شاہدہ احمد کی زندگی اور اردو کے لیے جدوجہد

Follow Shabnaama via email
رضا علی عابدی

ماں کے بعد دوسر بڑا صدمہ بہن کے انتقال کا ہوتا ہے۔ وہ درد آشنا، دردمند، شریک درد، ہر کڑے وقت میں ہاتھ تھام لینے والی ہستی دنیا سے اٹھ جائے تو ہم دیکھتے ہی رہ جاتے ہیں اور پھر اُس جیسا کوئی نظر نہیں آتا۔ شاہدہ احمد بھی آخر خالقَ حقیقی سے جاملی۔ اس نے خدا جانے کتنے برس اپنی معذوری سے لڑتے لڑتے مگرجرات کے ساتھ زندہ رہتے ہوئے گزارے۔ ماہر معالج حیران تھے کہ جس لڑکی کے سراور ذہن کو چھوڑ کر بدن کے سارے ہی پٹھے بے جان ہو چکے ہیں وہ زندہ کیسے ہے۔ انہیں نہیں معلوم کہ شاہدہ کو بڑی عمر کی تمنّا نہیں، اپنے بڑے بڑے ارادوں کی تکمیل کی آرزو تھی۔ اسی آرزو نے اسے زندہ رکھا اور جب تک اس کے منصوبوں نے تکمیل کی منزل کو چھو نہیں لیا، اس کے لاغر جسم نے اس کے عزائم کی گٹھڑی اٹھائے عمر کا سفر جاری رکھا۔ پھر یہ ہوا کہ شاہدہ چل بسی۔ اس کی سانسیں اس کا ساتھ چھوڑنا چاہتی تھیں ، ڈاکٹروں نے اسے زندگی کو جاری رکھنے والی مشینوں سے منسلک کر رکھا تھا۔معالجوں کی رائے تھی کہ اب کچھ نہیں رہا لیکن شوہر کا ہاتھ اس کی نبض پر رہا۔ ڈاکٹر سمجھاتے رہے کہ مریضہ کو جانے دو، عزیز احمد اصرار کرتے رہے کہ زندہ رہنا اور کچھ کر کے چلنا اس کی سب سے بڑی خواہش تھی، کچھ دیر اور جینے دیا جائے۔ آخر وہی ہوا جو ہونا تھا۔ شاہدہ کی نبض ڈوب گئی، تب کہیں جاکر شوہر نے اس کا چہرہ چادر سے ڈھانپا۔ وہی مسلسل مسکرانے والا چمکتا دمکتا چہرہ جس پر پختہ ارادوں کا روپ رنگ ہر لمحہ جھلکتا تھا، بجھ سا گیا۔جس نے بھی شاہدہ کو جانا، وہ اسے اور اس کے’ آدرش‘ کو ہمیشہ یادرکھے گا۔ یہاں یہ ہندی لفظ میں نے جان بوجھ کے استعمال کیا ہے۔ سبب ذرا آگے چل کر لکھوں گا۔

شاہدہ سات بہنوں میں ایک تھی، ایک یوں بھی کہ قدرت نے اسے بے شمار صلاحیتوں سے نوازا تھا۔ اس میں لکھنے لکھانے کا ہنر کوٹ کوٹ کر بھرا تھا۔ ابھی وہ تیس سال کی بھی نہیں ہوئی تھی کہ اس نے خواتین کا ایک ضخیم ناول لکھ ڈالا۔ اسی دوران عزیز احمد سے اس کی شادی ہوئی، یہاں قدرت نے اپنا اعجاز دکھایا اور اسے ایسا شوہر عطا کیا جسے شاہدہ کا بدن بے جان ہوجانے کے بعد اس کے جسم کا کردار ادا کرنا تھا اور وہ بھی سر جھکا کر،خاموشی سے، کوئی شکوہ نہ شکایت۔ تیس سال کی عمر میں شاہدہ اپنے شوہر کے ساتھ لندن آگئی۔ ان دنوں بی بی سی کی اردو سروس اپنے عروج پر تھی اور انور خالد مرحوم بش ہاؤس سے خواتین کا پروگرام برگِ گُل پیش کیا کرتے تھے۔ انہوں نے شاہدہ کو یوں دریافت کیا کہ لڑکی کو براڈکاسٹنگ کا ذرا سا تجربہ نہ تھا لیکن اس نے مائیکروفون پر لب کھولے تو یوں لگا کہ پیدائشی براڈکاسٹر ہے۔ میں نے اپنی بیگم کو بتایا کہ بش ہاؤس میں ایک بہت خوب صورت لڑکی آئی ہے۔ اس کے بعد دونوں کی ملاقات ہوئی اور پھر جو رشتہ قائم ہوا وہ مثالی بن گیا۔

شاہدہ لاہور سے آئی تھی اور وہ بھی خالص لاہوری مزاج لے کر۔ اُس نے لندن آتے ہی ایک میلہ لگا لیا۔ وہ جس مکان میں بھی رہی وہاں محفلیں سجنے لگیں اور نشستیں آراستہ ہونے لگیں۔ ہرشاعر اور ادیب جو لندن آتا، شاہدہ کے گھر پر اس کا پڑاؤ ضرور ہوتا۔ کبھی ادبی نشست ہوتی اور کبھی مشاعرہ، کبھی گوپی چند نارنگ کے ساتھ بیٹھک ہوتی تو کبھی ظ انصاری مرحوم کے ساتھ۔ ایک روز بلاوا آیا کہ پروین شاکر آرہی ہیں، ایک دن خبر آئی کہ حلیم کی دیگ تیار ہے اور امجد اسلام امجد آنے کو ہیں، فوراً آجاؤ۔ مشتاق احمد یوسفی اور زہرہ نگاہ شاہدہ کی دلجوئی کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھتے۔ ہر اچھے برے موسم میں اس کے بلانے پر ہم اور افتخار عارف جاتے ضرور تھے۔ ہم دونوں کو شاہدہ نے ایسا بھائی بنایا کہ ایک روز اپنی کسی تحریر میں اس نے مجھے منہ بولا بھائی لکھا تو مجھے عجب سا لگااور میں نے کہا کہ معلوم ہوتا ہے منہ دیکھے کا بھائی۔ اس نے جھٹ منہ بولا کے الفاظ کاٹ دیئے۔ اسی دوران شاہدہ نے برگِ گُل کے نام سے ایک ادبی تنظیم بنالی اور اس کی نشستیں گھر سے نکل کر لندن کی چھوٹی بڑی جلسہ گاہوں میں منتقل ہو گئیں۔ ایک سال لندن کی تاریخی شبِ موسیقیProms میں اعلان ہوا کہ ایک پوری رات ہندوستان کی کلاسیکی موسیقی کے لئے مخصوص ہوگی جو صبح کے راگ پر ختم ہوگی۔ شاہدہ اور اس پر جان چھڑکنے والے شوہر عزیز احمد نے گھر میں بہترین ریڈیو کا انتظام کیا اور ہم لوگوں نے رات بھر جاگ کر جتنی بے مثال موسیقی سنی اتنی ہی لاجواب کشمیری چائے پی۔ شب کا اختتام بھیروی کی گائیکی اور نہاری کی دیگ پر ہوا۔

شاہدہ کا افسانہ نگاری کا جن بوتل سے باہر نکل آیا اور اس نے اپنی لکھی ہوئی کہانیوں کے دو مجموعے ترتیب دے ڈالے۔ اردو کو فروغ دینے کی جو دھن اس کے سر میں سمائی ہوئی تھی اس نے شاہدہ کو چین سے بیٹھنے نہ دیا۔ وہ کہیں سے بھاری بھرکم چھاپہ خانہ اٹھالائی اور گھر کے ایک غسل خانے میں پریس لگا دیا۔ یہی نہیں۔ اس نے برطانیہ میں لکھے جانے والے اردو افسانوں کا ایک انتخاب بھی شائع کر ڈالا۔

پھر اس کے سر میں اردو تھیٹر کو بڑھاوا دینے کا سودا سمایا۔ شاہدہ نے ’صدائے کشمیر‘ جیسے دو تین بھاری بھرکم ڈرامے لکھے اور اپنی ہی ہدایات میں پیش کئے۔ اس سے پہلے ممبئی تھیٹر کے شمیم احمدلندن میں ڈراما کر رہے تھے۔ شاہدہ نے اس میں اداکاری شروع کردی۔مجھے یاد ہے ، وہ ایک ڈرامے میں حصہ لے رہی تھی جس کا نام ’اس منجھدھار میں ‘ تھا۔ ایک سین میں اسے فرش پر بیٹھنا اور پھر اٹھنا تھا۔ ہم نے جو تماشائیوں کی نشست پر بیٹھے تھے محسوس کیا کہ شاہدہ سے اٹھا نہیں گیا۔ وہ اس کے مرض کی پہلی علامت تھی۔ ماہر ڈاکٹروں نے دیکھا تو بتایا کہ اس مرض میں جسم کے پٹھے ایک ایک کرکے بے جان ہوتے جاتے ہیں اور اکثر اوقات مریض بستر پر پڑا پڑا صرف پلکیں جھپکا کرتا ہے اور مرجاتا ہے۔ اور یہ کہ اس بیماری کا کوئی علاج نہیں۔ بچہ پیدا کیا تو ہر ولادت پر ان کی عمر دس سال کم ہو جائے گی۔ کوئی اور ہوتا تو یہ سب کچھ سن کر مرض کے بغیر ہی مرجاتا۔ مگر شاہدہ کسی اور شے کی مرکّب تھی۔ اس نے اور عزیز نے مل کر عمر کے دس سال قربان کرنے کا فیصلہ کیا اور ان کے ہاں مایہ پیدا ہوئی۔ شاہدہ نے ، جو بی بی سی کے لئے مسلسل کام کررہی تھی، بیٹی کی ولادت کا ہفتہ وار روزنامچہ لکھا ۔ وہ بچوں کے نہایت مقبول پروگرام ’شاہین کلب‘ میں شاہدہ باجی کا کردار ادا کرتی رہی اور اسکرپٹ لکھنے اورترجمہ کرنے کا عمل بھی سیکھتی رہی۔ یہ سب ہوتا رہا اور اس کا مرض اندر ہی اندر اسے گھن کی طرح کھائے جارہا تھا۔ جس موٹر گاڑی کو شاہدہ چلاتی تھی اور عزیز اس میں مسافر کی طور پر بیٹھا کرتے تھے ، اب دونوں کو اپنی نشستیں بدلنی پڑیں۔ بچی کی ولادت کے بعد شاہدہ کی حالت بگڑتی گئی اور اسے اٹھانے بٹھانے میں دشواری ہونے لگی۔یہاں سے شاہدہ نے نئی زندگی شروع کی۔وہ برطانیہ چھوڑ کر پاکستان چلی گئی۔ کہاں تو وہ اب تک ایسے ملک میں آباد تھی جہاں جسمانی معذوری کو بیماری نہیں سمجھاجاتا اور محرومیوں کے ستائے ہوئے لوگوں کی زندگی آسان بنانے کےلئے کیسے کیسے جتن نہیں کئے جاتے۔ کہاں وہ ایسے ملک میں اتری جہاں اپاہجوں اور معذوروں کو بوجھ سمجھ کر ایک کونے میں ڈال دیا جاتا ہے۔ پاکستان پہنچتے ہی شاہدہ نے جسمانی معذوروں کو ان کا حق دلوانے کے لئے مردانہ وار تحریک شروع کردی۔ اس نے اس موضوع پر اردو میں رسالہ ’آدرش‘ جاری کیا اور یہی نہیں۔ معذوروں کی فلاح کےلئے قائم اداروں اور تنظیموں کو جھنجھوڑنا شروع کیا۔ ان میں سے اکثر بے عمل تھے، وہ سارے خواب خرگوش سے جاگے کہ لندن سے یہ کیسی بلا نازل ہوئی ہے۔ اپنی اس مہم کے لئے اس نے کئی شہروں کے دورے کئے، کانفرنسوں سے خطاب کیا اور مذاکروں میں مقالے پڑھے۔ یہ تک ہوا کہ صدر مملکت نے شاہدہ کی تحریک کا نوٹس لیا اور ایک مرحلے پر اسے جاپان بھیجنے کی تجویز ہوئی۔ مگر یہ سب اتنا آسان نہ تھا۔ تین سال تک رسالہ نکالنے کے بعد اسے آدرش کو بند کرنا پڑا ۔مگر اب وہ ایک اور تحریک میں جُٹ گئی۔

اس نے نابیناؤں کے لئے بولنے والی کتابیں ترتیب دینی شروع کیں۔ اپنے براڈکاسٹنگ کے تجربے کو کام میں لاتے ہوئے اس نے بچّوں کی کہانیوں کے سی ڈی بنانے شروع کئے اور آخر شاہدہ نے تمام سرکردہ شاعروں کی آوازوں کے سی ڈی بنائے اور ان کا کلام ان ہی کی آواز میں محفوظ کردیا۔یہ کام ابھی جاری تھا کہ زندگی کی گھڑی کی ٹک ٹک مدھم پڑتے پڑتے رک گئی۔ شاہدہ مر گئی۔ اس حال میں بھی اتنے عرصے جئے جانے کا راز بہت کم لوگوں کو معلوم ہے۔ دماغ شاہدہ کا سہی، بدن اس کے فرشتہ صفت شوہر عزیز احمد کا تھا جو اس کے سارے ارادوں کو تکمیل کی تابناک منزلوں تک پہنچاتارہا۔ شاہدہ کی نبض پر اس کی انگلیاں رات بھر نہیں، عمر بھر رکھی رہیں۔

Citation
Raza Ali Aabdi, “جینے کا یہ بھی ایک ڈھنگ ہے,” in Jang, April 17, 2015. Accessed on April 17, 2015, at: http://beta.jang.com.pk/akhbar/%D8%AC%DB%8C%D9%86%DB%92-%DA%A9%D8%A7-%DB%8C%DB%81-%D8%A8%DA%BE%DB%8C-%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%DA%88%DA%BE%D9%86%DA%AF-%DB%81%DB%92-%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%B1%D8%A7-%D8%B1%D8%AE/

Disclaimer
The item above written by Raza Ali Aabdi and published in Jang on April 17, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on April 17, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Raza Ali Aabdi:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s