علامہ اقبال سے منیب اقبال تک علامہ کے پوتے منیب اقبال کی باتیں

Follow Shabnaama via email
ناصر زیدی

س:مغربی ممالک میں کبھی اقبالؒ کے حوالے سے تعارف ہوا کہ آپ اُن کے پوتے ہیں؟
ج:جی ہر جگہ پر مجھے خود حیرانی ہوتی تھی کہ جب میں اپنا نام بتاتا تھا تو اکثر لوگ مجھ سے پوچھتے تھے، علامہ سے نسبت کے حوالے سے۔ منیب اقبال میرا نام ہے تو میرا نام پورا سن کر بڑی بڑی عجیب عجیب جگہوں پر، مجھے اچھی طرح یاد ہے ایک مرتبہ رات کے وقت ایک دکان میں گیا، کافی لیٹ، تو جو دکاندار تھا اس نے مجھ سے کسی بات پر گفتگو شروع کر دی۔ اُردو زبان میں اس نے مجھ سے پوچھا کہ کہاں سے آئے ہو ؟میں نے کہا پاکستان سے اُس نے پوچھا آپ کا کیا نام ہے تو میں نے اپنا نام بتایا، یہ کوئی رات کے 2 یا 3 بجے کا وقت ہوگا تو ان صاحب نے کہا اچھا Are you related to Allama Iqbal پاکستان کے شاعر جو ہیں۔ آپ ان کے رشتہ دار ہیں ۔میں بہت حیران ہوا کہ آپ کو کیسے پتہ ہے تو انہوں نے کہا کہ میں ایک اسکالر ہوں اور پی ایچ ڈی کر رہا ہوں اور یہاں پر رات کو پارٹ ٹائم نوکری کر رہا ہوں پیسے کمانے کے لئے اور میں نے تو کافی ریسرچ کی ہوئی ہے علامہ اقبالؒ پر۔ اور پھر اس کے بعد وہ ایک گھنٹے تک مجھ سے علامہ اقبالؒ ہی کے بارے میں گفتگو کرتا رہا اور اسی طرح امریکا اور انگلستان میں بھی مجھے ایسے لوگ ملے جو اقبالؒ کے ساتھ شناسائی رکھتے تھے۔

س:اچھا آپ کو معلوم ہے ایرانی علامہ اقبالؒ کو اقبال لاہوری کہتے ہیں اقبالؒ کا جتنا کلام ایران میں پہنچا ہے خصوصی طور پر فارسی کلام اتنا اور ملکوں میں نہیں پھیلا؟
ج:جی اب کچھ سنٹرل ایشیامیں بھی رجحان ہو رہا ہے اور سینٹرل ایشیا کی جو سب سے افسوس ناک بات ہے یہ ہے کہ وہاں سویٹ یونین کے دور میں اسکرپٹ کو فارسی سے تبدیل کر کے رُوسی میں کر دیا گیا تو وہاں پر پڑھنا تھوڑا مشکل ہو گیا۔ سینٹرل ایشیا میں بھی جو، اب ایک اسلامی رد عمل ہو رہا ہے ایک انقلاب آ رہا ہے وہ پرانے روس کی چیزوں سے علیحدہ ہو رہے ہیں تو وہ بھی علامہ صاحب کی طرف رجوع کر رہے ہیں کیونکہ بنیادی طور پر ان کی زبان فارسی سے بہت ملتی جلتی ہے۔

س:آپ کے والدِ گرامی جسٹس جاوید اقبال صاحب تو بہت لیکچر دیتے رہتے ہیں، ٹی وی سے اور مختلف اداروں سے ۔۔۔ اقبالؒ کا جو تصور ہے مردِ کامل کا اور مردِ مومن کا اس تصور کو راسخ کرنے کے لئے ایک نوجوان کی حیثیت سے آپ کیا سوچتے ہیں؟
ج:میں تو کوشش ہی کر سکتا ہوں اور ہر ایک کو مشورہ دوں گا کہ وہ بھی علامہ کا مرد مومن اور شاہین بننے کی کوشش کرے۔ دیکھیں زندگی میں اُتار چڑھاؤ اور مشکلیں تو آتی ہی رہتی ہیں۔ پرانا دور ایک مشکل دور تھا اور ہماری خوش قسمتی کہ ہمیں بنا بنایا پاکستان مل گیا۔ اُن لوگوں کے لئے آپ اندازہ کریں جو مسلمان اُس دور میں رہتے تھے۔ ان سے پہلے ایک سکھوں کا دور تھا 1850ء تک جب مسلمانوں کو لاہور میں اذان دینے اور مسجد میں با جماعت نماز ادا کرنے کی اجازت بھی نہیں تھی۔ وہ بھی جو دور گزرا ہے، مشکل تھا ابھی تو اُس کے مقابلے میں آسانی ہے پر مشکلات کا سامنا تو اب بھی ہے۔ میں تو سارے نوجوانوں کو کہوں گا کہ آپ بھی اپنے اندر ویسا ہی جذبہ پیدا کریں وہی فکر پیدا کریں۔ جو علامہ صاحب نوجوانوں میں چاہتے تھے وہ اقبالؒ کے شاہین بنیں۔

س:اتنے بڑے گھرانے سے تعلق ہونے کی نسبت سے آپ کو فوائد تو ہوتے ہی ہوں گے کبھی مشکلات پیش آئیں؟
ج:جی ہاں مشکلات پیش آئیں ۔ دیکھیں اسلام اور پاکستان کے جو دشمن ہیں وہ علامہ صاحب کے بھی دشمن بن جاتے ہیں اور ہر معاشرے میں حاسد بھی ہوتے ہیں تو ان کا سامنا تو کرنا پڑتا ہے آپ ہر قت کسی کو خوش نہیں رکھ سکتے، بات سوچ سمجھ کر کرنا پڑتی ہے۔

س:علامہ اقبالؒ سے منسوب ایک شعر بڑا مشہور ہے:
تندئ بادِ مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لئے
ج:یہ تو علامہ اقبالؒ کا ہے ہی نہیں۔

س:جی یہ نہیں ہے مگر پہلی بار آپ کے والد گرامی سے یہ غلطی فیصل آباد بار روم میں ہوئی اس وقت میں وہاں موجود تھا اور میں نے ان کو بتایا کہ یہ شعر صادق حسین شکر گڑھ کا ہے جن کے تین بیٹے سی ایس پی ہوئے ۔اچھا بتایئے علامہ صاحب کے گھر سے جو چیزیں آپ کو ورثے میں ملیں آپ نے ان کا کیا کیا؟
ج:جی میرے پاس تو علامہ اقبالؒ کی کئی اشیاء ہیں اور دریافت ہوتی رہتی ہیں۔ جب علامہؒ صاحب نے وفات پائی تو میرے والد 14 سال کے تھے علامہ صاحب اپنی زندگی میں گارڈین کا سلسلہ بنا گئے تھے، تاکہ میرے والد اور پھوپھی کو کوئی مشکلات نہ ہوں۔ ان گارڈینز نے فائلوں کے اندر ایک ایک چیز کا ریکارڈ رکھا ہوا تھا اور وہ فائلیں ایک کمرے میں رکھی تھیں جن میں علامہ صاحب کے ہاتھ سے لکھے ہوئے کاغذات ہیں اور کئی مشہور لوگوں کے خطوط ہیں۔میں ان میں سے ابھی تک 40 فی صد فائلوں ہی کو صرف چھانٹ سکا ہوں ان میں سے مجھے ایسی ایسی چیزیں ملی ہیں کہ میں دنگ رہ جاتا ہوں۔ والدصاحب نے اتفاق سے وہ فائلیں کبھی کھولی ہی نہیں، وہ جب پڑھ کر آئے تو وہ فائلیں ان کے حوالے کر دی گئیں کہ یہ آپ کے بچپن کا سارا ریکارڈ ہے۔ اس میں مجھے علامہ صاحب کا اصل وصیت نامہ بھی ملا، اور کئی فیملی سے وابستہ باتیں۔ جیسے میری پھوپھی کے لئے علیحدہ سے زیورات اور دوسری چیزیں درج کر رکھی ہیں۔ کیونکہ میری دادی تو پہلے ہی وفات پا چکی تھیں تو انہوں نے اپنے ہاتھ سے فہرست بنائی ہوئی تھی اور اس پر لکھا ہوا ہے جب میری بیٹی مینرہ کی شادی ہو تو انہیں یہ چیزیں دے دی جائیں اور ان تمام چیزوں پر انہوں نے اپنے بھائی شیخ عطاء محمد سے گواہی کرائی ہوئی ہے اور پھر انہیں کاغذات پر شادی کے وقت میری پھوپھو نے رسید ڈالی ہوئی ہے اور ان کی ریسیونگ کی گواہی علامہ کے دیرینہ ملازم علی بخش نے دی ہوئی ہے۔ اسی طرح کے کئی کاغذ مجھے ملتے ہیں اور والد کی لائبریری میں جب کبھی علامہ صاحب کی دستخط شدہ کوئی کتاب مل جاتی ہے تو مجھے تو یوں لگتا ہے جیسے میری علامہ صاحب سے بالمشافہ ملاقات ہو گئی ہے۔

س:یہ تو واقعی آپ خزانہ لئے بیٹھے ہیں یہاں ایک بات یاد آئی یہ جو گارڈین ہیں جب علامہ صاحب کی وفات ہوئی تو پہلا کام انہوں نے یہ کیا کہ وہ کمرہ بند کروا دیا کہ جو لوگ جنازے پر آئیں گے تو یہاں سے کوئی چیز ہلے نہ، غائب نہ ہو۔ تو ایک تو گارڈینز کا اور علی بخش کا یہ کمال ہے اور ایک آپ نے ان چیزوں کو محفوظ رکھا، اس اثاثے کو ،مگر اب ان کو سامنے لانا چاہئے۔
ج:جی آہستہ آہستہ آئے گا، اصل میں علامہ اقبالؒ صاحب کی جو بیاضیں تھیں یا دیگر چیزیں، وہ تو میرے والد نے پہلے ہی حکومت کے حوالے کر دی تھیں۔ وہ جاوید منزل کے میوزیم میں پڑی ہوئی ہیں۔ جو گھر تھا وہ حکومت نے ایکوائر کر لیاتھا مگر جو اشیاء ہیں وہ ابھی تک ہماری ملکیت ہیں۔ والد صاحب نے ان کے حوالے سے ایک ٹرسٹ بنایا ہوا ہے جن کا اب مجھے ٹرسٹی بنا دیا گیا ہے تو ایک طرح سے علامہ صاحب کی ساری اشیاء کا اب میں مالک ہوں۔ جو میوزیم میں ڈس پلیسڈ ہیں اور یہ جو چیزیں ہیں جو میں آپ کو بتا رہا ہوں یہ میرے والد صاحب کی نظر سے گزری ہی نہیں اگر گزر جاتیں تو وہ بھی انہیں میوزیم میں جمع کرا دیتے پر یہ میں اپنی طرف سے کنٹری بیوشن دے دوں گا نوجوانانِ اسلام اور نوجوانانِ پاکستان کو۔

س:تاریخِ اسلام پر گہری روشنی پڑتی ہے کلام اقبالؒ کو پڑھنے سے، مگر میں یہ سمجھتا ہوں کہ علامہ ایک لبرل انسان تھے، روشن خیال تھے، اپنے دور کے۔ آپ کیا سمجھتے ہیں ان کے خیالات کو؟
ج:ایک بات یاد رکھیں جو بھی شخص اپنی تاریخ کو یاد نہیں رکھتا اس کی یہی سزا ہوتی ہے کہ اس کو اپنی تاریخ بار بار دہرانا پڑتی ہے تو علامہ صاحب کا جو اپنی تاریخ کے متعلق وسیع مطالعہ تھا خصوصی طور پر اندلس اور مختلف خلافتوں، خلفاء راشدہ کے بعد مسلمانوں کا جو سلسلہ چلتا رہا اس پر علامہ صاحب کی بڑی گہری نظر تھی،گہرا مطالعہ تھا اور مسلمانوں کے جو عروج کے واقعات تھے۔ انہوں نے سلطان محمود غزنوی کو ایک رول ماڈل کے طور پر اپنے اشعار میں استعمال کیا ہے۔

س:مسولینی پر بھی تو نظم لکھی۔
ج:جی ہاں مسولینی پر جو نظم لکھی گئی وہ اُس دور میں لکھی گئی جب وہ اسے مغرب کا ایک اُبھرتا ہوا لیڈر سمجھتے تھے یہ نظم ورلڈ وارٹو سے بہت پہلے کی ہے۔

س:وہ مسولینی کو ملنے گئے، اور وہ ملاقات کہیں 3 منٹ کہیں 6 منٹ کہیں آدھ گھنٹے اور کہیں 40 منٹ تک پھیل گئی۔
ج:اس ملاقات کا کہیں کوئی فکس ریکارڈ نہیں ہے۔

س:اچھا اگر ملاقات ہوئی مسولینی سے، تو اُسے کیا پتہ کہ اتنا بڑا شاعر، شاعر مشرق یہاں بیٹھا ہوا ہے، وہ نہ اُردو جانتا تھا، نہ فارسی جانتا تھا نہ ہی انگریزی ان دنوں اتنی زیادہ حاوی تھی۔
ج:جی اُن دنوں اٹلی میں بھی مسلمانوں کی کچھ آبادیاں تھیں اور اس حوالے سے علامہ اور مسولینی کے جو سوالات اور جوابات ہوئے تھے وہ غالباً کچھ اسی نوعیت کے تھے۔ ’’زندہ رود‘‘ میں میرے والد صاحب نے جو سوانح حیات لکھی ہوئی ہے اس میں یہ سب کچھ موجود ہے۔

س:اب دُنیا میں 200 کے قریب ممالک ہیں پوری دنیا میں آپ کیا سمجھتے ہیں کہ علامہ کا نام کن کن ملکوں میں پہنچا ہوگا؟
ج:دیکھیں جی اب تو ایک فرق آ جاتا ہے کیوں کہ آپ انہیں اب اسٹیٹ لیول پر سامنے لاتے ہیں، جو بھی غیر ملکی سربراہان آتے ہیں ان کو علامہ کے مزار پر حاضری کے لئے لے جایا جاتا ہے، تو اس طرح سے اب علامہ کی مشہوری ایک اور زاویے سے ہے۔پہلے علامہ کی پروجیکشن ان کی ذات اور علمیت کی وجہ سے تھی، مگر اب اسٹیٹ ان کو روشناس کراتی ہے، شاعر اسلام اور مفکر پاکستان کے نام سے ،حکیم الامت کے نام سے اب ذرا ایک فرق ہے۔(جاری ہے )

Citation
Nasir Zaidi, ” علامہ اقبال سے منیب اقبال تک علامہ کے پوتے منیب اقبال کی باتیں ,” in Daily Pakistan, April 18, 2015. Accessed on April 18, 2015, at: http://dailypakistan.com.pk/columns/18-Apr-2015/214823

Disclaimer
The item above written by Nasir Zaidi and published in Daily Pakistan on April 18, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on April 18, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Nasir Zaidi:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s