اردو۔۔۔ سرکار ی زبان کا درجہ کب حاصل کرے گی؟

Follow Shabnaama via email
عبدالستار اعوان

اپریل2015ء کو سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے قائم مقام چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں اردو کو قومی، سرکاری اور دفتری زبان بنانے کے لئے دائر کردہ کیس کی سماعت کرتے ہوئے سیکرٹری کیبنٹ ڈویژن سے کہا کہ ایک ہفتے کے اندر اندر اردو کو سرکاری و دفتری زبان بنانے کے حوالے سے کیے گئے اقدامات کی تفصیلات اور تاخیر کے ذمہ داروں کے نام فراہم کئے جائیں ۔

صاحبو! کس قدر افسوس کی بات ہے کہ ملک کا متفقہ آئین اردو کو ملی و قومی زبان کا درجہ دے چکا ہے مگر اس کے باوجود اس پر عملدر آمد میں مجرمانہ غفلت کا مظاہر ہ کیا جارہا ہے اور تمام تر سرکاری و دفتری کارروائیاں بدیسی زبا ن میں عمل میں لائی جا رہی ہیں۔ قوموں کو اپنی زبان پر فخر اور ناز ہوتا ہے اور وہ اس کی ترویج و بقاء کی خاطراقدامات کرتی ہیں مگر ہمارا قومی المیہ یہ ہے کہ اردو زبان بولتے یا رائج کرتے ہوئے ہمیں سبکی محسوس ہوتی ہے‘ جبکہ تاریخ کا کڑوا سچ یہ ہے کہ قومی زبان کو رائج کئے بغیر کسی بھی معاشرے میں ترقی ممکن نہیں ۔ اردو کا شمار دنیا کی چند بڑی زبانوں میں ہوتا ہے مگر اس کے باوجود ہمارے ملک میں اردو زبان کے ساتھ وہ سلوک نہیں کیا گیا جو اس کا حق ہے ، یہ مدت طویل سے اپنے جائز حق سے محروم چلی آرہی ہے۔ یہ بات ہمیں پیش نظر رکھنا ہوگی کہ عالمی سطح پر ہماری پہچان صرف اپنی قومی زبان اردو کی وجہ سے ہے ۔تصویر کا ایک رخ یہ ہے کہ ترکی ،سعودی عرب، چین اور دیگر ممالک کو اس بات کا ادراک ہے کہ اردو زبان سمجھنے اور بولنے والوں کی تعداد دنیا بھر میں بہت زیادہ ہے ‘ اس کا شمار دنیا کی چند بڑی زبانوں میں ہو تا ہے اور اس کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں لیکن اس کا دوسرا افسوس ناک رخ یہ ہے کہ ہم خوامخواہ ہی احساس کمتری کے مرض میں جکڑے جار ہے ہیں اور ہمیں اپنی قومی زبان کے تصور سے ہی نفرت ہونے لگی ہے ۔

وطن عزیز میں اردو زبان کو سرکاری سطح پر رائج کرنے کے لیے مختلف جماعتوں اور میڈیا گروپس کی جانب سے وقتا فوقتا اردواجتماعات کا انعقاد کیا جاتا رہا ہے جن میں عمومی طور پر مطالبہ کیا جاتا رہا کہ ادارہ فروغ قومی زبان ، اردو لغت بورڈ، انجمن ترقی اردوکو نئے سرے سے مستحکم کیا جائے، دیگر ممالک میں شائع ہونے والی اردو کتب کے تبادلے کے لئے خصوصی طور پر اقدامات کیے جائیں، ارد و رسم الخط کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنے کے لئے حکومتی سطح پر اقدا م اور سرپرستی کی جائے ، جدید علوم و ادب کی اردو میں منتقلی کے لئے حکومتی سطح پر ایک فعال ’’دارالترجمہ‘‘قائم کیا جائے ، تنگدستی میں مبتلا دانشوروں، ادیبوں اور شعراء کی کفالت کے لئے مالی امداد د ی جائے ۔نوجوانوں کی قومی زبان اور ثقافتی سرگرمیوں میں دلچسپی بڑھانے کے لئے خصوصی اقدامات کیے جائیں،اردو کو پاکستان میں ہر سطح پر نافذ کیاجائے ،ا سے دفتری زبان بنایا جائے ، وغیرہ وغیرہ۔ مندرجہ بالا نکات اردوکی ترقی میں یقیناًکردارادا کر سکتے ہیں بشرطیکہ حکومتی سطح پر اقدامات کئے جائیں۔

بعض حلقے جب اردو زبان کے فروغ کی بات کرتے ہیں تو انگریزی زبان پر برس پڑتے ہیں جو درست نہیں ، کیونکہ زبان کوئی بھی ہو اسے تعصب کی نظر سے نہیں دیکھنا چاہیے ، علمی حلقوں کے مطابق‘ ہر زبان کوسیکھنے اور سمجھنے کی حتی الوسع کوشش کر نی چاہیے کہ اسی سے انسان کی علمی وسعتوں میں نکھار آتا ہے اور کائنات میں بکھرے طرح طرح کے علوم تک اس کی رسائی ممکن ہوپاتی ہے مگر اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ اپنی قومی و ملی زبان کو اس حد تک پس و پشت ڈال دیا جائے کہ بدیسی زبان کا جادو سر چڑھ کر بولنے لگے ۔

آج ہم دوسری اقوام کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ صرف وہی قومیں ترقی اور عروج کے میدان میں سرفہرست ہیں جنہوں نے بحیثیت قوم اپنی مادری زبان کو ترجیح دی اور اس کی ترقی و ترویج کے لئے اقدامات کئے ۔ وطن عزیز میں اردو کی ہمہ گیریت اور مقبولیت کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ کسی بھی شہر، دیہات یا دور دراز کے قبائلی علاقوں تک چلے جائیں اردو ہر جگہ اور ہر علاقے میں سمجھی اور بولی جارہی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس وقت جب کہ فرقہ واریت ، مذہبی تنگ نظری ، لسانیت اور صوبائی وسیاسی تعصب نے تمام علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے ،ا یسی مایوس کن فضاء میں اردو زبان ایک امید کے دیے کی صورت نظر آرہی ہے۔ بدا منی کے خاتمے ، محبت اور بھائی چارے کے فروغ کے لیے ہماری یہ قومی زبان کافی حد تک ممدو معاون ثابت ہو سکتی ہے ،اس کے ذریعے امن اور سلامتی کے مذہب ‘اسلام کی تبلیغ کی جاسکتی ہے اور ملک کے طول و عرض میں اخوت اور محبت کے پیغام کو بھی عام کیا جا سکتا ہے ۔ہمیں یہ بات پیش نظر رکھنا ہو گی کہ جب تک ہم اردو کو سرکاری سطح پر رائج نہیں کریں گے ہم اندھیروں میں ہی ٹامک ٹوئیاں مارتے رہیں گے ۔وقت کا تقاضاہے کہ قومی زبان کے کھوئے ہوئے مقام کی بحالی کے لئے ہنگامی سطح پر لائحہ عمل ترتیب دیاجائے ‘ ہم سمجھتے ہیں کہ اس اہم قومی مسئلہ کے حل کے لئے عدالت عظمیٰ بنیادی کردارادا کر سکتی ہے اور قومی زبان کو اس کا کھویا ہوا مقام دینے کے لئے ممد و معاون ثابت ہو سکتی ہے ۔اللہ کرے ایسا جلد ممکن ہو۔

Citation
Ubdulsattar Awan, “اردو۔۔۔ سرکار ی زبان کا درجہ کب حاصل کرے گی؟,” in Daily Nai Baat, April 15, 2015. Accessed on April 15, 2015, at: http://www.naibaat.pk/archives/sp_cpt/%D8%A7%D8%B1%D8%AF%D9%88%DB%94%DB%94%DB%94-%D8%B3%D8%B1%DA%A9%D8%A7%D8%B1-%DB%8C-%D8%B2%D8%A8%D8%A7%D9%86-%DA%A9%D8%A7-%D8%AF%D8%B1%D8%AC%DB%81-%DA%A9%D8%A8-%D8%AD%D8%A7%D8%B5%D9%84-%DA%A9%D8%B1%DB%92

Disclaimer
The item above written by Ubdulsattar Awan and published in Daily Nai Baat on April 15, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on April 15, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Ubdulsattar Awan:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s