کامنا پرشاد، پٹنہ اور خدا بخش لائبریری

Follow Shabnaama via email
کشور ناہید

ہوا یہ کہ اسلام آباد سے لاہور گئی تو شدید بارش تھی۔ لاہور سے دہلی پہنچی تو ادِھر لاہور، اُدھر دہلی میں بارش تھی۔ دہلی میں مشاعرے سے پہلے بارش، مشاعرے کے دوران بادل بھی شاعروں کو سنتے رہے۔ مشاعرے کے بعد بارش نے اپنا لباس اتارنا شروع کردیا، یہی حال پٹنہ میں ہوا کہ رخصت ہونے لگے تو بہت سے لوگوں کے علاوہ، بارش بھی شامل ہوگئی۔اس سفر کا عنوان کیا تھا۔ جشنِ بہار، کامنا پرشاد، اسلام آباد کیا پورے ہندوستان کی جانی پہچانی شخصیت ہیں۔ وہ حسین صاحب کی زندگی تک تو ان کے بنائےہوئے نت نئے بیک ڈراپ سے اسٹیج آراستہ کرتی تھیں۔ اب وہ محفوظ کئے بیک ڈراپ کو درمیان میں رکھ کر مشاعرے کے لئے اسٹیج آراستہ کرتی ہیں۔ شاعروں کو صرف گانے والوں تک محدود نہیں رکھتی ہیں بلکہ شعر کی نزاکتوں کو سامنے رکھ کر وہ شاعروں کو مدعو کرتی ہیں۔ہر انداز میں نزاکتِ شعری کو ملحوظ رکھتی ہیں سو ہوتا یوں ہے کہ شہر دلی کا ہر معروف شخص دل و جان سے مشاعرے میں نہ صرف شرکت کرتے ہیں بلکہ محبت کے ساتھ منتظم مشاعرہ کا ساتھ دیتے ہیں۔ اسی مشاعرے میں تمام اردو کے اساتذہ اور کلدیپ نیر، گوہر رضا جیسے امن پسند لوگوں سے ملاقات اور گفتگو کرنے کا موقع ملا۔ کامنا مشاعرے سے ایک گھنٹہ پہلے پریس اور میڈیا کے تمام لوگوں کو ملانے کا بندوبست کرتی ہیں۔ یہ کمال لطف انگیز مکالمہ ہوتا ہے، چاروں طرف کیمروں کی لائٹیں جھلملا رہی ہوتی ہیں اور اب ایک سوال کیا جانا بند ہوگیا ہے کہ سرحدیں مٹ جانی چاہیں یا شاید مجھ سے نہیں کرتے کہ میں منہ توڑ جواب دیتی ہوں کہ پاکستان میرا ملک ہے۔ البتہ پاکستانی سفارت خانے کا کوئی افسر مشاعرے میں شریک نہیں تھا۔دہلی جانے سے پہلے ہی میں نے کامنا سے درخواست کی تھی کہ مجھے تو کم از کم خدا بخش لائبریری دکھا دینا۔ یہ سنا تو سارے شاعر تیار ہوگئے مگر خوشبیر سنگھ نے کہا کہ پٹنہ تو گرو گوبند سنگھ کی پیدائش کے حوالے سے بھی مشہور ہے۔ ان کی سمادھی پر حاضری دی جانی چاہئے۔ ہم نے کہا کہ اردو، فارسی، سنسکرت پڑھے اس عالم سے ملنے تو ہم لوگ بھی چلیں گے۔ اب سے دو سال بعد ان کی سو سالہ برسی ہونے والی ہے۔ ابھی سے تیاریاں شروع تھیں مگر رش میں کوئی کمی نہیں تھی۔ راستہ بیچ شہر میں سے جاتا تھا۔ سارا اندرون شہر دیکھ لیا کہ کیسے عورتیں بیٹھی مچھلیاں کاٹ رہی ہیں۔ سبزیاں بیچ رہی ہیں تو کہیں وہ ناشتے کی چھوٹی چھوٹی پوریاں تل رہی ہیں۔ راستے میں امام باڑے اور مسجدیں بھی دیکھیں۔ اندرون شہر دیکھنے سے عوام کی غربت اور حکومت کی بے توجہی کا منظر نامہ بھی کھلا۔ لوٹے تو خدا بخش لائبریری میں امجد اسلام امجد ہمارے منتظر تھے اور ساتویں صدی عیسوی سے لے کر مغلوں کے دور تک کی منی ایچر پینٹنگ، مخطوطے اور بعد ازاں قرآن پاک کے نادر نسخے بھی آنکھوں کو روشن کرگئے۔

سنجیو صاحب جنہوں نے مشاعرے کے لئے اسکول آڈیٹوریم کے علاوہ تمام لوازمات کا اہتمام کیا تھا۔ ان کے نوجوان اساتذہ نے ململ کا کرتا اور دوپلی ٹوپی پہنی ہوئی تھی۔ سنجیو کے ہائی اسکول کی خاصیت یہ ہے کہ یہاں اردو پہلی کلاس سے پڑھائی جاتی ہے اور انہوں نے نہ صرف ہندوستان کےشمال ، جنوب، مشرق و مغرب میں ایک ایک اس طرح کا اسکول کھولا ہوا ہے بلکہ ہر سال اپنے گائوں کی بہتری کے لئے لاکھوں روپے خرچ کرتے ہیں۔ سنجیو، ظاہری طور پر بھی کھدر کا کرتا سفید پاجامہ اور چپل پہنے رہتے ہیں۔ میں ذہن میں ایسے اسکول قائم کرنے والے تلاش کرتی رہی۔ رضا کاظم اور سید بابر علی کے علاوہ مجھے اور کوئی نظر نہیں آیا۔ البتہ اسکول بزنس کرنے والے بہت لوگ سامنے آئے۔پٹنہ میں گنگا کا بہت چوڑا پاٹ نظر آیا۔ اس لئے مچھلی وافر مقدار میں مسلمان گھروں میں کھائی جاتی ہے۔ پٹنہ کامنا پرشاد کا آبائی شہر ہے۔وہ جب اپنے ڈرائیور سے بھوج پوری بول رہی تھیں تو پہلی دفعہ معلوم ہوا کہ اردو ان کی مادری زبان نہیں ہے۔ورنہ اتنی شستہ اردو تو بڑے بڑے پروفیسر نہیں بول پاتے ہیں۔ ان کے شوہر فرانس میں سفیر کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے ہیں۔ ان کے اندر وہ کروفر اور تنی ہوئی گردن نہیں ہے جو ہمارے افسروں میں عموماً پائی جاتی ہے۔دھیمے مزاج اور کرتا پاجامہ پہنے ہوئے، آہستہ آہستہ بولنے والے اس شخص نے 30برس سفارت میں گزارے ہیں۔ کامنا نے اپنی بڑی بیٹی جیا کو مولوی صاحب سے قرآن شریف بھی پڑھوایا ہے۔ یہ جذبہ میں نے ایک مسلمان لڑکی میں دیکھا کہ جس کی عمر صرف 13برس ہے۔ اس نے گیتا پڑھی اور 300طالب علموں کے مقابلے میں اوّل آئی۔ یہاں مسلمان رجعت پسندوں نے انگلیاں اٹھائیں مگر علم کی تحسین سارے ہندوستان کے اخباروں نے کی۔وسیم بریلوی ہندوستان کے مشہور شاعر ہیں جو ترنم میں بہت مقبول ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ جنوب کے علاقوں میں ہندو مسلم یگانگت کے لئے کام کررہے ہیں۔ پوچھا وہ کیسے تقسیم کے 67سال بعد بولے کہ ان علاقوں میں ہندو مسلم ایک دوسرے کے غم اور خوشی میں شریک ہونا تو درکنار بات بھی نہیں کرتے تھے۔ لندن کی طرز پر انہوں نے مراکز بنائے ہیں۔ جہاں دونوں مذہبوں کی عورتیں مل جل کر بیٹھتی ہیں، کھانا کھاتی اور گانا گاتی ہیں۔ پوچھا یہ ماحول صرف کھانا کھانے تک محدود ہے کہ اس سے آگے بھی کچھ تعلقات استوار ہوئے ہیں ان کا کہناتھا ، تعلقات بہتر ہورہے ہیں۔ جب کہ اشفاق حسین کا کہنا تھا کہ کیرالا کے علاقے میں تو سینکڑوں سلفی مسجدیں ہیں اور خواتین برقعے پہنتی ہیں۔مختلف علاقوں کی مختلف کہانیاں ہیں۔

Citation
Kishwar Naheed, ” کامنا پرشاد، پٹنہ اور خدا بخش لائبریری,” in Jang, April 18, 2015. Accessed on April 18, 2015, at: http://beta.jang.com.pk/akhbar/%DA%A9%D8%A7%D9%85%D9%86%D8%A7-%D9%BE%D8%B1%D8%B4%D8%A7%D8%AF%D8%8C-%D9%BE%D9%B9%D9%86%DB%81-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%AE%D8%AF%D8%A7-%D8%A8%D8%AE%D8%B4-%D9%84%D8%A7%D8%A6%D8%A8%D8%B1%DB%8C%D8%B1%DB%8C/

Disclaimer
The item above written by Kishwar Naheed and published in Jang on April 18, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on April 18, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Kishwar Naheed:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s