جنوبی ایشیائی ادبی روایات – 1

Follow Shabnaama via email
حفیظ خان

ڈاکٹر اطہر مسعود فارسی زبان وادب کے ڈاکٹر ہیں، مگر ہر آن مضطرب اور ہر لحظہ متحرک۔ 2010ء میں پنجاب یونیورسٹی اورینٹل کالج لاہور کے شعبۂ فارسی سے پی ایچ ڈی کی اور اِن کے مقالے کا موضوع تھا ’’برصغیر کے غنائی فنون پر فارسی تصانیف کا تنقیدی جائزہ‘‘۔مگر اِس سے کہیں پہلے فارسی زبان کے جدید افسانوی ادب کو اُردو میں ترجمہ کرنے کا سلسلہ بھی جاری رکھا ہوا تھا۔ترجمہ کرنا بظاہر سہل مشاغل کے زمرے میں لیا جاتا ہے مگر میرے نزدیک یہ طبع زاد تخلیقی ادب سے بڑھ کر خونِ جگر کا تقاضہ رکھتا ہے۔طبع زادادبی کاوشوں کے لئے کسی ایک زبان میں مہارت کافی ہوتی ہے مگر ترجمہ نگاری کے لئے ہر دو زبانوں میں کامل دسترس کا ہونا از بس ضروری ہے وگرنہ دال کا دلیہ اور قورمے کی یخنی ، وہ بھی بے سوادی۔سالِ گزشتہ میں اُن کی ایک اور کتاب ’’مقالاتِ مسعود‘‘ کے نام سے سامنے آئی جس کی جلد اول میں برصغیر کی موسیقی پر اُن کے درجن بھر تعارفی اور تحقیقی مقالات شامل کئے گئے ہیں۔موضوع اور متن کے لحاظ سے ڈاکٹر اطہر مسعود کی یہ اہم ترین کاوش ابھی زیرِ مطالعہ تھی کہ اُن کی جانب سے ’’جنوبی ایشیائی ادبی روایات ‘‘ پر دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کا دعوت نامہ موصول ہوا۔لاہور کی ایک نجی یونیورسٹی کے آڈیٹوریم میں 10اور11اپریل کو منعقد ہونے والی اِس کانفرنس کی چاروں نشستیں اپنے موضوعات اور مندوبین کے چناؤ کے اعتبار سے مجھ ایسے طالب علم کے لئے ایک طرفہ کشش رکھتی تھیں۔مگر سبھی مصروفیات کو دائیں بائیں کرنے کے باوجود بھی حاضری محض تیسری اور چوتھی نشستوں تک محدود رہی۔
چنیدہ مندوبین اور سنجیدہ حاضرین کی اِس کانفرنس کی افتتاحی تقریب 10اپریل کو منعقد ہوئی جس میں سویڈن سے آئے ہوئے انڈولوجی کے پروفیسر ہینز ویرنر ویسلر Wessler) Werner (Heinz نے اپنا کلیدی خطبہ پڑھا۔ دوسرے دن معروف کہانی کار مسعود اشعر کی زیرِ صدارت ترتیب دیے گئے پہلے سیشن کا موضوع تھا ’’ تاریخ اور ثقافت‘‘ ۔اگرچہ اِس نشست میں امریکہ اور ہنگری سے آئے ہوئے مندوبین کے علاوہ بہاولپور سے ڈاکٹر شاہد حسن رضوی، آفتاب حسین گیلانی اور کراچی سے محترمہ حمیرا ناز نے مقالے پڑھنا تھے مگر ڈاکٹرشاہد رضوی
کے نہ آنے کے سبب ’’علاقائی تاریخ نویسی اور تحریک پاکستان‘‘ کے تناظر میں سرائیکی خطے کی ادبی روایات کا جائزہ نہ لیا جا سکا۔کانفرنس کی دوسری نشست کے صدر نشیں محمد سہیل عمر اور موضوع تھا ’’صوفیانہ افکار اور ادب‘‘۔ اس نشست کے مقالہ نگاروں میں تنویر انجم، پروفیسر سعید احمد، شریف اعوان ، زاہد منیر عامرکے علاوہ امریکہ سے آئے ہوئے نوجوان سکالر ولیم شرمین بھی شامل تھے ۔

محترمہ زاہدہ حنا کی صدارت میں منعقد ہونے والی تیسری نشست میں ’’صدائےِ نسواں ‘‘ (Female Voices)کے عنوان تلے چار مقالے پڑھے گئے۔’’ریاست بہاولپورکی خواتین کو عطائے حقوق کی دلچسپ داستان‘‘سنانے کے لئے اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے شعبۂ تاریخ کی اسسٹنٹ پروفیسر صائمہ خالد آئی ہوئی تھیں۔جب کہ فارسی کے ڈاکٹرمحمد ناصر نے اُردو زبان کی جواں مرگ شاعرہ پروین شاکر کی برتی ہوئی فارسی تراکیب پر ایران کی جواں مرگ شاعرہ فروغ فرخ زادکے اثرات کا جائزہ لیا۔ڈاکٹر محمد ناصر کے مطابق دونوں شاعرات کے نہ صرف حالاتِ زندگی ایک جیسے رہے بلکہ اکثر اشعار ہم معنی اور بیشتر میں فارسی تراکیب کا استعمال یکساں ہے۔ فروغ فرخ زاد 1935ء میں تہران میں پیدا ہوئیں اور 1967ء میں محض 32برس کی عمر میں اپنی زندگی ایک روڈ ایکسیڈنٹ کی نذر کر دی ۔ فروغ کی بھی محبت کی شادی، ایک بیٹا اور ناکام ازدواجی زندگی۔جب کہ پروین شاکر نے اگرچہ عمر 42برس کی پائی مگر باقی حالات بالکل ایک جیسے اور ایک جیسی موت۔مقالہ نگار نے اگرچہ اِس تاثر کا برملا اظہار کرنے میں احتیاط برتی کہ پروین شاکر کی زیادہ تر شاعری اوریجنل نہیں مگر پھر بھی حاضرین کی اکثریت نے بین السطور جان کر نہ صرف اِس رائے کی تائید کی بلکہ محترمہ زاہدہ حنا بھی کہے بغیر نہ رہ سکیں کہ پروین شاکر کی شاعری پر کئی شاعروں کے اثرات دیکھے جا سکتے ہیں۔

محترمہ منزہ اخترنے جنوبی ایشیا کی انگریزی فکشن نگار خواتین کی تحریروں کا اُن کے متن اور موضوعات کے لحاظ سے جائزہ لیا۔خاص طور پر اِن دو ناولوں کا۔ بیپسی سِدھوا کا The Bride جو1983ء میں شائع ہوا اور اُرون دھتی کا ناول The God of Small Things جو1997 ء میں سامنے آیا۔منزہ اختر کے مقالے نے کئی اہم مباحث کو جنم دیا۔وہ بنیادی طور پر انگریزی لسانیات کی سکالر ہیں۔اُن کی عالمانہ سچائی سے انکار ممکن نہیں تھا کہ پاکستان اور بھارت کی انگریزی فکشن نگار خواتین طبقہ اشرافیہ سے تعلق رکھتے ہوئے کس طرح عام عورت کے مصائب کی نمائندگی کا حق ادا کر سکتی ہیں۔اسی طرح یورپ میں رہنے والی تخلیق کار خواتین جنہوں نے پاکستانی بستیوں اور محلوں میں ایک دن بھی نہیں گزارا ،کیونکر اُن کے شب روز کو احاطۂ تحریر میں لا سکتی ہیں۔ کیا تخلیق کار کی پذیرائی محض اس پیمانے پر ہو کہ وہ اپنے قاری کی پسند ناپسند کا کس قدر خیال رکھتا ہے یا اُس کی ستائش اُس کی علمی سطح ، فکر کی پختگی اور مشاہدے کی گہرائی کے سبب کی جانی چاہئے۔اس مقالے کے نتیجے میں مقامی اور بین الاقوامی ناشرین کے اُن رویوں کو بھی کھنگالاگیا جو مقامی خواتین کی انگریزی فکشن نگاری کے ابلاغ اور ترویج ، دونوں کو براہ راست متاثر کرتے ہیں۔ یہاں یہ سوال بھی سامنے آیا کہ عورت کو پسند کی شادی کا اختیار دے دینا ہی مردانہ اجارہ داری سے نجات کی کلید ہے یااُس کی مساوانہ سماجی شناخت کے لئے کچھ اور عوامل کی جانب رجوع کرنا بھی ضروری ہے۔

محترمہ انیلہ پرویز تاریخ ، خصوصاً برصغیر کی تاریخ کی مختلف سماجی جہتوں کی محقق ہیں۔انہوں نے وارث شاہ کے ’’چوہڑیتری نامہ‘‘کے حوالے سے نچلی ذات کی عورتوں کے سماجی رویوں کو اپنے مقالے کا موضوع بنایا۔ ذلتوں کی ماری یہ خواتین اور ان کی زندگی کا کسی برتر ذات سے جُڑت کی آس میں تمام ہونا کچھ ایسا بھی انوکھا نہیں۔ کمتر سماجی حاشیے کے اندر سسکنے والی یہ عورتیں اپنے وجود کی نفی کے ساتھ جیتی اور اسی کے اندر دفن ہوتی چلی آئی ہیں تاقتیکہ کہ کوئی برتر ذات اُنہیں اپنی ذات میں شامل نہ کر لے، مگر ایسا ہونا ہر بار ممکن نہیں ہوتا اور نہ رہتا ہے۔سید سبط الحسنِ ضیغم کی تحقیق کے حوالے سے محترمہ زاہدہ حنا کا خیال تھا کہ’’چوہڑیتری نامہ‘‘ جنڈیالہ شیر خاں والے سید وارث شاہ کا نہیں بلکہ کسی وارث شاہ رسول نگری کا ہے۔مگر حاضرین میں براجمان پروفیسر سعید احمد نے اِس رائے کو نہ صرف رد کیا بلکہ سند کے طور پر کچھ اشعار بھی پڑھے جن سے ثابت ہوا کہ یہ ’’چوہڑیتری نامہ‘‘ ہیر رانجھا والے عظیم پنجابی شاعر سیدوارث شاہ کاہے ، کسی وارث رسول نگری کا نہیں۔ )جاری ہے(

Citation
Hafeez Khan, “جنوبی ایشیائی ادبی روایات – 1,” in Daily Nai Baat, April 13, 2015. Accessed on April 13, 2015, at: http://www.naibaat.pk/archives/sp_cpt/%D8%AC%D9%86%D9%88%D8%A8%DB%8C-%D8%A7%DB%8C%D8%B4%DB%8C%D8%A7%D8%A6%DB%8C-%D8%A7%D8%AF%D8%A8%DB%8C-%D8%B1%D9%88%D8%A7%DB%8C%D8%A7%D8%AA1

Disclaimer
The item above written by Hafeez Khan and published in Daily Nai Baat on April 13, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on April 13, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Hafeez Khan:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s