ستار طاہر اور حلقۂ دام خیال

Follow Shabnaama via email
وجاہت مسعود

لاہور سے کوئی پچاس میل کے فاصلے پر ہمارا قصبہ ایک نیم خوابیدہ بستی تھی۔ باہر کی دنیا سے رابطے کا ذریعہ ریڈیو اور اخبارات تھے۔ ہمارے گھر میں امروز اخبار پڑھا جاتا تھا۔ ادارتی صفحے پر منو بھائی کا ’گریبان‘ اور بائیں ہاتھ کی پٹی پر احمد ندیم قاسمی کا ’حرف و حکایت‘شائع ہوتا تھا۔ اداریہ ، شذرے اور نذیر احمد خان کی قاموسی تحریر۔ قریب چالیس برس گزر گئے۔ واقعات اور مباحث تو کیا یاد رہیں گے، ادارتی صفحے کی تصویر آنکھوں میں بس رہی ہے۔ اتوار کے روز ’قسمت علمی و ادبی‘ شائع ہوتا تھا۔ یہاں ایک خاصے کی چیز ستار طاہر کا ہفتہ وار کالم ’حلقہ دام خیال‘ تھا۔ سادہ زبان میں عالمی اور ملکی ادب کا تذکرہ۔ ادبی مباحث کی باریکیوں سے ہمارے فرشتے بھی آگاہ نہیں تھے لیکن ستار طاہر کو پڑھ کر ہمیں یہ معلوم ہو گیا کہ ادب ایک چڑیا ہے جو بہت سی زبانوں میں طرح طرح کی باتیں کرتی ہے۔ ادیب لوگ اندر سے درویش طبع ہوتے ہیں۔ غزل کی زمینوں پر دست و گریبان ہوتے ہیں، کسی بیوہ کی زمین پر قبضہ نہیں کرتے۔ ستار طاہرقلم کے مزدور تھے۔ عالمی ادب پر گہری نظر تھی۔ گنٹر گراس، ولیم فاکنر، ارنسٹ ہمینگوے ، میری میکارتھی اور ژاں پال سارتر جیسے ان گنت عبقری ادیبوں سے ستار طاہر نے ہمیں متعارف کرایا۔ کھوپڑی میں ہل چلا کے رکھ دیا۔ طرح طرح کے بیج بوئے۔ وہ تو کہئے کہ زمین ہی بنجر قدیم ناممکن تھی، فصل اچھی نہیں اٹھی۔ ستار طاہر نے جسم و جاں کا رشتہ قائم رکھنے کے لئے ان گنت مقبول عام پرچوں میں کام کیا۔ بے تحاشا لکھتے تھے ۔ ناشروں کی ہوس زر کا شکار رہتے تھے۔ ان کی وفات سے کچھ پہلے میں نے ایک کایاں کتب فروش کے پاس ان کے ذاتی ذخیرہ کتب کا ایک حصہ دیکھا۔ پہلوان نما کتب فروش نے لین دین کے ایک معمولی تنازع پر ان کی بیش قیمت کتابیں زبردستی ہتھیالی تھیں۔ نیم تاریک الماریوں میں ولیم رائخ ، رلکے اور رابرٹ فراسٹ کی کتابیں دیکھ کر خیال آیا کہ ادیب اور کتب فروش میں کتنا فاصلہ ہوتا ہے۔ ایساہی فرق رند اور مے فروش میں ہوتا ہے۔ سیاسی کارکن اور پارٹی لیڈر میں ہوتا ہے۔ صوفی اور مذہبی پیشوا میں ہوتا ہے۔ محنت کش اور اشتہاری کمپنی میں ہوتا ہے۔ سپاہی اور اسلحہ بنانے والے میں ہوتا ہے۔ ستار طاہر ایک دیہاتی لڑکے کو انگلی پکڑ کر علم و ادب کی محل سرا میں لے گئے۔ خوبصورت محرابیں اور فن کے نمونے دکھا کر بتاتے رہے کہ یہ ’حلقہ دام خیال‘ ہے۔ لغت میں غالب کی اس ترکیب کا مطلب شاید وہی ہو گا جسے ابن انشا نے کہا ’ سب مایا ہے‘۔ تاہم ادب پر ’سب مایا ہے‘ کی تہمت مناسب نہیں۔ ادب سرمایہ ہے اور ستار طاہر جیسے غنی اس سرمائے کو عام کیا کرتے ہیں۔ 25 مارچ کو ستار طاہر کو ہم سے رخصت ہوئے بائیس برس ہوگئے۔ ہم سیاست، معیشت اور بین الاقوامی شطرنج کی چالوں میں مستغرق رہتے ہیں ۔ کبھی رک کر ستار طاہر ، شبلی بی کام اور ابراہیم جلیس کو بھی یاد کرنا چاہئے۔ لفظوں کے خالق قدر کھو دیں تو انسان کی ناقدری شروع ہو جاتی ہے۔

لفظ میں بہت طاقت ہوتی ہے۔ لفظ معاشرے پر اثر انداز ہی نہیں ہوتا، اسے تشکیل دینے کی قوت بھی رکھتا ہے۔ صحافت کے نصاب میں ایک چلتا ہوا جملہ بیان کیا جاتا ہے کہ ایک تصویر ہزار لفظوں کے برابر اثر رکھتی ہے۔ اسی طرح نشریات سے تعلق رکھنے والے دوست بتایا کرتے ہیں کہ کتاب اور اخبار کو خواندہ قاری کی ضرورت پیش آتی ہے لیکن ریڈیو اور ٹیلی وژن کی رسائی تو پڑھے لکھے اور غیر خواندہ کی تمیز نہیں کرتی۔ یہ دونوں دعوے درست ہیں لیکن اس سے لفظ کی اہمیت ختم نہیں ہوتی۔ انسانوں نے آوازوں کو ترتیب دے کر لفظ بنائے اور لفظ کو اپنے تجربات اور مشاہدات کی روشنی میں معنی دیا۔ لفظ انسانی تاریخ اور ورثے کا امین ہے۔ تصویر اور نشریات کے معنی بھی خیال ہی کی مدد سے ابلاغ پاتے ہیں۔ خیال لفظ کی ایسی اعلیٰ صورت ہے جو شے کا محتاج نہیں۔ کیفیت، تاثر، تخیل اور جذبے کی ترسیل بھی کرتا ہے۔ آزادی کے بعد ہمارے لکھنے والوں میں محمد حسن عسکری، سید سبط حسن اور علی عباس جلال پوری نے بہت بلند مقام پایا۔ آج پاکستان میں شاید ہی کوئی ایسا سنجیدہ پڑھنے لکھنے والا ہو جس نے ان تین لکھنے والوں سے اثر قبول نہیں کیا۔ اردو کی کتاب تب بھی ایک ہزار کی تعداد میں شائع ہوتی تھی اور شاید اب بھی صورت حال کچھ ایسی مختلف نہیں۔ ادبی رسالوں کا بہت غلغلہ تھا لیکن غالباً ادبی رسالوں کی اشاعت بھی ہزاروں میں نہیں تھی۔ نصرت، شہاب اور چٹان جیسے سیاسی جریدوں کی اشاعت بے شک ایک استثنیٰ کا درجہ رکھتی تھی۔ 70 ء کی دہائی میں کچھ ڈائجسٹوں نے بھی بہت دھوم مچائی۔ تاہم سیاسی پرچے کی نوعیت ہنگامی ہوتی ہے اور ڈائجسٹ کی تحریروں سے قاری کو فکری رہنمائی دینے کی توقع نہیں باندھی جاتی۔ اگر ایسی محدود اشاعت کے ساتھ معدودے چند لکھنے والوں نے اتنی بڑی فکری روایت کو جنم دیا تو آج کے امکانات بے پایاں ہیں۔ سینکڑوں اخبارات اور درجنوں نجی نشریاتی ادارے موجود ہیں۔ معیار اور رسائی کا فرق اپنی جگہ لیکن یہ طے ہے کہ ذرائع ابلاغ اور رائے عامہ کے درمیان رابطے کا دائرہ بہت وسیع ہو چکا ہے۔ ہر ر وز قومی اخبارات میں صرف اردو کے دو سو سے زائد کالم شائع ہوتے ہیں ۔ ان میں شخصی تحریریں بھی ہوتی ہیں۔ سیاسی تجزیے اور سماجی تبصرے بھی ملتے ہیں۔ سچ پوچھئے تو 70ء کی دہائی کے بعد ہمارے اجتماعی مکالمے پر پہلی بار بہار آئی ہے ۔ دہشت گردی ، عدم رواداری اور سیاسی ثقافت کے انحطاط کے باوجود ذرائع ابلاغ نے مکالمے کا راستہ کھول دیا ہے۔ تاہم یہ مکالمہ اسی صورت میں بامعنی ہو سکے گا جب ہم تعصب کے بجائے علم اور استحصال کے بجائے معیشت کو ترجیح قرار دیں گے۔

ہماری ریاست نے دستور پاکستان کی شق 25 (الف)میں اسکول جانے کی عمر کے سب بچوں کو تعلیم دینے کی ذمہ داری اٹھائی ہے۔ اس آئینی ضمانت کے ذریعے ریاست نے دراصل شہریوں کے معیار زندگی کو پائیدار بنیادوں پر بہتر بنانے کا بیڑا اٹھایا ہے۔ جس طرح امدادی رقوم کے چیک تقسیم کرنے سے دہشت گردی ختم نہیں کی جاسکتی، سلائی مشینیں بانٹ کر غربت دور نہیں کی جاسکتی، اسی طرح لیپ ٹاپ تقسیم کرنے سے تعلیم فروغ نہیں پاتی۔ سوال کرنا چاہئے کہ کیا ریاست نے پاکستانی بچوں کے لئے مطلوبہ تعداد میں اسکول تعمیر کئے ہیں۔ اس وقت اسکول جانے کی عمر کے اکاون لاکھ بچوں کے لئے اسکول میسر نہیں اور بزرگوں کی دعا سے ہم ہر برس ملکی آبادی میں چالیس سے پچاس لاکھ نئے چراغ جلا رہے ہیں۔ ان چراغوں میں ڈالنے کے لئے تعلیم کا تیل موجود نہیں۔ تاحد نظر بجھے ہوئے چراغوں کا یہ منظر کیا آپ کو بے چین نہیں کرتا۔ آج کے پاکستان میں بارہ کروڑ ناخواندہ شہری کس ہنر اور اہلیت کے ساتھ معیشت کے میدان میں اتریں گے اور کس طرح اپنے خاندانوں کی زندگیاں بہتر بنا سکیں گے۔ ان کے مکالمے کی سطح اور اقدار کی نوعیت کیا ہوگی۔ اتنی بڑی ناخواندہ آبادی سے ہماری ثقافت میں کیا تبدیلیاں رونما ہوں گی۔ ہمارے یہ ہم وطن ہم عصر دنیا کا مقابلہ کیسے کریں گے۔ کیا غریبوں کا مقسوم یہی ہے کہ ہم ان کی تصویر کھینچ کر اخبار کے صفحے پر محرومی بیچیں۔ ٹیلی وژن پر ایک رقت آمیز ٹکڑا چلائیں۔ ہمیں ریاست سے مطالبہ کرنا چاہئے کہ تعلیم کے ضمن میں آئینی ضمانت کو پورا کیا جائے۔ اصول یہ ہے کہ پرائمری اسکول کی عمر کو پہنچنے والے ہر بچے کو گھر سے ایک کلو میٹر کے فاصلے پر پرائمری اسکول ملنا چاہئے۔ پڑھنے کے لئے ایک کتاب میسر آنی چاہئے۔ عالم فاضل نہ سہی ایک شفیق استاد موجود ہونا چاہئے۔ ہمارے وطن میں پیدا ہونے والوں کو یہ احساس ملنا چاہئے کہ ہم انہیں ایسی تعلیم و تربیت دینا چاہتے ہیں تاکہ وہ ایک باوقار ، خوش گوار اور پیداواری زندگی گزار سکیں۔ صورت یہ ہے کہ گزشتہ پچیس برس میں کسی صوبائی حکومت نے اسکول قائم کرنے پر کوئی توجہ نہیں دی۔ پنجاب میں دانش اسکول کے تجربے کو ایک طرف رکھ دیا جائے تو شاید حکومت نے ایک بھی نیا پرائمری اسکول قائم نہیں کیا۔ اس مجرمانہ غفلت کا مطلب یہ ہے کہ ہم ایک ناخواندہ اور پسماندہ پاکستان تعمیر کررہے ہیں۔ مٹھی بھر اشرافیہ اسکولوں میں تعلیم پانے والے بچے بہرصورت قوم کا سواداعظم تشکیل نہیں دیں گے۔ یکساں نظام تعلیم کے نام پر ہم نے ایک حلقہ دام خیال گھڑ رکھا ہے، ہمیں علم کی مساوات چاہئے ، جہالت اور پسماندگی کی مساوات نہیں چاہئے۔

Citation
Wajahat Masood, “ستار طاہر اور حلقۂ دام خیال,” in Jang, March 31, 2015. Accessed on March 31, 2015, at: http://beta.jang.com.pk/akhbar/%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D8%B1-%D8%B7%D8%A7%DB%81%D8%B1-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%AD%D9%84%D9%82%DB%81%D9%94-%D8%AF%D8%A7%D9%85-%D8%AE%DB%8C%D8%A7%D9%84-%D8%AA%DB%8C%D8%B4%DB%81%D9%94-%D9%86%D8%B8/

Disclaimer
The item above written by Wajahat Masood and published in Jang on March 31, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on March 31, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Wajahat Masood:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s