اردوکی نئی تہذیب

Follow Shabnaama via email
منصور آفاق

رضا علی عابدی نے اپنے گزشتہ کالم میں اردو کے حوالے سے بہت خوبصورت باتیں کیں ۔لکھا کہ اردو کسی زبان کا نام نہیں ایک تہذیب کا نام ہے ۔زندگی بسر کرنے کے ایک قرینے کا دوسرا نام ہے ۔انہوں نے یہ بھی لکھا کہ یہ اعزاز شہر لاہور کو حاصل ہے کہ اردو نے وہاں آنکھیں کھولیں ، چلنا سیکھا۔ مگر اس تقریب میں رضا علی عابدی خود بھی موجود تھے جس نے میرے زخم ہرے بھرے کر دئیے۔گزشتہ دنوں میں لندن میں ادبی تنظیم ’’صوفی‘‘ کی ایک تنظیم میں مہمان شاعر کے طور پر شریک ہوا۔ انڈین وائی ایم سی اے کے ہال میں ہونے والی یہ تقریب ہر لحاظ سے ایک یادگار تقریب تھی۔ عدیل صدیقی اور مصطفی شہاب نے اسے بڑی خوبصورتی سے بپا کیا تھا۔ تقریباًنوے فیصد سامعین کا تعلق انڈیا سے تھا۔ فنکشن کے آغازسے تھوڑی دیر پہلے ایک شخص سے تھوڑی سی گفتگو ہوئی ۔اس نے شاید مجھے اہلِ زبان سمجھا تھا۔اس نے کہا کہ اردو زبان کے حوالے سے ایک تو بڑا مسئلہ پاکستان میں یہ ہے کہ پاکستان میں اردو جنگلیوں کے ہاتھ میں آگئی ہے ۔وہاں کوئی علاقہ تو کجا گائوں میں بھی ایسا نہیں اردو جہاں کی مادری زبان ہو۔ اردو بولنے والوں نے کراچی کو اردو کا شہر بنانے کی کوشش کی تھی مگرسندھیوں ، پٹھانوں اور پنجابیوں نے مل کر اس کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیا۔ سو وہ زبان جسے اردو کہتے ہیں وہ آج بھی انڈیا کی بہت سی زبانوں میں سے ایک ہے۔یہی بات بہت عرصہ پہلے بریڈفورڈ میں مرحوم ڈاکٹر قوی ضیاکی تقریب میں ایک دانشور نے کہی تھی۔ میں نے اس وقت غصے کے عالم میں کہا تھا ۔آئینہ دکھانے کا بہت بہت شکریہ۔ بے شک آپ نے درست فرمایا ہے اردو یوپی سی پی کے علاقے کی زبان ہے اس کا تعلق دہلی اور لکھنو سے ہے ہم پاکستانیوں کے غیر مہذب اور جنگلی آبا واجداد یہ زبان نہیں بولتے تھے۔ اس زبان کی تہذیب سے آشنا نہیں تھے یہ بڑی نازک اندام زبان تھی۔ خواتین جیسی نزاکت رکھتی تھی۔ لکھنو میں جو مشاعرے ہوا کرتے تھے ان میں شریک ہونے والے شعرائے کرام عورتوں جیسا لباس پہن کر ، پورا ہار سنگھار کر کے مشاعرہ گاہ میں رونق افروز ہوتے تھے۔ہر ہر عمل اور ہر ہر حرکت آرٹسٹک تھی ۔ مجھ سے ایک بار میرے بیٹے نے پوچھا تھا کہ ابو میں نے پڑھا ہے کہ پرانے زمانے میں بڑے بڑے نواب اپنے بچوں کو بالا خانوں میں اردو سیکھنے کیلئے بھیجتے تھے تو میں نے اسے کہا تھا ۔بیٹے صرف اردو زبان سیکھنے کیلئے نہیں بلکہ تہذیب سکھانے کیلئے بھیجتے تھے ۔دراصل تم بالا خانوں کے لفظ سے بھٹک گئے تھے۔ اس زمانے میں آرٹ کی ترویج بالا خانوں سے ہوتی تھی ، اس معاشرے میں بالا خانوں کا مقام بالکل اسی طرح تھا جیسے لاہور میں الحمرا آرٹ کونسل کاہے جہاں لوگ ، موسیقی ، رقص اور دوسرے فنون لطیفہ سیکھنے جاتے ہیں ۔یعنی اردو تہذیب طاوس و رباب کی تہذیب تھی ۔نرمگی اور نازکی کی تہذیب تھی۔

یقیناشمشیر و سناں رکھنے والے ہمارے جنگلی آبا واجداد اس عظیم تہذیب سے مکمل طور پر آشنا نہیں تھے۔ وہ پنجابی ، سندھی ، پشتو، بلوچی، بنگالی، کشمیری اور سرائیکی زبان بولتے تھے ان کی اپنی اپنی ثقافتیں تھیں، وہ اپنی اپنی قدیم تہذیبوں کے وارث تھے مگر جب برصغیر کی تقسیم مذہب کی بنیاد پر ہوئی تو انہوں نے اردو زبان کو پاکستان کی قومی زبان ہونیکا اعزاز دیا۔ایسا اسلئے کیا گیا کہ اردو اس وقت برصغیر کے فنون لطیفہ میں کھوئے ہوئے مسلمانوں کی زبان تھی۔ مغلیہ سلطنت نے برصغیر کے لوگوں کیلئے جو اچھے برے ورثے چھوڑے تھے ان میں ایک اردو زبان بھی تھی ۔آخری مغل بادشاہ بہادرشاہ ظفرخود اس زبان کا بہت بڑا شاعر تھا۔ اس زبان میں برصغیر کے مسلمانوں نے بہت کچھ لکھا ہوا تھا۔ پنجابیوں نے اس زبان کو اقبال جیسا عظیم شاعر دیا تھا،سو پاکستانیوں نے اس فیصلے کے بعد اپنی مادری زبانوں کو پسِ پشت ڈال دیا اور اردو زبان کو صرف قومی زبان ہی نہیں بلکہ اپنی ماں بولی بھی بنالیا۔ آج پاکستان میں ہزاروں خاندان ایسے موجود ہیں جنکے باپ دادا اردو نہیں بولتے تھے مگر ان کے گھروں میں اس وقت صرف اردو زبان بولی جاتی ہے یعنی کہ ہم پاکستانیوں نے اسے پوری طرح اپنالیا، دنیا کے تمام علوم اس زبان میں منتقل کئے ۔ اردو سائنس بورڈ یا مقتدرہ قومی زبان میںجاکر دیکھئے آپ کو اندازہ ہوجائیگا کہ پاکستانیوں نے اردو زبان کیساتھ کیا سلوک کیا ہے۔اپنی پیدائش سے لیکر قیام پاکستان تک اردو زبان نے جتنی ترقی کی تھی پچھلے پچپن سال میں پاکستان میں اردو نے اس سے کہیں زیادہ ترقی کی ہے۔ ہاں ایک وضاحت بہت ضروری ہے ۔ میں نے بہت غور کیا ہے کہ کیا واقعی ہم جنگلیوں کی زبانیں اردو زبان کے مقابلے میں پست زبانیں ہیں؟ تو مجھے احساس ہوا کہ نہیں ایسا ہرگز نہیں ہے۔ہم لوگ صدیوں سے ’’اکھ ‘‘’’نک‘‘ اور ’’کن ‘‘ کہتے آرہے ہیں ۔اردو والوں نے اس میں ایک کھڑی آواز ڈال کر اسے ’’آنکھ‘‘ ’’ناک‘‘ اور ’’کان‘‘ میں بدل دیا ہے مگر میرے خیال میں’’اکھ ‘‘،’’نک‘‘اور ’’کن‘‘ میں جو صوتی رچائو، موسیقیت اور روانی ہے وہ آنکھ ، کان اور ناک میں نہیں۔ ہماری زبانیں اردو کے مقابلے میں زیادہ وسیع ہیں صرف پنجابی زبان میں گائے کیلئے بائیس لفظ موجود ہیں ۔ اردو زبان کے دامن میں تو صرف اقبال، غالب اور میر جیسے نام سرِ فہرست ہیں جب کہ ہماری زبانوں میں ان سے کہیں بڑے بیشمار نام موجود ہیں مثال کے طور پرخوشحال خان خٹک ، شاہ عبد الطیف بھٹائی ،سلطان باہو،خواجہ فرید، بلھے شاہ ، وارث شاہ ،میاں محمد بخش ، شاہ حسین ، لِلھ عارفہ، ٹیگور، یہ فہرست صرف یہاں ختم نہیں ہوتی۔

لیکن ان ساری باتوں کے باوجود اب اردو ہماری قومی زبان بھی ہے اور مادری زبان بھی ہے۔ ممکن ہے بہت سوں کی مادری زبان نہ ہو مگر ہمارے بچوں کی مادری زبان ضرور ہے۔پچھلے دنوں سید احسن واسطی کا مضمون جو مجھے مطالعہ کیلئے کراچی کے ایک اہل زبان دوست نے بھیجاتھا۔ اس کا عنوان تھا ’’پاکستان میں اردو بولنے والوں کا قتل عام ، عام بات ہے۔ اس مضمون میں انہوں نے ایسے ایسے واقعات اور ایسے اعداد و شمار دیئے ہوئے تھے کہ میں گھنٹوں سوچتا رہا کہ یہ جو لوگ اردو بولنے کو تشدد پر آمادہ کرتے آرہے ہیں۔وہ انہیں کیسی کیسی ہولناک تصویریں دکھاتے ہیں۔ اس مضمون کے مطابق اس وقت پاکستان بائیس لاکھ اردو بولنے والے قتل ہوچکے ہیں۔ میری الطاف حسین سے درخواست کہ وہ جھوٹ پر مبنی ایسے لٹریچر کے خاتمے کیلئے باقاعدہ کوشش کریں اور ہم جنہوں نے اردو زبان اپنی ماں بولی بنالیا ہے ۔ کچھ تھوڑا سا ہماری قربانیوں پر بھی غور کریں۔ اردو کو صرف مہاجروں کی زبان نہ کہیں۔ اور اردو کے اس نئے مزاج کو بھی قبول کرلیں جو ہم جنگلیوں نے اسے دیا ہے۔(میری اس تحریر سے اگر کسی کی دل آزاری ہوئی ہو تو میں پیشگی معذرت خواہ ہوں )

Citation
Mansoor Afaq, ” اردوکی نئی تہذیب,” in Jang, April 12, 2015. Accessed on April 12, 2015, at: http://beta.jang.com.pk/akhbar/%D8%A7%D8%B1%D8%AF%D9%88%DA%A9%DB%8C-%D9%86%D8%A6%DB%8C-%D8%AA%DB%81%D8%B0%DB%8C%D8%A8/

Disclaimer
The item above written by Mansoor Afaq and published in Jang on April 12, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on April 12, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Mansoor Afaq:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s