زمانے میں ایسے بھی کچھ نادان ہوتے ہیں

Follow Shabnaama via email
محمد ساجد خان

میں حال اور مستقبل کے بارے میں خاصی تشویش میں رہتا ہوں۔ میرا بنیادی سوال یہ ہوتا ہے کہ ایسا کیوں ہے اور کیا ہوگا؟ روزانہ کتنے لوگوں سے ملاقات رہتی ہے اور کتنے صرف ملتے ہیں۔ سب ہی مجھ سے متفق ہیں کہ ایسا کیوں ہے؟ کچھ صاحب علم اس کا جواب تو نہیں دیتے کہ ایسا کیوں ہے مگر کیا ہوگا کا جواب شافی ہوتا ہے۔ ایک عام سا فقرہ جو صرف وہ لوگ کہتے ہیں جو بالکل نہیں سوچتے ایسا کیوں ہے! اور کیا ہوگا؟ وہ بس ایک ہی بات کہہ کر بات ختم کردیتے ہیں۔ جو ہوگا منظور خدا ہوگا۔ سبحان اللہ۔ ایمان اور اعتقاد کی بات ہے۔ عقیدہ کچھ بھی ہو۔ جو ہوگا منظور خدا ہوگا یعنی ہم کو بھی منظور ہوگا۔ دوسری صورت میں اس کو کہنے والے کہتے ہیں۔

پیوستہ رہے شجر سے امید بہار رکھ!
چند دن پہلے دوست نواز مہربان افضال احمد کا فون آیااور خبر دی کہ پروفیسر احمد رفیق اختر راستے میں ہیں۔ ملاقات ہوسکتی ہے۔ اگر چاہو تو میں حیران اور خوش تھا۔ پروفیسر احمد رفیق اختر میرے پسندیدہ مصنف ہیں۔ ماضی میں ان سے چند ملاقاتیں بھی رہیں۔ ان کی گفتگو بہت ہی سادہ۔ پھر وہ دوسروں کو بھی سنتے ہیں۔ میں ان خیالوں میں گم تھا کہ افضال صاحب نے خاموشی توڑی اور دوبارہ پوچھا۔ تو پھر کیا پروگرام ہے؟ میں ذرا سا ہربڑا سا گیا۔ ٹھیک ہے میں بھی آرہا ہوں کب تک آسکتا ہوں۔ ادھر سے جواب آیا تو آپ نکل آئیں۔ پروفیسر صاحب بھی بس آنے ہی والے ہیں۔ فون بند ہوگیا۔ میں جانے کے لئے تیار ہونے لگا۔

جب میں وہاں پہنچا تو پروفیسر احمد رفیق اختر براجمان تھے۔ پروفیسر احمد رفیق اختر ایک عرصہ لاہور میں رہے۔ ان کے زمانہ کا لاہور ایک ادبی لاہور تھا۔ اگر اس زمانہ کے ادبی لوگوں کا ذکر کیا جائے تو اشفاق احمد، بانو قدسیہ، واصف علی واصف، ممتاز مفتی، قدرت اللہ شہاب، انتظار حسین، حنیف رامے، غرض کہ لاہور ایک مکمل ثقافتی شہر تھا۔ اس شہر میں ادب کے اتنے بڑے ولی آتے جاتے رہتے تھے۔ اس زمانہ میں ابھی بابوں کا زیادہ چلن نہیں تھا۔ فقط اشفاق احمد کو شوق تھا کہ وہ بابے کو تلاش کریں اور مخلوق خدا کو امتحان میں ڈالیں۔ اشفاق احمد کی کتاب ’’کھیل تماشا‘‘ جو ایک طرح سے ان کی ملی جلی جگ بیتی ہے۔ اس میں ان کے اسلوب میں صوفیانہ رنگ آیا اور بابے کی حیثیت کا تعین ہوا۔ مگر اس زمانہ کا کوئی بابا آج کے بابے کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔

اب تو اس شہر بے مثال میں صاحب کشف اور بابوں کی بھرمار ہے۔ کئی قطب۔ درویش، صوفی، فقیر اب تو ہر چینل پر نظر آتے ہیں۔ ان کے میزبان۔ ان صاحب نظر لوگوں سے پوچھنے کی بجائے ان کو ٹٹولتے ہیں۔ بات تصوف کی کرتے ہیں روحانیت میں سے اسلام کو نکالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ایسے پروگرام اصل میں خلق خدا کی آزمائش ہوتی ہے۔ بس ذرا آزمائش کی رسم بدل سی گئی ہے۔ پتا نہیں انسان کیوں بھٹک جاتا ہے۔ میں سوچوں میں الجھا اور خیالوں میں گم تھا کہ پروفیسر صاحب نے کمال مہربانی سے حال احوال پوچھا تو میں ان کی دنیا میں آگیا۔

میری پروفیسر احمد رفیق اختر سے پہلی ملاقات بہت سال پہلے ان کے لیکچر کے حوالہ سے ہوئی۔ مال روڈ پر آرٹس کونسل کی عمارت جس پر آجکل ادبی مشیر جناب عطاء الحق قاسمی کا دفتر اور افسر شاعر کیپٹن عطا کا قبضہ ہے۔ اس کے ایک ہال میں مخلوق خدا امڈی ہوئی تھی۔ لیکچر کے بعد سڑک پار ایک ہوٹل میں پروفیسر احمد رفیق اختر کے ساتھ ملاقات رہی۔ میرے بھائی مرحوم کرنل طارق میرے ساتھ تھے۔ زیادہ گفتگو ان کی کتب کے حوالہ سے ہوئی۔ اب ہم دونوں بھائی ان کے متاثرین میں سے تھے۔

میرا بھائی کرنل طارق ایک سادہ منش اور بندہ پرور انسان تھا۔ 2000ء میں فوج سے فارغ ہونے کے بعد اس نے سوچا کہ وکالت کی جائے قانون کی ڈگری وہ دوران فوجی ملازمت حاصل کر چکا تھا۔ اس نے سب سے پہلے کام کے لئے بات پنجاب ہائی کورٹ کے جج جناب جسٹس عبدالسمیع خان سے کی۔ جسٹس سمیع بھی کمال کے وکیل تھے۔ اللہ پر بڑا توکل۔ پھر محنت اور مشقت بھی خوب کی۔ فرسٹ کلاس کرکٹ اور قومی کرکٹ بھی کھیلیں، کرکٹ بورڈ سے وابستہ رہے۔ کرکٹ ریفری کی حیثیت سے نام کمایا، بورڈ کے سربراہ اعجاز بٹ نے جب کرکٹ کی تنظیموں کے الیکشن کا منصوبہ بنایا تو سمیع خان کو الیکشن کمشنر مقرر کیا۔ بات کہاں سے کہاں نکل گئی۔ کرنل طارق نے وکالت تو نہ کی مگر پنجاب پبلک سروس کمیشن کا امتحان دے کر محکمہ جیل میں سپرنٹنڈنٹ جیل بن گئے۔ یہ نوکری بھی ان کا امتحان ہی بنی رہی۔ ابتدائی سالوں میں استعفیٰ دے دیا جو منظور نہ ہوا۔ جیل کے ٹریننگ سینٹر کے پرنسپل بن گئے۔ صاف ستھری ملازمت کی۔ جیل کے محکمہ کے لوگ حیران تھے کہ نوکری کرتے ہیں چاکری نہیں۔

ہم دونوں بھائیوں کا مشترکہ شوق کتاب بینی تھا۔ میں کوئی کتاب ان کی نذر کرتا ا ور حاصل مطالعہ کے بعد بات ہوتی۔ ایک دفعہ میں نے ان کو بابا محمد یحییٰ خان کی مشہور زمانہ کتاب ’’پیا رنگ کالا‘‘ پڑھنے کو دی۔ اب تو اس کا انگریزی ترجمہ بھی آچکا ہے۔ کرنل طارق نے کتاب کو پڑھنے کے بعد مجھے چند سوال لکھ کر دیئے کہ اس سلسلہ میں مصنف سے بات کرنی ہے اور میں حیران تھا کہ سوالوں کی نوعیت پر۔ بابا جی پر لفظوں کی پرکاری ختم ہے۔لفظ کے حوالے سے سوال تھا۔ اونٹ کے حوالہ سے ایک لفظ تھا۔ جس کا مطلب کچھ واضح نہیں تھا۔ میں نے صاحب کتاب محمد یحییٰ خان سے ایک ملاقات میں ذکر کیا اور سوال بتایا۔ تو جواب کیا آیا۔ واہ جب اونٹ خوش ہوتا ہے مسکراتا ہے تو اس وقت اس کا رویہ اور کردار جو ہوتا ہے اس تناظر میں وہ لفظ ادا کیا جاتا ہے۔ ’’پیا رنگ کالا‘‘ حیرتوں سے بھرپور کتاب ہے اور ادب میں ان کا اسلوب اس وقت سب سے مختلف اور منفرد ہے۔ ان کی کتاب میں کہانی اور قصہ کبھی ختم نہیں ہوتا۔ زندگی چلتی رہتی ہے۔ بس کردار اور زمانہ بدلتا ہے۔ میرا بھائی پروفیسر احمد رفیق اختر اور بابا محمد یحییٰ خان کی تحریروں کا دلدادہ تھا مگر اللہ کو کیا منظور تھا کہ اس نے اس کو بلا لیا۔

میرابھائی میرا خیال تھا کہ خواب ہوا شکر ہے خواب مٹتے نہیں۔ خیال جاتے نہیں۔

اس نے اپنا بنا کر چھوڑ دیا
کیا اسیری ہے، کیا رہائی ہے!

میں واپس اپنی دنیا میں آتا ہوں۔ پروفیسر احمد رفیق اختر کے روبرو ہو کر ان کی طر ف دیکھ رہا ہوں۔ وہ میرے چہرے اور آنکھوں میں سوال کو پڑھ رہے ہیں۔ اور میں آہستہ آہستہ سوال کرتا ہوں پاکستان کا کیا بنے گا؟ ہم کس طرف جارہے ہیں۔ان کے چہرہ پر ایک مسکان ہے اور گویا ہوئے۔ پاکستان ہے اور رہے گا اور بہت ہی اچھا ہوگا۔ حالات بدل رہے ہیں، بہتری نظر آرہی ہے، ہوسکتا ہے رفتار کم ہو۔ مگر پاکستان کی حیثیت مستحکم ہے۔ میرا پھر سوال تھا کہ فوج اپنا کردار ٹھیک ادا کررہی ہے۔ وہ ذرادیر کو خاموش لگے۔ مگر پھر فوراً بولے ہاں فوج اپنا کردار بہتر انداز میں ادا کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ اس کو سماج اور معیشت کی خرابیوں کا اندازہ ہے اور وہ اور اس کے لوگ اس مرحلہ پر پاکستان کے لئے خوش دلی اور حب الوطنی سے کام کررہے ہیں سب کی سنتے ہیں اور کچھ کچھ کہتے بھی ہیں اس لیے مایوس ہونے کی ضرورت نہیں۔ میں نے پوچھا پھر یہ سیاسی لوگ! تو ان کا جواب تھا
زمانے میں ایسے بھی کچھ نادان ہوتے ہیں

Citation
Muhammad Sajid Khan, ” زمانے میں ایسے بھی کچھ نادان ہوتے ہیں,” in Jang, April 18, 2015. Accessed on April 18, 2015, at: http://beta.jang.com.pk/akhbar/%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%92-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%A7%DB%8C%D8%B3%DB%92-%D8%A8%DA%BE%DB%8C-%DA%A9%DA%86%DA%BE-%D9%86%D8%A7%D8%AF%D8%A7%D9%86-%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%92-%DB%81%DB%8C%DA%BA/

Disclaimer
The item above written by Muhammad Sajid Khan and published in Jang on April 18, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on April 18, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Muhammad Sajid Khan:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s