یہاں بھی تبدیلی کی اشد ضرورت ہے!

Follow Shabnaama via email
گل نوخیز اختر

میری سمجھ سے بالاتر ہے کہ بعض محاورے بلا وجہ کیوں محاورے بن گئے ہیں حالانکہ وہ سراسر غلط ہیں‘ میرے دوست کہتے ہیں کہ تمہیں محاورں پر دست درازی کرتے ہوئے یہ خیال رکھنا چاہیے کہ تم اُردو سے نابلد ایک جاہل انسان ہو ۔میں انتہائی ‘ تحمل‘ بردباری اوراطمینان سے ان کی بات سنتا ہوں اور پھر ان کے بال نوچتے ہوئے کہتا ہوں کہ کم بختو! ’’بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی‘‘۔لیکن دیکھئے ناں ‘ جو چیز غلط ہے اُسے میں کیسے صحیح مان لوں‘ میرے نزدیک ہر وہ چیز غلط ہے جو مجھے غلط لگتی ہے اور جو محاورے مجھے غلط لگتے ہیں انہیں میں ڈنکے کی چوٹ پر غلط کہوں گا چاہے کوئی مجھے پچھلے منگل کی طرح جوتے ہی کیوں نہ مارے۔ مثلاً کہتے ہیں کہ میاں بیوی گاڑی کے دو پہیے ہوتے ہیں‘ کیا آپ نے آج تک دو پہیوں والی گاڑی دیکھی ہے؟ میں نے کئی دفعہ اپنی بیوی کو دانشورانہ طریقے سے سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ گاڑی کے چار پہئے ہی اچھے لگتے ہیں اس لیے مجھے باقی کے ’’دو پہیوں‘‘ کی اجازت دو‘ لیکن چونکہ وہ دانشور نہیں لہٰذا ہمیشہ مجھے باور کراتی ہے کہ باقی کے دوپہیوں کی کمی اس کے دونوں پہلوان بھائی باآسانی پوری کر سکتے ہیں۔ لہٰذا میری رائے میں اس محاورے کو یوں ہونا چاہیے کہ ’’میاں بیوی سکوٹر کے دو پہئے ہوتے ہیں‘‘۔

اسی طرح ایک اور محاورہ ہے کہ’’ گیدڑ کی شامت آتی ہے تو وہ شہر کا رخ کرتا ہے‘‘۔ غلط! بالکل غلط‘ کم از کم میں نے تو کبھی شہر میں گیدڑ نہیں دیکھابلکہ سچ پوچھیں تو مجھے ٹھیک سے پتا بھی نہیں کہ گیدڑ کیسا ہوتاہے‘ ایک دفعہ یوٹیوب میں سرچ کی کہ گیدڑ تو دیکھوں‘ وہاں اُس نے جوگیدڑ دکھائے وہ مجھے کسی بھی طور سے گیدڑ نہیں لگے کیونکہ ایک تو وہ سب بڑے بڑے شہروں میں رہتے تھے‘ دوسرے اُن کی شامت کی بجائے عوام کی شامت آئی ہوئی تھی۔یہ سارے گیدڑ اسلام آباد‘ لاہور اور کراچی جیسے بڑے شہروں میں بلٹ پروف گاڑیو ں میں دندناتے پھر رہے تھے‘ اِن گیدڑوں نے اپنے نام بھی بدلے ہوئے تھے‘ کوئی شیر کہلوا رہا تھا‘ کوئی چیتا کہلوا رہا تھا اور کسی کی گاڑی پر’’سب پہ بھاری‘‘ کی نیم پلیٹ لگی ہوئی تھی۔ایک گیدڑ تو میں نے ایسا بھی دیکھا جو گیدڑوں کا وزیر تھا لیکن خود کو ہاتھی کہلوانے پہ مصر تھا اور دلیل یہ دے رہا تھا کہ چونکہ اس کی زبان ہاتھی کی سونڈ کی طرح لمبی ہے اس لیے اسے ہاتھی کہلوانے کا پورا پورا حق ہے۔ لوگوں کا ایک ہجوم اس کے حق میں ہاتھی ہاتھی کے نعرے لگا رہا تھا‘ تاہم جیسے ہی اس کی گاڑی روانہ ہوئی‘ سارے ہجوم نے زور سے قہقہہ لگاتے ہوئے ایک نعرہ لگایااور چند خوبصورت نازیبا کلمات بول کر منتشر ہوگئے۔اُس دن مجھے احساس ہوا کہ اِس محاورے کو یوں ہونا چاہیے کہ ’’گیدڑ موج میں ہو تو شہر کا رخ کرتاہے‘‘

ایک اور محاورہ ہے’’شرم سے پانی پانی ہوجانا‘‘۔لاحول ولا قوۃ! اگر اس محاورے میں ذرا سی بھی صداقت ہوتی تو آج ہمارے ملک میں ڈیم بھرے ہوئے ہوتے۔میں چونکہ ہر بات میں تحقیق کو اہمیت دیتا ہوں اس لیے احتیاطاً اس محاورے کو چیک کرنے کے لیے اپنے ایک دوست کو ڈنرکے لیے ہوٹل میں بلایا اور خود آرام سے گھر آگیا۔دوست ہوٹل گیا اور غصے سے لال پیلا ہوکر سیدھا میرے گھر پہنچا‘ میں نے اسے ڈرائنگ روم میں بٹھایا اور اپنے پاس ایک بڑی بالٹی رکھ لی‘ مجھے یقین تھا کہ جیسے ہی یہ مجھے برا بھلا کہے گا اور شرم دلائے گا‘ ساری بالٹی میرے پانی سے بھر جائے گی۔پھر دیکھتے ہی دیکھتے اس نے مجھے جلی کٹی سنانا شروع کر دیں‘ جھوٹا کہا‘ ذلیل کہا‘ منافق کہا‘ بے غیرت کہا لیکن حرام ہے جو بالٹی میں ایک قطرہ بھی گرا ہو بلکہ الٹا مجھے محسوس ہورہا تھا کہ مجھے جو تھوڑا بہت پسینہ آرہا تھا وہ بھی ختم ہوگیا ہے‘ اسی موقع پر میرے دماغ نے کہا کہ محاورہ یوں ہونا چاہیے کہ ’’شرم کا آنا ‘ مگر مایوس لوٹ جانا‘‘۔

ایک اور محاورہ ہے کہ ’’نیا نو دن‘ پرانا سو دن‘‘۔ کیا بکواس ہے یہ محاورہ‘ یعنی اگر میں نیا ڈبہ پیک موبائل لوں گا تو وہ نو دن چلے گا اور اگر 3310 لوں گا تو وہ سو دن چلے گا؟ لیکن خیر‘ میں نے سوچا اس کی بھی تحقیق کر لیتے ہیں اور کسی نئے زاویے سے کرتے ہیں‘ میں نے اپنی ازلی ہمسائی اماں جیراں سے مدد لینے کا فیصلہ کیا اور ایک پرانا سا سوال پوچھا کہ اماں ‘ سنا ہے عورت کی عمر کا اندازہ لگانا ہوتو اُسے بولتے ہوئے دیکھنا چاہیے‘ یعنی جو بولتے وقت زیادہ منہ کھولے وہ زیادہ عمر کی ہوگی‘ اور جو کم منہ کھولے گی وہ کم عمر ہوگی۔یہ سنتے ہی 75 سالہ اماں جیراں نے تھوڑا سا منہ کھول کر کہا’’ پُت مینوں کی پتا ‘‘۔میں نے فوراً فیصلہ کر لیا کہ محاورہ یوں ہونا چاہیے کہ ’’نیا نودن ‘ پرانا سراسرچول‘‘۔

ایک اور محاورہ سنتے چلئے کہ ’’ڈائن بھی سات گھر چھوڑ دیتی ہے۔‘‘ بندہ پوچھے یہ بات کسی نے ڈائن سے پوچھ کر لکھی ہے ‘ اور ڈائن نے اتنی پرسنل بات بھلا کسی سے کیوں شیئر کرلی؟ کیوں آخر کیوں ڈائن سات گھر چھوڑ دیتی ہے؟کیا موصوفہ خود آٹھویں گھر میں رہتی ہے؟چونکہ میری کسی ڈائن سے بالمشافہ بات چیت نہیں ہوئی‘ نہ ہی اس کا کوئی فیس بک اکاؤنٹ ہے لہذا میں اس محاورے کی تحقیق سے تو محروم ہوں‘ لیکن میرا فیصلہ ہے کہ یہ محاور ہ بھی تبدیلی مانگتاہے‘ صحیح محاورہ یوں ہونا چاہیے کہ ’’لوڈشیڈنگ کسی کو بھی نہیں چھوڑتی‘‘۔

اگلا محاورہ ہے’’لہور لہور اے‘‘۔اب آپ کہیں گے کہ یہ محاورہ نہیں ہے‘ کیوں نہیں ہے‘ جب میں کہہ رہا ہوں تو پھر یہ محاورہ ہی کہلائے گا۔بندہ پوچھے اگر لہور لہور اے۔۔۔تو کیا کراچی کراچی نہیں؟ پشاور پشاور نہیں؟؟؟ بھئی لہور نے لہور ہی ہونا ہے‘ ساہیوال نہیں بن جانا۔میں نے اپنے ایک لاہوریے دوست سے پوچھاکہ یہ کیوں کہا جاتا ہے کہ ’’لہور لہور اے‘‘؟ قہقہہ لگا کر بولا ’’کیونکہ لہور لہور اے‘‘۔میں نے کہا کہ وہ تو ٹھیک ہے لیکن ہر شہر وہی ہے جو اس کا نام ہے‘ پھر لاہور کے بارے میں ہی ایسا کیوں کہا جاتاہے؟اس نے کچھ دیر میری طرف گھورا‘ پھر اطمینان سے بولا‘ اس کا تو بڑا آسان جواب ہے‘ میں نے جلدی سے پوچھا‘ کیا؟ اطمینان سے بولا کیونکہ ’’لہور لہور اے‘‘۔ اس سے پہلے کہ میں زچ ہوکر اپنے بال نوچتا‘ میرے دماغ نے کہا کہ گدھے‘ سیدھی سی بات ہے‘ محاورہ غلط ہے‘ اصل محاورہ یوں ہونا چاہیے کہ ’’لہور صرف رائے ونڈ ہے‘‘۔

ایک اور محاورہ ہے کہ ’’جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘‘۔ارے یاد آیا‘ میں بتانا بھول گیا کہ میں فردوس عاشق اعوان صاحبہ کی خدمات پر بھی ایک کالم لکھوں گا‘ لیکن کچھ دنوں بعد۔ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ یہ کیا بات ہوئی کہ بھینس خریدنی ہو تو بندہ پیسے لے کر جانے کی بجائے لاٹھی لے جائے؟ اور بھینس کب سے اتنی غیر کاروباری ہوگئی کہ محض لاٹھی دیکھ کے ساتھ چل پڑے۔میں نے تجرباتی طور پر ایک لاٹھی خریدی اور پھر سڑک سے گذرتی ہوئی ایک بھینس کو ورغلا کر اپنے ساتھ لے جانے کی کوشش کی‘ جواب میں بھینس نے گھور کر میری طرف دیکھا اور غصے سے بولی’’مریں! میں بھینس ہوں‘ وینا ملک نہیں۔‘‘میں سمجھ گیا اور اُسی وقت محاورہ تبدیل کرکے یوں کر لیا کہ ’’جس کی بھینس‘ اُسی کی بھینس‘‘۔

Citation
Gul-e-nokhaiz, “یہاں بھی تبدیلی کی اشد ضرورت ہے!,” in Daily Nai Baat, April 14, 2015. Accessed on April 14, 2015, at: http://www.naibaat.pk/archives/sp_cpt/%DB%8C%DB%81%D8%A7%DA%BA-%D8%A8%DA%BE%DB%8C-%D8%AA%D8%A8%D8%AF%DB%8C%D9%84%DB%8C-%DA%A9%DB%8C-%D8%A7%D8%B4%D8%AF-%D8%B6%D8%B1%D9%88%D8%B1%D8%AA-%DB%81%DB%92

Disclaimer
The item above written by Gul-e-nokhaiz and published in Daily Nai Baat on April 14, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on April 14, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Gul-e-nokhaiz:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s