کتاب بلاوجہ- مصنف احمد سعید

Follow Shabnaama via email
گل نوخیز اختر

اللہ جانتا ہے مجھے آج تک نہیں پتا کہ ’’پرتگال‘‘ کہاں واقع ہے۔ بچپن میں کہیں معاشرتی علوم میں یہ نام پڑھا تھا ۔کچھ روز پہلے احمد سعید صاحب کا میسج آیا تو معلوم ہوا کہ ’’پرتگال‘‘ آج بھی کہیں نہ کہیں واقع ہے۔احمد سعید صاحب کو میں ذاتی طور پر نہیں جانتا، ان سے شناسائی صرف اِس ایک میسج تک محدود ہے جس میں انہوں نے لکھا کہ وہ اپنی طنزو مزاح کی کتاب’’بلاوجہ‘‘ مجھے بھیجنا چاہتے ہیں، یاد رہے کہ ’’بلاوجہ‘‘ ان کی کتاب کا نام ہے۔

کچھ دن بعد ان کی کتاب موصول ہوگئی۔میں نے یہ کتاب پڑھنا شروع کی تو میرے سارے رونگٹے کھڑے ہوگئے،اتنا اچھا اور نپا تلا مزاح ؟ مجھے شدید افسوس ہو اکہ اتنا اچھا مزاح نگار نہ صرف میڈیا کی نگاہوں سے اوجھل ہے بلکہ خود میں بھی ان کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں رکھتا۔ میں نے ان کی کتاب کا ایک ایک لفظ پڑھا اور بھرپور مزا لیا۔ یہ ایک اچھی ہی نہیں بہت اچھی کتاب ہے اور میں پورے دل سے احمد سعید صاحب کو بہترین مزاح نگار تسلیم کرنے پرمجبور ہوں۔ اس کتاب کے کچھ حصے ملاحظہ کیجئے!

*آٹھویں میں سیکنڈ پوزیشن آئی تو بڑی شرمندگی ہوئی کہ دس نمبروں سے پہلی پوزیشن رہ گئی۔میٹرک میں انتالیسویں پوزیشن آئی تو بہت خوشی ہوئی کہ تقریباً دس نمبروں سے فیل ہونے سے رہ گیا۔

*سلیکٹر صاحب نے ہر چیز سفید پہنی ہوئی تھی، مجھے وہ ’’بغلے بغلے‘‘ سے محسوس ہوئے۔

*دونوں لڑکیاں آپس میں بہنیں دکھائی دے رہی تھیں لیکن ان کا آپس کا رویہ بالکل بھابھی اور نند جیسا تھا۔

*ایک محترمہ سے ٹیوشن شروع کی تو کچھ ہی دن بعد مضمون سمیت مجھ میں بھی بہت سی تبدیلیاں رونما ہوگئیں، وقت پر آتا ، سبق یاد کرتا اور کچھ تیار ہوکر بھی آتا۔یہ تبدیلیاں تو آئیں لیکن کچھ دن بعد وہ نہ آئیں۔پتا چلا کہ ان کی شادی ہوگئی ہے اور اب وہ کبھی نہیں آئیں گی۔مجھے ایک استاد محترم کے سپرد کر دیا گیا۔کچھ دن میں آیا ، پھر میں بھی نہ آیا۔۔۔لیکن میرے نہ آنے کی وجہ میری شادی نہ تھی۔

*سنگا پور اتنا سا ملک ہے کہ اگر یہاں ایفل ٹاور ہوتا تو اس کے اوپر سے اس کے تمام ہمسایہ ممالک بھی نظر آتے۔

*سفاری پارک میں جانور کھلے پھر رہے ہوتے ہیں لیکن یہ کوئی بڑی بات نہیں، پاکستان میں سڑکوں پر ہی کھلے پھر رہے ہوتے ہیں۔

*بڑے بھائی کا پیرس میں ہونا ساس ہونے سے کم نہیں تھا اور میری حیثیت ان کے سامنے پرانی بہوؤں کی سی تھی جس پر انہوں نے ہر پل نظر رکھی ہوئی تھی ۔

*سپین اور پرتگال کا میوزک ایک جیسا ہے، زبان بھی تقریباً ایک جیسی ہے اور کپڑوں کا فیشن بھی ایک جیسا ہے یعنی نہ پہننے کا رواج ہے۔

*میں بچپن میں شاعر تو نہ تھا لیکن پھر بھی لوگ مجھے ’’مقرر مقرر‘‘ کہتے تھے ،پہلی تقریر میں نے جماعت چہارم میں کی۔

*نان حلیم سنتے ہی میرے منہ میں ’’نان حلیم‘‘ آجا تاہے۔

*گاڑی چلانی مجھے آگئی تھی، بس پیچھے کرنی اور گیراج میں کھڑی کرنی نہیں آتی تھی، سیدھی سیدھی میں بہت اچھی چلا لیتا تھا بس ذرا ٹریفک زیادہ نہ ہو بلکہ بالکل ہی نہ ہو تو پھر۔۔۔!!!

احمد سعید صاحب کا انداز بیان اور جملے کی knitting اتنی شاندار ہے کہ مجھے یقین ہے وہ مزاح نگاری کو سنجیدگی سے لیں تو میرے جیسے کئی ڈنگ ٹپاؤ مزاح نگاروں کا صفایا کر سکتے ہیں۔ان کے مزاح میں تازگی کے ساتھ ساتھ موضوعات کا تنوع بھی ہے، جملہ لکھتے ہیں تو ’’بلاوجہ‘‘ نہیں لکھتے اور بلاوجہ لکھیں تو اگلے ہی جملے میں اس کی وجہ بھی بیان کر دیتے ہیں۔میں ہنستی مسکراتی تحریریں لکھنے والوں کا عاشق ہوں، میرے لیے ہر مزاح نگار اس لیے بھی قابل احترام ہے کہ میں مزا ح کے درد سے آشنا ہوں۔احمد سعید صاحب کی کتاب پڑھ کر بے اختیار میرا دل چاہا کہ میں اس خوبصورت مزاح نگار سے آپ کو بھی ملواؤں۔یہ چونکہ خالص مزاح نگار ہیں اس لیے سنجیدہ جملے سے بھی مار دینے کا فن جانتے ہیں، ویسے بھی وہ مزاح نگار ہوہی نہیں سکتا جو جان نکال دینے والا سنجیدہ جملہ لکھنے پر قادر نہ ہو۔ ایک جگہ لکھتے ہیں’’پرتگالی زبان میں ساحل سمندر کو’’پرایا‘‘ کہتے ہیں، ٹھیک ہی کہتے ہیں ، ساحل کب اپنا ہوتاہے۔۔۔‘‘ایسے ہی کچھ اور شاندار جملے دیکھئے!!!

*پرتگال کے لوگ منفرد چیزوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں، خوبصورت چیزوں سے نہیں۔۔۔!!!

*یہاں ’’روسیو تھالبسن‘‘ کا علاقہ بہت مشہور ہے، آپ اس خوبصورت جگہ پر بیٹھ کرپرتگیزی کھانوں سے اپنے منہ کا ذائقہ خراب کر سکتے ہیں۔روسیو سے چند قدم شمال کی طرف بدنا م زمانہ علاقہ ’’مرتی مونیز‘‘ ہے، اس علاقے میں جانے کا راستہ تو مل جاتا ہے، آنے کا راستہ ذرا مشکل ہے۔

*رات ہم بہت دیر سے واپس ہوٹل پہنچے، اس بات سے بے خبر تھے کہ واپس چلے جانے کے بعد اس سفر کی کتنی یاد آئے گی، صبح ہمیں واپس لوٹنا تھا اور سچ ہے کہ واپس لوٹنا بہت دشوار ہوتاہے۔

فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے احمد سعید وطن سے دور ہیں لیکن ان کی تحریروں نے مجھے ان کے بہت قریب کر دیا ہے۔ان کی کتاب پر کسی سینئر ادیب کا فلیپ یا دیباچہ نہیں ہے، بہت اچھا لگا۔ تحریر اچھی ہو تو خود بولتی ہے اسے دوسروں کے سرٹیفیکٹ کی ضرورت نہیں پڑتی۔ احمد سعید 13سال سے سے مزاح لکھ رہے ہیں لیکن میری نالائقی کہ میں نے آج انہیں دریافت کیا۔ہمارے ہاں اکثر مزاح نگار جملوں کی پنچ لائن سے ناواقف ہونے کی بناء پر اچھے خاصے جملے کا بیڑا غرق کر بیٹھتے ہیں لیکن اِس ’’فیصل آبادی‘‘ مزاح نگار نے ہر جملے کو ناپ تول کر لکھا ہے، یقیناًاس میں فیصل آباد کی زندہ دلی کا بھی کمال ہے۔اتنی اچھی کتاب پڑھنے کے بعد میں ایک دم ریلیکس ہوگیا ہوں اور مجھے لگتا ہے کہ یہ کتاب مجھے اپنی الماری کے اُس حصے میں رکھنی پڑے گی جہاں رکھی کتابیں میں بار بار پڑھتاہوں۔ احمد سعید صاحب! آپ ایک باقاعدہ مزاح نگار ہیں ، اپنا یہ سفر جاری رکھئے، میں نے آپ کی کتاب پڑھ کر بہت کچھ سیکھا ہے۔آپ جیسے لوگ تخلیقی صلاحیتوں سے مالا مال ہیں۔ اردو ادب میں میں مزاح نگاروں کی تعداد سفید شیروں کی طرح انتہائی خطرناک حد تک کم ہوتی جارہی ہے، ایسے میں آپ کی آمد سے حوصلہ پیدا ہوا ہے کہ قارئین کو بہت اچھا متبادل مل گیا ہے۔جن احباب کو مزاح پڑھنے کا شوق ہے ان سے میری گذارش ہے کہ ضرور یہ کتاب پڑھیں اور خرید کر پڑھیں ۔کاش میں یہ پوری کتاب کالم میں چھاپ سکتا، یقین کیجئے بہت انجوائے کیا۔

Citation
Gul-e-nokhaiz, “بلاوجہ,” in Daily Nai Baat, April 20, 2015. Accessed on April 20, 2015, at: http://www.naibaat.pk/archives/sp_cpt/%D8%A8%D9%84%D8%A7%D9%88%D8%AC%DB%81

Disclaimer
The item above written by Gul-e-nokhaiz and published in Daily Nai Baat on April 20, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on April 20, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Gul-e-nokhaiz:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s