تبصرہ کتب—-امراء جان ادا

Follow Shabnaama via email
جی آر اعوان

’’خانم کی نوچیوں میں یوں تو میرے سوا ہر ایک اچھی تھی، مگر خورشید کا جواب نہ تھا، پری صورت تھی، رنگ میدا شباب، ناک نقشہ گویا ضانع قدرت نے اپنے ہاتھ سے بنایا، ادائوں میں دلفریبی، بھولاپن ایسا جو ایک نظر دیکھے ہزار جان فریفتہ ہو جائے، جس محفل میں بیٹھے، معلوم ہو ایک شمع روشن ہو گئی‘‘۔

یہ سطریں مرزا محمد ہادی رسوا کے ناول امرائو جان ادا کی ہیں۔ جس میں ا نیسویں صدی کے لکھنو کی سماجی اور ثقافتی جھلک بڑے دلکش انداز میں دکھائی گئی ہے۔ 1885ء میں پیدا ہونے والے مرزا رسوا اپنے زمانے کے خوش فکر شاعر اور ادیب تھے ان کے جد اعلیٰ مرزا رشید شاہی فوج میں ملازم تھے۔ مرزا نے صرف نحو، عربی، فارسی اور ریاضی کی تعلیم اپنے والد آغا محمد تقی سے حاصل کی۔ 1886ء میں پہلا اردو فلسفانہ رسالہ اشراق جاری کیا جو کچھ عرصے بعد بند ہو گیا 1888ء میں ریڈ کرسچین کالج میں عربی اور فارسی کے استاد مقرر ہوئے کیما، ہیت، ریاضی، نجوم، موسیقی اور مذہبی علوم میں تکہ تاز تھے۔

مرزا رسوا ناولوں کی وجہ سے معتبر ہوئے جن میں افشائے راز، ذات شریف، شریف زادہ اختری بیگم اور امرائو جان ادا قابل ذکر ہیں۔ امرائو جان ادا مرزا رسوا کو شہرت کی بلندیوں پر لے گیا۔ جس کی ہمارے ادب میں تاریخی حیثیت ہے۔ عبدالحلیم شرر کے خیالی قصوں اور ڈپٹی نذیر احمد کی اصلاح پسند تحریروں کے برخلاف مرائو جان ادا نے اردو ناول نگاری میں زندگی کی واقعیت اور فن حسن نگاری کو جنم دیا۔

امرائو جان ادا ایک طوائف تھی۔ 1896ء سے 1899ء تک لکھنو میں اسے شہرت حاصل تھی۔ مرزا کو موسیقی اور نغمہ و ساز سے بڑی رغبت تھی۔ امرائو جان ادا سے راہ و رسم بھی تھی۔ اطراف دہلی کے مکین منشی احمد حسن لکھنو آئے تو کرائے پر لی گئی بیٹھک میں شعر و ادب کی نشست جمانے لگے۔ برابر کے کمرے میں ایک طوائف رہتی تھی۔ جس کی بودباش مختلف تھی۔ دروازوں پر پردے ، آمدروفت نہ ہونے کے برابر، بس ایک دروازہ تھا جہاں سے نوکر چاکر آتے تھے۔ مرزا رسوا منشی احمد حسن کے ہاں اکثر شریک محفل ہوتے ایک روز مرزا نے غزل پڑھی ساتھ والے گھر سے داد آئی، کچھ دیر بعد ایک ’’مہری‘‘ آئی اور کہا بیوی نے مرزا کو بلایا ہے، تامل کا شکار مرزا رسوا کو ساتھیوں کے اصرار پر جانا پڑا، جا کے دیکھا تو وہ امرائو جان ادا تھی۔

امرا ئو جان ادا وہ ناول ہے جس میں احساس نوازی بھی ہے۔ طنز، تشبیہ، شوخی، محاورات، منظر نگاری اور مقصد حیات بھی موجود ہے، زبان کی شگفتگی، دل ربائی، ندرت، بے ساختگی اور مقامی آب و رنگ کی چمک دمک مرزا کے فن کی گواہ ہے۔
یہ ناول 1899ء میں مکمل ہوا۔ منشی گنگا پرشاد ورما برادران پریس لکھنو سے شائع ہوا۔ آج کل دستیاب ناول میں زبان و بیان کی غلطیوں کی شکایات عام دیکھ کر ظہیر فتح پوری کی ترتیب سے ستمبر 2014ء میں ایک بار پھر شائع کیا گیا۔ ناشر ڈاکٹر تحسین فراقی نے نظام مجلس ترقی ادب لاہور کے زیر اہتمام شرکت پر نٹنگ پریس نسبت روڈ سے شائع کیا ہے۔ 300 روپے قیمت والی یہ کتاب محکمہ اطلاعات و ثقافت حکومت پنجاب کے تعاون سے شائع ہوئی۔

__________
فراق کے مضامین
تبصرہ: جی آر اعوان
’’میں سمندر میں کود کر اپنی جان دے دوں گی‘‘ میں نے کہا ’’تم سمندر میں گرو گی تو میں بھی تمہارا ساتھ دوں گا ، صلاح کرکے ہم نے دریا میں ڈوبنے کا دن مقرر کر لیا اور موقع پاکر ہم دونوں ایک رات دریا میں گر گئے۔ اس رات کو دریا میں طوفان تھا مگر وہ طوفان ہمارے لئے رحمت بن گیا ہمارے گرنے کے ساتھ ہی دریا میں اک موج اٹھی اور اس نے ہم دونوں کو سمندر کے کنارے پھینک دیا۔‘‘

یہ اقتباس ’’مضامین فراق کے باب’’ جزیرہ مالٹا کے دو پھول‘‘ سے ہے‘ جسے مجلس ترقی ادب کے زیراہتمام محمد سلیم الرحمن نے مرتب کیا ہے۔ مضامین فراق میں ترتیب دیئے گئے نثر پاروں کے خالق ناصر نذیر فراق اردو نثر کے ان چند صاحب اسلوب ارباب فن میں شمار ہوتے ہیں جو فن نثر میں اپنی یادیں چھوڑ گئے ہیں۔ مضامین فراق ان کی وہ تصنیف لطیف ہے جیسے جیتی جاگتی نثر کیا جاتا ہے۔

’’آفتاب نے شبنم سے کیا کہا‘ مرگھٹ کی دیوی‘ تغلق آباد کا سنار‘ دنیا کا پرانا طلسم عمدہ‘ دلچسپ اور افسانوی نوعیت کی تحریریں ہیں۔ ظرافت کی جوت‘ رمزی اور اشاراتی پیرائے اور عورتوں کی بولی ٹھولی فراق کے رس بھرے جملوں میں جگہ جگہ دکھائی دیتی ہے۔ کنایاتی‘ تشبیہی و استعاراتی طرز تحریر دہلوی نثر کی نمائندگی کرتا ہے۔ اردو کے قابل ذکر نثر نگاروں کا تعلق دہلی سے ہے۔ فراق دبستان دہلی کے اگر اول صف کے نثرنگار نہیں تو صف دوم میں شمار کے تو حق دار ہیں۔

فراق نے ا نیسویں صدی کی دہلی کی معاشرتی زندگی کی جو جھلک اپنے قلم سے دکھائی ہے اس کی قدر نہ کرنا ناانصافی ہو گی۔ زبان کا جوہر‘ تاریخ سے واقفیت‘ دہلی کی لوک روایتوں کا ادراک 16 اگست 1865ء کو پیدا ہونے والے ناصر نذیر فراق کو خوب تھا۔ فراق کا سلسلہ نسب حضرت امام زین العابدین سے ملتا ہے‘ ان کے بزرگ محمود غزنوی کے ہمراہ ہندوستان آئے پھر بلگرام اور بارہ میں بس گئے۔ فراق کی پرنانی میر درد کی پوتی تھیں۔ فراق کو عربی فارسی درس نظامی اور فن طب میں درک حاصل تھی۔ تصوف سے بھی دلچسپی تھی۔ قیمتاً تعویز دھاگہ بھی کرتے تھے۔ آج فراق کا نام بہت کم سننے میں آتا ہے۔ لیکن یہ سلوک صرف فراق سے ہی نہیں بہت سے اہل قلم اور بھی ہیں جن کا اعتنا نہیں کیا جاتا تاہم ان کا ذکر ذہنوں اور کتابوں میں موجود رہتا ہے۔ ڈاکٹر سید فیضان حسن نے فراق کی جن تصانیف کا ذکر کیا ہے۔ ان میں ’’مے خانہ درد‘ لال قلعے کی جھلک‘ دلی کا اجڑا ہوا لال قلعہ‘ مضامین فراق‘ چار چاند‘ اختر محل‘ دہلی میں بیاہ کی ایک محفل اور بیگموں کی چھیڑ چھاڑ‘ سات طلاقنوں کی کہانی‘ درد جاں ستاں‘ سنجوگ یا دکن کی پری‘ المورکھا‘ کرشمہ فراق‘ نالہ عندلیب‘ نیرنگ فراق شامل ہیں۔

امداد صابری نے اپنی کتاب میں ’’دہلی کی یادگار ہستیاں‘‘ میں ناصر نذیر فراق پر جو مضمون لکھا ہے اس میں اس کی ایک اور کتاب ’’دہلی کا آخری دیدار‘‘ کا بھی ذکر کیا ہے۔ بہرکیف اردو ادب کی کوئی جامع تاریخ ناصر نذیر فراق سے صرف نظر نہیں کر سکتی۔ ان کے ہاتھ کی تحریریں اب موجود نہیں اگر تھیں بھی تو وہ 1947ء کے فسادات کی نذر ہو چکی ہوں گی‘ اب مطبوعہ نسخوں پر ہی گزارہ کیا جا سکتا ہے۔
زیر نظر کتاب ناشر ڈاکٹر تحسین فراقی‘ ناظم مجلس ترقی ادب نے شرکت پرنٹنگ پریس‘ نسبت روڈ سے طبع کرائی۔ کتاب کی قیمت 200 روپے ہے۔ کتاب محکمہ اطلاعات و ثقافت حکومت پنجاب کے تعاون سے شائع کی گئی ہے۔

__________

بھانڈے ٹینڈے
پابند سلاسل رہ کر کتاب لکھنے کی روایت نئی نہیں لیکن سلاخوں کے پیچھے بیٹھ کر مزاح لکھنا ضروری ایک نئی روایت ہے۔ اردو ادب میں جس کا سہرا علی اصغر چودھری کو جاتا ہے۔ علی اصغر چودھری نے اسٹیج میں خود کو منوانے کی کوشش ہے او رپھر علاقے کی سیاست میں دھم سے اتر گئے اور ساتھ ہی ساتھ صحافت میں ’’چوکے چھکے‘‘ (ہفت روزہ اخبار کا نام ) لگانے لگے۔ سیاسی حریفوں نے نو آموز کو قانون کی لاٹھی دکھائی اور علی اصغر چودھری نے اسٹیج، سیاست اور صحافت تینوں سے منہ موڑ لیا لیکن لکھنے کا شوق نہ گیا تاہم احتجاجاً انسانوں کے بجائے روز مرہ استعمال میں آنے والے برتنوں پر لکھنے لگے۔ قید خانے کی دیواروں پر لکھی جانے والی یہ تحریریں ’’بھانڈے ٹینڈے ‘‘ کے نام سے کتابی صورت اختیار کر چکی ہے۔ کتاب ’’بھانڈے ٹینڈے‘‘ میں ہمیں روز مرہ کے استعمال کی اشیاء ایک نئے تعارف او زاوئیے کے ساتھ خود کو روشناس کراتی ملتی ہیں۔ لوٹے، چمچے، پرات، تھالی، جگ ، گلاس، تالے، توے، چمٹے، ٹوکری، بالٹی، گھڑا، دیگ، پیالے، کٹورے ، ہانڈی، چمٹے یہ کچھ مضامین ہیں جو کتاب میں اپنی اپنی تاریخ اور تعارف کے ساتھ موجود ہیں۔ اس کتاب میں مصنف نے خود کو دلبر کمار کا کردار دیا ہے۔ علی اصغر چودھری کا کہنا ہے کہ ہم پڑوسیوں سے اس قدر متاثر ہیں کہ اپنے لوگوں کی پہچان بھی ان کی طرف سے پذیرائی ملنے کے بعد کرتے ہیں اس لئے وہ بھی بدیسی نام ’’دلبر کمار)) سے یہ کتاب لکھ رہے ہیں۔ کتاب میں موجود کارٹون مضامین کی معنویت کو بڑھاتے ہیں جبکہ مزاحیہ اشعار بھی قطار اندر قطار چہروں پرمسکراہٹ بکھیرتے ملتے ہیں۔ پانچ سو بارہ صفحات پر مشتمل یہ کتاب ’’شام کے بعد‘‘ پبلشر نے شائع کی ہے۔ جس کی قیمت چھ سو اسی روپے ہے۔

Citation
G R Awan, ” تبصرہ کتب—-امراء جان ادا,” in Nawaiwaqt, April 15, 2015. Accessed on April 15, 2015, at: http://www.nawaiwaqt.com.pk/opinions/15-Apr-2015/377037

Disclaimer
The item above written by G R Awan and published in Nawaiwaqt on April 15, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on April 15, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by G R Awan:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s