معاشرے میں طبقاتی تفریق بھی پیدا ہورہی ہے۔ غریب اور متوسط طبقے کے بچے عام اسکولوں جبکہ امرا کے بچے مہنگے انگلش میڈیم اسکولوں میں پڑھتے ہیں۔ اعلیٰ ملازمتوں کےلئے مقابلے کے امتحانات میں انگریزی نصاب پڑھنے والے کامیاب ہوجاتے ہیں جبکہ غریبوں کے بچے کلرک یا ٹیچر ہی بن سکتے ہیں۔ سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ میں ان کا مقدمہ زیرسماعت ہے۔ بینچ کے سربراہ جسٹس جواد ایس خواجہ نے گزشتہ سماعت کے دوران حکومت سے اردو کو سرکاری زبان کا درجہ دینے کےلئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات ، تاخیر کی وجوہات اور اس کے ذمہ داروں کے نام طلب کر لئے ہیں۔ جسٹس جواد خواجہ نے ریمارکس دیئے کہ’’ حکومت بتائے کہ کیا اس کو آئین کی پاسداری نہیں کرنی، کیا یہ ملک ابھی تک استعمار کی کالونی ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ آئین کی خلاف ورزی پر اہل اقتدار کے خلاف بھی کارروائی ہوسکتی ہے، انہوں نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ آئندہ سماعت کے موقع پر اس حوالے سے بہر صورت رپورٹ جمع کرائی جائے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ جسٹس جواد خواجہ کی تحریک پر چیف جسٹس ناصر الملک کی منظوری سے سپریم کورٹ نے سائلین کی سہولت کے لئے اردو میں عدالتی نوٹس جاری کرنے شروع کردیئے ہیں اس طرح وہ کام جو پاکستان کی کسی بھی مقتدر حکومت سے نہ ہوسکا، وہ آزاد عدلیہ نے اپنے ادارے میں کر دکھایا۔ عدالت عظمیٰ نے قانون کی کتابوں کی عدم اشاعت اور موجود کتابوں میں طباعت کی سنگین غلطیوں سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران بھی وفاق اور چاروں صوبائی حکومتوں کو کتابوں کے معیاری ترجمے اور ’’پاکستان کوڈ‘‘ چھاپنے کےلئے طریق کار وضع کر کے عدالت میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی تھی۔ محترم جسٹس جواد خواجہ نے اس موقع پر ریمارکس دیئے تھے کہ حکومتیں ہر سال ایک ارب 34 کروڑ روپے عوام کی جیبوں سے نکال رہی ہیں مگر انہیں درست قانون تک رسائی نہیں دی جاتی۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’’آئین پاکستان تک کا اردو ترجمہ غیرمعیاری ہے۔ حکومتوں نے کام کرنا چھوڑدیا ہے۔ لوگوں کو یہ بتانے کی ضرورت ہی نہیں سمجھی جاتی کہ قانون کیا ہے اور ان کے حقوق اور ذمہ داریاں کیاہیں‘‘ انہوں نے اردو ترجمے والی آئین کی ایک کتاب کو فضا میں لہراتے ہوئے لاء افسروں سے پوچھا ’’کیا آپ کے خیال میں یہ معیاری کتاب ہے؟ قانون کے شعبے سے میری وابستگی کو چالیس سال ہوگئے ہیں یہ کتاب میری سمجھ میں بھی نہیں آرہی ۔ اس میں املا اور گرائمر کی بہت سی غلطیاں ہیں…. قانون کی کتابوں کے قومی اور صوبائی زبانوں میں ترجمے کے کام سے کسی کو دلچسپی نہیں ہے‘‘۔

قومی زبان کی اس ناقدری کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ’’احساس برتری‘‘ کے مارے زیادہ تر اہل اقتدار، سیاستدان، بیوروکریٹس اور دانشور اردو بولنے اردو لکھنے اور اردو پڑھنے میں شرم محسوس کرتے ہیں۔ اسمبلیوں ، جلسے جلوسوں اور مباحثوں ، مذاکروں میں دو جملے اردو بولیں تو دس جملے انگریزی بولے بغیر ان کا ہاضمہ درست نہیں رہتا۔ بعض تو یہ تکلف بھی نہیں کرتے۔ اپنی بات انگریزی سے شروع اور انگریزی پر ہی ختم کرتے ہیں، چاہے کتنی ہی غلط سلط کیوں نہ ہو۔ اردو بولتے بھی ہیں تو اس کی’’ ٹانگ‘‘ توڑتے چلے جاتے ہیں۔ مذکر و مونث کی تمیز کرتے ہیں نہ واحد و جمع کی۔ صحت الفاظ اور گرائمر تو ان کا مسئلہ ہی نہیں۔ ان کی گفتگو میں ہی نہیں تحریرمیں بھی انگریزی کے دقیق الفاظ کی بھرمار ہوتی ہے۔ یہ درست ہے کہ انگریزی بین الاقوامی زبان کا درجہ حاصل کرچکی ہے اور یہ بھی درست ہے کہ اردو لشکری زبان ہے۔ اس میں دوسری زبانوں کے الفاظ کا اضافہ کوئی جرم نہیں مگر جس لفظ یامحاورے کا اردو میں بہتر نعم البدل موجود ہو اسے استعمال کرنے میں کیا قباحت ہے؟ قومی زبان کسی قوم کی پہچان ہوتی ہے۔ چین کےآنجہانی وزیراعظم چواین لائی پاکستان آئے تو ایک پریس کانفرنس سے چینی زبان میں خطاب کیا چینی مترجم انگریزی میں ان کا مدعا بیان کررہا تھا۔ ایک جملے کا اس نے غلط ترجمہ کیا تو چواین لائی نے اسے ٹوک دیا اخبار نویس حیران رہ گئے۔ کسی نے پوچھ ہی لیا کہ آپ خود انگریزی جانتے ہیں تو انگریزی ہی میں بات کریں۔ انہوں نے چینی میں جواب دیا کہ جب میری قومی زبان چینی ہے تو انگریزی کیوں بولوں؟ ہمارے حکمرانوں میں سے جنرل ضیاء الحق واحد شخص تھے جنہوں نے جنرل اسمبلی سے اردو میں خطاب کیا۔ اس سے ان کی شان میں کمی نہیں اضافہ ہی ہوا تو ہمارے رہنمایان قوم کو اردو بولنے میں کیا عار ہے؟ حکومت نے اردو کی ترویج و ترقی کےلئے کچھ ادارےقائم کئے۔ ان کا کام قابل قدر ہے مگر جب اردو کو دفتری زبان ہی نہیں بنایا گیا تو ان کی کاوشیں کس کام کی؟ جب تھانے کچہری میں لکھی جانے والی ’’دیو مالائی‘‘اردو پر نظر ڈالی جائے تو زبان و بیان کے حوالےسےان اداروں کی تحقیق بے معنی نظر آتی ہے۔ عدلیہ کو تو انصاف کرنا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت بھی دفتری معاملات میں اس کا عمل دخل یقینی بنائے۔

Citation
Majeed Asghar, ” اردو سے انصاف,” in Jang, April 20, 2015. Accessed on April 20, 2015, at: http://beta.jang.com.pk/akhbar/%D8%A7%D8%B1%D8%AF%D9%88-%D8%B3%DB%92-%D8%A7%D9%86%D8%B5%D8%A7%D9%81/

Disclaimer
The item above written by Majeed Asghar and published in Jang on April 20, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on April 20, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Majeed Asghar:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s