اُردو زبان سپریم کورٹ میں

Follow Shabnaama via email
سرفراز سید

سپریم کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کی زیر سرکردگی تین رکنی بنچ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے کہ آئین کی دفعہ251کے مطابق اُردو زبان کو اب تک سرکاری زبان کیوں قرار نہیں دیا گیا؟ اس تاخیرکے ذمہ دار کون لوگ ہیں ان کے نام بتائے جائیں۔ اُردو زبان کے بارے میں دائر ایک کیس کی سماعت کے دوران فاضل عدالت نے اس بات کا نوٹس لیا ہے کہ1973ء کے آئین کی دفعہ251کے تحت 1988ء تک اُردو کو سرکاری محکموں اوردفاتر میں رائج ہو جاناچاہئے تھا مگرآج تک کسی حکومت نے اس بارے میں کوئی کام نہیں کیا۔یوں آئین سے کھلم کھلا انحراف کیاجارہاہے۔ فاضل عدالت نے ریمارکس دیئے کہ آئین کی خلاف ورزی پر دہشت گردوں کے خلاف تو کارروائی کی جاتی ہے مگر ایسی خلاف ورزی پر حکومت کے خلاف کیوں کوئی کارروائی نہیں کی جاتی؟ اس موقع پر اٹارنی جنرل عبدالرحمان اعوان نے بتایا کہ حکومت نے اس بارے میں عملدرآمد کا ایک ادارہ بنادیاہے۔ عدالت نے اس پر کہا کہ آئین میں تو ایسے کسی ادارے کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ اس موقع پر درخواست دہندہ کی طرف سے وکیل کو کب اقبال نے کہا کہ حکومت محض ٹال مٹول کررہی ہے۔ اب تک اس کیس کی تین سماعتیں ہوچکی ہیں مگر حکومت نے کچھ نہیں کیا۔ فاضل عدالت نے اس بات کا بھی نوٹس لیا کہ آج تک کسی کابینہ کے اجلاس میں یہ معاملہ زیر غور ہی نہیں آیا۔ مزید سماعت 20اپریل سے شروع ہونے والے ہفتے میں ہوگی۔اُردو اس وقت دنیا بھر میں بولی جانے والی تیسری بڑی زبان ہے مگر اس عظیم سر زمین پر اُردو زبان کے ساتھ اس بے بس سادہ لوح ناخواندہ ماں جیسا سلوک کیا جاتا ہے جسے اس کی منہ بگاڑ بگاڑ کر غیر ملکی غلط سلط زبانیں بولنے والے بیٹے اپنے احباب کے سامنے ماں کو لانے میں سبکی محسوس کرتے ہیں اورپھرایک دن اسے کسی اولڈ ہوم میں جمع کرا آتے ہیں ۔ بانی پاکستان نے تو قیام پاکستان کی ابتداء میں ہی اُردو کو ملک کی قومی زبان قرار دے دیا تھا مگر ان کے کسی جانشین نے اُردوکو اس کاجائز مقام دینے پر توجہ کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ کئی حکومتیں آئیں اور گئیں۔ دورغلامی کی حکمران انگریزی زبان ان کے اعصاب پر سوار رہی۔ کچھ عرصہ مولوی عبدالحق نے اُردو زبان کے فروغ کے لیے بہت محنت کی، پھر ڈاکٹر سید عبداللہ اور دوسرے محترم اساتذہ اور دانش وروں نے اُردو کو جائز قومی سرکاری زبان کی حیثیت دینے کی مہمیں چلائیں۔ ایک ایسی مہم میں میں خود ڈاکٹر سید عبداللہ کی مہم کا حصہ رہا۔ ہم طالب علم لوگ ڈاکٹر صاحب کے ہمراہ مال روڈ پر دکانداروں کے پاس جاکر درخواست کیا کرتے تھے کہ وہ دکانوں کے بورڈ اُردو میں لکھوائیں۔ ڈاکٹرصاحب کی وفات کے ساتھ ہی یہ مہم بھی ختم ہوگئی۔1973ء کے آئین میں دفعہ251شامل کی گئی کہ اگلے15برسوں یعنی1988ء تک اُردو کو سرکار ی زبان بنانے کے انتظامات کیے جائیں گے، دفعہ251کی عبارت یہ ہے۔

دفعہ251: 1۔پاکستان کی قومی زبان اُردو ہے اوریوم آغاز سے15 برس کے اندر اندر اس کو سرکاری اوردیگر اغراض کے لیے استعمال کرنے کے اقدامات کیے جائیں۔(2)۔ شق نمبر1کے تابع انگریزی زبان اس وقت تک سرکاری اغراض کے لیے استعمال کی جاسکے گی جب تک اسے اُردو سے تبدیل کرنے کے انتظامات نہ ہو جائیں۔

٭اب ستم یہ ہوا کہ آنے والے حکمرانوں نے دفعہ251 کی پہلی شق کو نظراندازکردیا اوردوسری شق کو سامنے رکھ لیا کہ جب تک اُردو نافذ نہ ہو جائے ، انگریزی سرکاری زبان بنے رہے گی۔ یہی طرزِ عمل اب تک جاری ہے بلکہ یہ کہ اُردو کو اپنانے کی بجائے بے شمار یونیورسٹیوں’ کالجوں اور سکولوں سے اُردو کوختم کرکے صرف انگریزی کو ذریعہ تعلیم قرار دے دیاگیاہے۔ غلامانہ ذہنیت کا ر فرما ہے کہ اعلیٰ سائنسی تحقیق و تدریس اُردو میں نہیں ہوسکتی جب کہ فرانس’ روس ‘ چین اور تمام دوسرے ترقی یافتہ ممالک یمں ان کی اپنی قومی زبانوں میں ہر قسم کی اعلیٰ تعلیم دی جارہی ہے۔ روس کے سائنس دانوں نے انگریزی پڑھ کر خلاء میں سیارے نہیں بھیجے، اپنی زبان میں ہی سارا کام کیا تھا۔ ایک ہم ہیں کہ ہمارے بچے اُردو بولنے میں ہی ہتک سمجھتے ہیں! ابھی تک علم ہی نہیں ہوسکا کہ آزادی کیا ہوتی ہے۔

٭اُردو زبان کے ساتھ ایک المناک سانحہ یہ ہوا کہ ہندوستان کے ایک خاص علاقے سے ہجرت کرکے پاکستان آنے والے گرو پ نے خود کو اُردوبولنے اہل زبان قرار دے کر اس زبان کو ایک خاص دائرہ میں محدود کردیا۔ میں بھی مہاجر ہوں، میں نے ایم اے اُردو کیاہے ، میری بیٹی نے ایم اے اُردو میں پوری پنجاب یونیورسٹی میں تیسری پوزیشن حاصل کی ہے۔ میں نے اُردو زبان میں سینکڑوں تحقیقی وتنقیدی مضامین اور تقریباً بارہ ہزار سے زیادہ اخباری کالم لکھے ہیں ۔ آٹھ ممالک کے مشاعروں میں کلام سنایا ہے مگر کراچی میں اُردوبولنے والا ناخواندہ چھابڑی فروش تو اہل زبان ہے۔ مجھے اور مجھ جیسے ہزاروں دوسرے افراد کو اہل زبان تسلیم نہیں کیاجاسکتا! میں محترم قانون دان کو کب اقبال صاحب کے لیے اظہار تحسین کرتاہوں کہ انہوں نے اُردو زبان کے مسئلے کو ملک کی اعلیٰ ترین عدالت میں اٹھایا ہے۔ اس سلسلے میں لاہور میں پاکستان قومی زبان تحریک کے پروفیسر اشتیاق احمد، پروفیسر سلیم ہاشمی، عزیز ظفر آزاد اورمحترمہ فاطمہ قمر کو بھی مبارک باد دیتا ہوں کہ قومی زبان کے فروغ کے لیے ان کی مسلسل کوششیں کامیاب ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔

Citation
Sarfaraz Syed, “اُردو زبان سپریم کورٹ میں,” in Daily Ausaf, April 12, 2015. Accessed on April 12, 2015, at: http://www.dailyausaf.com/%D8%A7%D9%8F%D8%B1%D8%AF%D9%88-%D8%B2%D8%A8%D8%A7%D9%86-%D8%B3%D9%BE%D8%B1%DB%8C%D9%85-%DA%A9%D9%88%D8%B1%D9%B9-%D9%85%DB%8C%DA%BA/

Disclaimer
The item above written by Sarfaraz Syed and published in Daily Ausaf on April 12, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on April 12, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Sarfaraz Syed:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s