ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا صاحب

Follow Shabnaama via email
جمیل احمد عدیل

شخصیت میں وہی شخص منقلب ہوتاہے جس میں نشوونما پانے کا اساسی جوہر موجود ہو، یہیں سے ریاضت اپنا مضبوط جواز فراہم کرنے میں با مراد ٹھہرتی ہے۔پروفیسر ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا صاحب نے قدرت کی طرف سے ودیعت فرمودہ استعدادوں کو بغیر کسی وقفے کے مجاہد ے کے عمل کا حصہ بنائے رکھا۔ تدریس کے تجربے نے نصف صدی اپنے نام کرتے عالمی سطح پر انہیں صاحب علم اور باوقار استاد کا ایسا تشخص عطا کیا کہ ہماشما تو ا س کی آرزو بھی نہیں کر سکتا۔ انہوں نے ذہانت کی فراوانی کو انعام کے طور پر قبول کرکے اس کا حق یوں ادا کیا کہ جس بھی فکری،نظری ،عملی، ادبی نکتے پرخود کو مرکوز کیا اس کی جملہ جہات کو تہوں میں آسودگی سے نہیں رہنے دیا۔دراصل استنتاج یعنی نتیجہ اخذ کرنا ایک مکمل پروسیس ہے اور اس پروسیس کے اپنے تقاضے ہیں۔تفصیل کا موقع نہیں تاہم خواجہ صاحب کے حوالے سے اتناکہنا ہے کہ وہ بنیادی طور پر محقق ہیں۔ وہ متعلقہ موضوع کی مناسبت سے کسی بھی پہلوکو نظر انداز کر دینا گناہ کبیرہ یقین کرتے ہیں۔واضح رہے اس تناظر میں وابستہ مواد کی فراہمی پر ہی کہانی ختم نہیں ہوجاتی بلکہ اس دستیاب مٹیریل کو سامنے رکھ کر بصیرت کو آزمائش میں ڈالنا پڑتاہے۔اور خواجہ صاحب ہر امتحان میں اس لیے سرخروٹھہرتے ہیں کہ تفکر و تدبر ان کے مزاج میں پوری طرح رچ بس چکا ہے۔تنقیدی جلسوں اور علمی ادبی محفلوں میں عام طور پران کی گفتگوآخر میں ہوتی ہے۔تمام مقررین کے بعد زیر بحث موضوع کی نسبت سے نئے نکات کو بر آمد کرنا اور استدلال کی معروضیت سے دستبردار ہوئے بغیر سامعین کے ذہنی آفاق کو پھیلانا معمولی بات نہیں، بڑے بڑوں کو دانتوں تلے پسینہ آ جاتا ہے۔خواجہ زکریا صاحب اگرچہ اردو ادبیات کے استاد ہیں لیکن متنوع علوم و فنون سے ان کا گہرا شغف کبھی کبھی تو حیران کر دیتا ہے۔ الٰہیات، مابعد الطبیعیات، فلاسفی، سیاست، طباعت، منطق۔۔۔حتیٰ کہ کرکٹ بھی،کوئی مضمون ان پر بند نہیں ہے۔ایسا لگتا ہے ادق مباحث، پیچیدہ مسائل کی Crystallization ان کا محبوب مشغلہ ہے۔ہمارا دانشور تو سیدھی سادی بات میں گنجل ،ڈالنے کا خوگر ہو گیا ہے جب کہ حقیقی دانش کااصلی مطالبہ یہی ہے کہ مسئلے کی comlexityکو الجھاؤ سے آزاد کرکے عام فہم بنا دیا جائے۔در حقیقت یہ قربانی بلکہ ایثار ہے۔عالمانہ اُسلوب، پُرشوکت مصطلحات کے استعمال سے گریز برتنا ایسا سہل نہیں!کسی نے ایسی حسینہ دیکھی ہے جس کے لاکر میں بیش قیمت زیورات کے ڈبے قطار اندر قطار پڑے ہوں، وارڈ روب مہنگے اور زرق برق ملبوسات سے نکونک بھرا ہواور وہ کسی تقریب میں ’چٹ کپڑی‘ ہو کر جا شریک ہو؟ بڑا حوصلہ اور خود اعتمادی چاہیے اس کے لیے جو بلا شبہ ہمارے ڈاکٹر خواجہ زکریا صاحب میں بدرجہ اتم موجود ہے۔تحریر و تقریر میں ان کا جملہ نہایت مختصر ہوتا ہے، بھاری بھرکم لفظ دھونڈے سے نہیں ملتا، Equivocation کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔اس کا ایک ہی مطلب ہے کہ یہ ہمدرد خو ہیں۔قاری یا سامع کو ہراساں کرنا انہیں پسند نہیں نیز یہ طبعاًمفسر اور شارح ہیں۔ اور یہ بڑا اونچا منصب ہے کہ سمجھائے گا تو وہی جسے خود سمجھ آ گئی ہے۔ہمارا مفکر تو سائل کے دامن کو مزید سوالوں سے بوجھل کر کے واپس گھر بھیج دیتا ہے جہاں اس طوطی کوشش جہت میں مقابل آئینے چڑا رہے ہوتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہو گیا ہے کہ اب مسؤل اِلیہ مجیب نہیں رہا۔ یہ نہیں ہو سکتاکہ خواجہ صاحب کے پاس کوئی ذہنی اڑچن لے کر جائے اور خالی ہاتھ لوٹ آئے۔اسی وصف نے انہیں مثالی۔۔۔نہیں۔۔۔ بے مثال مقبولیت سے نوازا ہے۔جس کا ایک مظاہرہ ہم نے حال ہی میں حلقہ ارباب ذوق کے پلیٹ فارم پر دیکھا۔واضح رہے حلقے کی موجودہ ٹیم نے اپنا Tenureمکمل کرلیاہے۔ان دو برسوں میں خواجہ صاحب اصولی مؤقف کا ساتھ دیتے ہوئے Spinal Column بن کر حلقے کی استواری کا سامان کرتے رہے۔ڈاکٹر غافر شہزاد جوابی محبت میں اپنا مثیل نہیں رکھتے،چنانچہ انہوں نے ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا کے اعزاز میں،ان کے شایانِ شان ایسی خوب صورت تقریب منعقد کی جسے ناقابل فراموش ہی کہا جائے گا۔اس اکٹھ میں دو طرفیں جمع ہو گئی تھیں۔ایک تو خواجہ صاحب کی پچتھرویں سال گرہ کا جشن، پھر اس موقع پر ان کی اہلیہ محترمہ ڈاکٹر شگفتہ زکریا کی جانب سے ایک تحفہ۔!

جی صاحبو! یہ تحفہ بہت منفرد تھا۔ہوا یوں کہ 2011ء میں ڈاکٹر صاحب کا پہلا شعری مجموعہ’’آشوب ‘‘کے ٹائٹل سے شائع ہوا تو اسے ہاتھوں ہاتھ لیا گیا۔بہت سے لوگوں کے لیے یہ ایک خبر تھی کہ خواجہ صاحب شاعر بھی ہیں۔دنیا انہیں بطور محقق اور نقاد کی حیثیت میں ہی جانتی تھی۔ان کی 35/36کتب بھی تحقیق و تنقید سے متعلق تھیں۔جب شاعری کی کتاب آئی تو سب کو اچھا لگا۔اس کے فوراً بعد ان کے کلام پر مختلف تعلیمی اداروں میں نہ صرف تین تحقیقی مقالات لکھے گئے بلکہ معاصرین نے اس تخلیق کو موضوعِ نقد بنایا۔ڈاکٹر انور سدید، ڈاکٹر انور محمود خالد، بریگیڈ یر(ر) حامد سعید اختر، ڈاکٹر حافظ صفوان، محمد چوہان، ڈاکٹر فوزیہ چودھری،ڈاکٹر سید شبیہ الحسن، ڈاکٹر تقدیس زہرا،ڈاکٹر تنویر حسین،ڈاکٹر غافرشہزاد،ڈاکٹر شاہدہ دلاور شاہ،شفیق احمد خان،پروفیسر منظور مرزا، ڈاکٹر امجد پرویز سے لے کر راجا نیر تک متعدد قلم کاروں نے اردو/ انگلش میں بھر پور مضامین تحریر کئے۔ڈاکٹر صاحب کی اہلیہ ان مضامین کوجمع کرتی رہیں۔اور اب جنم دن کے موقع پر اپنے شریکِ حیات کو انہوں نے یہ تحفہ دیا کہ ان تحریروں کو یکجا کر کے 272صفحات کی کتاب بنا دیا۔ایسا واقعہ کم کم ہی ہوتا ہے کہ بیوی اپنے شوہر کے علمی ادبی کام کی پذیرائی کرنے والوں میں شامل ہو جائے ! لیکن ڈاکٹر شگفتہ زکریا خود پروفیسر رہی ہیں،کئی کتب کی مصنفہ ہیں چنانچہ انہیں ایسا کرنے میں سہولت محسوس ہوئی ہو گی۔انہوں نے ’’درمدح تُو‘‘ کے عنوان سے نہایت دلچسپ پیش لفظ قلمبند کیا ہے۔اس جملے سے تو بہت ہی لطف آیا۔(خواجہ صاحب) نے اپنی پسند کی شادی کا ذکر اس قدر سر سری انداز میں کیا ہے کہ کیاکوئی ناپسند کی شادی کا ذکر کرتا ہو گا!‘‘ بہر صورت پھر بھی ان کے درمیان مودت کا حسین رشتہ ہے وگرنہ شادی کے چند سال بعد تو گھر کے سامنے میاں بیوی کی گاڑیاں بھی ایک دوسرے کی طرف منہ کر کے کھڑی نظر نہیں آتیں۔ایک کا بونٹ مشرق کی جانب ہوتا ہے تو دوسری کا مغرب کی اور! پاک ٹی ہاؤس میں منعقدہ مذکورہ تقریب میں ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا صاحب کی اہلیہ، ان کے صاحبزادے، صاحبزادی اور نواسے بھی موجود تھے۔ ڈاکٹر صاحب کے خوبرو بیٹے جناب فواد زکریا نے اس موقع پر بہت عمدہ گفتگو کی۔انہوں نے کہا اتنے پڑھے لکھے اوراس قدر شفیق ماں باپ کی اولاد ہونے پر مجھے فخر محسوس ہوتا ہے۔فواد صاحب نے بتایا ہم بہن بھائی اپنے مکرم والد کا یہ چیلنج آج تک نہیں توڑ سکے کہ ہم کوئی ایسا لفظ بولیں جس کی شمولیت والا شعر یہ نہ سنا سکیں!تقریب کے شرکاء نے ڈاکٹر خواجہ زکریا کو اُس دن اتنے پھول پیش کئے کہ ہمیں یہ شعر یاد آتا رہا۔

دعا بہار کی مانگی تو اتنے پھول کھلے
کہیں جگہ نہ ملی میرے آشیانے کو

اس فنگشن میں اظہارِ خیال کرنے والوں کی ایک پوری جماعت تھی: علی اصغر عباس،ڈاکٹر شاہدہ دلاور شاہ، ریاظ احمد، شفیق احمد خان، ڈاکٹر غافر شہزاد، زاہد حسن، سعد اللہ شاہ، ڈاکٹر ناہید شاہد، ڈاکٹر عاصم ندیم، فرحت عباس شاہ،فواد زکریا،ڈاکٹر اختر شمار، زاہدہ جبیں راؤ، حسنین بخاری اور فرحت پروین کے نام ذہن میں رہ گئے ہیں۔۔۔

Citation
Jamil Ahmad Adil, “ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا صاحب,” in Daily Nai Baat, April 2, 2015. Accessed on April 2, 2015, at: http://www.naibaat.pk/archives/sp_cpt/%DA%88%D8%A7%DA%A9%D9%B9%D8%B1-%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%AC%DB%81-%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF-%D8%B2%DA%A9%D8%B1%DB%8C%D8%A7-%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8

Disclaimer
The item above written by Jamil Ahmad Adil and published in Daily Nai Baat on April 2, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on April 2, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Jamil Ahmad Adil:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s