پالوکوئلو کے ناول”الکیمسٹ” کا اردو ترجمہ”من کی دولت”

Follow Shabnaama via email
محمود فریدی

پنجاب یونیورسٹی کا شعبہ تالیف و ترجمہ اگر اسے نایاب ہیروں کی کان کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ جہاں سے چونکا دینے والے حیرت انگیز علم کے موتی مسلسل برآمد ہو کر جویان علم و ادب کی سیریابی کر رہے ہیں۔ یہ سرچشمہ بغداد، قاہرہ اور حیدر آباد دکن جیسی عظیم درسگاہوں کی گم گشتہ روایت احیائے علم کا امین بنتا جا رہا ہے۔ اس سلسلے کا تازہ ترین معرکہ برازیلی مصنف پالوسیوا (پالوکوئلو) کے شہرہ آفاق ناول ’’الکیمسٹ‘‘ کا ترجمہ ہے۔ اردو میں اس کا نام ’’من کی دولت‘‘ رکھا گیا ہے جو معنوی قربت اور موزونیت کے اعتبار سے اپنے پیدائشی نام سے بھی زیادہ معتبر عرفیت کا حامل ہے۔

بظاہر ’’الکیمسٹ‘‘ یا من کی دنیا ایک عام ناول ہے مگر اس کہانی کی کئی متوازی تہیں ہیں۔ چھوٹی عمر کا بچہ بھی اسکی ساری سیڑھیاں آسانی سے چڑھ کر اپنی معصوم جستجو کو سیراب کر سکتا ہے جو ان کیلئے اس میں مہم جوئی اور محبت کا شافی سامان موجود ہے۔ عمر رسیدہ کیلئے اس میں کتھارس اور یاد ماضی کا وافر مصالحہ ہے کمال تو یہ ہے کہ سائنس، مذہب، سیاست، نفسیات، تاریخ، معیشت، فلسفے اور پرلطف اظہارئیے کا ایسا ملغوبہ ہے جس کے ذریعہ مبلغ، رہنما، مفکر، تاجر، ادیب، پیشہ ور محقق، استاد اور طالب علم ہر کوئی اپنی مرضی کا وافر زاد راہ حاصل کر سکتا ہے کتاب کے پہلے صفحہ پر نظر دوڑانے کے بعد آخری سطر تک پہنچے بغیر اسے ادھورا چھوڑنا شاید ممکن ہی نہیں۔ سطحی طور پر اسے منچلی مہمات یا خزانے کی تلاش جیسا عمومی نام بھی دیا جا سکتا ہے، مگر یہ تو کئی خزانوں کی تلاش در تلاش اور گمشدگی کے بعد پھرتلاش جیسا گورکھ دھندہ ہے۔ یوں کہہ لیجئے بہتر سے بہترین تک کا سفر۔ دو خوبرو دوشیزائوں کا تذکرہ بھی ہے مگر مصنف نے جنسی اختلاط اور وصل کے ارزاں ڈرامائی بہروپوں کی کمزور روایت کا سہارا نہیں لیا بلکہ کہانی میں ہجر اور امید وصل کے ذریعے تخیلاتی وضو کا ماحول برقرار رکھا ہے۔ہماری جانی پہچانی اصطلاحوں کے ذریعہ مصنف نے درس و تدریس کا سہل مگر سحرالبیانی پر مشتمل نظام مرتب کیا ہے مشاہدات اور نتائج کے درمیان گفتنی وناگفتنی کا کمال نازک رشتہ استوار کرکے تجسس اور جستجو کو قاری کی سفری غذا بنا دیا ہے۔ خواہش، امید، محنت، حوصلہ، وسوسہ، ناامیدی، شکست اور پھر اسی کے بطن سے فتح کی نمود، محبت، عقیدہ، تدبیر، تقدیر اور دعا، ان سب اصطلاحوں کے مروجہ معانی کے علی الرعم مصنف نے تجسیم نگاری کے ذریعہ ان کو واضح متحرک تصویروں اور کرداروں میں تبدیل کر دیا ہے۔ مصنف نے کمال چابکدستی سے خزانے کے لفظ کو بے شمار معنی عطا کر دئیے ہیں۔ مشرق وسطیٰ کی صورتحال کا عکس بھی ہے۔ عالمی چپقلشوں، جنگوں، ریگستانی معاشرے کی بوقلمونیوں اور عالمی معاشی لہروں کی تصویر کشی بھی ہے۔سنتیاگو نامی معصوم چرواہے کی بھیڑوں کے ساتھ گفتگو میں کیا کیا رموز گندھے ہیں، چرواہے کی چھٹی حس جسے مصنف ’’روح کائنات‘‘ سے براہ راست تعلق گردانتا ہے وجدان اور کشف و کرامت کی جھلک، ہمہ اوست کی تفسیر، نوجوان چرواہے کا مشاہدہ اور تفکر چھوٹی چھوٹی تبدیلیوں اور شگوفوں کے مطالعے سے نتائج اخذ کرنا، ذہنی اور تدبیری ارتقاء کے لاتعداد مرحلوں سے گزر کر محبت کا پیغامبر، صبر و استقامت، گناہ کی چتا پر بھسم ہوئے بغیر بالآخر دعا کے ذریعہ فیصلہ کن ہیرو کی شکل اختیار کرنا اس ناول کا عروج ہے۔ صادق جذبوں، انسانی محبت، دیانت، مسلسل جستجو اور جدوجہد سے کہانی کا گھمبیر سفر لبریز ہے ناول اپنے اردو پیراہن کی سج دھج اور شان و شوکت کے سبب شاید اصل سے بھی زیادہ باوقار دکھائی دیتا ہے۔ اردو کا یہ پیرہن ہمارے دوست پروفیسر ظفر المحسن پیرزادہ کا تراشیدہ ہے ادب کی اس حسینہ بے مثال کی رونمائی پر پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ تالیف و ترجمہ کے روح رواں پیر صاحب اور مہتمم اعلی پروفیسر ڈاکٹر مجاہد کامران وائس چانسلر پی یو مبارکباد کے مستحق ہیں۔ یہ سفر اسی آب و تاب سے جاری رہا تو ایک دن پنجاب یونیورسٹی آفاقی علم و ادب کا قطبی تارہ قرار پائے گی۔

Citation
Mahmud Faridi, ” من کی دولت ,” in Nawaiwaqt, April 2, 2015. Accessed on April 2, 2015, at: http://www.nawaiwaqt.com.pk/mazamine/02-Apr-2015/373275

Disclaimer
The item above written by Mahmud Faridi and published in Nawaiwaqt on April 2, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on April 2, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Mahmud Faridi:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s