شاعری کی طرف واپسی؟

Follow Shabnaama via email
حسن نثار

موضوعات باسی، شخصیات بھی باسی یعنی وہی بات کہ ……’’اک ہی تصویر بھلا کوئی کہاں تک دیکھے‘‘۔ ایسے میں ایک ایسی ’’انہونی‘‘ کی طرف دھیان گیا جس کا تعلق میری ذات سے ہے۔ میں نے لکھاری کے طور پر کیریئر کا آغاز بطور شاعر کیا۔ بہت پذیرائی، بڑی حوصلہ افزائی بلکہ ڈاکٹر عزیز الحق مرحوم نے تو شاعری کے حوالہ سے ایسی پیش گوئی کی جس کا سوچ کر آج بھی شرمندہ ہو جاتا ہوں۔ ڈاکٹر صاحب مرحوم کو کیا معلوم تھا کہ ’’آئوٹ آف دی وے‘‘ جا کر جس کی حوصلہ افزائی کررہے ہیں وہ صحافت کی سولی چڑھ کر نثر کی نذر ہو جائے گا۔ 1971ء کی بات ہے جب اردو ادب کے ایک بیحد معتبر نام ڈاکٹر ریاض مجید نے ’’لا ئل پور‘‘ کے جدید شاعروں کی غزلوں کا انتخاب شائع کیا۔ ہر شاعر کی سات غزلیں اور شاعر کا تعارف۔ میرے تعارف کی چند ابتدائی سطور۔

’’حسن نثار کی غزل کے مضامین لڑکپن سے نوجوانی اور طالب علمانہ ہنگاموں سے نکل کر زندگی کی شہ حقیقتوں کے سامنے آتے اور ٹکراتے شاعر کی ذہنی کیفیات کے آئینہ دار ہیں۔ وہ زیر نظر انتخابی مجموعے کا سب سے کم عمر مگر ایک جاندار شاعر ہے۔ اس کی آواز آج کے مریضانہ دورمیں خود آگاہی کے راستے پر نکلے ہوئے نئے انسان کی آواز ہے‘‘۔ وغیرہ وغیرہ وغیرہ لیکن پھر یوں ہوا کہ میں نجانے کیوں اور کیسے بتدریج نثر برد ہوتا چلا گیا۔ ناشکری کہہ لیں، بے صبری سمجھ لیں، کم ہمتی قرار دیں، نتیجہ وہی کہ نثر شاعری کو نگل گئی لیکن شاعر پوری طرح مرا نہیں، کومے میں چلا گیا مثلاً جب کوئی شے بری طرح ٹریگر کرتی تو نہ چاہتے ہوئے بھی کچھ نہ کچھ سرزد ہو جاتا۔ ضیاء الحق کے زمانہ میں خود ساختہ جلاوطنی پر بے اختیار منہ سےنکلا؎

بدن لے کر چلا ہوں جان پیچھے چھوڑ آیا ہوں
وطن سے دور ہوں پہچان پیچھے چھوڑ آیا ہوں
پھر پہلی بار جب آقا ؐ کے دربار میں حاضر ہوا تو کچھ دن تو گم سم رہا، کچھ ہوش آئی تو اس شعر کے ساتھ؎
تیرے پیغام سا پیغام نہ لایا کوئی
تجھ سا پہلے، نہ ترے بعد ہی آیا کوئی

پھر وہ نعت عطا ہوئی جس کے حوالہ سے پچھلے دنوں خالد شریف جیسے شاعر نے اپنے کالم میں لکھا …… ’’وہ بہترین کالم نگار ہونے کے علاوہ مخصوص لہجے کے پر گو شاعر بھی ہیں۔ ان کے بہت سے اشعار ضرب المثل بن چکے ہیں اور ان کی ایک مشہور نعت پر تو بہت سے شعرأ ہاتھ صاف کر چکے بلکہ کئی دوستوں کی تو اس پر روزی چل رہی ہے۔‘‘

پنجاب یونیورسٹی نیو کیمپس کے کتاب میلہ میں پبلشرز اور طلبہ کی خصوصاً میری شاعری میں دلچسپی بھی خوشگوار حیرت کا باعث رہی میرا ایک ہی شعری مجموعہ ہے۔ ’’پچھلے پہر کا چاند‘‘ اور وہ بھی تنویر عباس نقوی مرحوم کا کارنامہ کہ میں نے تو اسے چند کلو ردی تھما دی تھی کہ ’’جو چاہو کرلو، مجھے کوئی دلچسپی نہیں۔‘‘ نقوی کو جو جس طرح پورا ادھورا سمجھ آیا اس نے ترتیب دے کر پبلشر کوتھما دیا۔ وہ نعت جو اس مجموعہ سے پہلے درجنوں بار پوری پوری شائع ہو چکی تھی، اس مجموعہ میں ادھوری دیکھ کر مجھے بہت دکھ ہوا لیکن قصوروار تو میں خود تھا۔ اشاعت سے پہلے ایک نظر دیکھ ہی لیتا۔ چند روز پہلے ہی رئوف طاہر نے جانے کہاں سے اٹھا کر یمنی بدامنی کے حوالہ سے اک بھولا بسرا شعر اپنے کالم میں ’’کوٹ‘‘ کردیا بلکہ دوسرا مصرعہ عنوان بنا لیا؎

بہت زیادہ محبت اجاڑ دیتی ہے
توقع سارے تعلق بگاڑ دیتی ہے

چند ماہ پہلے استاد الاساتذہ حضرت ظفر اقبال نے بھی اپنے مخصوص شرارتی انداز میں لکھا تھا کہ عباس اطہر اور حسن نثار بھی شاعری کرتے تھے لیکن میں نے چالاکی یہ کی کہ کالم نگاری کے ساتھ ساتھ شاعری پر بھرپور توجہ جاری رکھی (مفہوم) حالانکہ یہ چالاکی نہیں، ظرف اور حوصلہ کی بات تھی کہ ہر کسی کے کندھے اتنے مضبوط نہیں ہوتے کہ ہر دو کا وزن اٹھا سکیں۔

قصہ مختصر کئی اطراف سے مسلسل اکسایا جارہا ہے کہ پھر سے شاعری پر فوکس کروں تو پھر سے شاعری کی پوٹلی کھول کر بیٹھا دیکھ اور سوچ رہا ہوں کہ کیا کروں …… بالکل وہی حالت ہے جو یمنی صورت حال کے پس منظر میں موجودہ حکومت کی ہے۔ ایک طرف ان دیکھا سا دبائو ہے تو دوسری طرف روٹین کا بہائو جسے ڈسٹرب کرتے ہوئے عجیب سی کوفت محسوس ہورہی ہے سو خود کو ’’آٹو‘‘ پر لگا دیا ہے اور منتظر ہوں کہ دیکھیئے کیا ہوتا ہے۔

فی الحال چند شعر۔ آپ بتائیں کہ موت کے موضوع پر یہ شعر کیسا ہے؎

گھنٹی بج گئی چھٹی ہوگئی
تیری میری کٹی ہوگئی
خواب اور سراب میں گزری زندگیوں کیلئے؎
سب آنکھ کا دھوکہ ہے روانی تو نہیں ہے
دریا میں فقط ریت ہے پانی تو نہیں ہے
بزدل رہنمائوں کیلئے؎
ایوان سے نکلے سربازار بھی آئےسردار
وہی ہے جو سردار بھی آئے
کیسے کیسے پچھتاوے؎
افسوس میں نے اس کی یہ بات بھی نہ مانی
اس نے مجھے کہا تھا، اپنا خیال رکھنا
یا وہ عدم آسودگی، لوبھ، قناعت کا قحط یا ……
ایسا نہیں دیکھا کبھی حال اور کسی کا
پہلو میں کوئی اور خیال اور کسی کا

Citation
Hassan Nisar, “شاعری کی طرف واپسی؟,” in Jang, April 16, 2015. Accessed on April 16, 2015, at: http://beta.jang.com.pk/akhbar/%D8%B4%D8%A7%D8%B9%D8%B1%DB%8C-%DA%A9%DB%8C-%D8%B7%D8%B1%D9%81-%D9%88%D8%A7%D9%BE%D8%B3%DB%8C%D8%9F-%DA%86%D9%88%D8%B1%D8%A7%DB%81%D8%A7/

Disclaimer
The item above written by Hassan Nisar and published in Jang on April 16, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on April 16, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Hassan Nisar:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s