مہدی حسن کی یادگار شیلڈز اوراعزازات اونے پونے داموں فروخت

Follow Shabnaama via email
اُردو پوائنٹ

شہنشاہ غزل مہدی حسن کی یادگار شیلڈز،اعزازات اور دنیا بھر کے صدور کے قیمتی تحائف کو اونے پونے داموں فروخت کردیا گیا، مہدی حسن کی بہو لاہورہائیکورٹ میں سراپا احتجاج بن گئیں ۔ شہنشاہ غزل، گائیکی کی دنیا میں پاکستان کا نام روشن کرنے والے مہدی حسن جنہیں دنیا بھر سے قیمتی اعزازات ملے، انھیں اونے پونے داموں فروخت کردیا گیا، مہدی حسن کی بہو عمائمہ عارف کا کہنا تھا کہ وہ کراچی سے لاہور کرائے کے گھر میں شفٹ ہوئیں، کچھ عرصہ کراچی میں رہنے کے بعد واپس لاہور آئیں تو مہدی حسن کا زندگی بھر کا سرمایہ لٹ چکا تھا۔ انھوں نے کہا کہ شام نگر میں بااثر مالک مکان نے کسی اجازت کے بغیر ہی تمام چیزیں بیچ ڈالیں۔ مہدی حسن کی بہو عمائمہ نے ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا ہے، شہنشاہ غزل مہدی حسن کی بہو عمائمہ عارف کی جانب سے ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ انہوں نے کراچی سے لاہور منتقل ہونے کیلئے یہاں گروی پر گھر حاصل کیا اور سامان بھی بھجوا دیا لیکن جب وہ یہاں پہنچیں تو مکان کے مالکان عاصم کمبوہ، کاشف اور عاطف مہدی حسن کو ملنے والے ایوارڈز، شیلڈز اور میڈلز سمیت دیگر سامان چرا کر فروخت کر چکے تھے۔ اس حوالے سے ایف آئی آر درج کرائی گئی۔ ملزمان نے تھانے میں جرم کا اعتراف بھی کر لیا، مگر ایک ماہ گزرنے کے باوجود پولیس میڈلز اور سامان برآمد نہیں کروا رہی۔ عدالت پولیس کو حکم دے کہ مہدی حسن کو ملنے والے میڈلز اور دیگر سامان برآمد کر کے ان کے حوالے کرے۔ عمائمہ عارف کا کہنا تھا کہ مہدی حسن کو زندگی بھر قوم کی خدمت کا یہ صلا دیا گیا کہ ان کی یادگاریں ہی چرالی گئیں۔ اگر وہ کسی اور ملک میں ہوتے تو ان ایوارڈز کو میوزیم میں سجایا جاتا، ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے حکومت کو اس حوالے سے پیشکش بھی تھی، جس کا اسے جواب تک نہیں دیا گیا۔

Citation
Urdu Point, “مہدی حسن کی یادگار شیلڈز اوراعزازات اونے پونے داموں فروخت,” in Urdu Point, April 11, 2015. Accessed on April 11, 2015, at: http://www.urdupoint.com/showbiz/news-detail/live-news-402788.html

Disclaimer
The item above written by Urdu Point and published in Urdu Point on April 11, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on April 11, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Urdu Point:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s